’ایزی اردو‘ آوازوں کو تحریروں میں بدلنے والی ’جادوئی‘ ایپ

جدید ٹیکنالوجی بنی نوع انسان کے لئے آئے دن نت نئی اور ناقابل یقین سہولیات متعارف کرا رہی ہے۔ یہ اسی جدیدیت کا نتیجہ ہے کہ اب کوئی ان پڑھ شخص بھی پڑھے لکھے افراد کے مقابلے میں آ سکتا ہے۔ ان پڑھ افراد کے لیے یہ سہولت عام اینڈرائیڈ موبائل فون پر ایک ایپ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ ’ایزی اردو‘ نامی اس ایپ کے ذریعے موبائل فون کے صارفین اپنی آوازوں کو بڑی تیزی سے تحریروں میں بدل سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں یہ تحریر آپ کیلئے اسی ایپ کے ذریعے بول کر لکھ رہا ہوں۔

پڑھے لکھے افراد کے لئے تو کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ کی پیڈ پر اردو لکھ سکتے ہیں مگر موبائل فونز کے کی بیڈز کے ذریعے ایک ایک لفظ سے الفاظ بنانے اور پھر تحریریں لکھنے میں کافی دیر لگتی ہے لیکن اس ایپ کے ذریعے بہت جلد بڑی سے بڑی تحریر محض بول کر پلک جھپکتے میں لکھی جا سکتی ہے۔
درحقیقت اس ایپ سے اصل اور جادوئی فائدہ ان پڑھ افراد کا ہے جو بول کر اپنے خیالات کو پلک جھپکتے ہی تحریروں میں بدل سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوئی فیس بھی نہیں اور اینڈرائیڈ موبائل فون رکھنے والے صارفین اسے باآسانی ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اپنے موبائل فون پر ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔

ایزی اردو ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد اسے اوپن کریں تو چند سیکنڈوں میں دو مختلف سیٹ اپ پر کلک کر کے موبائل فون پر ایزی اردو کی بورڈ انسٹال کرنا ہو گا۔ اس کے بعد آپ کے موبائل فون کا کی پیڈ تبدیل ہو جائے گا۔ یہی نہیں کی بورڈ کی تبدیلی کے بعد اسے اپنی پسند کے مطابق ڈیزائن یا رنگوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد آپ اپنی مرضی سے کسی بھی ایپ میں جا کر اردو بول کر اسے تحریر میں لا سکتے ہیں۔ اس جادوئی ایپ کے ذریعے محض اردو ہی نہیں دنیا کی کوئی بھی زبان لکھی جا سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ زبان آپ اپنے کی پیڈ میں ڈاؤن لوڈ کر چکے ہوں۔

بالکل صحیح تحریر لکھنے کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ اردو یا کوئی بھی مطلوبہ زبان کے صحیح الفاظ کی ادائیگی کریں۔ مطلب یہ کہ آپ کی زبان کو یہ ایپ سمجھ سکے اور اسے تحریر میں لا سکے۔ یہی نہیں آپ دنیا کی کوئی بھی زبان بول کر اسے کسی بھی زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ اس ایپ کی مدد سے دوسرا بڑا فائدہ کم پڑھے لکھے افراد کے لیے ہے جو اردو تو لکھ سکتے ہیں مگر انہیں انگریزی نہیں آتی اور انہوں نے اپنے سامنے والے کو انگریزی میں اپنی بات سمجھانا ہے۔

اردو کے لیے یہ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد کی بورڈ پر سیدھے ہاتھ پر دیئے گئے بٹن پر سبز لائٹ بند کرنے آپ اردو میں کی بورڈ پر بولیں گے تو وہ اس کا انگریزی ترجمہ کر کے تحریر کر دے گا۔ آپ ان پڑھ ہیں آپ کو اردو بھی لکھنا نہیں آتی تو محض اردو بول کر اپنا مطلب انگریزی میں تحریر کر سکتے ہیں۔ جو اردو میں بولی گئی کسی خبر کی شکل میں ہو سکتا ہے یا آپ اپنے کسی دوست کو انگریزی میں خط لکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے الفاظ کی کوئی قید نہیں آپ جتنا اردو بو لیں گے ایپ اسے اتنا ہی انگریزی میں ٹرانسلیٹ کرکے لکھتا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایپ میں جاکر زبانوں کی تبدیلی سے اردو بول کر اسے کسی بھی زبان میں تحریر کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ سے بول کر موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کیے گئے کسی بھی ایپ مثلاً وٹس ایپ، میسنجر، ایس ایم ایس، فیس بک، ای میل یا کسی بھی ویب سائٹ پر لکھا جاسکتا ہے۔ پاکستانی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کام کرنے والوں کے لیے یہ ایپ کسی نعمت سے کم نہیں۔

افضل ندیم ڈوگر

Advertisements

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں : آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر

کسمپرسی کے عالم میں جہاں فانی سے کوچ کرنے والے مغل تاجداربہادر شاہ ظفر کے مقبرے پر آج بھی ادب سے حاضری لگائی جاتی ہے۔ آخری مغل تاجدار کے مقبرے کی شان ہی الگ ہے، پہلے بادشاہ کا خوف اور آداب و القابات تھے لیکن اب احترام ، عقیدت اور قرآنی آیات ہیں جو مقبرے پر کثرت سے پڑھی جاتی ہیں، 155 برس بات بھی اس مغل بادشاہ کا مقام ہندوستان کے کسی بھی بادشاہ سے بلند ہے۔ صوفی ازم اور رب سے لگاؤ کے سبب مغل بادشاہوں میں صرف بہادر شاہ ظفر کا مرتبہ صوفی بزرگ کا ہے۔ مقبرے میں داخل ہوں تو ماحول حسرت و یاس کا لگتا ہے ، ایسا درباد جہاں پاکستان، بنگلادیش اور بھارت کے سربراہان مملکت حاضری لگاتے ہیں۔

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

کہہ دوان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں‌ ہے دل داغدار میں

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

دہلی لال قلعہ چھوٹنے کا اثر بہادر شاہ ظفر کے دل اور شاعری میں تھا تو وہیں مدینہ میں رسول اللہ ﷺکے روزہ پر حاضری کی آرزو بھی بادشاہ ظفر کے اشعار میں چھلکتی ہے۔ عشق رسولؐ نے بہادر شاہ ظفر کو خوب ممتاز کیا۔ بہادر شا ہ ظفر کی زوجہ اور ملکہ ہند زینت محل کی ایک تصویر ان کی قبر کے ساتھ آویزاں ہے، کسی بھی ملکہ ہند وستان کی یہ واحد اصل تصویر کہی جاتی ہے، لیکن غور سے دیکھیں تو یہ سراسر کسمپرسی کی تصویر ہے۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا انتقال 7 نومبر 1862 کو ینگون میں ہوا۔

شوکت تھانوی… ایک نادر روزگار افسانہ نویس

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں قدرت نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں۔ ان کے فن کی کئی جہتیں ہوتی ہیں اور انہیں کثیر الجہات شخصیت کہا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا شوکت تھانوی۔ شوکت تھانوی صحافی بھی تھے اور مضمون نگاری بھی کرتے تھے۔ کالم نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ ناول نویسی میں بھی نام کمایا، افسانے بھی لکھے، براڈ کاسٹر بھی تھے۔ ڈرامہ نویسی میں بھی ان کا نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ مزاح نگاری بھی ان کا میدان تھا اور پھر شاعر بھی تھے۔ اب بھلا کون ایسا دوسرا ادیب یا شاعر ہو گا جو اتنی جہتوں کا مالک ہو گا۔ مرحوم احمد ندیم قاسمی نے بالکل درست کہا تھا کہ شوکت تھانوی جیسا زبردست انسان کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے۔

لگتا ہے ان کے فن کی کوئی حد ہی نہیں۔ وہ لامحدود صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ اب اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ نقادوں کی رائے میں شوکت تھانوی کے فن کا خزانہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آپ ان کے فن کا محاکمہ کرتے کرتے تھک جائیں گے لیکن ان کے مکمل فن کا آخری سرا پھر بھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ شوکت تھانوی دو فروری 1904ء کو تھانہ بھون بندربان اترپردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔ تھانہ بھون اترپردیش کے ضلع مظفرنگر کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ تھانہ دراصل جگہ کا نام ہے اور اس کا مطلب پولیس تھانہ نہیں۔ امتیاز علی تاج نے شوکت تھانوی کو مشورہ دیا کہ وہ لاہورمیں ہنجولی آرٹ پکچرز میں شمولیت اختیار کر لیں۔ شوکت تھانوی نے امتیاز علی تاج کا یہ مشورہ قبول کر لیا اور پنچولی آرٹ پکچرز میں کہانی نویس اور نغمہ نگار کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔  1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پنچولی آرٹ پکچرز بند ہو گیا۔ اس کے بعد شوکت تھانوی نے ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ پھر انہوں نے ایک اخبار میں مزاحیہ کالم لکھنے شروع کر دیئے۔ ان کے کالم کا عنوان تھا ’’وغیرہ وغیرہ‘‘۔ یہ کالم اس زمانے میں بہت مقبول ہوا۔ شوکت تھانوی نے مجموعی طور پر 60 کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں افسانوں کے مجموعے اور مزاحیہ مضامین اور ناول شامل ہیں۔

ان کا شعری مجموعہ ’’گوہرستان‘‘ بھی خاصا مقبول ہوا۔ کالم نگاری کے حوالے سے ان کے مضمون ’’سوادیشی ریل‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے کیونکہ اس مضمون کے بعد ہی انہیں صف اول کا مزاح نگار تسلیم کر لیا گیا۔ انہوں نے ایک فلم ’’گلنار‘‘ میں اداکاری بھی کی۔ لاہور کی کشش شوکت تھانوی کو لاہور لے آئی۔ انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب ’’لاہوریات‘‘ بھی لکھی۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹانگے والے سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ وہ انہیں ریڈیو سٹیشن چھوڑ آئے۔ کیونکہ وہ جب بھی یہ کہتے ہیں تو ٹانگے والا انہیں ریلوے سٹیشن لے جاتا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں انارکلی بازار کا بھی بڑا ذکر کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور میں دو چیزیں بیک وقت ہو رہی ہیں۔ چیزوں کی تباہی اور تعمیر ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس مضمون میں لاہور کی تاریخی عمارات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ایک زمانے میں وہ روزانہ دس میل تک سائیکل کا سفر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لاہور میں بیویاں اپنے شوہروں کے غلط کاموں پر ان کو مطعون نہیں کرتیں بلکہ ان کے دوستوں کو موردالزام ٹھہراتی ہیں۔ شوکت تھانوی کی مشہور کتابوں میں ’’بار خاطر، بہروپیا، دنیائے تبسم، مسکراہٹیں، بیگم، بادشاہ، غلام، بیوی، کائنات تبسم، خوامخواہ، مابدولت، کچھ یادیں کچھ باتیں اور خبطی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مشہور ٹی وی آرٹسٹ عرش منیر ان کی اہلیہ تھیں۔

شوکت تھانوی کو تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ شوکت تھانوی کی غزل بھی بڑی متاثر کن تھی۔ ہم ذیل میں ان کے چند اشعار قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ دھوکہ تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں انہی کا نام محبت، انہی کا نام جنون مری نگاہ کے دھوکے تری نظر کے فریب 4 مئی 1963ء کو شوکت تھانوی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے فن کا خزانہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفر

کہاں سے آیا، کدھر گیا وہ ناصر کاظمی

رتجگوں کا دلدادہ‘ لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے پھرنے کا عادی کبوتروں کو دانہ دنکا ڈالنے‘ پالنے پوسنے والا ناصرکاظمی ۔ وہ پاک ٹی ہائوس میں دوستوں کے درمیان بیٹھ کر خوش رہتا اور رات کے پچھلے پہر تنہائی میں آوارگی اور خود کلامی کرتے ہوئے مال روڈ کی دونوں جانب کھڑی عمارتوں اور گلی کوچوں کی نیم تاریک کھڑکیوں اور بند دروازوں کے سامنے سے گزرتا تو اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا‘ رات بھر جاگنے اور ادھوری غزل کو مکمل کرنے کے بعد وہ آہستہ سے شفیقہ کو آواز دیتا‘ بیوی نیم خوابیدہ حالت میں پوچھتی کب آئے اور سوئے کیوں نہیں‘ ناصر کاظمی سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنی غزل کا مطلع سناتا اس کی مردانہ اور گھمبیر آواز فضا میں ارتعاش پیدا کرتی‘ بیوی کھانے کے لیے پوچھتی اور ناصر کاظمی چائے پینے کا تقاضا کرتا‘ صبح دوپہر اور شام اپنے مکان کی بالائی چھت پر کبوتروں کی دیکھ بھال کرتا‘ فرصت کے اوقات میں فیچر لکھتا‘ ریڈیوکے پروگرام کا خاکہ تیار کرتا اور ’’ہم لوگ‘‘ کا اداریہ لکھتا۔

انبالہ شہر میں رہتے ہوئے اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا‘ بچپن انگڑائیاں لے کر ڈھل رہا تھا‘ وہ مسلم ہائی سکول میں دوسرے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کے علاوہ اپنے منفرد شوق رکھتا رہا‘ موسیقی سے دل بہلانے‘ ستار کے تاروں سے نکلنے والی بے الفاظ کی شاعری پر سر دھننے اور سوز و سلام کی محافل میں شرکت کرنے اور پھر کبوتر پالنے کا جنون ناصر کاظمی کو دوسرے ہم سبق لڑکوں سے ممتاز کرتا رہا۔ محلے میں صرف ایک یا دو ہم مزاج دوستوں سے بے تکلفی رہی ان میں افتخار کاظمی اور شبر نقوی اس کے گھر کے قریب اسی گلی میں رہتے تھے۔ انبالہ شہر میں محلہ سادات قاضی واڑہ میں کئی بیٹھکیں مشہور تھیں جہاں دوست احباب جمع ہوتے ہیں ان میں حسن اکبرمزد امام‘ میر حامد علی اور کرمو پہلوان کی بیٹھک میں ہمیشہ رونق رہتی۔

ناصر کاظمی اور افتخار کاظمی کو ستار سیکھنے اور شطرنج کھیلنے کا شوق تھا‘ کرمو پہلوان خوش ذوق اور خوش مزاج بزرگ تھے اور کسی زمانے میں پٹیالہ ریاست کے شاہی پہلوانوں میں شامل رہے‘ عالم پیری میں موسیقی کے رسیا ہو گئے۔ سانوالی رنگت تیکھے نقش بڑی آنکھیں چھریرا بدن خوبصورت چال اور آواز میں رسیلا پن…جانے اس کے انداز تکلم نے کسے ڈس لیا اور خود ناصر کاظمی کس مہ جبیں اور شوخ ادا کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا کہ اس کی محبت میں اداس رہنا پسند آنے لگا اس کی والدہ محمدی بیگم اپنے بیٹے کو دیکھتی کہ وہ خلائوں میں گھورتا‘ کبھی خود کلامی کرتا اور کبھی گم سم دکھائی دیتا وہ پوچھتی مگر وہ کیا جواب دیتا‘ بات ٹالنے کی خاطر وہ دیوار پر بیٹھے ہوئے کبوتر کی طرف اشارہ کرتا ’’ماں وہ کبوتر بیٹھا ہے کہو تو پکڑ لوں‘‘ وہ دبے پائوں جا کر کبوتر پر ہاتھ ڈالتا اور نعرہ زن ہوتا ’’اماں کبوتر پکڑ لیا‘‘ ماں جانتی تھی کہ ایک تو سچ کو چھپا رہا ہے۔

ناصر کاظمی کا ایک شوق تھا وہ شعر کہہ کے اختر رنگین رقم کی دکان پر جاتا اور اپنے شعر کی کتابت اور حاشیہ بنوا کر اختر رنگین رقم کو کچھ پیش کرتا لیکن محلے داری اور عزیز داری کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں کہتے ’’ابے سلطان حسن کے بیٹے میں تجھ سے پیسے لیتا اچھا لگوں گا‘ کچھ اور لکھوانا ہو تو وہ بھی لکھ دوں گا‘‘ اور یوں وقت گزرنے پر ایسے وضع دار لوگوں کے لیے ناصر کاظمی کے دل میں جگہ بنتی گئی‘ پاکستان بنا تو اختر رنگین رقم سرگودھا میں آباد ہوئے‘ کچھ عرصے بعد وہ بھی چل بسے‘ محمدی بیگم اور سطان حسن بھی رخصت ہو گئے۔ ناصر کاظمی نے ان سب کا نوحہ لکھا‘ اپنے عشق کی نامرادی کا ذکر کیا۔ آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی سب مزا رفتگاں نے چھین لیا تیرا ملنا تو خیر مشکل تھا تیرا غم بھی جہاں نے چھین لیا ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا البتہ اس نے شاعری کو جتنا دیا اس کا احاطہ ممکن نہیں۔

اس جملے کا پہلا حصہ وہ ہے جو اس کے انتقال پر شفیقہ کاظمی نے میری طرف سے تعزیت کے وقت کہا کہ ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا ہمیں اس کی شاعری سے کیا ملا۔ یقینا شاعری ایسا کار ہنر ہے جس کا معاوضہ شاعر کا مقدر نہیں مگر ایسا بھی نہیں مثلاً شاعر مشرق علامہ اقبال خود معمولی حیثیت کے مالک تھے۔ ریلوے روڈ پر ان کی رہائش دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کس معیار کی ہیں لیکن ایوان اقبال کی تعمیر دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود علامہ اقبال کے وہم و گمان میں ایسی شاندار عمارت کا تصور نہ ہو گا۔ ناصر کاظمی نے جیسی زندگی بسر کی وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے احباب میں انتظار حسین‘ سجاد باقر رضوی‘ ہوش ترمذی اور دوسرے سخنور سبھی اس زمانے کے شاکی اور قلم کی مزدوری کرتے نظر آئے ۔

حسن عسکری کاظمی

سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں

25 اپریل بروز منگل شام 7 بجے بے وقت سویا نیند سے بیدار ہوا تو عادت کے مطابق ہاتھ سرہانے پڑے موبائل فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون ہاتھ میں آتے ہی فیس بک سے رابطہ کرنے کی کوشش تو اچانک سامنے ایک خوش شکل شاعرہ کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے تحریر پڑھتے ہی دل کچھ غمگین ہو گیا۔ تحریر حادثے سے متعلق تھی جس میں بیان کیا گیا کہ ایک نوجوان شاعرہ بروز سوموار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 3 روزہ ادبی میلہ کے آخری دن 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے گریں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ کچھ تو بے وقت سونے کی کسلمندی تھی اور کچھ ایسی افسوس ناک خبر کا ملنا کہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوتے مجھے کچھ وقت لگ گیا، لیکن جب پوری طرح آنکھیں کُھلیں اور حواس بحال ہوئے تو تصویر پر کچھ غور کیا۔ غور کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے چہرے سے کچھ شناسائی ہے۔ نام پر غور کیا تو وہ بھی جانا پہچانا لگا۔ کچھ دیر اِسی حالت میں غور و فکر جاری تھا کہ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اُس دور میں چلا گیا جب وہ ہمیں پڑھایا کرتی تھیں۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک اسکول جس میں قابل پُرجوش فرزانہ ناز، بلکہ میڈم فرزانہ ناز چلتی پھرتیں اور بچوں کو بزمِ ادب کیلئے تیاری کرواتی دکھائی دیں۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ وقت تھم سا گیا اور ذہن ماضی کے خیالات میں گھومنے لگا۔ کبھی اِس خبر کو دیکھتا جس پر یقین کرنا مشکل تھا اور کبھی ماضی کی اُس ٹیچر کو یاد کرتا، میں تو میڈم فرزانہ ناز کو جانتا تھا جو میری اسکول ٹیچر تھیں لیکن میرے سامنے جو خبر تھی وہ میڈم فرزانہ ناز کی نہیں بلکہ مشہور نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز کی تھی۔ کبھی دل اُن کی شہرت پر مسرت محسوس کرتا لیکن پھر خبر کا خیال آتے ہی دنیا رکتی سی محسوس ہوتی۔

مزید اُن کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُن کے 2 کمسن بچے بھی ہیں، اور اِس پر ستم یہ کہ 3 مئی کو اُن کے پہلے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ کچھ برس قبل کی اسکول ٹیچر فرزانہ ناز پرجوش، قابل اور محنتی خاتون تھیں جنہیں یہاں پہنچنے تک طویل عرصہ لگ گیا۔ آج جب وہ مشہور شاعرہ تھیں، دو کمسن بچوں کی ماں تھیں تو اِس حادثہ کی نذر ہو گئیں۔ ادب سے محبت اور لگاؤ رکھنے والی ادبی میلے میں ہی کہیں گم ہو گئیں، جو اسٹیج پر وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کو اپنے شعری مجموعہ کی کتاب پیش کر رہی تھیں کہ اسٹیج پر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے اُن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے زمین پر گر گئیں جس کے سبب اُن کا سر پھٹ گیا اور زمین پر خون پھیل گیا۔

جلدی جلدی اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن ظلم تو یہ ہوا کہ اتنے بڑے ادبی میلے میں ایمبولینس تک کا انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر الشفاء انٹرنیشنل پہنچایا گیا مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا اور یوں وہ کومے میں چلی گئیں، مگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور منگل بروز 25 اپریل کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔

میں اِس حادثے کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انسان کس قدر بے بس ہے۔ کیا کچھ وہ اپنے لیے سوچتا ہے، اپنے مقصد کو پانے کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے، وہ اپنے لیے کتنے خواب دیکھتا ہے لیکن وہ سب خواب ایک لمحہ میں چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ساری زندگی وہ تیاری میں لگا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ اگلے لمحے تک سے واقف نہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

فرحان سعید خان

کتاب سے دوری

سومرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ دُنیا میں انسانی محرومی اور مایوسی کا توڑ مطالعہ  ہے، لیکن افسوس ہم ان چیزوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ اور وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم بری طرح مایوسی کا شکار ہیں۔ کتاب سے رشتہ ٹوٹ جانا بڑا المیہ ہے۔ اس سے معاشرہ کھوکھلا ہو گیا ہے اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال نے ہمارے رویوں پر بہت منفی اثر ڈالا ہے۔ آج ہر طرف تلخی، نفرت اور مایوسی ہے۔ حافظ نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ۔۔۔ ’’فرصتے، کتابے و گوشۂ چمنے‘‘۔۔۔ یعنی کتاب ہو، فرصت ہو اور باغ کا کوئی گوشہ، لیکن آج ہم کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ چمن کی اہمیت سے بھی شاید بیگانہ ہو گئے ہیں۔

کہتے ہیں کتاب سے بہتر اور بے ضرر ساتھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ کتاب کے ذریعے ہم اپنے بستر میں بیٹھ کر دُنیا کے عظیم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جن سے ملنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ یہ کوئی معمولی عیاشی نہیں۔ کتاب انسانی شخصیت میں گہرائی اور توازن پیدا کرتی ہے جو زندگی کا حسن ہے۔ اِسی توازن کے فقدان سے ہم آج دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ دُنیا نے علم کی بنیاد پر ہی ترقی کی ہے، اِس لئے ان معاشروں میں کتاب سے انسانی رشتہ بہت گہرا ہے، ہر آدمی، جہاں بھی اُسے وقت ملتا ہے، مطالعہ میں مصروف ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی وہ کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ وہاں پر جگہ جگہ لائبریریاں ہیں، جہاں کوئی بھی شہری حتیٰ کہ غیر ملکی بھی ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے، لیکن ہم نے لائبریری کا کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں گیلپ سروے کے نتائج شائع ہوئے تھے، جن کے مطابق پاکستان کے58 فیصد لوگوں نے زندگی میں کبھی لائبریری سے استفادہ نہیں کیا۔ یہ افسوسناک بات ہے، یہ ہمارے معاشرے پر بڑا منفی تبصرہ ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں لوکل باڈیز کے نظام کے تحت ہر یونین کونسل کے ہیڈ کوارٹر میں ایک لائبریری قائم کی گئی تھی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے لوکل باڈیز کے نظام کی بساط لپیٹ دی اور کتنی حیران کن بات ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ آمروں نے بنیادی جمہوریت کے انتخابات کروائے، لیکن جمہوری حکمرانوں نے لوکل باڈیز کی سطح پر انتخابات کروانے میں ہمیشہ گریز کیا۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں کی نیتوں میں فتور ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان دِنوں لوکل باڈیز کا احیا ہو گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ محلے کی سطح پر لائبریریاں ہوتی تھیں، پھر مُلک بھر میں تمام بڑے شہروں میں نیشنل سینٹر تھے، جہاں عوام کے لئے بہترین لائبریریاں تھیں اور علمی و ادبی موضوعات پر تقریبات ہوتی تھیں۔ مَیں نے لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان نیشنل سینٹر میں یادگار تقریبات میں شرکت کی، پھر یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

باقی پاکستان کو چھوڑیں، دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف نیشنل لائبریری رہ گئی ہے، جو ریڈ زون میں ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے ، پھر نیشنل لائبریری کتابیں ایشو بھی نہیں کرتی۔ اس طرح اس کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ایف 11 مرکز میں بھی ایک سرکاری لائبریری ہے، لیکن اس کی حالت کا اندازہ اِس سے لگائیں کہ اس میں ٹیلی فون اور بجلی نہیں۔ نیشنل لائبریری نے ہائر ایجوکیشن کے پاس ایک لائبریری قائم کی ہے، لیکن شاید ہی عام آدمی کو اس کا علم ہو۔ لال مسجد کے پاس ایک چلڈرن لائبریری تھی، جو ایک قابلِ قدر کوشش تھی، لیکن لال مسجد تنازعہ کی نذر ہو گئی۔

بلیو ایریا میں امریکن سینٹر کی لائبریری تھی، ہمارے کچھ سیاسی لیڈروں نے ایک جلوس نکال کر چار پانچ جانیں بھی لے لیں اور لائبریری بھی بند کرا دی۔ میلوڈی مارکیٹ میں برٹش کونسل کی لائبریری تھی، وہ بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل ہو گئی۔ میری تجویز ہے کہ کم از کم اسلام آباد میں ہر نئے سیکٹر کے کمرشل مرکز میں سی ڈی اے کو ایک کمیونٹی سینٹر بنانا چاہئے، جس میں باقی چیزوں کے علاوہ ایک چھوٹا سا کلب بھی ہو اور ایک لائبریری بھی تا کہ عام آدمی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لئے اسلام آباد کلب اور گن کلب کافی نہیں۔ جی 9- اور جی 7- میں کمیونٹی سینٹر موجود ہیں، لیکن ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ سی ڈی اے یہ سینٹر بنا کر پچھتا رہی ہے، کیونکہ بعد میں بننے والے سیکٹروں میں ایسا کوئی سینٹر نہیں بنایا گیا، مثلاً ایف 10اور ایف11 وغیرہ میں کوئی ایسی سہولت نہیں۔

میونسپل ایڈمنسٹریشن کو ان چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتابیں خرید کر پڑھنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں، کتابوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو رہا ہے، تو کتاب کی قیمت بھی بڑھنے کا پورا جواز موجود ہے، پھر کتاب کی چھپائی کا معیار بھی تو بلند ہوا ہے۔اگرچہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کتاب خرید سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتاب اُس کی ترجیح ہی نہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہمارے ہاں مطالعہ کا کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ صرف ایک محدود طبقہ کتاب کے عشق میں مبتلا ہے، اس صورتِ حال میں اچھی لائبریریوں کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، جہاں پارلیمنٹ جیسے اعلیٰ ترین اداروں کی رکنیت کے لئے تعلیم کی ضرورت تسلیم نہ کی جاتی ہو اور جہاں جیلوں کے دوستوں کو قومی اداروں کا سربراہ بنانے کا رواج عام ہو، وہاں کسی مثبت علمی کام کی توقع رکھنا شاید زیادتی ہو۔

خوش قسمتی سے موجودہ حکومت میں کچھ علم دوست لوگوں کی شمولیت سے صورتِ حال میں کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے ایک اہلِ قلم کانفرنس کا افتتاح کیا اور علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 50 کروڑ روپے کا فنڈ بھی دیا ہے۔ اہلِ قلم کانفرنسوں کا انعقاد بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن ایسی کانفرنسوں کا فائدہ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے، اس لئے کچھ دور رس اثرات کے حامل اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ میری حکومت اور اس میں علم دوست شخصیات سے گزارش ہے کہ اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں ایک گرینڈ پبلک لائبریری قائم کی جائے، جہاں سے ہر کوئی کتابیں لینے کا اہل ہو اور جو رات 12 بجے تک کھلی رہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلیٰ قسم کا ریسٹورنٹ بھی ہو۔ یورپ میں تو کتابوں کی دکانوں میں چائے کافی کا انتظام عام ہے، ہمارے ہاں یہ چیز ابھی رواج نہیں پا سکی۔ گلبرگ لاہور میں کتابوں کی ایک دکان Readings نے اس کی نقل کی ہے اور دکان کے اندر ایک کیفے ٹیریا بھی بنایا ہے۔ جاپان میں ایسی لائبریری بھی موجود ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ ایف 9 والی مجوزہ لائبریری کا افتتاح وزیراعظم صاحب خود کریں۔ اب تک ہمارے ہاں وزیراعظم اور صدر کانفرنسوں کے علاوہ صرف سڑکوں اور پُلوں کا افتتاح کرتے آ رہے ہیں، وہ بھی غلط نہیں، لیکن اب کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔

کتاب اور علم سے دوری ایک قومی المیہ ہے، یہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے لئے ایک سوال ہے۔ ہمارے ہاں اب کافی نجی ادارے خیر و فلاح کے بڑے کامیاب منصوبے چلا رہے ہیں، میرے خیال میں لائبریریوں کے ذریعے علم کے فروغ میں بھی مخیر لوگوں کو حصہ لینا چاہئے، کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے نام پر ہسپتال بنا رکھے ہیں، جہاں بجا طور پر بیمار اور بے سہارا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے جو یقینی طور پر ایک نیک کام ہے، لیکن معاشرے کے نظریاتی زخموں پر مرہم کوئی نہیں رکھے گا؟ کیا کوئی ادبی میموریل لائبریری نہیں بن سکتی، کیا علم کا فروغ کار خیر کے ضمن میں نہیں آتا؟

علم صرف کلاسوں سکولوں اور کالجوں میں نہیں ہوتا، ایسا ہوتا تو معاشرہ اتنا زوال پذیر نہ ہوتا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہماری علمی بنیاد کمزور ہے۔ ہم نے علم صرف امتحان پاس کرنے کو سمجھ لیا ہے۔ اب تو امتحان پاس کرنے کا معاملہ بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں دو فیصد کی کامیابی اربابِ اختیار اور پورے معاشرے کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ میرے خیال میں معاشرے کی جسمانی صحت کی جتنی ضرورت اور اہمیت ہے، اس سے زیادہ ذہنی صحت اور شعور کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں حکومت اور معاشرے کی سطح پر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ داؤد، میاں محمد منشا اور سید بابر علی جیسے لوگوں کو علم کے فروغ کے سلسلے میں اِس پہلو پر بھی توجہ کرنی چاہئے، بلاشبہ انہوں نے لمز جیسے ادارے بنا کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ کچھ اس طرف بھی توجہ کریں۔

اے خالق سرگانہ

راجندر سنگھ بیدی…ایک بے مثال افسانہ نگار

اُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ویسے تو کئی نام لیے جا سکتے ہیں لیکن سعادت حسن منٹو‘ کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہو گی۔ آج ہم راجندر سنگھ بیدی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔ یکم ستمبر 1915ء کو پیدا ہونے والے راجندر سنگھ بیدی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا‘ بیدی کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزارے۔ جہاں انہوں نے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ تھا۔ جس میں ان کا معرکہ آرا افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ بھی شامل تھا۔ یہ افسانوی مجموعہ 1940ء میں شائع ہوا۔

1942ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’گرہن‘‘ شائع ہوا۔ 1943ء میں انہوں نے لاہور کے ایک چھوٹے فلم اسٹوڈیو مہنیش واری فلمز میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈیڑھ برس بعد وہ دوبارہ آل انڈیا ریڈیو چلے گئے اور ان کی پوسٹنگ جموں میں کر دی گئی۔ وہ 1947ء تک آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے رہے اور وہ جموں اینڈ کشمیر براڈ کاسٹنگ سروس کے ڈائریکٹر بن گئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت راجندر سنگھ بیدی نے کئی اور افسانے لکھے جو بے حد مقبول ہوئے انہوں نے اردو افسانے کو نہ صرف نیا اسلوب دیا بلکہ موضوعات کے حوالے سے بھی کئی تجربے کئے۔ ان کا ناولٹ ’’اک چادر میلی سی‘‘ بھی اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں انہوں نے اسلوب کے حوالے سے بالکل مختلف تجربات کئے۔ اس کے علاوہ اس ناولٹ کا موضوع بھی چونکا دینے والا تھا۔ اس ناولٹ پر ہندوستان اور پاکستان میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔

ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں ’’کوکھ جلی‘‘ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ اور ڈراموں کا مجموعہ ’’سات کھیل‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’جو گیا‘ لاجونتی‘ گرہن‘ گرم کوٹ‘ کلیانی‘‘ اور کئی دوسرے افسانے شامل ہیں۔ بعض نقاد بھی ان کے افسانوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں ہندی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں راجندر سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس ماحول پر ہے جس میں یہ افسانے لکھے گئے۔ اگر ایک افسانے میں پنجاب کے گائوں کا ماحول پیش کیا جا رہا ہے تو پھر کرداروں کی زبان بھی وہی ہو گی۔ اسی طرح اگر ایک افسانہ مکمل طور پر ہندو معاشرے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے تو پھر زبان بھی وہی ہو گی۔ بیدی نے فرسودہ روایات معاشرتی تفریق اور معاشی انصاف پر بہت لکھا۔ وہ کردار سازی بھی کمال کی کرتے تھے۔

ان کے افسانوں کے بعض کردار امر ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک اور بڑی خوبی ان کی قوت مشاہدہ ہے۔ ان کے افسانوں میں ہمیں طنز و تشنیع بھی ملتا ہے۔ ان کے طنز کرنے کا انداز بھی بہت متاثر کن ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بظاہر سادگی سے کہی ہوئی بات طنز کی چادر میں لپٹی ہوتی ہے اور بادی النظر میں یہ ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ بیدی نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ ذرا سا غور کریں تو پھر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ افسانہ نگار کمال مہارت سے اپنے فن کے جوہر دکھا گیا ہے۔  راجندر سنگھ بیدی 1982ء میں شدید علیل ہو گئے اور اسی سال وہ چل بسے۔ ان کی یاد میں بھارتی پنجاب کی حکومت نے راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ کا اجرا کیا یہ ایوارڈ ان کی اردو ادب کی خدمات کے حوالے سے شروع کیا گیا۔ راجندر سنگھ بیدی نے اردو ادب کی جتنی خدمت کی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مکالمہ نگاری سے جو مقام بنایا اُس حوالے سے اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفرؔ