شوکت تھانوی… ایک نادر روزگار افسانہ نویس

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں قدرت نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں۔ ان کے فن کی کئی جہتیں ہوتی ہیں اور انہیں کثیر الجہات شخصیت کہا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا شوکت تھانوی۔ شوکت تھانوی صحافی بھی تھے اور مضمون نگاری بھی کرتے تھے۔ کالم نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ ناول نویسی میں بھی نام کمایا، افسانے بھی لکھے، براڈ کاسٹر بھی تھے۔ ڈرامہ نویسی میں بھی ان کا نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ مزاح نگاری بھی ان کا میدان تھا اور پھر شاعر بھی تھے۔ اب بھلا کون ایسا دوسرا ادیب یا شاعر ہو گا جو اتنی جہتوں کا مالک ہو گا۔ مرحوم احمد ندیم قاسمی نے بالکل درست کہا تھا کہ شوکت تھانوی جیسا زبردست انسان کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے۔

لگتا ہے ان کے فن کی کوئی حد ہی نہیں۔ وہ لامحدود صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ اب اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ نقادوں کی رائے میں شوکت تھانوی کے فن کا خزانہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آپ ان کے فن کا محاکمہ کرتے کرتے تھک جائیں گے لیکن ان کے مکمل فن کا آخری سرا پھر بھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ شوکت تھانوی دو فروری 1904ء کو تھانہ بھون بندربان اترپردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔ تھانہ بھون اترپردیش کے ضلع مظفرنگر کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ تھانہ دراصل جگہ کا نام ہے اور اس کا مطلب پولیس تھانہ نہیں۔ امتیاز علی تاج نے شوکت تھانوی کو مشورہ دیا کہ وہ لاہورمیں ہنجولی آرٹ پکچرز میں شمولیت اختیار کر لیں۔ شوکت تھانوی نے امتیاز علی تاج کا یہ مشورہ قبول کر لیا اور پنچولی آرٹ پکچرز میں کہانی نویس اور نغمہ نگار کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔  1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پنچولی آرٹ پکچرز بند ہو گیا۔ اس کے بعد شوکت تھانوی نے ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ پھر انہوں نے ایک اخبار میں مزاحیہ کالم لکھنے شروع کر دیئے۔ ان کے کالم کا عنوان تھا ’’وغیرہ وغیرہ‘‘۔ یہ کالم اس زمانے میں بہت مقبول ہوا۔ شوکت تھانوی نے مجموعی طور پر 60 کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں افسانوں کے مجموعے اور مزاحیہ مضامین اور ناول شامل ہیں۔

ان کا شعری مجموعہ ’’گوہرستان‘‘ بھی خاصا مقبول ہوا۔ کالم نگاری کے حوالے سے ان کے مضمون ’’سوادیشی ریل‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے کیونکہ اس مضمون کے بعد ہی انہیں صف اول کا مزاح نگار تسلیم کر لیا گیا۔ انہوں نے ایک فلم ’’گلنار‘‘ میں اداکاری بھی کی۔ لاہور کی کشش شوکت تھانوی کو لاہور لے آئی۔ انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب ’’لاہوریات‘‘ بھی لکھی۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹانگے والے سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ وہ انہیں ریڈیو سٹیشن چھوڑ آئے۔ کیونکہ وہ جب بھی یہ کہتے ہیں تو ٹانگے والا انہیں ریلوے سٹیشن لے جاتا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں انارکلی بازار کا بھی بڑا ذکر کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور میں دو چیزیں بیک وقت ہو رہی ہیں۔ چیزوں کی تباہی اور تعمیر ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس مضمون میں لاہور کی تاریخی عمارات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ایک زمانے میں وہ روزانہ دس میل تک سائیکل کا سفر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لاہور میں بیویاں اپنے شوہروں کے غلط کاموں پر ان کو مطعون نہیں کرتیں بلکہ ان کے دوستوں کو موردالزام ٹھہراتی ہیں۔ شوکت تھانوی کی مشہور کتابوں میں ’’بار خاطر، بہروپیا، دنیائے تبسم، مسکراہٹیں، بیگم، بادشاہ، غلام، بیوی، کائنات تبسم، خوامخواہ، مابدولت، کچھ یادیں کچھ باتیں اور خبطی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مشہور ٹی وی آرٹسٹ عرش منیر ان کی اہلیہ تھیں۔

شوکت تھانوی کو تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ شوکت تھانوی کی غزل بھی بڑی متاثر کن تھی۔ ہم ذیل میں ان کے چند اشعار قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ دھوکہ تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں انہی کا نام محبت، انہی کا نام جنون مری نگاہ کے دھوکے تری نظر کے فریب 4 مئی 1963ء کو شوکت تھانوی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے فن کا خزانہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفر

کہاں سے آیا، کدھر گیا وہ ناصر کاظمی

رتجگوں کا دلدادہ‘ لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے پھرنے کا عادی کبوتروں کو دانہ دنکا ڈالنے‘ پالنے پوسنے والا ناصرکاظمی ۔ وہ پاک ٹی ہائوس میں دوستوں کے درمیان بیٹھ کر خوش رہتا اور رات کے پچھلے پہر تنہائی میں آوارگی اور خود کلامی کرتے ہوئے مال روڈ کی دونوں جانب کھڑی عمارتوں اور گلی کوچوں کی نیم تاریک کھڑکیوں اور بند دروازوں کے سامنے سے گزرتا تو اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا‘ رات بھر جاگنے اور ادھوری غزل کو مکمل کرنے کے بعد وہ آہستہ سے شفیقہ کو آواز دیتا‘ بیوی نیم خوابیدہ حالت میں پوچھتی کب آئے اور سوئے کیوں نہیں‘ ناصر کاظمی سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنی غزل کا مطلع سناتا اس کی مردانہ اور گھمبیر آواز فضا میں ارتعاش پیدا کرتی‘ بیوی کھانے کے لیے پوچھتی اور ناصر کاظمی چائے پینے کا تقاضا کرتا‘ صبح دوپہر اور شام اپنے مکان کی بالائی چھت پر کبوتروں کی دیکھ بھال کرتا‘ فرصت کے اوقات میں فیچر لکھتا‘ ریڈیوکے پروگرام کا خاکہ تیار کرتا اور ’’ہم لوگ‘‘ کا اداریہ لکھتا۔

انبالہ شہر میں رہتے ہوئے اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا‘ بچپن انگڑائیاں لے کر ڈھل رہا تھا‘ وہ مسلم ہائی سکول میں دوسرے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کے علاوہ اپنے منفرد شوق رکھتا رہا‘ موسیقی سے دل بہلانے‘ ستار کے تاروں سے نکلنے والی بے الفاظ کی شاعری پر سر دھننے اور سوز و سلام کی محافل میں شرکت کرنے اور پھر کبوتر پالنے کا جنون ناصر کاظمی کو دوسرے ہم سبق لڑکوں سے ممتاز کرتا رہا۔ محلے میں صرف ایک یا دو ہم مزاج دوستوں سے بے تکلفی رہی ان میں افتخار کاظمی اور شبر نقوی اس کے گھر کے قریب اسی گلی میں رہتے تھے۔ انبالہ شہر میں محلہ سادات قاضی واڑہ میں کئی بیٹھکیں مشہور تھیں جہاں دوست احباب جمع ہوتے ہیں ان میں حسن اکبرمزد امام‘ میر حامد علی اور کرمو پہلوان کی بیٹھک میں ہمیشہ رونق رہتی۔

ناصر کاظمی اور افتخار کاظمی کو ستار سیکھنے اور شطرنج کھیلنے کا شوق تھا‘ کرمو پہلوان خوش ذوق اور خوش مزاج بزرگ تھے اور کسی زمانے میں پٹیالہ ریاست کے شاہی پہلوانوں میں شامل رہے‘ عالم پیری میں موسیقی کے رسیا ہو گئے۔ سانوالی رنگت تیکھے نقش بڑی آنکھیں چھریرا بدن خوبصورت چال اور آواز میں رسیلا پن…جانے اس کے انداز تکلم نے کسے ڈس لیا اور خود ناصر کاظمی کس مہ جبیں اور شوخ ادا کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا کہ اس کی محبت میں اداس رہنا پسند آنے لگا اس کی والدہ محمدی بیگم اپنے بیٹے کو دیکھتی کہ وہ خلائوں میں گھورتا‘ کبھی خود کلامی کرتا اور کبھی گم سم دکھائی دیتا وہ پوچھتی مگر وہ کیا جواب دیتا‘ بات ٹالنے کی خاطر وہ دیوار پر بیٹھے ہوئے کبوتر کی طرف اشارہ کرتا ’’ماں وہ کبوتر بیٹھا ہے کہو تو پکڑ لوں‘‘ وہ دبے پائوں جا کر کبوتر پر ہاتھ ڈالتا اور نعرہ زن ہوتا ’’اماں کبوتر پکڑ لیا‘‘ ماں جانتی تھی کہ ایک تو سچ کو چھپا رہا ہے۔

ناصر کاظمی کا ایک شوق تھا وہ شعر کہہ کے اختر رنگین رقم کی دکان پر جاتا اور اپنے شعر کی کتابت اور حاشیہ بنوا کر اختر رنگین رقم کو کچھ پیش کرتا لیکن محلے داری اور عزیز داری کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں کہتے ’’ابے سلطان حسن کے بیٹے میں تجھ سے پیسے لیتا اچھا لگوں گا‘ کچھ اور لکھوانا ہو تو وہ بھی لکھ دوں گا‘‘ اور یوں وقت گزرنے پر ایسے وضع دار لوگوں کے لیے ناصر کاظمی کے دل میں جگہ بنتی گئی‘ پاکستان بنا تو اختر رنگین رقم سرگودھا میں آباد ہوئے‘ کچھ عرصے بعد وہ بھی چل بسے‘ محمدی بیگم اور سطان حسن بھی رخصت ہو گئے۔ ناصر کاظمی نے ان سب کا نوحہ لکھا‘ اپنے عشق کی نامرادی کا ذکر کیا۔ آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی سب مزا رفتگاں نے چھین لیا تیرا ملنا تو خیر مشکل تھا تیرا غم بھی جہاں نے چھین لیا ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا البتہ اس نے شاعری کو جتنا دیا اس کا احاطہ ممکن نہیں۔

اس جملے کا پہلا حصہ وہ ہے جو اس کے انتقال پر شفیقہ کاظمی نے میری طرف سے تعزیت کے وقت کہا کہ ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا ہمیں اس کی شاعری سے کیا ملا۔ یقینا شاعری ایسا کار ہنر ہے جس کا معاوضہ شاعر کا مقدر نہیں مگر ایسا بھی نہیں مثلاً شاعر مشرق علامہ اقبال خود معمولی حیثیت کے مالک تھے۔ ریلوے روڈ پر ان کی رہائش دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کس معیار کی ہیں لیکن ایوان اقبال کی تعمیر دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود علامہ اقبال کے وہم و گمان میں ایسی شاندار عمارت کا تصور نہ ہو گا۔ ناصر کاظمی نے جیسی زندگی بسر کی وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے احباب میں انتظار حسین‘ سجاد باقر رضوی‘ ہوش ترمذی اور دوسرے سخنور سبھی اس زمانے کے شاکی اور قلم کی مزدوری کرتے نظر آئے ۔

حسن عسکری کاظمی

احمد ندیم قاسمی کا بچپن

میں ضلع سرگودھا کی تحصیل خوشاب کے ایک پہاڑی علاقہ سون سیکسر کے ایک گائوں انگہ میں پیدا ہوا۔ میری تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء ہے۔ ابتداء میں گائوں کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ ساتھ ہی وہاں کے پرائمری سکول میں داخلہ لیا اور پرائمری وہیں سے پاس کی۔ بلکہ ایک طرح سے اعزاز کے ساتھ پاس کی۔ اس زمانے میں چوتھی جماعت پرائمری کی آخری جماعت ہوتی تھی۔ ہماری جماعت کے 4 منتخب لڑکوں کو خوشاب میں وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے بھیجا گیا میں بھی ان میں شامل تھا۔ 4 میں سے ہم 3 لڑکوں نے کامیابی حاصل کی اور مجھے آٹھویں جماعت تک وظیفہ ملتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اسی موقع پر خوشاب میں زندگی میں پہلی مرتبہ سائیکل دیکھی اور ریل گاڑی کو لوہے کی پٹڑیوں پر بھاگتے دیکھا۔

میں پرائمری سکول کے اوّل مدرس منشی غلام حیدر کی شخصیت‘ محنت اور لگن سے بہت متاثر ہوا۔ وہ میرے رشتہ دار بھی تھے مگر سکول میں ان کے سامنے سب لڑکے برابر ہو جاتے تھے۔ معمولی سی غلطی کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ کڑی جسمانی سزا دیتے تھے مگر سکول میں اور پھر گھر میں اتنی محنت سے پڑھاتے تھے کہ ان کے مزاج کی سختی پس منظر میں چلی جاتی۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد میں اپنے چچا اور سرپرست پیر حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلا گیا۔ وہ ان دنوں وہاں ریونیو اسسٹنٹ تھے۔ وہاں میں نے گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول میں داخلہ لیا۔ ان دنوں نویں اور دسویں جماعتیں گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کیمبل پور سے وابستہ تھیں۔ چنانچہ مڈل پاس کرتے ہی میں کالجیٹ ہو گیا پھر چچا جان کا وہاں سے تبادلہ ہو گیا وہ شیخوپورہ میں تشریف لے آئے چنانچہ میں نے گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ میں داخلہ لیا.

ان دنوں مشہور شاعر ن م راشد کے والد جناب فضل الہی چشتی وہاں کے ہیڈ ماسٹر تھے، میں نے میٹرک کا امتحان وہیں سے پاس کیا۔ میں مڈل کی جماعتوں میں عربی کے استاد جناب غلام ربانی عزیز سے خاصا متاثر ہوا آپ مشہور ادیب ڈاکٹر غلام جیالنی برق کے بڑے بھائی ہیں اور خود بھی اعلی درجے کے مصنف تھے ان کی سنجیدگی اور صرف اپنے کام سے کام رکھنے کی روش مجھے پسند آئی۔ انٹرمیڈیٹ کالج میں بھی عربی ہی کے استاد پروفیسر انعام اللہ بیگ میری نظر میں مثالی استاد تھے میرا بچپن سراسر شرارتوں سے عبارت ہے میں پڑھائی میں بھی خاصا تیز تھا اور شرارت میں بھی۔ شاید یہی ہجہ ہے کہ میں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں ان میں بچوں کی شرارت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔

بے شمار شرارتوں میں سے ایک شرارت یہ ہے کہ میں نے مکی کے بھٹوں کے بالوں سے مہندی رنگ کی داڑھی اور مونچھیں بنا کر لگا لیں۔ سر پر بڑا سا پگڑا باندھ لیا۔ قمیض کے نیچے بہت سے کپڑے ٹھونس لیے جس سے میری توند ابھر کر کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ پھر میں نے ہاتھ میں عصا لیا اور اپنے خاندان کی حویلی کے ایک ایک گھر میں جھانکا اور خواتین کی چیخیں نکلوا دیں۔ حویلی میں بہت سخت پردہ تھا سو ایک اجنبی معمر مرد کو اپنے سامنے دیکھ کر خواتین کا خوفزدہ ہو جانا لازمی تھا۔ دوسری شرارت بھی سن لیجئے کہ میں نے داستان امیر حمزہ میں کہیں پڑھ لیا کہ عمروعیار نے اپنے استاد کو تنگ کرنے کے لیے انہیں جمال گھوٹا کھلا دیا تھا اور کئی دن تک اسہال کے مریض رہے تھے میں نے ایک پنساری سے جمال گھوٹا لیا اور جب گھر کے اندر سے ملازمین کے لیے کھانا آیا تو جمال گھوٹا سب پلیٹوں اور لسی کے جگ میں تجربتاً ملا دیا۔ بے چارے ملازم اور چپڑاسی بیت الخلاء کے چکر لگا لگا کر نڈھال ہو گئے اور چچا جان کو انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ جمال گھوٹا کی کچھ زیادہ ہی مقدار استعمال ہو گئی تھی۔

بچپن کا ایک ناقابل فراموش واقعہ تو یہ ہے کہ میں نے گھر سے پنسل کے لیے جو پیسے لیے ان سے ریوڑیاں خرید کر کھا لیں اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ہم جماعت یاسین کے بستے میں سے ایک نئی پنسل چوری کر کے اپنے بستے میں رکھ لی۔ امی کو جا کر یہی پنسل دکھائی کہ خرید لایا ہوں۔ انہوں نے اس کا سرا تھوڑا سا تراشا اور وہاں ریشم کے دھاگے سے ریشم کا پھول باندھ دیا۔ پنسل کی صورت بالکل بدل گئی مگر اس کے باوجود میں ایک ماہ تک پنسل سکول نہ لے گیا اور جس روز لے گیا اسی روز پکڑا گیا۔ یاسین نے پنسل دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ اس کی گم شدہ پنسل ہے۔ ہماری کلاس کو ماسٹر محمد حیات پڑھا رہے تھے انہوں نے مجھے پاس بلا کر پوچھا کہ سچ سچ بتائو یہ پنسل کس کی ہے؟ میں نے کڑک جواب دیا ’’میری ہے‘‘ انہوں نے میرے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان طلباء کی پنسلیں رکھ دیں۔ میری انگلیوں کو زور سے دبایا اور میں چیخ اٹھا۔ ماسٹر محمد حیات نے ایک بار پھر میرے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا ’’کس کی ہے؟‘‘ اور میں نے درد سے بل کھاتے ہوئے کہا یاسین کی ہے۔ اس کے بعد میں نے چوری کی جرات کبھی نہ کی۔

جب بھی خیال آیا انگلیوں میں پھوڑے سے بیدار ہو گئے۔ سکول میں سبھی مضامین سے دلچسپی رہی بطور خاص شعر و ادب سے ،تاریخ سے ،جغرافیے سے اور جیومٹری سے۔ اگر جان جاتی تھی تو حساب اور الجبرے سے۔ میٹرک پاس کرنے کی مسرت کا عنوان یہ تھا کہ حساب الجبرے سے چھٹکارا ملا۔ ٹوٹے پھوٹے شعر تو میں بچپن میں کہہ رہا تھا مگر میں نے پہلی باقاعدہ نظم جنوری 1931ء میں کہی جب میں میٹرک کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف تھا یہ مولانا محمد علی جوہر کا مرثیہ تھا۔ میں پرائمری سے مڈل تک بیشتر وقت اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔ پھر جب میں ساتویں آٹھویں میں تھا تو ریڈ کراس سوسائٹی نے مضامین کا کل پنجاب مقابلہ کیا اور میں اس مقابلے میں اول رہا۔ ریڈ کراس والوں کی سند اب تک میرے کاغذات کے انباروں میں کہیں محفوظ پڑی ہے۔ شاید کوئی ایسا کھیل ہو جو میں نہ کھیلا ہوں ٹینس‘ ہاکی‘ کبڈی سے لے کر پنگ پانگ (ٹیبل ٹینس) اور کیرم اور تاش تک۔ سبھی کھیل کھیلا ہوں مگر پیشہ وارانہ مہارت والی بال میں حاصل کی۔ لٹو بھی چلائے، گلی ڈنڈا بھی کھیلا، پتنگ بھی اڑائی اور پتنگ اڑانے سے مجھے اپنی ابتدائی زندگی کا ایک اور ناقابل فراموش واقعہ یاد آیا۔ میں اپنے ننھیال میں اپنے ماموں زاد بھائی محبوب الہی مرحوم کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ نیچے صحن میں لڑکیوں نے ترنجن کی محفل سجا رکھی تھی۔

چرخے گھوں گھوں کر رہے تھے اور سوت کاٹا جا رہا تھا۔ ہم دونوں بھائی چھت پر پتنگ اڑانے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہوا ساکن تھی آخر میں نے محبوب الہی سے کہا کہ پتنگ اور ڈور میرے حوالے کرو۔ تب میں پتنگ اڑانے کے لیے چھت پر تیزی سے الٹے قدموں بھاگا مگر یہ بھول گیا کہ میں چھت پر ہوں۔ چنانچہ چھت ختم ہو گئی اور میں نیچے ترنجن بیٹھی لڑکیوں کے ہجوم میں جا گرا۔ میں بچپن میں خوب موٹا متھنا تھا۔ سو مجھے کوئی چوٹ نہ آئی مگر لڑکیوں میں سے تین چار کو بہت چوٹیں آئیں۔ بچوں کے نام میرا پیغام یہ ہے کہ اپنے ملک سے اپنی تہذیب سے، اپنی روایات سے، اپنی زبانوں سے ،اپنے گیتوں سے ،محبت کرنا سیکھو کیونکہ یہی محبت تمہیں انسانیت کے ساتھ محبت کرنا سکھائے گی۔

احمد ندیم قاسمی

(مشہور زمانہ لوگوں کا بچپن سے ماخوذ)

مرے شہر ِ ذرّہ نواز کا وہی سرپھرا سا مزاج ہے

مرے شہر ِ ذرّہ نواز کا وہی سرپھرا سا مزاج ہے

کبھی زیبِ سر ہے غبارِ رہ ، کبھی زیرِ پا کوئی تاج ہے

کہیں بے طلب سی نوازشیں ، کہیں بے حساب محاسبے

کبھی محسنوں پہ ملامتیں ، کبھی غاصبوں کو خراج ہے

وہی بے اصول مباحثے ، وہی بے جواز مناقشے

وہی حال زار ہے ہر طرف ، جو روش تھی کل وہی آج ہے

وہی اہلِ حکم کی سازشیں ، وہی نفرتوں کی سیاستیں

نہیں بدلا طرزِ منافقت ، وہی مصلحت کا رواج ہے

کبھی چہرہ پوش ندامتیں ، کبھی سینہ زور بغاوتیں

اک اترتے چڑھتے فشارِ دم کے اثر میں سارا سماج ہے

کوئی درد ہو کوئی زخم ہو ، وہی میٹھے زہر کی گولیاں

کوئی عارضہ ہو کہ سانحہ ، بس اک عارضی سا علاج ہے

سر ِشہر ِ یاراں گئے تھے ہم کہ چُکا کرآئیں گے واجبات

پہ بڑھا کے آگئےقرضِ جاں جو محبتوں کابیاج ہے

 ظہیر احمد ظہیر

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

رب کونین میری بھی فریاد سن

آج میدان میں سب سے مظلوم ہوں

حق پہ ہوتے ہوے حق سے محروم ہوں

شام خوں رنگ ہوں صبح مغموم ہوں

جس پہ چلتے ہیں خنجر وہ حلقوم ہوں

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

رب کونین میری بھی فریاد سن

خود میرے نام لیوا ہیں دشمن میرے

میرے گھر کے اجالے ہیں رہزن میرے

زد میں ہیں بجلیوں کے نشیمن میرے

لٹ گئے سینکڑوں بار گلشن میرے

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

رب کونین میری بھی فریاد سن

 

ظلم ڈھایا گیا میرے اخوان پر

خون چھڑکا گیا صبح ایمان پر

آگ برسی ہے اوراق قرآن پر

برق چمکی میرے سازوسامان پر

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

رب کونین میری بھی فریاد سن

مجھ کو کشمیر میں خوں رلایا گیا

مجھ پہ ڈھاکے میں محشر سجایاگیا

دشت سرور میں جیسے ستایا گیا

اس طرح مصر میں آزمایا گیا

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

رب کونین میری بھی فریاد سن

بہہ گیا بستی بستی میں میرا لہو

روز کرتا ہوں میں آنسوؤں سے وضو

کب سے ہے میری آواز دم درگدوں

ہوگی پامال کب تک میری آبرو؟

آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن

رب کونین میری بھی فریاد سن

کشمیر : میری فردوس گل و لالہ و نسریں کی زمیں

میری فردوس گل و لالہ و نسریں کی زمیں

تیرے پھولوں کی جوانی، ترے باغوں کی بہار

تیرے چشموں کی روانی، ترے نظاروں کا حُسن

تیرے کہساروں کی عظمت، ترے نغموں کی پھوار

کب سے ہیں شعلہ بداماں و جہنم بکنار

تیرے سینے پہ محلات کے ناسوروں نے

تیری شریانوں میں اک زہر سا بھر رکھا ہے

تیرا ماحول تو جنت سے حسیں تر ہے مگر

تجھ کو دوزخ سے سوا وقت نے کر رکھا ہے

تجھ کو غیروں نے سدا دستِ نگر رکھا ہے

مہ و انجم سے تراشے ہوئے تیرے باسی

ظلم و ادبار کے شعلوں سے جہاں سوختہ ہیں

قحط و افلاس کے گرداب میں غرقاب عوام

جن سے تقدیر کے ساحل بھی برا فروختہ ہیں

سالہا سال سے لب بستہ زباں دوختہ ہیں

اُن کی قسمت میں رہی محنت و دریوزہ گری

اور شاہی نے تری خلد کو تاراج کیا

تیرے بیٹوں کا لہو زینتِ ہر قصر بنا

تجھ پہ نمرود کی نسلوں نے سدا راج کیا

ان کا مسلک تھا کہ پامال کیا ، راج کیا

لیکن اب اے مری شاداب چناروں کی زمیں

انقلابات نئے دور ہیں لانے والے

حشر اُٹھانے کو ہیں اب ظلم کے ایوانوں میں

جن کو کہتا تھا جہاں، بوجھ اٹھانے والے

پھر تجھے ہیں گل و گلزار بنانے والے

 احمد فراز

اگر میری کبھی یا د آئے – امجد اسلام امجد

اگر میری کبھی یا د آئے

تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں

کسی ستارے کو دیکھ لینا

اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر

تمھارے قدموں میں آگرے

تو یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا

اگر نہ آۓ اگر نہ اۓ

مگریہ ممکن ہی کس طرج ہے

کہ تم جس پر نگاہ ڈالو تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے

وہ اپنی ہستی نہ بھول جاۓ

امجد اسلام امجد

وہي جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تارا………

وہي جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاري
اگر ہو جنگ تو شيران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاري
عجب نہيں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز
کہ نيستاں کے ليے بس ہے ايک چنگاري
خدا نے اس کو ديا ہے شکوہ سلطاني
کہ اس کے فقر ميں ہے حيدري و کراري
نگاہ کم سے نہ ديکھ اس کي بے کلاہي کو
يہ بے کلاہ ہے سرمايہ کلہ داري