کتاب سے دوری

سومرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ دُنیا میں انسانی محرومی اور مایوسی کا توڑ مطالعہ  ہے، لیکن افسوس ہم ان چیزوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ اور وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم بری طرح مایوسی کا شکار ہیں۔ کتاب سے رشتہ ٹوٹ جانا بڑا المیہ ہے۔ اس سے معاشرہ کھوکھلا ہو گیا ہے اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال نے ہمارے رویوں پر بہت منفی اثر ڈالا ہے۔ آج ہر طرف تلخی، نفرت اور مایوسی ہے۔ حافظ نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ۔۔۔ ’’فرصتے، کتابے و گوشۂ چمنے‘‘۔۔۔ یعنی کتاب ہو، فرصت ہو اور باغ کا کوئی گوشہ، لیکن آج ہم کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ چمن کی اہمیت سے بھی شاید بیگانہ ہو گئے ہیں۔

کہتے ہیں کتاب سے بہتر اور بے ضرر ساتھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ کتاب کے ذریعے ہم اپنے بستر میں بیٹھ کر دُنیا کے عظیم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جن سے ملنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ یہ کوئی معمولی عیاشی نہیں۔ کتاب انسانی شخصیت میں گہرائی اور توازن پیدا کرتی ہے جو زندگی کا حسن ہے۔ اِسی توازن کے فقدان سے ہم آج دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ دُنیا نے علم کی بنیاد پر ہی ترقی کی ہے، اِس لئے ان معاشروں میں کتاب سے انسانی رشتہ بہت گہرا ہے، ہر آدمی، جہاں بھی اُسے وقت ملتا ہے، مطالعہ میں مصروف ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی وہ کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ وہاں پر جگہ جگہ لائبریریاں ہیں، جہاں کوئی بھی شہری حتیٰ کہ غیر ملکی بھی ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے، لیکن ہم نے لائبریری کا کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں گیلپ سروے کے نتائج شائع ہوئے تھے، جن کے مطابق پاکستان کے58 فیصد لوگوں نے زندگی میں کبھی لائبریری سے استفادہ نہیں کیا۔ یہ افسوسناک بات ہے، یہ ہمارے معاشرے پر بڑا منفی تبصرہ ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں لوکل باڈیز کے نظام کے تحت ہر یونین کونسل کے ہیڈ کوارٹر میں ایک لائبریری قائم کی گئی تھی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے لوکل باڈیز کے نظام کی بساط لپیٹ دی اور کتنی حیران کن بات ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ آمروں نے بنیادی جمہوریت کے انتخابات کروائے، لیکن جمہوری حکمرانوں نے لوکل باڈیز کی سطح پر انتخابات کروانے میں ہمیشہ گریز کیا۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں کی نیتوں میں فتور ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان دِنوں لوکل باڈیز کا احیا ہو گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ محلے کی سطح پر لائبریریاں ہوتی تھیں، پھر مُلک بھر میں تمام بڑے شہروں میں نیشنل سینٹر تھے، جہاں عوام کے لئے بہترین لائبریریاں تھیں اور علمی و ادبی موضوعات پر تقریبات ہوتی تھیں۔ مَیں نے لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان نیشنل سینٹر میں یادگار تقریبات میں شرکت کی، پھر یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

باقی پاکستان کو چھوڑیں، دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف نیشنل لائبریری رہ گئی ہے، جو ریڈ زون میں ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے ، پھر نیشنل لائبریری کتابیں ایشو بھی نہیں کرتی۔ اس طرح اس کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ایف 11 مرکز میں بھی ایک سرکاری لائبریری ہے، لیکن اس کی حالت کا اندازہ اِس سے لگائیں کہ اس میں ٹیلی فون اور بجلی نہیں۔ نیشنل لائبریری نے ہائر ایجوکیشن کے پاس ایک لائبریری قائم کی ہے، لیکن شاید ہی عام آدمی کو اس کا علم ہو۔ لال مسجد کے پاس ایک چلڈرن لائبریری تھی، جو ایک قابلِ قدر کوشش تھی، لیکن لال مسجد تنازعہ کی نذر ہو گئی۔

بلیو ایریا میں امریکن سینٹر کی لائبریری تھی، ہمارے کچھ سیاسی لیڈروں نے ایک جلوس نکال کر چار پانچ جانیں بھی لے لیں اور لائبریری بھی بند کرا دی۔ میلوڈی مارکیٹ میں برٹش کونسل کی لائبریری تھی، وہ بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل ہو گئی۔ میری تجویز ہے کہ کم از کم اسلام آباد میں ہر نئے سیکٹر کے کمرشل مرکز میں سی ڈی اے کو ایک کمیونٹی سینٹر بنانا چاہئے، جس میں باقی چیزوں کے علاوہ ایک چھوٹا سا کلب بھی ہو اور ایک لائبریری بھی تا کہ عام آدمی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لئے اسلام آباد کلب اور گن کلب کافی نہیں۔ جی 9- اور جی 7- میں کمیونٹی سینٹر موجود ہیں، لیکن ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ سی ڈی اے یہ سینٹر بنا کر پچھتا رہی ہے، کیونکہ بعد میں بننے والے سیکٹروں میں ایسا کوئی سینٹر نہیں بنایا گیا، مثلاً ایف 10اور ایف11 وغیرہ میں کوئی ایسی سہولت نہیں۔

میونسپل ایڈمنسٹریشن کو ان چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتابیں خرید کر پڑھنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں، کتابوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو رہا ہے، تو کتاب کی قیمت بھی بڑھنے کا پورا جواز موجود ہے، پھر کتاب کی چھپائی کا معیار بھی تو بلند ہوا ہے۔اگرچہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کتاب خرید سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتاب اُس کی ترجیح ہی نہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہمارے ہاں مطالعہ کا کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ صرف ایک محدود طبقہ کتاب کے عشق میں مبتلا ہے، اس صورتِ حال میں اچھی لائبریریوں کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، جہاں پارلیمنٹ جیسے اعلیٰ ترین اداروں کی رکنیت کے لئے تعلیم کی ضرورت تسلیم نہ کی جاتی ہو اور جہاں جیلوں کے دوستوں کو قومی اداروں کا سربراہ بنانے کا رواج عام ہو، وہاں کسی مثبت علمی کام کی توقع رکھنا شاید زیادتی ہو۔

خوش قسمتی سے موجودہ حکومت میں کچھ علم دوست لوگوں کی شمولیت سے صورتِ حال میں کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے ایک اہلِ قلم کانفرنس کا افتتاح کیا اور علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 50 کروڑ روپے کا فنڈ بھی دیا ہے۔ اہلِ قلم کانفرنسوں کا انعقاد بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن ایسی کانفرنسوں کا فائدہ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے، اس لئے کچھ دور رس اثرات کے حامل اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ میری حکومت اور اس میں علم دوست شخصیات سے گزارش ہے کہ اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں ایک گرینڈ پبلک لائبریری قائم کی جائے، جہاں سے ہر کوئی کتابیں لینے کا اہل ہو اور جو رات 12 بجے تک کھلی رہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلیٰ قسم کا ریسٹورنٹ بھی ہو۔ یورپ میں تو کتابوں کی دکانوں میں چائے کافی کا انتظام عام ہے، ہمارے ہاں یہ چیز ابھی رواج نہیں پا سکی۔ گلبرگ لاہور میں کتابوں کی ایک دکان Readings نے اس کی نقل کی ہے اور دکان کے اندر ایک کیفے ٹیریا بھی بنایا ہے۔ جاپان میں ایسی لائبریری بھی موجود ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ ایف 9 والی مجوزہ لائبریری کا افتتاح وزیراعظم صاحب خود کریں۔ اب تک ہمارے ہاں وزیراعظم اور صدر کانفرنسوں کے علاوہ صرف سڑکوں اور پُلوں کا افتتاح کرتے آ رہے ہیں، وہ بھی غلط نہیں، لیکن اب کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔

کتاب اور علم سے دوری ایک قومی المیہ ہے، یہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے لئے ایک سوال ہے۔ ہمارے ہاں اب کافی نجی ادارے خیر و فلاح کے بڑے کامیاب منصوبے چلا رہے ہیں، میرے خیال میں لائبریریوں کے ذریعے علم کے فروغ میں بھی مخیر لوگوں کو حصہ لینا چاہئے، کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے نام پر ہسپتال بنا رکھے ہیں، جہاں بجا طور پر بیمار اور بے سہارا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے جو یقینی طور پر ایک نیک کام ہے، لیکن معاشرے کے نظریاتی زخموں پر مرہم کوئی نہیں رکھے گا؟ کیا کوئی ادبی میموریل لائبریری نہیں بن سکتی، کیا علم کا فروغ کار خیر کے ضمن میں نہیں آتا؟

علم صرف کلاسوں سکولوں اور کالجوں میں نہیں ہوتا، ایسا ہوتا تو معاشرہ اتنا زوال پذیر نہ ہوتا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہماری علمی بنیاد کمزور ہے۔ ہم نے علم صرف امتحان پاس کرنے کو سمجھ لیا ہے۔ اب تو امتحان پاس کرنے کا معاملہ بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں دو فیصد کی کامیابی اربابِ اختیار اور پورے معاشرے کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ میرے خیال میں معاشرے کی جسمانی صحت کی جتنی ضرورت اور اہمیت ہے، اس سے زیادہ ذہنی صحت اور شعور کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں حکومت اور معاشرے کی سطح پر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ داؤد، میاں محمد منشا اور سید بابر علی جیسے لوگوں کو علم کے فروغ کے سلسلے میں اِس پہلو پر بھی توجہ کرنی چاہئے، بلاشبہ انہوں نے لمز جیسے ادارے بنا کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ کچھ اس طرف بھی توجہ کریں۔

اے خالق سرگانہ

علم کی قزاقی

ایسے دور میں جب بوتلوں میں منرل واٹر کے نام پر نلکے کا پانی، دودھ کے نام پر کیمیکل اور دواؤں کے نام پر زہر کھایا جا رہا ہے۔ اصلی کتابوں کی جعلی اشاعت کی وبا پر بات کرنا نری عیاشی ہے۔ پر آج عیاشی ہی سہی۔ دنیا میں اس وقت بلا اجازت شایع ہونے والی کتابوں کے جعلی ایڈیشنز سے کتابوں کی صنعت کو سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور اس میں سے تین ارب ڈالر تک کا نقصان صرف امریکی پبلشرز کو درپیش ہے۔ مختلف ممالک میں نافذ انٹلکچوئیل پراپرٹی رائٹس قوانین اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ضابطے بھی جعلی کتابوں کے کاروباریوں اور پھیلائے جال  کا کچھ  بال بیکا نہیں کر پائے۔ دھونس، دھمکی، مقدمہ کوئی شے بھی بہت زیادہ کارگر نہیں۔ مگر رونے پیٹنے واویلے کے ساتھ ساتھ مرض کے بنیادی اسباب جان کر انھیں کنٹرول کرنے کی کوششیں بھی آٹے میں نمک جیسی ہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ موضوع یوں اہم ہونا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کی پبلشنگ دنیا کو بین الاقوامی پبلشر برادری ملکی و غیر ملکی جعلی کتابوں کے سب سے بڑے اشاعت گھر کے طور پر جانتی ہے (اس بدنامی کے پیچھے یہودی لابی اور دیگر پاکستان دشمن قوتیں اور سی پیک سے جلنے والے کتنے ہیں یہ میں نہیں جانتا)۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف مقامی طور پر کتابوں کی دو نمبر اشاعت ملک و قوم کی علمی خدمت میں دن رات کوشاں ہے بلکہ مشرقِ وسطی، افریقہ حتی کہ بھارت کی بھی علمی پیاس بذریعہ تھرڈ پارٹی ایکسپورٹ بجھا رہی ہے۔ اور یہ سب اس کاپی رائٹ ایکٹ مجریہ انیس سو باسٹھ کے سائے تلے ہو رہا ہے جس کے مطابق جعلی ایڈیشن کی اشاعت، تقسیم، فروخت اور درآمد و برآمد پر تین تا سات برس قید اور ایک تا تین لاکھ جرمانے کی سزا ہے۔ پچھلے چون برس میں اس قانون کے تحت ایک عدد پبلشر کو پندرہ ہزار روپے جرمانہ ہو پایا اور ایک عدد پبلشر کو قید کی سزا ملی مگر وہ چند ماہ بعد ضمانت پر رہا ہو کر پھر اپنے کاروبار میں منہمک ہو گیا۔ کچھ دیوانے مصنفین پھر بھی عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔

مغرب میں چونکہ کتاب بینی کا شوق عام ہے اور مصنفین کو بھی بھاری رائلٹی ملتی ہے لہذا ان کا شور مچانا سمجھ میں آتا ہے کہ کتاب کی ہر جعلی کاپی ان کے کاروبار اور رائلٹی پر ڈاکہ ہے۔ مگر پاکستان میں علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کسی اور اشاعتی ادارے یا مصنف کو اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں کہ جعلی کتابوں کا کاروبار کتنا سود مند یا نقصان دہ ہے۔ بیشتر مصنفین کو رائلٹی ہی نہیں ملتی۔ اکثر سادہ لوحوں کو چنٹ پبلشر چند لاکھ روپے کے یکمشت معاوضے کا کلوروفارم سونگھا کر تاحیات حقوق اپنے نام کروا لیتے ہیں۔ کوئی مصنف اگر رائلٹی پر ہی بضد رہے تو پھر اس کا دماغی علاج بھی پبلشرز کے پاس ہے۔ رائلٹی ملتی بھی ہے تو پہلے ایڈیشن کی۔ اس کے بعد کتاب جانے اور پبلشر۔

میرے علم میں تو صرف ایک مثال ہے عبید اللہ علیم کی۔ جس پبلشر نے ان کے دو شعری مجموعے ’’چاند چہرہ ستارہ آنکھیں‘‘  اور ’’ویران سرائے کا دیا‘‘ ایک ایک ایک ہزار کی تعداد میں کئی سال پہلے چھاپے ان کے پہلے ایڈیشن کی رائلٹی تو واقعی علیم صاحب کو ان کی زندگی تک ملی۔ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں شعری مجموعے اتنے بابرکت ثابت ہوئے کہ پچھلے پچیس برس میں پرانے اوریجنل ایڈیشن کے نام پر چھپنے والی ایک ہزار کاپیاں کم ازکم دس ہزار گھروں میں دستیاب ہیں اور مارکیٹ میں بھی تازہ کاغذ اور چھپائی کی بھینی بھینی خوشبو سمیت موجود ہیں۔ پبلشر کے ریکارڈ میں آج بھی صرف ایک ایڈیشن ہے اور وہ بھی ایک ہزار کاپیوں کا۔ اب یہ چمتکاری اوریجنل پبلشر نے دکھائی یا کتابی قزاقوں نے؟ بوجھو تو جانیں۔

اس ملک میں تو ’’آگ کا دریا‘‘ والی عینی آپا، فیضؔ اور فرازؔ نہ بچ سکے تو عام مصنف کس کھیت کی مولی ہے۔ ایسے حالات میں مصنفین کو کیا پڑی کہ وہ اپنے لیے انصاف طلب کریں یا شور مچائیں۔ ان کی مثال تو اس بھینس کی ہے جسے چور کھول کے لے جانے لگا تو پیچھے سے مالک نے شور مچا دیا بھینس بھینس چوروں سے خبردار۔ بھینس نے پلٹ کر کہا تو بھی تو دودھ کے بدلے صرف چارہ ہی دیتا ہے۔ چور بھی بھوکا نہیں ماریں گے۔ پاکستان میں کتابوں کی اشاعتی چوری کے موضوع پر محض ایک پریزنٹیشن میری نظر سے گزری۔ اسے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری سائنس کے خالد محمود اور بلوچستان یونیورسٹی کے محمد الیاس نے تیار کیا۔ اس پریزنٹیشن کے اعتبار سے کتابوں کی جعلی اشاعت کی سب سے بڑی وجہ معیاری کتابوں  کی قیمت کا ایک عام آدمی کی دسترس سے باہر ہونا ہے۔ پھر ہینگ اور پھٹکڑی ڈالے بغیر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی خواہش ہے۔

کئی کتابوں کے جعلی ایڈیشن اس لیے بھی چھاپے جاتے ہیں کیونکہ اوریجنل ایڈیشن نایاب ہوتا ہے مگر اس کی ضرورت نایاب نہیں ہوتی۔ ایک وجہ کئی اسکول سسٹمز کے نصاب میں غیر ملکی کتابوں کی شمولیت ہے۔ والدین جو پہلے ہی سے بھاری فیسوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں وہ اوریجنل کتاب کے بجائے اس کی کاپی سستے کا سوچ کر خرید لیتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ یہ سستی بھی ہو۔ کئی اسکولوں نے اس کا توڑ یہ نکالا ہے کہ کتابیں کاپیاں بھی وہی فراہم کریں گے اور اگر باہر سے خریدنی ہیں تو صرف مخصوص کتاب فروشوں سے ہی خریدی جائیں (یہ ایک الگ طرح کا گٹھ جوڑی کاروبار اور تفصیل کا متقاضی ہے)۔ غیر ملکی کتابوں کی مقامی پائریسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مقامی اشاعت کے حقوق بہت کم غیر ملکی ادارے دیتے ہیں اور اکثر کڑی شرائط پر۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکی کتابوں کی درآمد کے قوانین سہل نہیں اور انھیں ہر پبلشر درآمد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اگرچہ بھارت میں شایع ہونے والی سائنسی و طبی موضوعات پر شایع ہونے والی کتابیں اس مانگ کو پورا کر سکتی ہیں۔ مگر دونوں ممالک آلو پیاز اور کیلے وغیرہ کی تجارت تو کر سکتے ہیں لیکن اخبارات، رسائل اور کتابوں کی دو طرفہ تجارت دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹس کو اس وقت مناسب نہیں لگتی۔ مبادا ایک دوسرے کی کتابیں اور اخبارات پڑھ کے کہیں ذہن نہ صاف ہونے لگ جائیں۔ کتابوں کے جعلی ایڈیشنز کی اشاعت سے سب سے زیادہ فائدہ بلاشبہہ درسی کتابوں کے کاروبار کا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ایڈیشنز بھی ان کتابوں کے شایع ہوتے ہیں۔ درسی مواد کی مانگ ہمیشہ زیادہ اور رسد ہمیشہ کم رہتی ہے۔ اس کے بعد جعلی ایڈیشن کا فائدہ کتب فروش کو ہے اور پھر کہیں جا کے اگر تھوڑا بہت مالیاتی فائدہ ہے تو کتاب خریدنے والے کو۔

کتابوں کی جعلی اشاعت ختم تو نہیں البتہ کم ہو سکتی ہے اگر نصابی کتابوں کی قیمتیں سبسڈی دے کر کم رکھنے اور ضروری غیر ملکی نصابی کتابوں کے مقامی اشاعتی حقوق کے حصول میں حکومتیں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے مینڈیٹ اور دائرہِ اشاعت میں اضافے سے بھی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ کتابیں درآمد کرنے کے قوانین کو بھی زیادہ آسان بنانے سے فرق پڑ سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ فرق کاپی رائٹس اور سائبر قوانین کے موثر اور مسلسل نفاز سے آ سکتا ہے۔ مگر بانوے فیصد لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان میں کاپی رائٹس کے قوانین موجود ہیں۔

اگر مصنفین کو معقول و منصفانہ رائلٹی ملنے کا کوئی قانونی و انتظامی ڈھانچہ بن سکے تو اس سے حوصلہ پا کر ایسے لوگ بھی اپنے تصورات و خیالات و تحقیق شایع کروانے میں دلچسپی لیں گے جنہوں نے آج تک مصنفین کو ہاتھ پھیلائے شکائیتی ٹٹو کے روپ میں ہی دیکھا ہے۔ اور اب تو انٹرنیٹ پر ڈجیٹل پائریسی کے روپ میں ایک اور بے لگام کتابی دہشتگردی شروع ہو چکی ہے۔ سنا ہے دو ہزار چار سے کسی سرکاری پاکستان انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن (پپرو) کا بھی وجود ہے۔ کیا کسی کو اس کے دفتر کا پتہ یا فون نمبر یا اہلکاروں کا نام معلوم ہے؟ پپرو تم کہاں ہو۔

وسعت اللہ خان