علم کی قزاقی

ایسے دور میں جب بوتلوں میں منرل واٹر کے نام پر نلکے کا پانی، دودھ کے نام پر کیمیکل اور دواؤں کے نام پر زہر کھایا جا رہا ہے۔ اصلی کتابوں کی جعلی اشاعت کی وبا پر بات کرنا نری عیاشی ہے۔ پر آج عیاشی ہی سہی۔ دنیا میں اس وقت بلا اجازت شایع ہونے والی کتابوں کے جعلی ایڈیشنز سے کتابوں کی صنعت کو سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور اس میں سے تین ارب ڈالر تک کا نقصان صرف امریکی پبلشرز کو درپیش ہے۔ مختلف ممالک میں نافذ انٹلکچوئیل پراپرٹی رائٹس قوانین اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ضابطے بھی جعلی کتابوں کے کاروباریوں اور پھیلائے جال  کا کچھ  بال بیکا نہیں کر پائے۔ دھونس، دھمکی، مقدمہ کوئی شے بھی بہت زیادہ کارگر نہیں۔ مگر رونے پیٹنے واویلے کے ساتھ ساتھ مرض کے بنیادی اسباب جان کر انھیں کنٹرول کرنے کی کوششیں بھی آٹے میں نمک جیسی ہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ موضوع یوں اہم ہونا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کی پبلشنگ دنیا کو بین الاقوامی پبلشر برادری ملکی و غیر ملکی جعلی کتابوں کے سب سے بڑے اشاعت گھر کے طور پر جانتی ہے (اس بدنامی کے پیچھے یہودی لابی اور دیگر پاکستان دشمن قوتیں اور سی پیک سے جلنے والے کتنے ہیں یہ میں نہیں جانتا)۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف مقامی طور پر کتابوں کی دو نمبر اشاعت ملک و قوم کی علمی خدمت میں دن رات کوشاں ہے بلکہ مشرقِ وسطی، افریقہ حتی کہ بھارت کی بھی علمی پیاس بذریعہ تھرڈ پارٹی ایکسپورٹ بجھا رہی ہے۔ اور یہ سب اس کاپی رائٹ ایکٹ مجریہ انیس سو باسٹھ کے سائے تلے ہو رہا ہے جس کے مطابق جعلی ایڈیشن کی اشاعت، تقسیم، فروخت اور درآمد و برآمد پر تین تا سات برس قید اور ایک تا تین لاکھ جرمانے کی سزا ہے۔ پچھلے چون برس میں اس قانون کے تحت ایک عدد پبلشر کو پندرہ ہزار روپے جرمانہ ہو پایا اور ایک عدد پبلشر کو قید کی سزا ملی مگر وہ چند ماہ بعد ضمانت پر رہا ہو کر پھر اپنے کاروبار میں منہمک ہو گیا۔ کچھ دیوانے مصنفین پھر بھی عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔

مغرب میں چونکہ کتاب بینی کا شوق عام ہے اور مصنفین کو بھی بھاری رائلٹی ملتی ہے لہذا ان کا شور مچانا سمجھ میں آتا ہے کہ کتاب کی ہر جعلی کاپی ان کے کاروبار اور رائلٹی پر ڈاکہ ہے۔ مگر پاکستان میں علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کسی اور اشاعتی ادارے یا مصنف کو اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں کہ جعلی کتابوں کا کاروبار کتنا سود مند یا نقصان دہ ہے۔ بیشتر مصنفین کو رائلٹی ہی نہیں ملتی۔ اکثر سادہ لوحوں کو چنٹ پبلشر چند لاکھ روپے کے یکمشت معاوضے کا کلوروفارم سونگھا کر تاحیات حقوق اپنے نام کروا لیتے ہیں۔ کوئی مصنف اگر رائلٹی پر ہی بضد رہے تو پھر اس کا دماغی علاج بھی پبلشرز کے پاس ہے۔ رائلٹی ملتی بھی ہے تو پہلے ایڈیشن کی۔ اس کے بعد کتاب جانے اور پبلشر۔

میرے علم میں تو صرف ایک مثال ہے عبید اللہ علیم کی۔ جس پبلشر نے ان کے دو شعری مجموعے ’’چاند چہرہ ستارہ آنکھیں‘‘  اور ’’ویران سرائے کا دیا‘‘ ایک ایک ایک ہزار کی تعداد میں کئی سال پہلے چھاپے ان کے پہلے ایڈیشن کی رائلٹی تو واقعی علیم صاحب کو ان کی زندگی تک ملی۔ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں شعری مجموعے اتنے بابرکت ثابت ہوئے کہ پچھلے پچیس برس میں پرانے اوریجنل ایڈیشن کے نام پر چھپنے والی ایک ہزار کاپیاں کم ازکم دس ہزار گھروں میں دستیاب ہیں اور مارکیٹ میں بھی تازہ کاغذ اور چھپائی کی بھینی بھینی خوشبو سمیت موجود ہیں۔ پبلشر کے ریکارڈ میں آج بھی صرف ایک ایڈیشن ہے اور وہ بھی ایک ہزار کاپیوں کا۔ اب یہ چمتکاری اوریجنل پبلشر نے دکھائی یا کتابی قزاقوں نے؟ بوجھو تو جانیں۔

اس ملک میں تو ’’آگ کا دریا‘‘ والی عینی آپا، فیضؔ اور فرازؔ نہ بچ سکے تو عام مصنف کس کھیت کی مولی ہے۔ ایسے حالات میں مصنفین کو کیا پڑی کہ وہ اپنے لیے انصاف طلب کریں یا شور مچائیں۔ ان کی مثال تو اس بھینس کی ہے جسے چور کھول کے لے جانے لگا تو پیچھے سے مالک نے شور مچا دیا بھینس بھینس چوروں سے خبردار۔ بھینس نے پلٹ کر کہا تو بھی تو دودھ کے بدلے صرف چارہ ہی دیتا ہے۔ چور بھی بھوکا نہیں ماریں گے۔ پاکستان میں کتابوں کی اشاعتی چوری کے موضوع پر محض ایک پریزنٹیشن میری نظر سے گزری۔ اسے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری سائنس کے خالد محمود اور بلوچستان یونیورسٹی کے محمد الیاس نے تیار کیا۔ اس پریزنٹیشن کے اعتبار سے کتابوں کی جعلی اشاعت کی سب سے بڑی وجہ معیاری کتابوں  کی قیمت کا ایک عام آدمی کی دسترس سے باہر ہونا ہے۔ پھر ہینگ اور پھٹکڑی ڈالے بغیر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی خواہش ہے۔

کئی کتابوں کے جعلی ایڈیشن اس لیے بھی چھاپے جاتے ہیں کیونکہ اوریجنل ایڈیشن نایاب ہوتا ہے مگر اس کی ضرورت نایاب نہیں ہوتی۔ ایک وجہ کئی اسکول سسٹمز کے نصاب میں غیر ملکی کتابوں کی شمولیت ہے۔ والدین جو پہلے ہی سے بھاری فیسوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں وہ اوریجنل کتاب کے بجائے اس کی کاپی سستے کا سوچ کر خرید لیتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ یہ سستی بھی ہو۔ کئی اسکولوں نے اس کا توڑ یہ نکالا ہے کہ کتابیں کاپیاں بھی وہی فراہم کریں گے اور اگر باہر سے خریدنی ہیں تو صرف مخصوص کتاب فروشوں سے ہی خریدی جائیں (یہ ایک الگ طرح کا گٹھ جوڑی کاروبار اور تفصیل کا متقاضی ہے)۔ غیر ملکی کتابوں کی مقامی پائریسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مقامی اشاعت کے حقوق بہت کم غیر ملکی ادارے دیتے ہیں اور اکثر کڑی شرائط پر۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکی کتابوں کی درآمد کے قوانین سہل نہیں اور انھیں ہر پبلشر درآمد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اگرچہ بھارت میں شایع ہونے والی سائنسی و طبی موضوعات پر شایع ہونے والی کتابیں اس مانگ کو پورا کر سکتی ہیں۔ مگر دونوں ممالک آلو پیاز اور کیلے وغیرہ کی تجارت تو کر سکتے ہیں لیکن اخبارات، رسائل اور کتابوں کی دو طرفہ تجارت دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹس کو اس وقت مناسب نہیں لگتی۔ مبادا ایک دوسرے کی کتابیں اور اخبارات پڑھ کے کہیں ذہن نہ صاف ہونے لگ جائیں۔ کتابوں کے جعلی ایڈیشنز کی اشاعت سے سب سے زیادہ فائدہ بلاشبہہ درسی کتابوں کے کاروبار کا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ایڈیشنز بھی ان کتابوں کے شایع ہوتے ہیں۔ درسی مواد کی مانگ ہمیشہ زیادہ اور رسد ہمیشہ کم رہتی ہے۔ اس کے بعد جعلی ایڈیشن کا فائدہ کتب فروش کو ہے اور پھر کہیں جا کے اگر تھوڑا بہت مالیاتی فائدہ ہے تو کتاب خریدنے والے کو۔

کتابوں کی جعلی اشاعت ختم تو نہیں البتہ کم ہو سکتی ہے اگر نصابی کتابوں کی قیمتیں سبسڈی دے کر کم رکھنے اور ضروری غیر ملکی نصابی کتابوں کے مقامی اشاعتی حقوق کے حصول میں حکومتیں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے مینڈیٹ اور دائرہِ اشاعت میں اضافے سے بھی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ کتابیں درآمد کرنے کے قوانین کو بھی زیادہ آسان بنانے سے فرق پڑ سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ فرق کاپی رائٹس اور سائبر قوانین کے موثر اور مسلسل نفاز سے آ سکتا ہے۔ مگر بانوے فیصد لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان میں کاپی رائٹس کے قوانین موجود ہیں۔

اگر مصنفین کو معقول و منصفانہ رائلٹی ملنے کا کوئی قانونی و انتظامی ڈھانچہ بن سکے تو اس سے حوصلہ پا کر ایسے لوگ بھی اپنے تصورات و خیالات و تحقیق شایع کروانے میں دلچسپی لیں گے جنہوں نے آج تک مصنفین کو ہاتھ پھیلائے شکائیتی ٹٹو کے روپ میں ہی دیکھا ہے۔ اور اب تو انٹرنیٹ پر ڈجیٹل پائریسی کے روپ میں ایک اور بے لگام کتابی دہشتگردی شروع ہو چکی ہے۔ سنا ہے دو ہزار چار سے کسی سرکاری پاکستان انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن (پپرو) کا بھی وجود ہے۔ کیا کسی کو اس کے دفتر کا پتہ یا فون نمبر یا اہلکاروں کا نام معلوم ہے؟ پپرو تم کہاں ہو۔

وسعت اللہ خان

Advertisements

کتاب کلچر کیسے زندہ ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں ادبی سرگرمیوں کا دائرہ عموماً ادبی میلوں، ادبی کتابوں کی نمائش تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، بلاشبہ یہ ادبی سرگرمیاں ادب کے اس قحط کے دور میں حوصلہ افزا کہی جا سکتی ہیں لیکن معاشرے کے مزاج میں تبدیلی کے لیے یہ سرگرمیاں کوئی بامعنی کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ پچھلے ہفتے کراچی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام ایک لٹریچر فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا۔

یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کا مقصد پاکستان کی زرخیز، قدیم اور متنوع ثقافتوں اور ادب کو اجاگر کرنا ہے، تاکہ وہ پھلیں پھولیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر زیادہ مثبت اثرات مرتب کر سکیں۔ اس افتتاحی تقریب میں امریکا، برطانیہ، اٹلی اور بھارت کے ہائی کمشنر اور کونسلرز نے شرکت کی، ان حضرات نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی ان ادبی سرگرمیوں سے ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کو مہمیز ملتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جرائم کی تعداد میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی روک تھام کے لیے عموماً انتظامی سطح پر ہی اقدامات کیے جا رہے ہیں، چونکہ انتظامیہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات میں جرائم کی وجوہات اور محرکات کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے قانونی اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے عمومی جرائم کے علاوہ معاشروں میں جو سماجی جرائم کی وبا ہے، اس کا تدارک بھی سطحی انداز میں قانون کے ڈنڈے ہی سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا نتیجہ خرابیوں میں کمی کے بجائے اضافے کی شکل میں ہی نظر آتا ہے۔

ادب اور شاعری دو ایسے میڈیم ہیں جو معاشرتی بگاڑ میں موثر اور مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ادیب اور شاعر معاشرتی بگاڑ کے محرکات سے واقف ہوتے ہیں اور اس کے طبقاتی محرکات ان کی نظروں میں ہوتے ہیں لہٰذا وہ ان خرابیوں کو دور کرنے کی موثر اور مثبت کوششیں کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں جہاں سماجی برائیاں معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ کیا ادب اور شاعری کو موثر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں؟

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کراچی میں جرائم کی شرح اس قدر کم تھی کہ عوام رات کو اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھ کر سوتے تھے۔ چوری، ڈاکے، اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر تھیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ترقی پسند ادب اور شاعری کی رسائی عوام تک تھی۔ کراچی میں کیبن لائبریریوں کا کلچر اس قدر عام تھا کہ کراچی کے محلوں گلیوں میں کیبن لائبریریاں قائم تھیں، جہاں سے عوام ایک آنہ کرائے پر برصغیر کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں حاصل کرتے تھے، نوجوانوں کا فاضل وقت ادب اور شاعری کے مطالعے میں گزرتا تھا اور جو ادبی کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہوتی تھیں وہ آدمی کو انسان بنانے میں بہت موثر کردار ادا کرتی تھیں۔

پاکستان خصوصاً کراچی میں ہر سال ادبی میلے، ادبی کتابوں کی نمائشوں وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے، بظاہر یہ تقریبات ادب کے فروغ کا ہی حصہ نظر آتی ہیں لیکن اس قسم کی تقریبات میں شامل ہونے والوں کی تعداد پاکستان کی آبادی کے پس منظر میں بہت محدود نظر آتی ہے۔ امریکا، برطانیہ، اٹلی، بھارت وغیرہ کے نمایندوں نے اپنی تقاریر میں یہ دلچسپ بات کی ہے کہ صرف اسٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگ ہی اس فیسٹیول کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی اس فیسٹیول کا حصہ ہوتے ہیں جو مقررین سے سوال پوچھتے ہیں۔

فیسٹیول کی روح رواں امینہ سید نے کہا کہ ’’ہم لاکھوں لوگوں تک ادب کی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے ان تقریبات کو استعمال کرتے ہیں‘‘۔ موصوفہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی لٹریچر فیسٹیول منعقد کرنے کی درخواستیں مل رہی ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ شہروں تک فیسٹیول کا دائرہ بڑھائیں۔ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے بیس کروڑ عوام تک ادب کی رسائی نہ ادبی میلوں سے ہو سکتی ہے نہ ادبی کتابوں کی نمائشوں سے نہ ثقافتی فیسٹیولز سے عوام تک ادبی کتابوں کی رسائی کا ایک ہی راستہ ہے کہ کم ازکم صوبائی سطح پر ایک بڑا پبلشنگ ہاؤس قائم کیا جائے جو برصغیر اور دنیا بھر کے ادب سے منتخب ادبی کتابوں کے ترجمے کرے اور ان کے سستے ایڈیشن چھاپ کر ملک گیر سطح پر ادب کی رسائی کا ایک منظم مسئلہ شروع کیا جائے۔

حال ہی میں وزیراعظم نے اکادمی آف لیئرز کو 50 کروڑ روپوں کا ’’تحفہ‘‘ دیا ہے، اگر اس رقم کو پبلشنگ ہاؤسز اور کیبن لائبریریز کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے تو نہ صرف کتاب کلچر کے مردہ جسم میں دوبارہ جان پڑ سکتی ہے بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے جرائم، دہشتگردی کی لعنتوں کو ختم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ کاش نام نمود اور کاروبار کے فروغ کے لیے ادب کو استعمال کرنے والے کتاب کلچر کے فروغ میں دلچسپی لے سکیں۔

ظہیر اختر بیدری

بانو قدسیہ کی کچھ یادیں

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، آپ اُن سے کبھی ملے بھی نہیں ہوتے لیکن آپ کو اُن سے محبت ہو جاتی ہے۔ یہ محبت بھی بڑی ظالم شے ہے، انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے، کوئی انسان اپنی فطرت اور عادات میں جتنا چاہے کُھردرا اور سخت ہو، محبت اُسے موم بنا ہی دیتی ہے، وہ زیر ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ نے بھی محبت کی اور اپنی محبت کو پا لیا۔ یہ محبت اُن کی تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہے، محبت کی یہی چاشنی ہے جو اُن کی تحریروں میں رس گھولتی ہے۔ پڑھنے والا پڑھتا ہے اور سر دُھنتا ہے۔ بانو قدسیہ جیسے لوگوں کا ایک مسئلہ بھی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام سے محبت کرتے ہیں، اسلامی شعائر کا مذاق نہیں اُڑاتے اور یہی چیز لوگوں کو چُبھتی ہے۔ آج کا ہر نیا ادیب یہ سوچتا ہے کہ وہ خود کو اُس وقت تک بڑا ادیب ثابت نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے سوالات کو ایک نئے سرے سے دوبارہ نہ اُٹھائے، حالانکہ اِن سوالوں کے جوابات کئی بار معقول انداز سے دیئے جا چکے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں بانو قدسیہ ایک سوال کے جواب میں کہتی ہیں، ’’میں ’راجہ گدھ‘ کے متعلق آپ کو بتا سکتی ہوں۔ آج وہ سترہ اٹھارہ سال سے سی ایس ایس کے امتحان میں لگا ہوا ہے۔ ڈاکٹر اجمل آپ کو یاد ہو گا ؟ نفسیات دان تھے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُسے مقابلہ کے اِس امتحان میں لگایا تھا۔ میں یہاں پر بیٹھی تھی اور میرا کوئی ارداہ نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا ناول لکھوں گی، ’راجہ گدھ‘ کی طرح کا۔ اُن دنوں ہمارے گھر میں ایک امریکی لڑکا ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ امریکی تہذیب، امریکی زندگی، امریکی اندازِ زیست سب کے بارے میں یہ ثابت کرے کہ وہ ہم سے بہتر ہے، مسلمانوں سے بہتر ہے، تو ایک روز وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا، اچھا مجھے دو لفظوں میں، ایک جملے میں بتائیے، آپ صرف چھوٹی سی بات مجھ سے کیجئے کہ اسلام کا ایسنس (جوہر) کیا ہے؟

میں نے اُس سے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ عیسائیت کا ایسنس کیا ہے؟ اس نے کہا: ove – Love thy neighbor as thyself، یہ ایسنس ہے عیسائیت کا۔ میں نے کہا اسلام کا جو ایسنس ہے وہ اخوت ہے، برابری ہے، بھائی چارہ ہے brother hood ہے۔ کہنے لگا چھوڑیئے یہ کسی مذہب نے نہیں بتایا کہ برابری ہونی چاہیئے۔ یہ تو کوئی ایسنس نہیں ہے یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا۔ یقین کیجیئے، یہاں پر پہلے ایک بہت بڑا درخت ہوتا تھا سندری کا درخت۔ سندری کا درخت ہوتا ہے جس سے سارنگی بنتی ہے۔ اُس کے بڑے بڑے پتے تھے اور وہ یہاں لان کے عین وسط میں لگا ہوا تھا، وہ ایک دَم سفید ہوگیا اور اُس پر مجھے یوں لگا جیسے لکھا ہوا آیا ہو، اسلام کا ایسنس حرام و حلال ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اُسے میں نے کیوں کہا کیونکہ اُس پر ایکشن (عمل) سے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جتنے کمانڈمنٹس ہیں یا تو وہ حرام ہیں یا حلال ہیں۔ حلال سے آپ کی فلاح پیدا ہوتی ہے اور حرام سے آپ کے بیچ میں تشنج پیدا ہوتا ہے، آپ میں ڈپریشن پیدا ہوتا ہے۔ میں نے اُس امریکی لڑکے کو بلایا اور اسے کہا، یاد رکھنا اسلام حرام و حلال کی تمیز دیتا ہے اور یہی اس کا ایسنس ہے۔

بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ اُس کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکھی اور میں وہ بتا نہیں سکتی کہ کس طرح اللہ نے اُن کی رہنمائی کی اور اُن کی مدد فرمائی اور انہیں یہ لگتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے نہیں لکھی بلکہ اُن سے کسی نے لکھوائی ہے۔ اُس کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ میری بہت ساری کتابیں ہیں۔ 25 کے قریب کتابیں میری ہو چکی ہیں اور جتنا بھی اُس پر کام ہوا ہے میں آپ کو بتا ہی نہیں سکتی کہ کس طرح ہوا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کو اپنی معاشرت اور ثقافت کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ اُنہیں معلوم تھا کہ یہ ملک اُنہوں نے کیسے حاصل کیا ہے۔

پاکستان بننے سے متعلق کہتی ہیں، ’’جب پاکستان بنا ہے اُسی سال میں نے بی اے کیا۔ آپ یقین کریں جو تجربات ہمیں پاکستان کے قیام کے وقت ہوئے ہیں، وہ آپ لوگوں کو سمجھ میں بھی نہیں آ سکتے۔ آپ لوگ چھوٹے ہیں۔ آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کیا چیز تھی اور کیا بنا ہے۔ جب کالج میں ہم امتحان دے رہے تھے تو یک دم آگ لگ گئی۔ پھر کنیرڈ کالج سے اُٹھا کر لڑکیوں کو بس میں ڈالا گیا اور ایف سی کالج لے کر گئے اور ہم نے وہاں امتحان کا پرچہ دیا۔ راستے میں بھی اندیشہ تھا کہ لڑکیاں اغواء نہ کر لی جائیں۔ ایسے حالات میں ہم نے امتحان کیا۔ پھر پاکستان بنا۔ پھر آپ جانتے نہیں جیسے اشفاق صاحب ہمیشہ کہتے رہتے تھے، کہتے چلے گئے ہیں، پاکستان جو ہے یاد رکھئے، یاد رکھیے، پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عزتِ نفس حاصل ہو۔ پاکستان کا سلوگن (نعرہ) روٹی کپڑا اور مکان نہیں ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان جو ہے وہ تو اوپر والا دیتا ہے۔ آپ یقین کریں روٹی کپڑا اور مکان انسان دے نہیں سکتا کسی کو۔ آپ دعویٰ کرلیجئے، دے کر دکھائیے کسی کو، اگر آپ کو اپنے بچوں کو بھی روٹی کپڑا اور مکان دینا پڑے تو آپ دے نہیں سکیں گے۔ مجبوریاں درپیش ہوجائیں گی، کوئی وجہ ہو جائے گی، نوکری چھوٹ جائے گی، کچھ ہو جائے گا۔ لیکن عزتِ نفس، شیریں کلامی، کسی کے ساتھ اچھا سُخن کرنا، یہی ہم کسی کو دے سکتے ہیں۔‘‘

جنہوں نے کبھی بانو قدسیہ کو نہیں پڑھا، یہ سوال یقیناً اب اُن کے اذہان میں وارد ہوا ہو گا کہ آخر بانو قدسیہ کون تھی؟ بانو قدسیہ کا مختصر تعارف اُن کیلئے پیش کئے دیتے ہیں۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیمِ ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ اُن کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور اُن کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اُس وقت اُن کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اُس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ اُن کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انہیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے اُنہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو اُن کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر جماعت کو اپنا اپنا ڈرامہ پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو 30 منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لئے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ اُن سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اُس چیلنج کو قبول کیا اور بقول اُن کے جتنی بھی اْردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ اُن کی پہلی کاوش تھی۔

اُس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اِس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اْردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر اُن کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950ء میں اُس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔ اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتیکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اُس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تا کہ مقابلہ پورا ہو۔ اِس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا، اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ افزائی بھی کی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک اُن کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انہیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔

بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور، جبکہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انہوں نے بی اے کا امتحان دیا اُس وقت 47ء کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اِس آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ اِس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لئے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے اور بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں اِس لیے مطمئن تھیں کہ یہاں تو مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ حصہ تو پاکستان کے حصے میں ہی آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے، چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیئے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بِچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔

پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انہیں کامیابی ملی تھی۔ 1949ء میں انہوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد اُن کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956ء میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شُغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں لکھاری کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انہوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا، تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔

ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اُس کے لئے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہوجاتی تھی۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف کے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جبکہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر اُنہوں نے 1965ء تک لکھا، پھر ٹی وی نے انہیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لئے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کئے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اِس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترکہ کاوش سے اُن کا گھر تعمیر ہوا۔

لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ اِن دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا، ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اْبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ اِن دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہوگئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اْتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اُس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981ء میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ، اُن کے لئے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔

یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لئے محض اسی لئے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اِس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے۔ راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں 2003ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کئے۔ بانو قدسیہ کو 26 جنوری 2017ء کو طبعیت خرابی کے باعث لاہور کے اتفاق اسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیرِ علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ انتقال کر گئیں۔ بانو قدسیہ کے انتقال کے بعد ملک بھر میں اُن کے ناولوں کے اقتباسات لوگوں نے بڑی تعداد میں پڑھے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا۔ اُن کے ناولوں کے چند مشہور اقتباسات درج ذیل ہیں۔

’’کرنیل کور ہونٹ بغیر ہلے کہہ رہے تھے۔ یا رسول اللہ ﷺ ! تیرے در پر آئے ہوئے لوگوں کے لئے تیرے پیاروں نے دروازے کیوں بند کر رکھے ہیں؟ مجھے اِس بات کا رنج نہیں کہ سوڈھی سرداروں کی لڑکی تیلی سے بیاہی جارہی ہے۔ میں تو پوچھتی ہوں کتنے سو، برسوں میں ایک نو مسلم مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمان کہلانے کے لئے کتنے برسوں کی کھٹالی میں رہنا پڑتا ہے۔‘‘

(کتنے سو سال سے اقتباس)

اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے۔ یا باری تعالیٰ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔ آقائے دو جہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے، جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اْس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اْس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔

ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ؟

جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے، بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ، یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں۔ خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے، جبکہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں‘‘

(’امر بیل ‘ سے لیا گیا اقتباس)

’’محبت نفرت کا سیدھا سادہ شیطانی روپ ہے، محبت سادہ لباس میں ملبوس عمر وعیار ہے، ہمیشہ دو راہوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے، اُس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشاں گِرا ہوتا ہے، محبت کے جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کچھ سزا نہیں ہوتی، ہمیشہ عمر قید ہوتی ہے، محبت کا مزاج ہوا کی طرح ہے، کہیں ٹکتا نہیں، محبت میں بیک وقت توڑنے اور جوڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے، محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، جب تک روز اُس تصویر میں رنگ نہ بھرو، تصویر فیڈ ہونے لگتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا۔ اِس طرح جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو رات رہتی ہے۔‘‘

(راجہ گدھ سے اقتباس)

اعظم طارق کوہستانی

بانو قدسیہ کے ناولوں سے اقتباسات

Bano Qudsiaبالآخر ’’بانو آپا‘‘ بھی چلی گئیں۔ 4 فروری 2017ء کو اپنے آخری سفر پر روانہ ہوئیں اور یوں اشفاق احمد سے 13 سال کی جدائی بھی ختم ہو گئی۔ 1928ء میں فیروز پور، بھارتی پنجاب میں پیدا ہونے والی بانو نے قیام پاکستان کے بعد اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ ہجرت کی اور لاہور کو نیا گھر بنایا۔ یہاں انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے اُردو زبان میں ماسٹرز کیا۔ یہیں ان کے ایک ہم جماعت نے انہیں اپنا ہم سفر بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اور یوں انہیں اشفاق احمد کا ساتھ ملا جو بعد میں معروف افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، مترجم اور براڈ کاسٹر کے طور پر مشہور ہوئے۔ حلقہ احباب میں انہیں ’’بانو آپا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بانوقدسیہ نے طالبِ علمی کے دور میں اپنا پہلا افسانہ لکھا جو ’’ادب لطیف‘‘ نامی میگزین میں شائع ہوا۔

انہوں نے اُردو اورپنجابی زبانوں میں کئی مقبول ڈرامے بھی لکھے۔ بانو قدسیہ کی مشہور کتابوں میں آتش زیرپا، آدھی بات، ایک قدم، امربیل، آسے پاسے، بازگشت، چہار چمن، دست بستہ، دوسرا دروازہ، فٹ پاتھ کی گھاس، حاصل گھاٹ، ہوا کے نام، کچھ اور نہیں، موم کی گلیاں، ناقابلِ ذکر، پیا نام کا دیا، شہرِ بے مثال، سورج مکھی، تماثیل، توجہ کی طالب شامل ہیں۔ 1981ء میں انہوں نے شہرہ آفاق ناول ’’راجہ گدھ‘‘ تحریر کیا۔ اُردو ادب کی لازوال خدمات پر انہیں سال 2003ء میں ستارہ امتیاز اور سال 2010ء میں بلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

ذیل میں بانو قدسیہ کے چند ناولوں سے اقتباسات قارئین کی ذوق کے نذر کر رہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

 میرے اردگرد کپلنگ کا مقولہ گھومتا رہتا ہے۔ مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق۔ یہ دونوں کبھی نہیں مل سکتے۔ سوچتا ہوں مل بھی کیسے سکتے ہیں؟ مشرق میں جب سورج نکلتا ہے مغرب میں عین اس وقت آغازِ شب کا منظر ہوتا ہے۔ سورج انسان کے دن رات متعین کرنے والا ہے۔ پھر جب ایک کی رات ہو اور دوسری جگہ سورج کی کرنیں پھیلی ہوں۔ ایک قوم سوتی ہو ایک بیدار ہو تو فاصلے کم ہونے میں نہیں آتے۔ (حاصل گھاٹ سے اقتباس)

کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سہارا بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور گیس میں بدل جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے، جو موسم، جو رُت، جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔ (راجہ گدھ سے اقتباس)

 میری چپ، حویلی کے صدر دروازے کے قدموں میں گرے ہوئے اس قفل کی مانند ہے جسے چور پچھلی رات دروازے کے کنڈے سے اُتار کر پھینک گئے ہوں۔ ایسا تالا بہت کچھ  کہتا ہے، لیکن کوئی تفصیل بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ ساری واردات سے آگاہ ہوتا ہے۔ لیکن اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ حفاظت نہ کر سکنے کا غم، اپنی ہیچ مدانی کا احساس، اپنے مالکوں سے گہری دغا بازی کا حیرت انگیز انکشاف اسے گم سم کر دیتا ہے۔ (انترہوت اداسی سے اقتباس)

بحث کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ بال کی کھال نکالنے سے کیا حاصل؟ میری بلا سے آپ چاہے کچھ سمجھتے ہوں مجھے اپنے نظریوں پر شکوک نہیں ہونے چاہئے۔ آپ اگر دنیا کو چپٹا سمجھتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ (شہرِ بے مثال سے اقتباس)

 بھلا زوال کیا ہوا تھا؟ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ابلیس کا گناہ فقط تکبر ہے لیکن میرا خیال ہے کہ تکبر کا حاصل مایوسی ہے۔ جب ابلیس اس بات پر مصر ہوا کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کر سکتا تو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا لیکن جب تکبر ناکامی سے دو چار ہوا تو ابلیس اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام بھی ناکام ہوئے۔ وہ بھی جنت سے نکالے گئے۔ لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے۔ یہی تو ساری بات ہے۔ ابلیس نے دعویٰ کر رکھا ہے، میں تیری مخلوق کو تیری رحمت سے مایوس کروں گا۔ نااُمید، مایوس لوگ میرے گروہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کے چاہنے والوں کا اغواء ممکن نہیں۔ وہ کنویں میں لٹکائے جائیں، صلیب پر لٹکیں، وہ مایوس نہیں ہوں گے۔ (سامان وجود سے اقتباس)

 اللہ تعالیٰ جس کو اپنا آپ یاد دلانا چاہتا ہے اسے دکھ کا الیکٹرک شاک دے کر اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسان دوسروں کے لئے نرم پڑ جاتا ہے۔ پھر اس سے نیک اعمال خودبخود اور بخوشی سرزد ہونے لگتے ہیں۔ دکھ تو روحانیت کی سیڑھی ہے۔ اس پر صابرو شاکر ہی چڑھ سکتے ہیں۔ (دست بستہ سے اقتباس)

خواہشات تو سبھی کے دل میں ہوتی ہیں۔ سب ان کی تکمیل چاہتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ ان تک رسائی کے لیے کون سا راستہ جاتا ہے۔ اسی راستے کے انتخاب میں تو انسان کا پتہ چلتا ہے۔ اسی انتخاب میں انسان کی بڑائی یا اس کا چھوٹا پن چھپا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ وہ سونے کا ہے یا پیتل کا۔ ہیرو بھی ہیروئین تک پہنچنا چاہتا ہے اور ولن بھی… صرف راستے کے انتخاب سے ایک ہیرو ٹھہرتا ہے اور دوسرا ولن۔ (فٹ پاتھ کی گھاس سے اقتباس)

پاکستان لوٹ جانے میں جو بھی وجوہات مانع تھیں، اپنی جگہ، لیکن امریکہ میں بھی میرا دم گھٹنے لگا۔ وہاں میری اندر کی زندگی ایسی تھی جیسے مکڑی کا جالا ہوا میں تیرتا ہو… کشتی کی ٹوٹی پتوار بے کراں سمندر پر بے مقصد پھرتی ہو… میں لمحے سے لمحے تک… دن کو دن سے، سالوں کو نئے سال سے جوڑتا رہا۔ امریکہ صرف ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا سفر تھا۔ ضروریات بڑھ رہی تھیں، ان کے لئے جدوجہد اور بھی روز افزوں تھی۔ دن ہفتے، مہینے، سال معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی نذر ہوتے رہے۔ پاکستان میں میرا جسم نا آسودہ تھا، امریکہ میں روح تشنہ رہنے لگی۔ ہولے ہولے اس تشنہ روح نے سوال پوچھنا شروع کر دئیے… کیا میں دنیا میں صرف زیادہ کمفرٹس فراہم کرنے کے لئے لایا گیا ہوں؟ مجھے کیا کرنا ہے؟ کس کے لئے کرنا ہے اور پھر کیوں کرنا ہے؟ (کعبہ میرے پیچھے سے اقتباس)

 اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے۔ یا باری تعالیٰ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے؟ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔ آقائے دو جہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے؟ جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ؟؟ جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مرکھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں۔ خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے۔ جبکہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں۔ (امربیل سے اقتباس)

گھر ہمیشہ مہربانیوں سے لٹتے ہیں۔ نئی محبتوں سے اُجڑتے ہیں۔ ایسی مہربانیاں جو گھر کی سالمیت کو دیمک بن کر چاٹ جاتی ہیں۔ ایسی مہربانیاں جو ماں سے زیادہ چاہ کر کی جاتی ہیں۔ جب کوئی چاہنے والا گھر کے ایک فرد کی انا کو جگا کر اسے وہ سارے مظالم سمجھاتا ہے جو گھر کے دوسرے فرد اس پر کرتے رہے ہیں۔ وہ ان ساری لڑائیوں کے ڈھکے چھپے معنی واضح کر دیتا ہے تو گھر کی پہلی اینٹ گرتی ہے۔ گھر کی ایک ایک اینٹ محبت سے اکھاڑی جاتی ہے۔ ہر چوگاٹ پر دہلیز چوم چوم کر توڑی جاتی ہے۔ جب باہر کا چاہنے والا لفظوں میں شیرینی گھول کر گھر والوں کو بہکاتا ہے تو پھر کوئی سالمیت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ ہر انسان کمزور لمحوں میں خود ترسی کا شکار رہتا ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق میں لگا رہتا ہے کہ اس پر مظالم ہوئے اور اسی لئے وہ ظلم کرنے میں حق بجانب ہے۔ ہم اپنوں کو تو نہ سمجھا سکے تو ان کو کیا بتاتے کہ ہمارے گھر کی اساس غلط نہ تھی چاہنے والے غلط تھے۔ ہر پُرانی محبت میں پُرانے پن کی وجہ سے جو غلطیاں کوتاہیاں موجود ہوتی ہیں اُن کو اجاگر کرنے والے بہت ذہین تھے.(سمجھوتہ سے اقتباس)

بانو قدسیہ کی یاد میں

’راجہ گدھ،’، ’پُروا’، ’توبہ شکن’، ’حاصل گھاٹ’، ’دست بستہ’ ان کہانیوں میں شامل ہیں جن کا ذکر سنیچر کی شام کو بانو قدسیہ کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ہونے لگا۔ اردو زبان کی مصنفہ بانو قدسیہ کے انتقال کی خبر آنے کے کچھ ہی دیر کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر سب سے پہلا ہیش ٹیگ تھا: BanoQudsia #. بانو قدسیہ کو یاد کرنے اور ان کی ادبی خدمات کا ذکر کرنے والوں میں سیاستدان اور مختلف طبقات کے لوگ شامل تھے۔ کسی نے ان کے لیے دعا کی اور کسی نے یاد کیا کہ کیسے بانو قدسیہ کی کہانیاں ان کی زندگی پر اثر انداز ہوئیں۔ بہت سے لوگوں نے بانو قدسیہ کے ساتھ اپنی کچھ یادگار تصاویر بھی ٹوئٹر پر لگائیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اپنی ٹویٹ میں بانو قسدیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی ادبی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ادبی شخصیات کی قلت کے اس دور میں ایک اور عظیم کہانی نویس دنیا سے چلا  گیا’۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی ٹویٹ کیا کہ ’ان کا متصوفانہ طرز تحریر اور جداگانہ اسلوب ہمیشہ زندہ رہے گا‘۔

Allama Iqbal’s life-in pictures

Sir Muhammad Iqbal, was a poet, philosopher, and politician, as well as an academic, barrister and scholar in British India who is widely regarded as having inspired the Pakistan Movement. He is called the “Spiritual father of Pakistan”. He is considered one of the most important figures in Urdu literature, with literary work in both the Urdu and Persian languages.

 

Iqbal is admired as a prominent poet by Pakistanis, Iranians, Indians, Bangladeshis, Sri Lankans and other international scholars of literature. Though Iqbal is best known as an eminent poet, he is also a highly acclaimed “Muslim philosophical thinker of modern times”. His first poetry book, Asrar-e-Khudi, appeared in the Persian language in 1915, and other books of poetry include Rumuz-i-Bekhudi, Payam-i-Mashriq and Zabur-i-Ajam. Amongst these, his best known Urdu works are Bang-i-Dara, Bal-i-Jibril, Zarb-i Kalim and a part of Armughan-e-Hijaz. Along with his Urdu and Persian poetry, his Urdu and English lectures and letters have been very influential in cultural, social, religious and political disputes.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کراچی کے فٹ پاتھ علم کے خزانوں سے مالا مال

کہتے ہیں اچھی کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں، اکثر اس اچھے دوست کی تلاش بڑی مشکل ہوجاتی  ہے ۔ ہر اتوارکو ریگل چوک صدر میں لگنے والا کتابوں کا یہ بازار بھی خوب ہے۔ یہاں اکثر ایسی کتابیں میسر آجاتی ہیں جو بازار یا لائبریری میں با آسانی دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عمر اور ہر ذوق کے افراد یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہاں ایسی کتابیں بھی مل جاتی ہیں جنہیں عام آدمی کی جیب خریدنے کی اجازت نہیں دیتی جبکہ کاروبار کے ساتھ علم دوست افراد سے مل کر بھی بہت خوشی ہوتی ہے۔ کتابوں کی خریداری کیلئے یہاں آنے والوں کا کہنا ہے کہ شہر کا یہ بازارعلم کے متوالوں کے لئے ایک چشمہ ہے جو کسی حد تک ان کی پیاس بجھانے کا ذریعہ ہے۔ جدید دور میں بھی کتابوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جس کا ثبوت صدر میں لگنے والے اس بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد ہے ۔