کتاب سے دوری

سومرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ دُنیا میں انسانی محرومی اور مایوسی کا توڑ مطالعہ  ہے، لیکن افسوس ہم ان چیزوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ اور وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم بری طرح مایوسی کا شکار ہیں۔ کتاب سے رشتہ ٹوٹ جانا بڑا المیہ ہے۔ اس سے معاشرہ کھوکھلا ہو گیا ہے اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال نے ہمارے رویوں پر بہت منفی اثر ڈالا ہے۔ آج ہر طرف تلخی، نفرت اور مایوسی ہے۔ حافظ نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ۔۔۔ ’’فرصتے، کتابے و گوشۂ چمنے‘‘۔۔۔ یعنی کتاب ہو، فرصت ہو اور باغ کا کوئی گوشہ، لیکن آج ہم کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ چمن کی اہمیت سے بھی شاید بیگانہ ہو گئے ہیں۔

کہتے ہیں کتاب سے بہتر اور بے ضرر ساتھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ کتاب کے ذریعے ہم اپنے بستر میں بیٹھ کر دُنیا کے عظیم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جن سے ملنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ یہ کوئی معمولی عیاشی نہیں۔ کتاب انسانی شخصیت میں گہرائی اور توازن پیدا کرتی ہے جو زندگی کا حسن ہے۔ اِسی توازن کے فقدان سے ہم آج دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ دُنیا نے علم کی بنیاد پر ہی ترقی کی ہے، اِس لئے ان معاشروں میں کتاب سے انسانی رشتہ بہت گہرا ہے، ہر آدمی، جہاں بھی اُسے وقت ملتا ہے، مطالعہ میں مصروف ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی وہ کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ وہاں پر جگہ جگہ لائبریریاں ہیں، جہاں کوئی بھی شہری حتیٰ کہ غیر ملکی بھی ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے، لیکن ہم نے لائبریری کا کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں گیلپ سروے کے نتائج شائع ہوئے تھے، جن کے مطابق پاکستان کے58 فیصد لوگوں نے زندگی میں کبھی لائبریری سے استفادہ نہیں کیا۔ یہ افسوسناک بات ہے، یہ ہمارے معاشرے پر بڑا منفی تبصرہ ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں لوکل باڈیز کے نظام کے تحت ہر یونین کونسل کے ہیڈ کوارٹر میں ایک لائبریری قائم کی گئی تھی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے لوکل باڈیز کے نظام کی بساط لپیٹ دی اور کتنی حیران کن بات ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ آمروں نے بنیادی جمہوریت کے انتخابات کروائے، لیکن جمہوری حکمرانوں نے لوکل باڈیز کی سطح پر انتخابات کروانے میں ہمیشہ گریز کیا۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں کی نیتوں میں فتور ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان دِنوں لوکل باڈیز کا احیا ہو گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ محلے کی سطح پر لائبریریاں ہوتی تھیں، پھر مُلک بھر میں تمام بڑے شہروں میں نیشنل سینٹر تھے، جہاں عوام کے لئے بہترین لائبریریاں تھیں اور علمی و ادبی موضوعات پر تقریبات ہوتی تھیں۔ مَیں نے لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان نیشنل سینٹر میں یادگار تقریبات میں شرکت کی، پھر یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

باقی پاکستان کو چھوڑیں، دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف نیشنل لائبریری رہ گئی ہے، جو ریڈ زون میں ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے ، پھر نیشنل لائبریری کتابیں ایشو بھی نہیں کرتی۔ اس طرح اس کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ایف 11 مرکز میں بھی ایک سرکاری لائبریری ہے، لیکن اس کی حالت کا اندازہ اِس سے لگائیں کہ اس میں ٹیلی فون اور بجلی نہیں۔ نیشنل لائبریری نے ہائر ایجوکیشن کے پاس ایک لائبریری قائم کی ہے، لیکن شاید ہی عام آدمی کو اس کا علم ہو۔ لال مسجد کے پاس ایک چلڈرن لائبریری تھی، جو ایک قابلِ قدر کوشش تھی، لیکن لال مسجد تنازعہ کی نذر ہو گئی۔

بلیو ایریا میں امریکن سینٹر کی لائبریری تھی، ہمارے کچھ سیاسی لیڈروں نے ایک جلوس نکال کر چار پانچ جانیں بھی لے لیں اور لائبریری بھی بند کرا دی۔ میلوڈی مارکیٹ میں برٹش کونسل کی لائبریری تھی، وہ بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل ہو گئی۔ میری تجویز ہے کہ کم از کم اسلام آباد میں ہر نئے سیکٹر کے کمرشل مرکز میں سی ڈی اے کو ایک کمیونٹی سینٹر بنانا چاہئے، جس میں باقی چیزوں کے علاوہ ایک چھوٹا سا کلب بھی ہو اور ایک لائبریری بھی تا کہ عام آدمی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لئے اسلام آباد کلب اور گن کلب کافی نہیں۔ جی 9- اور جی 7- میں کمیونٹی سینٹر موجود ہیں، لیکن ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ سی ڈی اے یہ سینٹر بنا کر پچھتا رہی ہے، کیونکہ بعد میں بننے والے سیکٹروں میں ایسا کوئی سینٹر نہیں بنایا گیا، مثلاً ایف 10اور ایف11 وغیرہ میں کوئی ایسی سہولت نہیں۔

میونسپل ایڈمنسٹریشن کو ان چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتابیں خرید کر پڑھنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں، کتابوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو رہا ہے، تو کتاب کی قیمت بھی بڑھنے کا پورا جواز موجود ہے، پھر کتاب کی چھپائی کا معیار بھی تو بلند ہوا ہے۔اگرچہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کتاب خرید سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتاب اُس کی ترجیح ہی نہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہمارے ہاں مطالعہ کا کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ صرف ایک محدود طبقہ کتاب کے عشق میں مبتلا ہے، اس صورتِ حال میں اچھی لائبریریوں کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، جہاں پارلیمنٹ جیسے اعلیٰ ترین اداروں کی رکنیت کے لئے تعلیم کی ضرورت تسلیم نہ کی جاتی ہو اور جہاں جیلوں کے دوستوں کو قومی اداروں کا سربراہ بنانے کا رواج عام ہو، وہاں کسی مثبت علمی کام کی توقع رکھنا شاید زیادتی ہو۔

خوش قسمتی سے موجودہ حکومت میں کچھ علم دوست لوگوں کی شمولیت سے صورتِ حال میں کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے ایک اہلِ قلم کانفرنس کا افتتاح کیا اور علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 50 کروڑ روپے کا فنڈ بھی دیا ہے۔ اہلِ قلم کانفرنسوں کا انعقاد بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن ایسی کانفرنسوں کا فائدہ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے، اس لئے کچھ دور رس اثرات کے حامل اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ میری حکومت اور اس میں علم دوست شخصیات سے گزارش ہے کہ اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں ایک گرینڈ پبلک لائبریری قائم کی جائے، جہاں سے ہر کوئی کتابیں لینے کا اہل ہو اور جو رات 12 بجے تک کھلی رہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلیٰ قسم کا ریسٹورنٹ بھی ہو۔ یورپ میں تو کتابوں کی دکانوں میں چائے کافی کا انتظام عام ہے، ہمارے ہاں یہ چیز ابھی رواج نہیں پا سکی۔ گلبرگ لاہور میں کتابوں کی ایک دکان Readings نے اس کی نقل کی ہے اور دکان کے اندر ایک کیفے ٹیریا بھی بنایا ہے۔ جاپان میں ایسی لائبریری بھی موجود ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ ایف 9 والی مجوزہ لائبریری کا افتتاح وزیراعظم صاحب خود کریں۔ اب تک ہمارے ہاں وزیراعظم اور صدر کانفرنسوں کے علاوہ صرف سڑکوں اور پُلوں کا افتتاح کرتے آ رہے ہیں، وہ بھی غلط نہیں، لیکن اب کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔

کتاب اور علم سے دوری ایک قومی المیہ ہے، یہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے لئے ایک سوال ہے۔ ہمارے ہاں اب کافی نجی ادارے خیر و فلاح کے بڑے کامیاب منصوبے چلا رہے ہیں، میرے خیال میں لائبریریوں کے ذریعے علم کے فروغ میں بھی مخیر لوگوں کو حصہ لینا چاہئے، کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے نام پر ہسپتال بنا رکھے ہیں، جہاں بجا طور پر بیمار اور بے سہارا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے جو یقینی طور پر ایک نیک کام ہے، لیکن معاشرے کے نظریاتی زخموں پر مرہم کوئی نہیں رکھے گا؟ کیا کوئی ادبی میموریل لائبریری نہیں بن سکتی، کیا علم کا فروغ کار خیر کے ضمن میں نہیں آتا؟

علم صرف کلاسوں سکولوں اور کالجوں میں نہیں ہوتا، ایسا ہوتا تو معاشرہ اتنا زوال پذیر نہ ہوتا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہماری علمی بنیاد کمزور ہے۔ ہم نے علم صرف امتحان پاس کرنے کو سمجھ لیا ہے۔ اب تو امتحان پاس کرنے کا معاملہ بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں دو فیصد کی کامیابی اربابِ اختیار اور پورے معاشرے کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ میرے خیال میں معاشرے کی جسمانی صحت کی جتنی ضرورت اور اہمیت ہے، اس سے زیادہ ذہنی صحت اور شعور کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں حکومت اور معاشرے کی سطح پر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ داؤد، میاں محمد منشا اور سید بابر علی جیسے لوگوں کو علم کے فروغ کے سلسلے میں اِس پہلو پر بھی توجہ کرنی چاہئے، بلاشبہ انہوں نے لمز جیسے ادارے بنا کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ کچھ اس طرف بھی توجہ کریں۔

اے خالق سرگانہ

شاہی کتب خانے

دور قدیم کے شاہی کتب خانے عام طور پر شاہی محل یا کسی مندر کا حصہ ہوتے تھے ان کو بادشاہ کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی اور تمام اخراجات کتب خانہ بھی شاہی خزانے کو برداشت کرنا پڑتے تھے۔ چنانچہ ان میں رسائی بھی شاہی خاندان کے افراد یا امراء تک محدود تھی۔ قدیم کتب خانوں کی حیثیت محکمہ دستاویزات کی طرح تھی۔ اس میں خاندان شاہی کے حالات حکومت کے اخراجات کا ریکارڈ اور جنگی معاہدات وغیرہ سے متعلق کاغذات محفوظ رکھے جاتے تھے۔ لہذا ضرورت کے وقت بادشاہ یا وزراء یہاں حکومتی معاملات کے لیے آتے یا پھر شہزادے تفریح طبع اور ذوق مطالعہ کی تسکین کی خاطر چلے آتے تھے۔

ایسے حالات میں عوام کا گزران کتب خانوں میں دشوار تھا۔ عہد قدیم میں فراعنہ مصر کے کتب خانوں سے لے کر نینوا کے کتب خانے تک یہی حالات دیکھنے میں آتے تھے۔ برخلاف اس کے عباسیہ دور کے شاہی کتب خانوں میں بغداد کا بیت الحکمت بہت مشہور ہے یہ اگرچہ شاہی کتب خانہ تھا مگر قدیم کتب خانوں کی طرح محلات یا مندروں سے ملحق نہ تھا اس کی عمارت بالکل جدا اور کتب خانے کے لیے مخصوص تھی۔ بیت الحکمت میں خلیفہ و امراء کو مطالعہ کی جس طرح مراعات حاصل تھیں۔ اسی طرح ہر ایک پڑھے لکھے انسان کو یہاں داخلے کی عام اجازت تھی۔ یعنی یہ کتب خانے شاہی اخراجات سے چلتے اور شاہی سرپرستی میں ہونے کے باوجود عام کتب خانوں کی طرح خدمات انجام دیتے تھے۔ کہتے ہیں بیت الحکمت میں دس ہزار کتابیں مختلف موضوعات پر تھیں۔ ان میں بہت سی غیر زبانوں کی کتابوں کے تراجم بھی موجود تھے لہذا ہر فکر و خیال کا قاری خواہ غلام ہو یا آزاد یہاں سے استفادہ کر سکتا تھا۔

 ہارون رشید نے بیت الحکمت میں دو محکمے قائم کئے تھے۔ ایک کتابوں کی فراہمی کا اور دوسرا تصنیف و تالیف کا۔ ان شعبہ جات میں بلا لحاظ مذہب و ملت بڑے بڑے عالموں اور دانشوروں کو تحریر و تراجم کے لیے رکھا گیا تھا جبکہ قدیم کتب خانوں میں اس رواداری اور مساوات کا پتا نہیں چلتا۔ جانسن اپنی کتاب کمیونی کیشن میں اسکندریہ کے کتب خانے کی بابت لکھتا ہے کہ اس میں ایک غلام بھی آ کر کتابوں سے فیض حاصل کر سکتا تھا مگر یہ بات صرف کہی جا سکتی ہے ورنہ جس دور میں عوام کو آزادانہ حقوق حاصل نہ ہوں وہاں علماء اور غلام شاہی کتب خانوں سے استفادہ کر سکیں قیاس میں نہیں آتا۔ عباسیہ دور کے کتب خانوں کی تاریخ سے پتا چلتا ہے وہاں ان سلاطین کتب خانوں میں ہر کس و ناکس کو مطالعہ کی عام اجازت تھی۔

 (کتب اور کتب خانوں کی تاریخ سے انتخاب)

کتابیں کیوں پڑہیں ؟

پڑھیں کیسے؟ یہ ایک سوال ہے جو گزشتہ کئی مہینوں سے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر فالو کرنے والے کثرت سے پوچھ رہے ہیں۔ اب میں خود کوئی پڑھنے پڑھانے والا بندہ تو ہوں نہیں، یہی وجہ ہے کہ جواب دینے سے ہمیشہ معذرت برتی، مگر اب جب کہ اِصرار در اِصرار بڑھتا ہی جارہا ہے تو سوچا صرف اتنا لکھ دوں کہ میں کیسے پڑھتا ہوں۔ صحیح یا غلط کا فیصلہ قارئین اور اہل علم کریں گے۔

پڑھیں کیسے؟ اس سے پہلے بھی کئی سوال ہیں جو پوچھنے چاہئیں۔ مثلاً، پڑھیں کیوں؟ پڑھیں کیا؟ پڑھیں کب؟ وغیرہ وغیرہ اور پڑھیں کیسے کے بعد پوچھنا چاہیئے کہ پڑھنے کے کیا فائدے اور نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

پڑھیں کیوں؟

ایک دنیا ہے جو خوش و خرم، موج مستی میں زندگی گزار رہی ہے، دن بھر دوستوں سے واٹس اپ اور فیس بک پر بات اور رات بھر ٹی وی اور نائٹ پیکجز۔ ایسے میں آخر کون اتنا وقت ”برباد“ کرے کہ بیٹھ کر کتابیں پڑھے؟ پڑھنے کے کچھ فوائد جو میری سمجھ میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔

بندے کو اپنے جہل کا پتہ لگتا ہے کہ اُسے کتنا نہیں معلوم۔

پڑھنے سے کسی فیلڈ کا اور دنیا کا ایکسپوژر ملتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور میں کہاں کھڑا ہوں۔

پڑھنے سے بنیاد ملتی ہے جس پر کھڑا ہوکر کوئی کام کرسکے۔

پڑھنے سے دماغی و تخلیقی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں۔

پڑھنے سے ہمت و حوصلہ ملتا ہے کہ اگر دنیا یہ سب کچھ کر سکتی ہے تو میں بھی کرسکتا ہوں۔

پڑھنے سے موازنہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ مختلف سوچ و عقائد رکھنے والے حضرات کسی مضمون کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو پڑھنے سے ذہن میں وسعت آتی ہے اور برداشت بڑھتی ہے۔

پڑھنے سے وقت فالتو کاموں میں ضائع نہیں ہوتا۔ وہ تمام وقت جو ٹی وی ڈراموں، سوشل میڈیا اور دوستوں کی نذر ہوجاتا ہے، اب پڑھنے میں لگ رہا ہے۔

پڑھنے سے چیزوں کی حقیقت کھلتی ہے اور آدمی اچھے بُرے میں تمیز کرسکتا ہے۔

پڑھنے سے ادبی و جمالیاتی ذوق بنتا ہے جو آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آپ غالب اور رکشہ والے شعر میں تفریق کرسکیں۔

پڑھنے سے جستجو بڑھتی ہے، طلب و پیاس بڑھتی ہے اور آدمی اصل بات کی کھوج میں لگا رہتا ہے۔

اور پڑھنے سے بندے اور رب کے درمیان تعلق مضبوط ہوجاتا ہے کہ جس نے اپنی کتاب کا آغاز ہی اِقراء سے کیا ہے۔

پڑھیں کیا؟

اگر آپ پڑھنے سے شغف نہیں رکھتے تو شروع شروع میں عادت بنانے کے لئے کچھ بھی پڑھیں، بس پڑھیں۔ آن لائن بلاگز، فیس بک اور اخبارات اس پڑھائی میں شمار نہیں ہوتے نہ ہی آپ کے SMS میسجز۔ ابن صفی کو پڑھیں، اثر نعمانی کو پڑھیں، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، شوکت تھانوی، اشفاق احمد، عصمت چغتائی، وحیدہ نسیم، قرۃ العین حیدر، اجمل نیازی، طارق بلوچ صحرائی، سعادت حسن منٹو، ڈاکٹر امجد ثاقب، مستنصر حسین تارڑ یا انتظار حسین، نیا یا پرانا جو مصنف اچھا لگے، اسے پڑھ ڈالیں، شروع سے آخر تک۔ دینی ذوق ہو تو مولانا منظور نعمانی اور سید سلیمان ندویؒ کے کیا کہنے، آسان سہل زبان میں مشکل سے مشکل بات کہہ جاتے ہیں۔ شاعری کا شوق ہو تو پروین شاکر اور ناصر کاظمی سے شروع کریں، یاس یگانہ اور چراغ حسن حسرت پر سانس بھریں اور حافظ و رومی سے ہوتے ہوئے غالب اور علامہ اقبال پر ختم ہوجائیں۔

کسی مخصوص شعبے میں پڑھانا چاہیں تو اس فیلڈ میں کام کرنے والے سے پوچھیں کہ فیلڈ کے استاد کون ہیں، پھر استادوں سے پوچھیں کہ فیلڈ کے کرتا دھرتا کون ہیں۔ (ان کی تعداد ہمیشہ انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے) یا پھر کچھ کتابیں اُٹھالیں، بہت جلد احساس ہوجائے گا کہ سب لوگ معدودے چند اشخاص کا ہی ذکر کرتے ہیں، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے فیلڈ کی بنیاد رکھی بس انہی سے شروع کردیں۔ مثلاً جینٹک الگورتھم کا ذکر جان ہالینڈ کے بغیر ممکن نہیں، آرٹیفیشیل انٹیلی جنس میں مارون منسکی سرِ فہرست، فزکس کا تذکرہ آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ کے بغیر ادھورا، ریاضی میں سینکڑوں نام، آپ پال آرڈش اور رامان نجوا سے شروع کردیں، ایلن ٹیورنگ، جان وان نیومین کمپیوٹر سائنس کے روح رواں تو ایڈورڈ ولسن (Edword Wilson) چیونٹیوں پر اتھارٹی۔

آپ خود سوچیں کہ کسی شخص نے اپنی زندگی کے 50 ،40 سال ایک ہی مضمون کو دے دیئے پھر کوئی کتاب لکھی جو آپ کو 1000، 500 روپے میں دستیاب ہے بلکہ انٹرنیٹ سے مفت PDF بھی شاید مل جائے۔ اب آپ اسے چھوڑ کر فیس بک پر دوستوں سے بحث و مباحثہ میں الجھے ہوئے ہیں یہ کہاں کی شرافت ہے؟ نوبل پرائز پانے والوں کو پڑھیں۔ کیسا لگے گا آپ کو اگر کوئی شخص بڑا صوفی ہونے کا دعویٰ کرے اور اس نے شاہ ولی اللہ ؒ، حضرت مجدد الف ثانی ؒ اور ابن عربی ؒ کا نام تک نہ سُنا ہو۔ یہی حال ہم لوگوں کا ہے کہ جس شخص نے زندگی میں گاڑی نہیں چلائی وہ بھی جہاز کے حادثے پر گز بھر کا آرٹیکل لکھ دیتا ہے اور جس کو یہ تک نہیں پتہ کہ گلی کے نکڑ پر پنواڑی کون ہے وہ بھی ٹاک شوز میں آکر یہ ثابت کرتا ہے کہ نیا چیف آف آرمی اسٹاف کون ہوگا۔ پڑھائی سے دوری فراست سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی کے تصورات تک یتیم ہوجاتے ہیں اور عقائد بھیک میں ملنے لگتے ہیں۔ ہمت کیجئے، فیلڈ کا انتخاب کیجئے اور دے دیں زندگی کے 30، 20 سال پڑھنے کو، دنیا دوڑتی، لوٹتی، رینگتی آپ کے قدموں میں خود بخود آجائے گی۔

پڑھیں کب؟

ہر وقت پڑھیں، ایک عام آدمی زندگی میں اوسطاً 7 سال انتظار میں گزارتا ہے۔ بس اسٹاپ پر انتظار، ٹرین و جہاز میں بیٹھے منزل پر پہنچنے کا انتظار، اسپتال میں ڈاکٹر کے آنے کا انتظار، اسکول کے باہر بچوں کی چھٹی کا انتظار، اب اگر آپ کے ہاتھ میں ہر وقت کوئی کتاب ہو تو ایک عام آدمی کے مقابلے میں آپ کی زندگی میں 7 سال کی پڑھائی اضافی ہوگی۔ آپ چاہیں تو پڑھائی کے لئے کوئی وقت مقرر کرلیں مثلاً رات 7 بجے سے 9 بجے تک، سونے سے پہلے یا صبح 6 سے 8، آفس جانے سے پہلے یا عصر تک مغرب، اب اس پر جمے رہیں۔

پڑھیں کس سے؟

کتابوں سے، آن لائن کورسز سے، پڑھانے والے اب کم کم ہی بچے ہیں ٹیچرز کو مال غنیمت سمجھیں، کچھ پڑھا دیا تو ٹھیک ورنہ اُمید نہ رکھیں۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہر اس شخص کو جسے پڑھنا چاہیئے وہ پڑھا رہا ہے جس نے زندگی میں ایک لائن کا کوڈ نہیں لکھا وہ 110 بچوں کی کلاس میں دو سال سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پڑھاتا ہے پھر بچے روتے ہیں کہ جاب نہیں ملتی۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ”پڑھنا“ آپ کی ذمہ داری ہے، جیسے کہ صحت، آپ اپنے آپ کو کھلاتے ہیں، سلاتے ہیں، سردی گرمی کا خیال رکھتے ہیں بالکل اسی طرح پڑھنا بھی آپ کی ذاتی ذمہ داری و فرائض میں شامل ہے، ماں باپ، استاد اور لوگوں پر الزام دھرنا چھوڑ دیں۔

پڑھیں کیسے؟

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف پڑھیں کیسے؟ اس کا جواب سب سے زیادہ آسان ہے۔ ذہن اور روز مرہ روٹین کو جتنا سادہ اور خرافات سے پاک کر سکتے ہیں وہ کر لیں۔ ہماری زندگی عموماً ریشم کے لچھے کی طرح گنجلک ہوتی ہے اور کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔ میں نے بچپن میں اپنے ایک استاد مولانا عبدالرحمن صاحب سے پوچھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری یادداشت تیز ہوجائے تو کیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ آنکھوں کی حفاظت کرو۔ میں بڑا حیران ہوا کہ آنکھوں کی حفاظت کا یادداشت سے کیا تعلق؟ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ کوئی دماغی ورزش یا بادام کھانے کا کہیں گے۔ وہ کہنے لگے کہ علم کی آنرشپ اللہ سائیں کے پاس ہے، جب چاہے، جسے چاہے، جتنا چاہے دے دے مگر وہ گندی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالتا۔

اگر آپ پڑھنے بیٹھیں ہیں اور دماغ میں موسیقی کی دھنیں اور فلموں کے ڈانس جاری ہیں تو نہ پڑھا جائے گا اور غلطی سے کچھ پڑھ بھی لیا تو سمجھ کچھ نہیں آئے گا یا یاد نہیں رہے گا۔ لفظ مل جائیں گے، علم اُٹھ جائے گا۔ یہ کتابیں بہت با حیا ہوتی ہیں۔ بدنظروں سے اپنا آپ چھپا لیتی ہیں۔ آپ مندرجہ ذیل امور پر توجہ دیں تو امید ہے انشاء اللہ پڑھائی آسان ہوجائے گی۔ پڑھنے کا وقت متعین کرلیں خواہ 15 منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ اب دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے مگر سب کو پتہ ہو کہ یہ آپ کا پڑھنے کا وقت ہے۔ جس میں یا تو آپ کتاب پڑھیں گے یا جنازہ اور کچھ نہیں۔ ایک مرتبہ وقت پر قابو ہوجائے تو ہلکے ہلکے دورانیہ بڑھاتے چلے جائیں۔

پڑھنے کے وقت کچھ اور نہ کریں، ماحول کو سازگار بنائیں۔ اگر پڑھتے وقت ہر 30 سیکنڈ میں آپ کو موبائل چیک کرنا ہے، فیس بک پر کچھ لکھنا ہے، واٹس اپ چیک کرنا ہے، فون سننا ہے، ٹی وی کا چینل بدلنا ہے، دروازہ کھولنا ہے، دودھ گرم کرنا ہے، کھانا بنانا ہے، تو ہوگئی پڑھائی، وقفہ پڑھائی (Reading Break) کے دوران کچھ بھی نہ کریں صرف پڑھیں۔ کوشش کرکے کوئی ایسا کمرہ، کونا کھدرا تلاش کریں جہاں آپ پر کسی کی نظر نہ پڑسکے۔ میں اپنے بچپن میں مچان پر جا کر چھپ جاتا تھا۔ موبائل دراز میں لاک کردیں، ٹی وی بند کردیں اور دنیا و مافیہا سے بے نیاز، صرف پڑھتے رہیں۔ میں تو ہر کتاب شروع کرتے وقت اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ اے اللہ، عزرائیلؑ کو نہ بھیج دینا، کتاب ادھوری رہی تو چین سے مر بھی نہیں سکوں گا سارا مزہ کرکرا ہو جائے گا، کتاب پوری کروا دے پھر آتا ہوں۔

کم از کم صفحات کی تعداد طے کرلیں، مثال کے طور پر میں روز کے 100 صفحات پڑھوں گا۔ اب چاہے بارش آئے یا طوفان، دھرنا ہو یا بقرعید آپ نے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ ایک مسلمان اب اگر مہینے کے 3 ہزار صفحات بھی نہ پڑھے تو کتنے شرم کی بات ہے۔ جب 100 پر پکے ہوجائیں تو صفحات بڑھاتے چلے جائیں۔ مصروف شخص آرام سے 4 سے 6 سو صفحات تو دن کے پڑھ ہی سکتا ہے، 4 گھنٹے ہی تو لگتے ہیں 20 گھنٹے تو پھر بھی بچے روز کے۔ مختلف کتابیں ایک ساتھ شروع کریں۔ آدمی کا اپنا مزاج اور طبیعت ہوتی ہے۔ طبیعت صرف اچھا لگا یا بُرا لگا بتاتی ہے، دلیل نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے 100 صفحات پڑھنے تھے، کمپیوٹر سائنس کے اور آپ 10 پڑھ کر اُکتا گئے تو کوئی بات نہیں 40 شاعری کے پڑھ لیں، 20 اسلام کے، 30 تاریخ کے، ہوگئے پورے 100۔ بس جو نمبر آپ نے مقرر کیا ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹنا۔

وقفہ لیں

کہتے ہیں آدمی کے فوکس کا دورانیہ 45 منٹ ہے تو آپ 45 منٹ یا گھنٹے بعد آنکھ بند کرکے 10 منٹ کا وقفہ لے لیں۔ اس وقفے میں دماغ ساری معلومات کو بھی کھنگال لے گا۔ مسلسل پڑھائی کے بعد سونا ایک اچھا آزمودہ طریقہ کار ہے، پڑھائی کو یاد رکھنے کا اور اگر بھول بھی جائیں تو فکر نہ کریں زندگی میں جب بھی ان معلومات کی ضرورت محسوس ہوگی یہ خودبخود لاشعور سے نکل کر آپ کے سامنے آجائے گی اور کم از کم آپ کی قوتِ فیصلہ تو بہتر ہو ہی جائے گی۔

نوٹس لیں

خلاصہ کیجئے اور ضروری اور اہم جملوں کو انڈر لائن کیجئے، جو کتاب پڑھیں اس کے باب کے آخر میں یا کتاب کے آخر میں عام فہم جملوں میں اس کا خلاصہ لکھ دیں، سمجھیں کہ آپ نے یہ کتاب کسی ایسے شخص کو سمجھانی ہے جسے پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ اب اگر آپ کتاب کو اس طرح مختصر الفاظ میں بیان کرسکیں تو بے فکر ہوجائیے۔ آپ نے کتاب کو سمجھ لیا ہے اور اگر نہ کرسکیں تو پھر سے پڑھیں یہ صلاحیت دھیرے دھیرے نکھر جائے گی۔

ترجیح بنائیں

فرض کرلیں کہ پڑھنا زندگی کا سب سے اہم کام ہے۔ بس یہی کرنا ہے، بیچ میں وقفہ لے لیں، جاب کا، فیملی کا، نماز کا، کھانے پینے کا، سونے کا، مگر اصل کام پڑھنا ہے، ہر بریک میں خیال پڑھنے کا ہونا چاہیئے اس سے کام آسان ہوجاتا ہے۔

تیز رفتاری سے مقابلہ کریں

جب آپ ایک ہی مضمون کی بہت سی کتابیں پڑھیں گے تو آپ کو احساس ہو گا کہ مختلف لوگوں نے بار بار ایک ہی نظریے کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے اور دو چار ہی عام فہم مثالیں ہیں جو ہر کوئی دیتا ہے جیسے ہی آپ کو دیکھی ہوئی جانی پہچانی تصویر، گراف یا ایکویشن نظر آئے آپ صفحہ پلٹ دیں (اگر آپ کو معلوم ہو کہ یہ کیا ہے)۔ یہ صلاحیت زیادہ پڑھنے سے خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ کبھی آپ حفظ  سورتوں کے پڑھنے کی رفتار کا باقی سورتوں کے پڑھنے کی رفتار سے موازنہ کریں آپ کو یہ بات سمجھ آجائے گی۔ ایک جیسی مثالیں بھی حفظ کی طرح ازبر ہو جاتی ہیں۔

آئی فون اور اینڈرائڈ میں درجنوں ایسی ایپلی کیشنز ہیں جو آپ کو اسپیڈ ریڈنگ سکھاتی ہیں۔ ایک اوسط آدمی کی پڑھنے کی رفتار 120 الفاظ فی منٹ ہوتی ہے۔ آپ ذرا سی پریکٹس سے اسے 400 الفاظ فی منٹ تک پہنچاسکتے ہیں اور مادری زبان میں تو یہ اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک صفحے پر کم و بیش 250 سے 300 الفاظ ہوتے ہیں۔ ایک نان فکشن کتاب 50 سے 75 ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ کوئی 200 سے 250 صفحات۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صرف 400 الفاظ فی منٹ کے حساب سے ایک اوسط کتاب 2 گھنٹوں میں ختم کرسکتے ہیں۔

اگر آپ روزانہ 6 گھنٹے بھی صرف پڑھ لیں تو باآسانی 3 کتابیں ختم ہو سکتی ہیں۔ یعنی سال بھر میں ایک ہزار کتابیں پڑھنا تو بچوں کا کھیل ہے۔ میں نے ذرا سی کوشش کرکے 850 الفاظ فی منٹ تک کی رفتار بنالی ہے۔ آپ محنت کریں اور بہت آگے نکل جائیں۔ اسپیڈ ریڈنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کم وقت میں دوسروں سے بہت زیادہ پڑھ لیتے ہیں اور پھر بھی وقت بچتا ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب تک آپ کو پتہ لگتا ہے کہ کتاب کافی بورنگ ہے، کتاب ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات اور مشق کیلئے آپ ایبی مارکس اور پام ملن کی اسپیڈ ریڈنگ پر کتاب دیکھ لیں یا اسپیڈ ریڈنگ ورک بک پر کام شروع کردیں یا سب سے بہتر رچرڈ سوٹز کی ’اسپیڈ ریڈنگ احمقوں کیلئے‘ پڑھ ڈالیں۔ یہ ساری کتابیں انٹرنیٹ سے مفت دستیاب ہیں۔

پہلا اور آخری باب

کوشش کریں کہ کتاب کا (Preface Introduction) یا تعارف اور اختتام Conclusion پہلے پڑھ لیں۔ ایسا کرنے سے آپ کا ذہن مصنف کی تخیلاتی حدود کا ناپ لے لے گا اور پھر بیچ کے ابواب سمجھنا آسان ہو جائیں گے کہ آپ کو پتہ ہوگا کہ مصنف کدھر جا رہا ہے۔ ہاں، فکشن میں یہ حرکت نہ کریں ورنہ ساری کتاب کا مزہ خراب ہوجائے گا۔

مصنف کو پڑھیں

تحریر سے پہلے اگر آپ کچھ دیر کو مصنف کو پڑھ لیں تو تحریر سمجھنا آسان ہو جاتی ہے۔ کہاں پلا بڑھا، کہاں سے تعلیم حاصل کی، کہاں کام کررہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح مصنف کے اچھے یا بُرے تعصب کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور معاصرین کا بھی۔

پڑھنے کے نقصانات

جی ہاں پڑھنے کے ڈھیروں نقصانات بھی ہیں۔ پہلا تو یہ کہ آدمی کو چپ لگ جاتی ہے، بات کرے تو کس سے کرے؟ بولے تو کس سے بولے؟ کووّں کی کائیں کائیں میں کوئل کی کُوک کون سنے گا؟ آدمی کو چاہیئے کہ کوئی پرندہ یا بلی پال لے تا کہ کم از کم تنہائی کا ڈپریشن تو نہ ہو۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ دوست کم ہونا شروع ہو جائیں گے کہ کسی کو آپ کی باتوں سے اتفاق ہی نہیں ہو گا اور اختلاف کی دلیل لانا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ آپ کتابوں کو ہی دوست بنالیں۔ تیسرا نقصان یہ کہ لوگ آپ پر طعنے کسیں گے۔ بہتان باندھیں گے، آپ کے مسلک اور فرقے اس رفتار سے بدلیں گے جیسے کپڑے بدل رہے ہوں۔ فکر نہ کریں یہ علم کی زکوٰۃ ہے۔ نکلتی رہنی چاہیئے۔ پھر سب سے بڑا نقصان یہ کہ آپ جاہل رہ جائیں گے، پتہ چلے گا کہ کیا کیا نہیں معلوم۔ آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے، وقت ملا تو ضرور کچھ تفصیل سے لکھوں گا۔ واصف علی واصف کے شعر پر ختم کرتے ہیں۔

ذیشان الحسن عثمانی

کراچی کے فٹ پاتھ علم کے خزانوں سے مالا مال

کہتے ہیں اچھی کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں، اکثر اس اچھے دوست کی تلاش بڑی مشکل ہوجاتی  ہے ۔ ہر اتوارکو ریگل چوک صدر میں لگنے والا کتابوں کا یہ بازار بھی خوب ہے۔ یہاں اکثر ایسی کتابیں میسر آجاتی ہیں جو بازار یا لائبریری میں با آسانی دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عمر اور ہر ذوق کے افراد یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہاں ایسی کتابیں بھی مل جاتی ہیں جنہیں عام آدمی کی جیب خریدنے کی اجازت نہیں دیتی جبکہ کاروبار کے ساتھ علم دوست افراد سے مل کر بھی بہت خوشی ہوتی ہے۔ کتابوں کی خریداری کیلئے یہاں آنے والوں کا کہنا ہے کہ شہر کا یہ بازارعلم کے متوالوں کے لئے ایک چشمہ ہے جو کسی حد تک ان کی پیاس بجھانے کا ذریعہ ہے۔ جدید دور میں بھی کتابوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جس کا ثبوت صدر میں لگنے والے اس بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد ہے ۔

مستقبل کی لائبریری، جہاں کوئی کتاب نہیں

امریکا کی سب سے پہلی عوامی ڈیجیٹل لائبریری ریاست ٹیکساس میں قائم کی گئی ہے۔ یہ اس ملک کی وہ پہلی لائبریری ہے، جہاں کوئی بھی کتاب موجود نہیں۔ اس میں صرف اور صرف ٹچ سکرین ٹیبلٹس اور کمپیوٹر رکھے گئے ہیں۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں 2.3 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی گئی اس بُک لیس اور ڈیجیٹل لائبریری کا نام بیبلیو ٹیک رکھا گیا ہے۔ یہ امریکا کی وہ واحد پبلک لائبریری ہے، جس نے ہانگ گانگ تک لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ ہانگ کانگ کے حکام بھی اسی طرح کی ایک لائبریری بنانا چاہتے ہیں۔ امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کے مطابق یورپی ممالک اور امریکا کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تو پہلے ہی ڈیجیٹل لائبریریاں موجود ہیں، لیکن یہ پہلی عوامی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔

ریاست ٹیکساس کا شہر سان انتونیو ملک کا ساتواں سب سے بڑا شہر ہے، لیکن خواندگی کی شرح کے لحاظ سے اس کا نمبر ساٹھواں ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عوامی سطح پر کتابیں پڑھنے کے شوق میں اضافہ ہو۔ اس لائبریری میں قطار در قطار سینکڑوں سمارٹ کمپیوٹرز اور ٹیبلٹس رکھے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس کے قیام کے پہلے سال ہی میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ اس لائبریری کی سربراہ ایشلے ایلکوف کا تعلق ماضی میں ایک روایتی لائبریری سے تھا۔ کتابوں سے بھری ہوئی ایک روایتی لائبریری میں انہیں کیا مشکلات پیش آتی تھیں، اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ بہت سی کتابوں کے حاشیوں پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ملتا تھا، بعض اوقات کتاب کے اندر سے صفحات ہی غائب ہوتے تھے۔Future Libraries1

پرانی کتابوں کی دوبارہ مرمت کرنے کا بھی مسئلہ ہوتا تھا۔ اگر کوئی کتاب وقت پر واپس نہیں کرتا تھا، تو اسے جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے، لیکن بہت سے لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔اس لائبریری میں ای بْکس کی بھی بہت وسیع تعداد موجود ہے اور ایک وقت میں کم از کم پانچ کتابیں ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں۔ ایشلے ایلکوف کے مطابق ان کی ڈیجیٹل لائبریری روایتی لائبریری کی نسبت زیادہ سودمند ثابت ہو رہی ہے۔ انتظامیہ نے دس ہزار ڈیجیٹل کتابوں کا ایک مجموعہ خریدا ہے۔ انتظامیہ کو ان ڈیجیٹل کتابوں کے لیے وہی قیمت ادا کرنا پڑی ہے، جو کہ ایک پرنٹڈکتاب کے لیے ادا کی جاتی ہے، لیکن پھر بھی کئی ملین ڈالرز کی بچت کر لی گئی ہے، جو عمارت کی تعمیر اور کتابیں رکھنے کے لیے بندوبست کرنے پر خرچ ہونا تھے۔

ایلکوف کہتی ہیں کہ اگر کتابوں کی الماریاں نہ بنائی جائیں تو عمارت کی مضبوطی پر خرچ ہونے والی رقم بچائی جا سکتی ہے۔ اے پی کے مطابق اسی شہر میں ایک روایتی لائبریری تعمیر کی جا رہی ہے اور اس پر 120 ملین ڈالر کی لاگت آئے گی، جو ڈیجیٹل لائبریری پر آنے والی لاگت سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈیجیٹل لائبریری میں پہلی مرتبہ آنے والوں کو سب سے پہلے ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں کس طرح کتابوں کو تلاش کرنا ہے، تاہم متعدد افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کوئی ڈیجیٹل کتاب کی بجائے روایتی کتاب پڑھنا پسند کرتے ہیں کیونکہ کمپیوٹر اور ٹیبلٹس کی لائٹ ان کی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

امتیاز احمد

کتابوں کو کس طرح ترتیب دیں؟

اگر آپ کو بھی کتابوں سے جنون کی حد تک محبت ہے، لیکن یہ نہیں جانتے کہ کتابوں کو کس طرح ترتیب دیا جائے، تو یقینا آپ کے گھر میں بے شمار کتابیں بکھریں نظر آتی ہوں گی، جس سے نہ صرف کتابوں کو نقصان کا اندیشہ رہتا ہے بلکہ گھر میں بھی عموماً اس پر بحث مباحثہ چلتا ہے۔ کتابوں کو ترتیب دینے سے نہ صرف کتابوں کی حفاظت اچھی طرح ممکن ہوتی ہے بلکہ بے شمار کتابوں میں سے اپنی پسند کی کتاب نکالنے میں بھی انتہائی آسانی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کتابوں کو کس طرح رکھا جائے، تو اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ ایک گھر میں بک شیلف رکھیں اور بک شیلف کو کس طرح ترتیب دیا جائے؟ تو اس سوال کا جواب آپ کو بتاتے ہیں: حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیں یہ طریقہ سب سے آسان اور عام طور پر استعمال کیا جانے والا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کتابوں کے نام سے کتاب تلاش کرنے میں اس قدر آسانی ہوتی ہے کہ لمحہ بھر میں ہی اپنی کتاب تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ چاہیں تو مصنف کے پہلے یا آخری نام کے ساتھ بھی کتابوں کو ترتیب دے سکتے ہیں۔ موضوعات کے مطابق کتابوں کو تقسیم کریں اگر یہ کہا جائے کہ یہ کتابوں کو تلاش کرنے کا سب سے آسان ترین طریقہ ہے، تو شاید غلط نہ ہو۔ آپ ادب، فلسفہ، افسانہ، تاریخ، مذہب سے متعلق کتابوں کو الگ الگ شیلف میں رکھ دیں، پھر جس موضوع پر بھی کتاب پڑھنے کو جی چاہے، فوراً اٹھا کر مطالعہ شروع کرلیں۔ خریدی گئی اور تحفتاً ملنے والی کتابیں الگ الگ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھیں جنہوں نے کتاب جیسا قیمتی تحفہ آپ کو دیا ہے، تو اس کے لیے آسان طریقہ یہی ہے کہ تحفے کی صورت ملنے والی تمام کتابوں کو الگ شیلف میں رکھ دیں اور جو آپ نے خود خریدی ہیں، انہیں الگ رکھ دیں تاکہ آپ دونوں میں فرق کرسکیں اور آپ کو یہ یاد بھی رہے کہ آپ کو کس نے اور کون سی کتاب کب تحفے میں دی تھی۔ رنگوں کے اعتبار سے تقسیم اگر آپ بک شیلف کو خوبصورت رنگ دینا چاہتے ہیں ،تو کتابوں کو ان کے رنگوں یعنی ان کے کور پر موجود رنگوں کے حساب سے بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ عین ممکن ہے کہ آپ کے گھر میں ہر وقت ہی ’رینبو‘ نظر آنا شروع ہوجائے۔ پبلشرز کے اعتبار سے تقسیم کردیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی مختلف کتابیں ایک ساتھ گھل مل نہ جائیں، تو اس کو روکنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اپنی کتابوں کو پبلشرز کے اعتبار سے تقسیم کردیں، یعنی ہر پبلشر کی کتابوں کو الگ الگ کرکے رکھ دیں۔

 (ترجمہ وبحوالہ ٹائمز آف انڈیا)

کتب فروشی ختم ہو رہی ہے یا کتب بینی ؟

پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر ایک پرانے بک اسٹور کے باہر یہ نوٹس سیاہ پینا فلیکس پر لکھا پھٹپھٹا رہا ہے۔ ’’ ہماری علمی پسماندگی نے ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی سیاسی اور اقتصادی غلامی کی گرفت میں دے دیا ہے۔ ملکی وسائل کرپٹ مافیا کے توسط سے عالمی طاقتوں کے لیے استعمال کر کے غربت ، بے روزگاری و اقتصادی پسماندگی قبول کی جا رہی ہے۔ نتیجے میں پورا معاشرہ اخلاقی زوال ، اجتماعی بے حسی ،انتہا پسندی ، دہشت گردی اور خوف کی گرفت میں ہے۔ بے علمی و جہالت کے گھپ اندھیروں نے ہماری بصارت و بصیرت چھین لی ہے۔ ہمیں مطالعے کی عادت نہیں رہی۔ لائبریریاں اور کتابوں کی دوکانیں ہماری معاشرتی و تعلیمی زندگی میں کوئی مقام نہیں رکھتیں۔ان حالات نے ہمیں کتب فروشی ختم کرنے کے افسوس ناک فیصلے پر مجبور کردیا ہے ’’۔شاہین بکس پشاور۔

پچھلے چھ برس میں پشاور میں تین قدیم کتابی دوکانیں ( بشمول سعید بک بینک ، مکتبہِ سرحد ) بند ہو چکی ہیں۔ سنا ہے اب صرف ایک قابلِ ذکر دوکان بچی ہے۔

کراچی کے علاقے صدر میں اب صرف ایک بک شاپ ( تھامس اینڈ تھامس ) گنے کا رس پیلنے والی دو مشینوں کے پیچھے سے جھانکتی نظر آتی ہے۔ ( پاک امریکن ، کتاب محل، اسٹینڈرڈ پبلشنگ ہاؤس ، فوکس پبلشنگ اور سیسی کا کفن دفن ہوئے عرصہ ہوا )۔ دو کروڑ آبادی والے کراچی میں آج اگر آپ کو کوئی ڈھنگ کا بک اسٹور درکار ہے تو اس کے لیے دو فور اسٹارز ہوٹلوں یا کلفٹن کے ایک شاپنگ مال یا پھر اردو بازار جانا پڑے گا۔ کچھ پبلشرز نے اپنا دفتر اور دوکان گاہکوں سے زیادہ اپنی سہولت کے لیے یکجا کر لیے ہیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا ادارہ اگرچہ سستی کتابیں چھاپتا ہے لیکن اس کا شو روم عموماً ایسی جگہ بنایا جاتا ہے کہ عام کتاب خواں رسائی کا سوچ کر ہی ہمت ہار جائے۔ حالیہ برسوں میں اگر کوئی ادارہ کتابوں کے فروغ کے اعتبار سے پنپاہے تو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کہا جا سکتا ہے۔اس ادارے کے سالانہ لٹریری فیسٹیولز نے کتب بینی کے شوق کے احیا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول کی دیکھا دیکھی حیدرآباد ، گوادر اور فیصل آباد وغیرہ میں بھی مقامی سطح پر کتابی و ادبی میلوں کی داغ بیل پڑی ہے۔ اس کے علاوہ کتابوں کی تیزی سے کم ہوتی دوکانوں کی کمی بڑے شہروں میں وقتاً فوقتاً منعقد ہونے والے سالانہ کتب میلے بھی پوری کر رہے ہیں (جیسے کراچی و لاہور کے ایکسپو سینٹرز میں ہونے والے کتب میلے )۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ کتابوں کی دوکانیں بند زیادہ  اور کھل کم رہی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کتابوں کی قیمت عام آدمی کی رسائی سے باہر ہے لہٰذا وہ چاہے بھی تو کتاب نہیں خرید سکتا۔ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو پھر ورلڈ کلچرل انڈیکس کے تیس ممالک میں کیے گئے آخری سروے ( دو ہزار پانچ ) کے مطابق بھارت ، تھائی لینڈ اور چین کتاب بینی کے معاملے میں امریکا ، یو کے اور جنوبی کوریا وغیرہ جیسے امیر ممالک سے کیوں آگے ہیں ( بھارت میں کتب بینی کا ہفتہ وار اوسط دس اعشاریہ سات ، تھائی لینڈ میں نو اعشاریہ چار اور چین میں آٹھ گھنٹے ہے )۔

یہ بات صرف پاکستان پر ہی لاگو نہیں ہوتی کہ کتابوں کی دوکانیں بند ہو رہی ہیں یا ان میں سناٹا بڑھ رہا ہے۔ امریکا میں بھی یہی حالات ہیں۔ کتب فروشی کی سرکردہ امریکی کمپنی بارڈرز دو ہزار گیارہ میں دیوالیہ ہوگئی۔ دنیا کی سب سے بڑی کتب فروش کمپنی بارنز اینڈ نوبلز کی چھ سو سترہ کتاب دوکانیں تھیں مگر اب ہر برس اسے اوسطاً بیس دوکانیں بند کرنا پڑ رہی ہیں۔ توکیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ امریکیوں میں کتب بینی کا شوق مر رہا ہے ؟

اگر ایسا ہے تو پھر ایمیزون گدشتہ بیس برس کے اندر دنیا کا سب سے بڑا کتب فروش کیسے بن گیا۔ دو ہزار چودہ میں ایمیزون نے سوا پانچ ارب ڈالر کی کتابیں کیسے فروخت کردیں۔ اور جہاں بڑے بڑے کتب فروشوں کو اپنے کاروبار کے لالے پڑے ہیں اور دوکانیں بند ہو رہی ہیں وہاں ایمیزون اگلے پانچ برس کے دوران تین سو سے چار سو کتاب دوکانیں کھولنے کا منصوبہ کیوں بنا رہا ہے ؟ بات یہ ہے کہ روایتی کتب فروش زمانے کی تیز رفتار دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب بھاری بھر کم کتابوں کی جگہ ای بکس کے انقلاب نے لے لی ہے۔ سنگاپور کے کسی اسکول میں بچے موٹے موٹے بستے لے کر نہیں جاتے بلکہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک ٹیبلٹ ہوتی ہے۔اس پاؤ بھر وزن کی ٹیبلٹ میں تمام ای بک نصاب اور کاپیوں کی جگہ ہوم ورک کے لیے ورڈ سافٹ وئیر ہے۔

آج ایک کنڈل ٹیبلٹ ، کوبو ، الڈیکو سافٹ وئیر میں سیکڑوں ای بکس اپ لوڈ ہو جاتی ہیں۔ آپ نہ صرف اسکرین پرورچوئل صفحہ پلٹ سکتے ہیں بلکہ صفحہ پلٹنے کی سرسراہٹ بھی سن سکتے ہیں۔ آپ ہر کتاب کسی کتب فروش کے پاس جائے بغیر کہیں بھی بیٹھے بیٹھے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی بھی کر سکتے ہیں۔ اگر ایک مجلد کتاب بیس ڈالر کی ہے اور اس کا پیر بیک ایڈیشن دس ڈالر کا ہے تو وہی کتاب ای بک کی شکل میں آپ تین چار ڈالر میں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اب بھلا کون روائیتی دوکان پر جائے اور شیلف بینی کرتا پھرے۔ ایمیزون کے اس ای بک حملے نے بارڈرز کے چار سو بک اسٹورز کو تو برباد کردیا مگر بارنز اینڈ نوبلز اور دیگر بڑے اشاعتی ادارے فوراً بدلتے وقت کی چال کو سمجھ گئے اور ای بکس کے بزنس میں کود کر اپنی جان بچا لی۔

کتابیں تو رہیں ایک طرف اب تو اخبارات کی کاغذی اشاعت بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ ، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور بوسٹن گلوب صرف نیٹ پر مہیا ہیں۔ کوئی دن جانتا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ ، نیویارک ٹائمز ، گارجین ، ٹائمز جیسے صحافتی دیوتا بھی محض چار بائی چھ کی اسکرین میں قید ہونے والے ہیں۔ جب لوگ ہی اخبار نہ خریدیں تو اشتتہاری کمپنیاں بھی کیوں وفادار رہیں۔ نیوز پیپرز ایسوسی ایشن آف امریکا کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار تین سے دو ہزار چودہ کے درمیان امریکی اخبارات کا اشتہاری ریونیو پینتالیس ارب ڈالر سے کم ہوتا ہوتا ساڑھے سولہ ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ایسے میں پرنٹ میڈیا کی گنجی کیا نہائے کیا نچوڑے ؟

اب جب کہ نیٹ پبلشنگ میں روائیتی پبلشنگ بزنس سے زیادہ پیسہ اور افرادی قوت ہے۔ ہمارے اردو بازار کے کھڑوس ناشر نئی ٹیکنالوجی اور آئیڈیاز کو گلے لگانے میں باقی دنیا سے اتنے پیچھے کیوں ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو ابتدائی انویسٹمنٹ کا خرچہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ چھوٹی ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ نئی ٹیکنولوجی میں یہ چھپانا بہت مشکل ہو جائے گا کہ کتاب کی تعدادِ اشاعت ایک ہزار دکھا کے بیس ہزار کیسے بیچی جاتی ہے۔ ڈجیٹل پرنٹنگ کی دنیا میں آنے کے بعد لکھاری کاخون چوسنا اتنا آسان نہیں رہے گا۔ مگر ہم اس کا بھی توڑ نکال لیں گے۔

وسعت اللہ خان

بل گیٹس کی 5 پسندیدہ کتابیں

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی اور دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس نے رواں موسم گرما میں پڑھنے کے لیے حال ہی میں اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرست جاری کی ہے۔ یہ فہرست انہوں نے اپنے بلاگ’’ گیٹس نوٹس ڈاٹ کام‘‘ پر جاری کی ہے۔بل گیٹس کا کہنا ہے کہ وہ ان کتابوں سے محبت کرتے ہیں۔ ان کتابوں نے انہیں نئے انداز سے سوچنے کے قابل بنایا اور رات گئے تک جاگنے پر مجبور کیا۔

(1) سیون ایوز

 اس فہرست میں شامل پہلی کتاب کا نام ’’سیون ایوز‘‘ ہے، جسے نیل اسٹیفن سن نے تحریر کیا ہے۔ یہ سائنس فکشن ناول پڑھنے کے دس برس بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بل گیٹس لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے سائنس فکشن پر مبنی کوئی ناول آج سے قریباً دس برس پہلے پڑھا تھا۔ یہ ناول پڑھنے کا مشورہ مجھے میری دوست نے دیا تھا۔ اس ناول کے پہلے ہی جملے نے مجھے مسحور کر دیا۔ اس ناول میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ دو سال میں شہاب ثاقب کی تیز بارش زمین پر سے زندگی کا صفایا کر دے گی، تو وہ زمین کے مدار میں زیادہ سے زیادہ خلائی طیارے بھیج کر انسانیت کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ناول میں خلائی سفر کے بارے میں معلومات جان کر آپ صبر کا دامن چھوڑ دیں گے۔ مصنف اسٹیفن سن نے، جو سیٹل میں رہتے ہیں، یہ ناول لکھنے سے پہلے پوری تحقیق کی ہے۔ مجھے اس ناول میں دی گئی تکنیکی تفصیلات نے بے حد متاثر کیا۔‘‘

(2) ہائو ناٹ ٹو بی رانگ

 بل گیٹس کی فہرست میں شامل دوسری کتاب ’’ ہائو ناٹ ٹو بھی رانگ‘‘ ہے۔ اس کتاب کے مصنف، جورڈن ایلن برگ ہیں۔ اس کتاب کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ’’ایلن برگ ایک ریاضی داں اور مصنف ہیں اور انہوں نے اس کتاب میں یہ واضح کیا ہے کہ ریاضی کس طرح ہماری روز مرہ کی زندگی میں کردار ادا کرتی ہے اور ہمیں اس بارے میں علم بھی نہیں ہوتا۔ کتاب کے ہر باب میں صاف گوئی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور سیاست سے لے کر میسا چوئسٹس لاٹری تک میں ریاضی کو شامل دکھایا گیا ہے۔ اگر چہ بعض مقامات پر ریاضی بہت زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے، لیکن مصنف نے ان چیزوں کو اس آسان انداز سے سمجھایا ہے کہ آپ آخر تک اس کتاب سے جڑے رہتے ہیں‘‘۔

3۔ دی وائٹل کوئسچن

 دنیا کے امیر ترین فرد کی تیسری پسندیدہ کتاب ’’ دی وائٹل کوئسچن‘‘ ہے۔ یہ کتاب نک لین نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں بل گیٹس لکھتے ہیں کہ ’’ نک لین یہ بتاتے ہیں کہ ہم توانائی کے کام کرنے کے عمل کو سمجھ کر ہی زندگی کے آغاز اور جاندار اشیاء میں رونما ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں سمجھ سکتے ہیں۔‘‘

4۔ دی پاور آف کمپیٹ

 ’’ دی پاور آف کمپیٹ‘‘ بل گیٹس کی چوتھی پسندیدہ کتاب ہے، جو ریوشی مکیتانی اور ہیروشی مکیتانی نامی جاپانی مصنفین نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ ’’ میرے دل میں جاپان کے لیے ہمدردی کا گوشہ موجود ہے اور جاپان ہر اس شخص کے لیے انتہائی دلچسپی کا حامل ملک ہے، جو عالمی معاشیات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ کتاب 2013ء میں مرنے والے ایک جاپانی ماہر معیشت، ریوشی اور اس کے بیٹے اور’’ راکوتن‘‘ نامی انٹرنیٹ کمپنی کے بانی، ہیروشی کے درمیان ہونے والے سوالات و جوابات پر مشتمل ہے۔ اگرچہ مجھے ریوشی کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں، لیکن اس نے متعدد نئے آئیڈیاز پیش کیے ہیں۔ یہ جاپان کے مستقبل میں جھانکنے کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔‘‘

5۔ سیپئنز، اے بریف ہسٹری آف ہیومن

 کائنڈ نوح یوول ہرائی کی جانب سے لکھی گئی یہ کتاب نہ صرف بل گیٹس بلکہ ان کی اہلیہ ملینڈا گیٹس کی بھی پسندیدہ کتاب ہے۔ اس بارے میں بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ’’ میں نے اور ملینڈا نے اس کتاب کو پڑھا ہے اور ہم نے اس پر بہت زیادہ تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔ مصنف ہراری نے انسانی تاریخ کو 400 صفحات میں بیان کر کے ایک مشکل کام انجام دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ انسانی انواع اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ اور دوسری ٹیکنالوجیز کی وجہ سے ان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں لکھا ہے۔ اگر چہ میں ہراری کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ زراعت سے پہلے کا انسان بہتر تھا۔ ایسے افراد جو انسانی تاریخ اور مستقبل کی انواع میں دلچسپی رکھتے ہیں، میں ان کے لیے یہ کتاب تجویز کروں گا.

شام کی خفیہ لائبریری

 جب کوئی جگہ کئی برسوں سے محاصرے میں ہو اور گلیوں میں بھوک کا پہرہ ہو، تو آپ کے خیال میں لوگوں میں کتابوں میں بہت کم دلچسپی ہوگی۔ لیکن کتابوں کے دلدادہ کچھ افراد نے شام میں بموں کا نشانہ بننے والی عمارات سے کتابوں کا ذخیرہ جمع کر کے ایک خفیہ لائبریری قائم کی ہے اور اس سے فیض یاب ہونے کے لیے وہ گولیوں اور بموں سے بچتے بچاتے یہاں تک پہنچتے ہیں۔ یہ لائبریری دارالحکومت دمشق کے نواحی قصبے داریا میں بم سے تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے ایک تہہ خانے میں قائم ہے جو اس قصبے میں محصور بہت سارے لوگوں کو امید فراہم کرتی ہے۔

اس لائبریری کے بانی اور سابق سول انجینئرنگ کے طالب علم انس احمد بتاتے ہیں: ’ہم نے دیکھا کہ ایک نئی لائبریری کا قیام نہایت اہم ہے تاکہ ہم اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ دیگر بہت ساری عمارات کی طرح اسے بموں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہم نے اسے ایک تہہ خانے میں قائم کیا ہے۔‘ داریا کا محاصرہ چار سال قبل حکومتی اور صدر بشار الاسد کی حامی فوجوں کی جانب سے شروع ہوا تھا۔ اس وقت سے انس اور دیگر رضاکاروں، جن میں سے بیشتر سابق طالب علم تھے اور جنگ کی وجہ سے ان کی پڑھائی میں تعطل آ گیا تھا، نے تقریباً ہر موضوع پر 14,000 کے قریب کتابیں جمع کیں۔

اس عرصے کے دوران تقریباً 2,000 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن میں سے بیشتر عام شہری تھے لیکن انس اور ان کے دوستوں نے اپنا کام جاری رکھا اور گلیوں کی خاک چھان کر لائبریری میں مزید کتابیں جمع کرتے رہے۔ انس کا کہنا ہے ’بہت ساری کتابیں بموں کا نشانہ بننے والے گھروں سے اکٹھی کی گئیں۔ ان میں سے بہت ساری جگہیں جنگی محاذوں میں تھیں، چنانچہ انھیں وہاں سے جمع کرنا خطرناک تھا۔‘ وہ کہتے ہیں ’ہمیں نشانہ بازوں سے چھپنے کے لیے بم کا نشانہ بننے والی عمارتوں میں جانا پڑتا ہے۔ ہمیں بہت محتاظ رہنا پڑتا ہے کیونکہ بعض اوقات نشانہ باز آپ پر نظریں جمائے ہوتے ہیں اور وہ آپ کے اگلے اقدام کی قیاس آرائی کر لیتے ہیں۔‘ داریا کی 80,000 آبادی میں سے 8,000 نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن اب کوئی بھی یہ علاقہ چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔

رواں سال مئی میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد تقریباً ہر روز یہاں بمباری ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے عرصہ دراز سے یہاں صحافیوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے سکائپ کے ذریعے انٹرویوز کیے اور اس دوران بھی بمباری کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔  اس لائبریری کا مقام خفیہ ہے کیونکہ انس اور دیگر لوگوں کو ڈر ہے کہ داریا پر حملہ کرنے والوں کو اس کے بارے میں علم ہوا تو وہ اس کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ لائبریری ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں تک پہنچنا بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ایک چھوٹی سی لڑکی اسلام نے مجھے بتایا کہ وہ زیادہ تر وقت گھر کے اندر کھیل کھیلتے ہوئے اور اپنی دوستوں کی جانب سے لائبریری کی کتابیں پڑھتے ہوئے گذارتی ہے جس سے اس کو بھوک کی شدت نظرانداز کرنے میں مدد ملتی ہے.

اس نے مجھے بتایا کہ انھیں بالکل معلوم نہیں ہے یہ خون خرابہ کیوں ہے۔ اس کا کہنا ہے ’میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ مجھے بھی گولی مار دی جائے گی۔‘ ایک اور بچہ ہر روز لائبریری آتا ہے۔ 14 سالہ امجد کا کہنا ہے کہ ادھر ادھر گھومنے کی بجائے لائبریری زیادہ محفوظ ہے اور کتابوں میں دلچسپی کے باعث اسے ’ڈپٹی لائبریرین‘ کا عہدہ بھی دیا گیا ہے۔ انس نے بتایا کہ یہاں زیادہ پسند کی جانے والی کتابیں مشہور عرب ادیبوں کی ہیں جن میں امیر الشعرا کہلائے جانے والے احمد شوقی یا شامی ادب التانوی شامل ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا مغربی ادیبوں کی کتابیں میں بھی دلچسپی لی جا رہی ہے۔

ایک اور سابق طالب علم عبدالباسط الاحمر کا کہنا ہے ’میں نے کچھ فرانسیسی ادیبوں کی کتابیں پڑھی ہیں لیکن مجھے سب سے زیادہ ’ہملٹ ‘پسند آیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’شیکسپیئر کا اسلوب بہت خوبصورت ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں جیسے میں سینیما میں فلم دیکھ رہا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا ’اس لائبریری نے مجھے دوبارہ زندگی فراہم کی ہے جیسے جسم کو خوراک کی ضرورت ہے اسی طرح روح کو کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

مائیک تھامسن

بی بی سی نیوز