سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی……….جون ایلیا

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی!!!!
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی !!
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخرمیرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی۔
جون ایلیا

Enhanced by Zemanta
Advertisements

فسق موتی کو بھی مٹی میں ملا دے لیکن……..

فسق فساق کو بے کار بنا دیتا ہے
عشق عشاق کو عطار بنا دیتا ہے

فسق انساں کو چڑھاتا ہے سرِ دار مگر
عشق انسان کو سردار بنا دیتا ہے…

فسق ہاتھوں سے بناتا ہے بتانِ آزر
عشق مولیٰ کا پرستار بنتا دیتا ہے

فسق فاسق کو بناتا ہے فقط ہرجائی
عشق عاشق کو وفادار بنا دیتا ہے

فسق موتی کو بھی مٹی میں ملا دے لیکن
عشق پتھر کو چمکدار بنا دیتا ہے

عشق انفاس کو کرتا ہے عطا سو جانیں
فسق ارواح کو مردار بنا دیتا ہے

راہِ حق دور سے پرخار نظر آئے لاکھ
عشق اس راہ کو گلزار بنا دیتا ہے

فسق کرتا ہے دلاور کو بھی بزدل اکثر
عشق بذدل کو بھی دلدار بنا دیتا ہے

عقل داناؤں کو نادان بنتاتی ہے مگر
عشق عاشق کو سمجھدار بنا دیتا ہے

حبِ دنیا کہ بناتی ہے اثرؔ جعفرِ میر
عشقِ حق جعفرِ طیار بنا دیتا ہے

اس کے افعال کی خوشبو مہکتا ہے جہاں
خود کو جو صاحبِ کردار بنا دیتا ہے

نصرتِ رب پہ جو کرتا ہے توکل، سالک
ساری دنیا کو وہ انصار بنتا دیتا ہے

Enhanced by Zemanta

لوگ کہتے ہیں زمانے میں محبت کم ہے……..ساغر صدیقی

لوگ کہتے ہیں زمانے میں محبت کم ہے
یہ اگر سچ ہے تو اس میں حقیقت کم ہے
چند لوگوں نے اگر محل بنا رکھے ہیں
اس کا مطلب نہیں کہ شہر میں غربت کم ہے
اک ہم ہی نہ تھے جو یوں فراموش ہوئے ورنہ
بھول جانے کی اس شخص کو عادت کم ہے
کیوں نہ ہم چھوڑ چلیں شہر کی رونق ساغر
ویسے بھی اب اسے اپنی ضرورت کم ہے

Enhanced by Zemanta

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بُو نے
کبھی غور سے بھی دیکھا ہے تو نے…
جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سُونے
ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گٔیٔے لا مکاں کیسے کیسے
ھؤے ناموَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گٔیٔ نوجواں کیسے کیسے
اجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا
اسی پہ سکندر فاتح بھی ہارا
ہر ایک چھوڑ کے کیا حسرت سدھارا
پڑا رہ گیا سب یہیں کھاٹ سارا
تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا
جوانی میں پھر تجھ کو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا
اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا
یہی تجھ کو دھُن ہے رہُوں سب سے بالا
ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا؟
تجھے حسنِ ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
وُہ ہے عیش و عشرت کا کؤی محل بھی؟
جہاں ساتھ میں کھڑی ہو اجل بھی
بس اب اس جہالت سے تُو نکل بھی
یہ طرزِ معیشت اب اپنا بدل بھی
یہ دنیأے فانی ہے محبوب تجھ کو
ہؤی واہ کیا چیز مرغوب تجھ کو
نہی عقل اتنی بھی مجزوب تجھ کو
سمجھ لینا چاہیے اب خوب تجھ کو
بڑھاپے میں پا کے پیامِ قضا بھی
نہ چونکا نہ چیتا نہ سمبھلا ذرا بھی
کؤی تیری غفلت کی ہے انتہا بھی؟
جنون چھوڑ کر اپنے ہوش آ بھی
جب اِس بزم سے دوست چل دیے اکثر
اور اُٹھے چلے جا رہے ہیں برابر
ہر وقت پیشِ نظر ہے یہ منظر
یہاں پر تِرا دل بہلتا ہے کیونکر
جہاں میں کہیں شورِ ماتم بپا ہے
کہیں فِکر و فاقہ سے آہ و بکا ہے
کہیں شکوہ جور و مکر و دغا ہے
ہر ہر طرف سے بس یہی صدا ہے
جگہ جی لگانے کی دنیا
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں

 
Enhanced by Zemanta

کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ
دیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک…

عاشقی صبر طلب ، اور تمنّا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے ، لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

پرتوِ خُور سے ، ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ، ایک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل !
گرمئِ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک

غمِ ہستی کا ، اسدؔ ! کس سے ہو جُز مرگ ، علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

پاسِ وفا نہیں کیا، اس نے بجا، نہیں کیا

پاسِ وفا نہیں کیا، اس نے بجا، نہیں کیا
تُو نے بھی اپنے ساتھ کچھ کم تو برا نہیں کیا

اصلِ نصاب ایک شب، عمر لٹا دی سود میں
پھر بھی یہی گلہ رہا، قرض ادا نہیں کیا…

حالتِ جبر میں عجب وصل کیا ہے اختیار
ذکرِ ترا تمام عمر خود سے جدا نہیں کیا

کوزہ گری کے نام پر مجھ کو گھڑا گیا تھا کیوں
کوزہ گری کے نام پر اُس نے بھی کیا نہیں کیا

حرصِ نجات کفر تھی، خاک میں خاک ہو گئے
شوقِ وصالِ حور میں ذکرِ خدا نہیں کیا

اوجِ ملال و رنج میں ہم کو انا رہی عزیز
درد بلند کر لیا دستِ دعا نہیں کیا

دل نے لہو کی آخری بوند بھی صدقہ وار دی
خاکِ شفا بنا گیا، ردِّ بلا نہیں کیا

Enhanced by Zemanta

میں کیا ہوں معلوم نہیں……….واصف

میں کیا ہوں معلوم نہیں
میں قاسم مقسوم نہیں
میں تسلیم کا پیکر ہوں
میں حاکم محکوم نہیں
میں نے ظلم سہے لیکن…
میں پھر بھی مظلوم نہیں
میں مستی کا ساغر ہوں
ہوش سے میں محروم نہیں
تیری رحمت چھوڑے کون
توبہ میں معصوم نہیں
میرے تبریزی انداز
میں مولائے روم نہیں
میں مسجود ملائک ہوں
میں راقم مرقوم نہیں
میں مخلوق کا خادم ہوں
کون میرا مخدوم نہیں
جیتے جی مرجاتا ہوں
مرکے میں معدوم نہیں
میں نے کیا کیا دیکھا ہے
میں یونہی مغموم نہیں
میں صحرا کی جان ہوا
میں بادِ مسموم نہیں
میں مایوس نہیں لیکن
امید موہوم نہیں
واصف کیا نظمیں لکھے
رنگِ جہاں منظوم نہیں

Enhanced by Zemanta