یہ ادبی میلے ٹھیلے

مجھے لگتا ہے کے ایل ایف کا آئیڈیا جے پور لٹریری فیسٹیول سے لیا گیا ہو گا۔ مگر پاکستانی زمین اس آئیڈیئے کے لیے اتنی زرخیز ثابت ہوئی کہ معاملہ کئی ہاتھ آگے چلا گیا۔ دو ہزار تیرہ میں لاہور میں رضی احمد نے لاہور لٹریری فیسٹول ( ایل ایل ایف ) منعقد کیا۔ سرکار نے بھی کچھ فراخ دلی کی اور یہ شہر کے کیلنڈر کا سالانہ ایونٹ بن گیا یعنی ہر فروری کے آخری ہفتے میں ایل ایل ایف ہوگا۔ مگر اس برس چوبیس تا چھبیس فروری جو پانچواں ایل ایل ایف ہونے والا تھا اس کے ساتھ صرف ایک دن پہلے کے خودکش حملے نے ہاتھ کر دیا۔ ہاتھ تو دراصل حکومتِ پنجاب کے فول پروف حفاظتی دعووں کے ساتھ ہوا مگر انتظامیہ کی بد حواسی کا نزلہ ایل ایل ایف پر گر گیا۔ پہلے جگہ بدلوائی گئی۔ پھر تین دن کم کرا کے ایک دن کرایا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ تین دن میں اگر پچھلے ایل ایل ایف کی طرح ایک لاکھ لوگ امڈ آئے تو خود کش بمباروں کی تو چاندی ہو جائے گی۔

ایل ایل ایف کو بند جگہ میں اپنے سیکیورٹی انتظامات خود کرنے کی شرط پر صبح سے شام تک منعقد ہونے کی اجازت دینے کے بعد حکومتِ پنجاب نے یکسوئی سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنا شروع کیا۔ اور ایک روزہ ایل ایل ایف کے صرف گیارہ دن بعد ( پانچ مارچ ) قذافی اسٹیڈیم میں ہر دو تماشائیوں کی حفاظت پر اوسطاً ڈیڑھ سپاہی تعینات کر کے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ حکومت ِ پنجاب کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ یہ وہی ایل ایل ایف ہے جو پچھلے برس نیویارک اور لندن میں بھی منعقد کیا گیا تا کہ دہشت گردی کی گرد سے آلودہ پاکستان کا شفاف علمی و ادبی چہرہ بھی سامنے آ سکے۔ اور یہ وہی ایل ایل ایف ہے جس کے بارے میں خادمِ اعلیٰ شہباز شریف گذشتہ برس کہہ چکے ہیں کہ ایسے میلے پاکستان کی اچھائیوں کا آئینہ ہیں۔

بات پتہ نہیں کیا ہو رہی تھی اور میں کہاں سے کہاں بہک گیا۔ عرض یہ کرنا تھا کہ پچھلے سات برس میں کراچی لٹریری فیسٹیول سے جو نئی علمی و ادبی روایت شروع ہوئی اس نے جانے کہاں کہاں تک جڑیں بنا لی ہیں۔ پچھلے تین برس سے کچھ مقامی جنونی فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کرا رہے ہیں۔ اس میں زیادہ زور اردو اور علاقائی لکھاریوں اور ادب کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ بلوچستان سے میڈیا اچھی خبریں بہت کم اٹھاتا ہے مگر گوادر کے نوجوانوں نے مسلسل تین برس سے گوادر بک فیسٹیول کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نام نہاد قومی میڈیا کو اپنی بے ساختہ کوریج پر مجبور کر دیا۔ میں نے اب تک کتاب کی جتنی بھوک اور للک گوادر بک فیسٹیول میں دیکھی شائد ہی کسی اور لٹریری میلے میں نظر آئی ہو۔حالانکہ گوادریوں کی جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے جتنے بڑے شہروں کے کتابی کیڑوں کے کھیسے میں پائے جاتے ہیں۔

سندھ میں کے ایل ایف کی دیکھا دیکھی دیگر علم دوستوں نے بھی لٹریری فیسٹیولز منعقد کرنے شروع کر دیے ہیں۔ پچھلے دو برس سے حیدرآباد میں گلوکار سیف سمیجو ، ثنا خوجہ اور بیسیوں نوجوان رضاکار لاہوتی میوزک اینڈ لٹریچر فیسٹیول کا علم بلند کیے ہوئے ہیں ( میوزک اور لٹریچر ایک ساتھ ! وٹ این آئیڈیا سر جی )۔ کراچی میں گذرے نومبر میں پہلا سندھ لٹریری فیسٹیول بخشن مہرانوی اور علی آکاش نے دوستوں سے مل کر اور عین وقت پر کچھ سپانسرز کے پھسل جانے کے باوجود کروایا اور اس برس بھی کمر بستہ ہیں۔ اور تو اور پچھلے برس ٹنڈو آدم میں سانگھڑ لٹریچر فیسٹیول بھی مقامی لوگوں نے منظم کر ہی لیا ( اگر کہیں اور بھی اس طرح کی سرگرمی ہو رہی ہو تو مطلع فرمائیے )۔

ان تمام علمی سرگرمیوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ منتظمین نے سرکار پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنے سپانسرز خود پیدا کیے ہیں۔ لہذا ان میلوں میں لمبی زندگی پانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اب تو ان فیسٹیولز پر تنقید بھی ہونے لگی ہے جیسے کے ایل ایف ، آئی ایل ایف اور ایل ایل ایف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انھیں اشرافیہ کے علمی زوق کے اعتبار سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اردو اور علاقائی ادب و لکھاریوں کے بجائے مغربی و دیگر بدیسی مصنفوں کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔ زیادہ تر اجلاسوں کی زبان انگریزی ہوتی ہے۔ فوڈ اسٹالز پر کتابوں کے اسٹالز سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایسے ایسے فیشن نظر آتے ہیں گویا کتابوں کا میلہ نہیں ڈربی ریس ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تنقید کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب بڑے میلوں میں اردو اور علاقائی زبانوں کی نمایندگی سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ جوں جوں صارف کا اصرار بڑھتا جائے گا توں توں ان میلوں کی شکل بھی بدلتی چلی جائے گی۔ سارا کھیل ڈیمانڈ اور سپلائی کا ہے۔ مجھے تو یہ میلے طبقاتی دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً کے ایل ایف میں اب ہر سال ایسے نوجوانوں سے پہلے سے زیادہ ملاقات ہو رہی ہے جو اندرونِ سندھ سے بسوں میں بیٹھ کر کراچی صرف اس میلے میں مصنفین کو سننے اور کتابوں سے ملنے آتے ہیں۔

اور جو مطمئن نہیں ہے وہ اپنے ذوق کے اعتبار سے میلہ منعقد کرالے۔ جیسے سندھ لٹریچر فیسٹیول نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر گفتگو کی کمی کو پورا کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ روایت مسلسل پھیلنی چاہیے۔ کسی شعلہ بار اجتماع میں شرکت کر کے اپنا خون ابالنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو تین دن کے ان میلوں میں ہر رنگ و نسل و طبقے کے درمیان ٹھنڈے ٹھنڈے وقت گذار دیا جائے۔ وگرنہ وقت تو ہمیں گذار ہی رہا ہے۔ اتنی سی بات کب سمجھ میں آئے گی کہ اس سماج کو کلاشنکوف سے زیادہ ملاقات ، مکالمے اور کتاب کی ضرورت ہے۔ ایسے چوروں کی ضرورت ہے جو جیکٹ میں چوری چھپے بارود بھر کے لانے کے بجائے کتابیں بھر کے اڑ جائیں۔

وسعت اللہ خان

Advertisements

بابوں کی باتیں : اشفاق احمد

ایک مرتبہ ہم لاری پر جوہر آباد جا رہے تھے‘ بڑی دیر کی بات ہے میرے ساتھ لاری میں ایک اور معزز آدمی پرانی وضع کے ریٹائرڈ تھے‘ گرمی بہت تھی‘ انہوں نے گود میں پگڑی رکھی ہوئی تھی۔ ہوا آ رہی تھی ، ایک خاص علاقہ آیا تو انہوں نے پگڑی اٹھا کے سر پر رکھ لی اور ادب سے بیٹھ گئے۔ میں متجسس آدمی تھا میں نے کہا، جی! یہاں کسی بزرگ کا مزار ہے۔ کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا، جی کوئی درگاہ ہے یہاں۔ کہنے لگے نہیں۔ میں بولا، معاف کیجئے گا میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے پگڑی گود سے اٹھا کر سر پر رکھ لی ہے اور باادب ہو کر بیٹھ گئے ہیں، کوئی وجہ ہو گی۔ کہنے لگے !بات یہ ہے کہ میں اس علاقے کا واقف ہوں، یہاں ڈیزرٹ تھا ، ریت تھی اور کچھ بھی نہیں تھا، حکومت نے سوچا کہ اس میں کوئی فصل اگائی جائے ۔ لوگ آتے نہیں تھے ۔

ایک آدمی آیا ،اس نے آ کر جھونپڑا بنایا اوریہاں پانی کی تلاش میں ٹیوب ویل وغیرہ سنگ کرنے کی کوشش کی۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے یہاں سبزہ اگایا اور اس زمین کو ہریالی بخشی۔ میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں پتا نہیں وہ آدمی کہاں ہوگا، میں نے اس کے احترام میں یہ پگڑی اٹھا کے رکھ لی۔ دیکھیے، یہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری زندگی کے اوپر عجیب طرح سے اثرانداز ہوتی ہیں اور اگر آپ اپنی آنکھیں بالکل کھلی رکھیں اورکان بھی تو آپ کو اردگرد اتنی کہانیاں ملیں گی جن کے اوپر آپ نے اس سے پہلے توجہ نہیں دی ہو گی۔ ہمارے استاد پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم صاحب ہم سیانے تھے، میں ففتھ ایئر میں پڑھتا تھا ،ان کی ایک عادت تھی کہ جب کسی کی شادی ہوتی تھی تو لڑکی کے گھر والوں میں ان کے گھر جا کر بارات کو کھانا کھلانے کا بندوبست ان کے اوپر ہوتا تھا۔

صوفی صاحب نے ہم کو کہا کہ چلو بھئی فلاں گھر میں کھانا دینا ہے، بارات آ گئی ہے۔ مجھے یاد ہے، ہم بھاٹی دروازے بتیاں والی سرکار کے پیچھے ایک گھر تھا‘ وہاں چلے گئے. انہوں نے کہا، لو جی صوفی صاحب آ گئے، فکر کی کوئی بات نہیں، نائی دیگیں لے آئے اب جو بارات تھی اس کے بارے میں خیال تھا کہ 80 کے قریب بندے ہوں گے، وہ 160 کے قریب آ گئے۔ اب صوفی صاحب کی آنکھیں، اگر آپ میں سے کسی کو یاد ہے ماشاء اللہ بہت موٹی تھیں، گھبرا گئے ، ان کے ماتھے پر پسینا ناک پر بھی آ جاتا تھا، کہنے لگے اشفاق ہن کیہہ کریے؟۔ میں نے کہا پتا نہیں، دیگوں میں پانی ڈال دیتے ہیں۔ پہلا موقع تھا ،میں ففتھ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا انہوں نے ایک زوردار تھپڑ میرے منہ مارا۔

 کہنے لگے، بیوقوف آدمی، اس میں پانی ڈال کے مرنا ہے وہ تو فوراً ختم ہو جائے گا، اس میں گھی کا ایک اور پیپا ڈالنا ہے۔ گاڑھا ہو جائے گا تو کھایا نہیں جاتا۔ اب ہم اندر سروے کر رہے تھے اور صوفی صاحب بیچ میں نکال کے ڈالتے جاتے تھے۔ ہم باراتیوں سے کہتے، اور لائیں۔ وہ کہتے تھے گرم لائو جی۔ ہم تو بھاگے پھرتے تھے اب آخر کیفیت یہ آ گئی کہ دیگیں ختم ہو گئیں اور ان کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ وہ کانپ رہے تھے اگر کسی نے اندر سے کہہ دیا کہ اور بھیجیں، ان کے پاس دینے کے لیے صرف ایک رہ گئی تھی لیکن وہ ڈرے ہوئے تھے۔ جب خوفزدہ تھے تو اندر سے آواز آئی بس۔ جب دوسرے بندے نے کہا، بس بس جی صوفی صاحب۔ میں نے کہا، خدا کے واسطے ایسی ٹینشن کا کام آئندہ نہیں کرنا۔

 کہنے لگے نہیں، بالکل نہیں، میری بھی توبہ۔ وہاں سے ہم چل پڑے، پیچھے ہم شاگرد، خود آگے آگے۔ صوفی صاحب کوئی پندرہ بیس گز سے زیادہ گئے ہوں گے ایک مائی باہر نکلی۔ کہنے لگی لو غلام مصطفی میں تو تینوں لبھ دی پھرنی آں۔ تاریخ رکھ دتی ہے13 بھادوں دی ،کاکی دی۔ تو صوفی صاحب جو توبہ کر کے نکلے، کہنے لگے کاغذ ہے؟ ہاں، پنسل ہے ؟ کہنے لگے ہاں۔ لکھ 13سیر گوشت ایک بوری چول ،صوفی صاحب لکھوا رہے ہیں تو میں نے کہا ،جی یہ پھر ہو گا، کہنے لگے نہیں ! یہ تو ان کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا آپ صرف کتاب کی تشریح وغیرہ پڑھایا کریں یہ تو ان کا کام تھا تو یہ جو عمل کی دنیا ہے اس میں داخل ہونا ضروری ہے۔

 کتاب ’’بابوں کی باتیں‘‘ سے مقتبس

وہي جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تارا………

وہي جواں ہے قبيلے کي آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ، ضرب ہے کاري
اگر ہو جنگ تو شيران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاري
عجب نہيں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز
کہ نيستاں کے ليے بس ہے ايک چنگاري
خدا نے اس کو ديا ہے شکوہ سلطاني
کہ اس کے فقر ميں ہے حيدري و کراري
نگاہ کم سے نہ ديکھ اس کي بے کلاہي کو
يہ بے کلاہ ہے سرمايہ کلہ داري

ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوں……..

ہوا کے واسطے اِک کام چھوڑ آیا ہوں
دِیا جلا کے سرِشام چھوڑ آیا ہوں

امانتِ سحر و شام چھوڑ آیا ہوں
کہیں چراغ، کہیں جام چھوڑ آیا ہوں…

کبھی نصیب ہو فُرصت تو اُس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوں

ہوائے دشت و بیاباں بھی مُجھ پہ برہم ہے
میں اپنے گھر کے دروبام چھوڑ آیا ہوں

کوئی چراغ سرِ راہگزر نہیں، نہ سہی
میں نقشِ پا تو بہرگام چھوڑ آیا ہوں

ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہونگے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں

یہ کم نہیں ہے وضاحت میری اسِیری کی
پروں کے رنگ، تہہِ دام چھوڑ آیا ہوں

وہاں سے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکی آگے
جہاں پہ گردشِ ایّام چھوڑ آیا ہوں

مُجھے جو ڈھونڈنا چاہے وہ ڈُھونڈ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گُمنام چھوڑ آیا ہوں

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو………..

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

محلے کی سب سے پرانی نشانی
وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی
وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈھیرا
وہ چہرے کی جہریوں میں میں صدیوں کا پھیرا
بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی
وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی

کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلنا
وہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑنا
وہ گھڑیا کی شادی میں لڑنا جھگڑنا
وہ جھولوں سے گرنا وہ گر کہ سنبھلنا
وہ پیتل کے چھلوں کے پیارے سے تحفے
وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانی

کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جانا
گھروندے بنانا بنا کہ مٹانا
وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی
وہ خوابوں خیالوں کی جاگیر اپنی
نہ دنیا کا غم تھا نہ رشتوں کا بندھن
بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی

قرآن وہ کتاب ہے ، جو درس انقلاب ہے………..

جو فکر کا چراغ ہے، جو علم کا نصاب ہے
جو تیرگی جہل میں، مثال آفتاب ہے
قرآن کا نظام ہی، جہاں میں کامیاب ہے
قرآن وہ کتاب ہے، جو درس انقلاب ہے
کلام رب دو جہاں سےاپنے رخ کو موڑنا
شعار دین کا چھوڑنا، خدا کا حکم توڑنا
بہت بڑا گناہ ہے، جو باعث عذاب ہے
قرآن وہ کتاب ہے جو درس انقلاب ہے
نہیں ہے یہ کتاب اصل قسم اٹھاننے کے لیے
نہیں ہے یہ کتاب طاق میں سجانے کے لیے
نا قدری یہ کلام کا ایک سیاہ باب ہے……
قرآن وہ کتاب ہے ، جو درس انقلاب ہے

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے…

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلےآئے لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم
اپناغم تھا گواہی تیرے حُسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری اُلفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جاملے
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
Enhanced by Zemanta