علامہ اقبال ؒ اور پطرس بخاری

امراض کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہو تو اُمت کے حکیم زیادہ یا د آتے ہیں جنھوں

نے سو سال پہلے مسلمانوں کو لاحق بیماریوں کا علاج بتا دیا تھا کہ؎

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

تراعلاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ایک اور جگہ کہا کہ

؎ علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

تشویشناک امر یہ ہے کہ اقبال ؒ کو بھلا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب کہ خود پاکستان اقبالؒ کا فیضان ِ نظر ہے، اقبالؒ کو وہی لوگ فراموش کرنا چاہتے ہیں جو جواز ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کی نفی کرتے ہیں۔ کیا وہ اتنے بارسوخ ہو چکے ہیں کہ مفکرِ پاکستان کو پاکستان سے جلا وطن کر دینا چاہتے ہیں۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی ساری دولت صرف کردیں تب بھی اقبال کی محبّت اور عقیدت کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔

یہی مہینہ ہے جب دانائے راز ؒ پورے ہندوستان، مشرق وسطیٰ، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیاء کے مسلمانوں کو ایک ولولہء تازہ دیکر رخصت ہوئے۔ بانگ ِ درا اور بال ِجبریل کی نظموں کا تو بہت تذکرہ ہوتا ہے، ان کے علاوہ بھی اقبالؒ کی کوئی نظم یا کوئی شعراٹھا لیں،آج بھی تروتازہ اور سو فیصد Relevant ہے۔

اس و قت میرے ہاتھ میں ضرب ِ کلیم ہے، ہر نظم اور ہر شعر ایک جہانِ دانش ہے۔ اجتہاد پراقبال ؒ نے اپنے لیکچرز میں بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔ ضرب ِ کلیم میں ایک نظم کا عنوان ہی ’’اجتہاد‘‘ ہے۔ شعر سنئیے اور سر دُھنئیے۔

 

؎ ہند میں حکمت ِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت ِ کردار نہ افکار ِعمیق

حلقہ ٔ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں

آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان ِ حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کا طریق

اقبال کے نزدیک اپنے نظریے سے منہ موڑ لینے اور اپنے حرم اور مرکز سے ناتا توڑ نے کے باعث مسلمان ذلت و زوال کا شکار ہیں۔ نظریۂ توحید کلیدی حیثیّت کا حامل ہے اور اس میں ہی اصل قوُت پوشیدہ ہے مگر فکری وحدت کافی نہیں اس کے ساتھ عملی وحدت درکار ہے۔

؎ زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علمِ کلام

میں نے اے میر ِسپاہ تیری سپاہ دیکھی ہے

قُل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

آہ اس راز سے واقف ہے نہ مُلا نہ فقیہہ

وحدت افکار کی بے وحد تِ کر دار ہے خام

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے

اسکو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

اقبال ؒ کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ وحدت ِ فکر و عمل کے بغیر ایک ملت کے طور پرزندہ نہیں رہ سکتے اور اس وحدّت کے تحفّظ کے لیے قوت درکار ہے۔ فرماتے ہیں۔

؎ وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو

آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد

اے مرد ِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل

جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نو َ میدیء جاوید

جسکا یہ تصو ّف ہو وہ اسلام کر ایجاد

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

اسلام تو شوکت و جلال اور رفعت و کمال کا پیغام ہے وہ محکومی و غلامی کا نہیں فرمانروائی کا نظریہ ہے، مغربی تہذیب اپنا لینے اور اس کی نقالی کرنے والوں کو کوئی دوسرا اسلام ایجاد کرنا ہو گا کیونکہ اصل اسلام میں غلامی اور نقالی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر انگریزوں نے نماز پڑھنے پر پابندی عائد نہ کی تو کئی ٹو ڈی اور انگریز پرست اُسی کو آزادی قرار دیکر آقاؤں کے قصیدے پڑھنے لگے۔

مسلم دشمن قوتیں ہمیشہ اسلام کے فلسفہء جہاد سے خوفزدہ رہی ہیں، ترک ِ جہاد کے فتوے دینے کے لیے ہی انگریزوں کو ایک جعلی نبی کھڑا کر نا پڑا۔ مغربی   قوتیں مسلمانوں کے جہاد پر ہر طرح کی قدغنیں اور پابندیاں لگاتی ہیں لیکن مغرب کے جارہانہ اقدامات کو جائز قرار دیتی ہیں، وہ خود کیسے ہی خطرناک ہتھیار تیار کر یں اور انھیں بے گناہ شہریوں پر استعمال کریں، جس ملک کو چاہیں تاخت و   تاراج کر دیں انھیں اس کا پورا حق ہے۔ اسی دوہرے معیار اور منافقت کو اقبالؒ نے آج سے سو سال پہلے بے نقاب کیا تھا۔ “جہاد ” کے عنوان سے ایک نظم کے چند شعر ہیں:

؎ فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کار گر

علامہ ؒ کہتے ہیں کہ مادیت میں کھویا ہوامسلمان تو پہلے ہی جہاد ترک کر چکا ہے، اس لیے اب ایسے وعظوں کی ضرورت تو یورپ اور امریکا کو ہے۔

؎ تعلیم اسکو چاہیے ترک ِ جہاد کی

دُنیا کو جسکے پنجہء خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ ِکلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ

بات اسلام کا محاسبہ، یورپ سے در گزر !

دنیامیں صرف مسلمانوں کامحاسبہ اور محاصرہ ہوا ہے جب کہ یورپ اور امریکا کو کھلی چھوٹ۔ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ انصاف نہیں ہے کیونکہ

؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات

اب ایک دلچسپ واقعہ سن لیجیے

احمد شاہ پطرس بخاری انگریزی لسانیات کے ماہر، ذہین و فطین اور نہایت شوخ و شنگ طبیعت کے مالک تھے۔ اعجاز بٹالوی اور عاشق بٹالوی کے بھائی آغا بابر اپنی دلچسپ کتاب ’’خدو خال‘‘ میں لکھتے ہیں ’’بخاری صاحب امریکا سے جنیوا جاتے ہوئے تین دن لندن میں ٹھہرے اور وہاں انھوں نے بھائی عاشق کو ڈھونڈ نکالا۔ بخاری نے پوچھا عاشق صاحب کچھ حال احوال کہیے‘‘ عاشق بٹالوی صاحب نے اقبال ؒ کا یہ شعر پڑھا:

؎ میں نوائے سوختہ در گلو تو پریدہ رنگ امیدہ بو

میں حکایتِ غمِ آرزو تو حدیث ِ ماتم دِلبری

شعر سنتے ہی بخاری صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے ایک کیفیت طاری ہو گئی اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بولے ’’زندگی تو واقعی رائیگاں گئی، کچھ بھی ہاتھ نہ آیا‘‘ کچھ دیر بعد بخاری صاحب کی حالت درست ہوئی تو انہو ں نے اقبال ؒ کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘ کے بارے میں بتایا کہ علامہ صاحب نے یہ نظم مجھے مخاطب کر کے لکھی تھی۔ میں نیا نیا ولایت سے آیا تھا علم کا خمار تھا۔ علامہ اقبال ؒ کے سامنے بے محابہ علم اور فلسفے کی نمائش کی تو انھوں نے یہ نظم لکھ کر میری طبیعت صاف کردی۔

؎ تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا زناریٔ برگساں نہ ہوتا

ہیگل کا صدف گہر سے خالی ہے اس کا طلسم سب خیالی

آدم کو ثبات کی طلب ہے دستور ِ حیات کی طلب ہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز سن مجھ سے یہ نقطہء دل افروز

انجام ِ خرد ہے بے حضوری ہے فلسفہ زندگی سے دُوری

دیں مسلک ِ زندگی کی تقویم دیں سر محمد ﷺ و ابراہیم

دل در سخنِ محمدی ؐ بند اے پور علی ؓ ز بو ُ علی چند

اے سید زادے تو اگر اپنی خودی سے بیگانہ نہ ہو جاتا تو برگساں جیسے فلسفیوں کا پجاری نہ بنتا، تو اپنی معرفت سے دور رہا جس کے باعث تو نے فلسفیوں کو اپنا رہنما بنا لیا ہے اور اسطرح تو اپنی اصلیت کھو گیا ہے۔ ہیگل (مشہور فلسفی) کی سیپی موتیوں سے خالی اور اس کا سارا طلسم خیالی ہے۔ یعنی ان کے فلسفے انسانیت کے لیے بے فائدہ اور بیکار ہیں۔ انسان ایسی شئے کی تلاش میں ہے جس سے اسے بقاء اور چَین نصیب ہو۔ ایسا کوئی دستور العمل ان فلسفیوں کی تصانیف میں نہیں ہے۔ جس چیز سے اس عالم کی تاریکی روشنی میں بدل سکتی ہے وہ مومن کی اذاں ہے۔ وہ خدا کی توحید اور کبریائی کا اعلان ہے۔

فلسفہ میرے خمیر اور رگ رگ میں ہے اور اس پر عبور رکھنے کے بعد میں تمہیں ایک نکتہ سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ عقل انسان کو خدا سے محروم کر دیتی ہے اور فلسفہ زندگی سے دور کر تا ہے۔ دینِ اسلام زندگی گزارنے کا ایک عظیم دستور العمل ہے۔ یہی حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم ؑکا راز ہے۔ یہی ان عظیم ہستیوں کی بتائی ہوئی راہ ِ عمل ہے۔ تو علی مرتضیٰ ؓ کی اولاد بو علی سینا جیسے فلسفیوں کی پیروی مت کر۔ تو راستہ دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہے تیرے لیے بہتر ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو اپنا رہنما بنا لے۔ )

ذوالفقار احمد چیمہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s