ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوں……..

ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوں
دِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوں

امانتِ سحر و شام چھوڑ آیا ہوں
کہیں چراغ، کہیں جام چھوڑ آیا ہوں…

کبھی نصیب ہو فُرصت تو اُس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوں

ہوائے دشت و بیاباں بھی مُجھ پہ برہم ہے
میں اپنے گھر کے دروبام چھوڑ آیا ہوں

کوئی چراغ سرِ راہگزر نہیں، نہ سہی
میں نقشِ پا تو بہرگام چھوڑ آیا ہوں

ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہونگے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں

یہ کم نہیں ہے وضاحت میری اسِیری کی
پروں کے رنگ، تہہِ دام چھوڑ آیا ہوں

وہاں سے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکی آگے
جہاں پہ گردشِ ایّام چھوڑ آیا ہوں

مُجھے جو ڈھونڈنا چاہے وہ ڈُھونڈ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گُمنام چھوڑ آیا ہوں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s