شوکت تھانوی… ایک نادر روزگار افسانہ نویس

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں قدرت نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں۔ ان کے فن کی کئی جہتیں ہوتی ہیں اور انہیں کثیر الجہات شخصیت کہا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا شوکت تھانوی۔ شوکت تھانوی صحافی بھی تھے اور مضمون نگاری بھی کرتے تھے۔ کالم نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ ناول نویسی میں بھی نام کمایا، افسانے بھی لکھے، براڈ کاسٹر بھی تھے۔ ڈرامہ نویسی میں بھی ان کا نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ مزاح نگاری بھی ان کا میدان تھا اور پھر شاعر بھی تھے۔ اب بھلا کون ایسا دوسرا ادیب یا شاعر ہو گا جو اتنی جہتوں کا مالک ہو گا۔ مرحوم احمد ندیم قاسمی نے بالکل درست کہا تھا کہ شوکت تھانوی جیسا زبردست انسان کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے۔

لگتا ہے ان کے فن کی کوئی حد ہی نہیں۔ وہ لامحدود صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ اب اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ نقادوں کی رائے میں شوکت تھانوی کے فن کا خزانہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آپ ان کے فن کا محاکمہ کرتے کرتے تھک جائیں گے لیکن ان کے مکمل فن کا آخری سرا پھر بھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ شوکت تھانوی دو فروری 1904ء کو تھانہ بھون بندربان اترپردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔ تھانہ بھون اترپردیش کے ضلع مظفرنگر کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ تھانہ دراصل جگہ کا نام ہے اور اس کا مطلب پولیس تھانہ نہیں۔ امتیاز علی تاج نے شوکت تھانوی کو مشورہ دیا کہ وہ لاہورمیں ہنجولی آرٹ پکچرز میں شمولیت اختیار کر لیں۔ شوکت تھانوی نے امتیاز علی تاج کا یہ مشورہ قبول کر لیا اور پنچولی آرٹ پکچرز میں کہانی نویس اور نغمہ نگار کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔  1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پنچولی آرٹ پکچرز بند ہو گیا۔ اس کے بعد شوکت تھانوی نے ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ پھر انہوں نے ایک اخبار میں مزاحیہ کالم لکھنے شروع کر دیئے۔ ان کے کالم کا عنوان تھا ’’وغیرہ وغیرہ‘‘۔ یہ کالم اس زمانے میں بہت مقبول ہوا۔ شوکت تھانوی نے مجموعی طور پر 60 کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں افسانوں کے مجموعے اور مزاحیہ مضامین اور ناول شامل ہیں۔

ان کا شعری مجموعہ ’’گوہرستان‘‘ بھی خاصا مقبول ہوا۔ کالم نگاری کے حوالے سے ان کے مضمون ’’سوادیشی ریل‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے کیونکہ اس مضمون کے بعد ہی انہیں صف اول کا مزاح نگار تسلیم کر لیا گیا۔ انہوں نے ایک فلم ’’گلنار‘‘ میں اداکاری بھی کی۔ لاہور کی کشش شوکت تھانوی کو لاہور لے آئی۔ انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب ’’لاہوریات‘‘ بھی لکھی۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹانگے والے سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ وہ انہیں ریڈیو سٹیشن چھوڑ آئے۔ کیونکہ وہ جب بھی یہ کہتے ہیں تو ٹانگے والا انہیں ریلوے سٹیشن لے جاتا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں انارکلی بازار کا بھی بڑا ذکر کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور میں دو چیزیں بیک وقت ہو رہی ہیں۔ چیزوں کی تباہی اور تعمیر ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس مضمون میں لاہور کی تاریخی عمارات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ایک زمانے میں وہ روزانہ دس میل تک سائیکل کا سفر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لاہور میں بیویاں اپنے شوہروں کے غلط کاموں پر ان کو مطعون نہیں کرتیں بلکہ ان کے دوستوں کو موردالزام ٹھہراتی ہیں۔ شوکت تھانوی کی مشہور کتابوں میں ’’بار خاطر، بہروپیا، دنیائے تبسم، مسکراہٹیں، بیگم، بادشاہ، غلام، بیوی، کائنات تبسم، خوامخواہ، مابدولت، کچھ یادیں کچھ باتیں اور خبطی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مشہور ٹی وی آرٹسٹ عرش منیر ان کی اہلیہ تھیں۔

شوکت تھانوی کو تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ شوکت تھانوی کی غزل بھی بڑی متاثر کن تھی۔ ہم ذیل میں ان کے چند اشعار قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ دھوکہ تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں انہی کا نام محبت، انہی کا نام جنون مری نگاہ کے دھوکے تری نظر کے فریب 4 مئی 1963ء کو شوکت تھانوی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے فن کا خزانہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفر

Advertisements

کہاں سے آیا، کدھر گیا وہ ناصر کاظمی

رتجگوں کا دلدادہ‘ لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے پھرنے کا عادی کبوتروں کو دانہ دنکا ڈالنے‘ پالنے پوسنے والا ناصرکاظمی ۔ وہ پاک ٹی ہائوس میں دوستوں کے درمیان بیٹھ کر خوش رہتا اور رات کے پچھلے پہر تنہائی میں آوارگی اور خود کلامی کرتے ہوئے مال روڈ کی دونوں جانب کھڑی عمارتوں اور گلی کوچوں کی نیم تاریک کھڑکیوں اور بند دروازوں کے سامنے سے گزرتا تو اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا‘ رات بھر جاگنے اور ادھوری غزل کو مکمل کرنے کے بعد وہ آہستہ سے شفیقہ کو آواز دیتا‘ بیوی نیم خوابیدہ حالت میں پوچھتی کب آئے اور سوئے کیوں نہیں‘ ناصر کاظمی سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنی غزل کا مطلع سناتا اس کی مردانہ اور گھمبیر آواز فضا میں ارتعاش پیدا کرتی‘ بیوی کھانے کے لیے پوچھتی اور ناصر کاظمی چائے پینے کا تقاضا کرتا‘ صبح دوپہر اور شام اپنے مکان کی بالائی چھت پر کبوتروں کی دیکھ بھال کرتا‘ فرصت کے اوقات میں فیچر لکھتا‘ ریڈیوکے پروگرام کا خاکہ تیار کرتا اور ’’ہم لوگ‘‘ کا اداریہ لکھتا۔

انبالہ شہر میں رہتے ہوئے اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا‘ بچپن انگڑائیاں لے کر ڈھل رہا تھا‘ وہ مسلم ہائی سکول میں دوسرے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کے علاوہ اپنے منفرد شوق رکھتا رہا‘ موسیقی سے دل بہلانے‘ ستار کے تاروں سے نکلنے والی بے الفاظ کی شاعری پر سر دھننے اور سوز و سلام کی محافل میں شرکت کرنے اور پھر کبوتر پالنے کا جنون ناصر کاظمی کو دوسرے ہم سبق لڑکوں سے ممتاز کرتا رہا۔ محلے میں صرف ایک یا دو ہم مزاج دوستوں سے بے تکلفی رہی ان میں افتخار کاظمی اور شبر نقوی اس کے گھر کے قریب اسی گلی میں رہتے تھے۔ انبالہ شہر میں محلہ سادات قاضی واڑہ میں کئی بیٹھکیں مشہور تھیں جہاں دوست احباب جمع ہوتے ہیں ان میں حسن اکبرمزد امام‘ میر حامد علی اور کرمو پہلوان کی بیٹھک میں ہمیشہ رونق رہتی۔

ناصر کاظمی اور افتخار کاظمی کو ستار سیکھنے اور شطرنج کھیلنے کا شوق تھا‘ کرمو پہلوان خوش ذوق اور خوش مزاج بزرگ تھے اور کسی زمانے میں پٹیالہ ریاست کے شاہی پہلوانوں میں شامل رہے‘ عالم پیری میں موسیقی کے رسیا ہو گئے۔ سانوالی رنگت تیکھے نقش بڑی آنکھیں چھریرا بدن خوبصورت چال اور آواز میں رسیلا پن…جانے اس کے انداز تکلم نے کسے ڈس لیا اور خود ناصر کاظمی کس مہ جبیں اور شوخ ادا کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا کہ اس کی محبت میں اداس رہنا پسند آنے لگا اس کی والدہ محمدی بیگم اپنے بیٹے کو دیکھتی کہ وہ خلائوں میں گھورتا‘ کبھی خود کلامی کرتا اور کبھی گم سم دکھائی دیتا وہ پوچھتی مگر وہ کیا جواب دیتا‘ بات ٹالنے کی خاطر وہ دیوار پر بیٹھے ہوئے کبوتر کی طرف اشارہ کرتا ’’ماں وہ کبوتر بیٹھا ہے کہو تو پکڑ لوں‘‘ وہ دبے پائوں جا کر کبوتر پر ہاتھ ڈالتا اور نعرہ زن ہوتا ’’اماں کبوتر پکڑ لیا‘‘ ماں جانتی تھی کہ ایک تو سچ کو چھپا رہا ہے۔

ناصر کاظمی کا ایک شوق تھا وہ شعر کہہ کے اختر رنگین رقم کی دکان پر جاتا اور اپنے شعر کی کتابت اور حاشیہ بنوا کر اختر رنگین رقم کو کچھ پیش کرتا لیکن محلے داری اور عزیز داری کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں کہتے ’’ابے سلطان حسن کے بیٹے میں تجھ سے پیسے لیتا اچھا لگوں گا‘ کچھ اور لکھوانا ہو تو وہ بھی لکھ دوں گا‘‘ اور یوں وقت گزرنے پر ایسے وضع دار لوگوں کے لیے ناصر کاظمی کے دل میں جگہ بنتی گئی‘ پاکستان بنا تو اختر رنگین رقم سرگودھا میں آباد ہوئے‘ کچھ عرصے بعد وہ بھی چل بسے‘ محمدی بیگم اور سطان حسن بھی رخصت ہو گئے۔ ناصر کاظمی نے ان سب کا نوحہ لکھا‘ اپنے عشق کی نامرادی کا ذکر کیا۔ آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی سب مزا رفتگاں نے چھین لیا تیرا ملنا تو خیر مشکل تھا تیرا غم بھی جہاں نے چھین لیا ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا البتہ اس نے شاعری کو جتنا دیا اس کا احاطہ ممکن نہیں۔

اس جملے کا پہلا حصہ وہ ہے جو اس کے انتقال پر شفیقہ کاظمی نے میری طرف سے تعزیت کے وقت کہا کہ ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا ہمیں اس کی شاعری سے کیا ملا۔ یقینا شاعری ایسا کار ہنر ہے جس کا معاوضہ شاعر کا مقدر نہیں مگر ایسا بھی نہیں مثلاً شاعر مشرق علامہ اقبال خود معمولی حیثیت کے مالک تھے۔ ریلوے روڈ پر ان کی رہائش دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کس معیار کی ہیں لیکن ایوان اقبال کی تعمیر دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود علامہ اقبال کے وہم و گمان میں ایسی شاندار عمارت کا تصور نہ ہو گا۔ ناصر کاظمی نے جیسی زندگی بسر کی وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے احباب میں انتظار حسین‘ سجاد باقر رضوی‘ ہوش ترمذی اور دوسرے سخنور سبھی اس زمانے کے شاکی اور قلم کی مزدوری کرتے نظر آئے ۔

حسن عسکری کاظمی

سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں

25 اپریل بروز منگل شام 7 بجے بے وقت سویا نیند سے بیدار ہوا تو عادت کے مطابق ہاتھ سرہانے پڑے موبائل فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون ہاتھ میں آتے ہی فیس بک سے رابطہ کرنے کی کوشش تو اچانک سامنے ایک خوش شکل شاعرہ کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے تحریر پڑھتے ہی دل کچھ غمگین ہو گیا۔ تحریر حادثے سے متعلق تھی جس میں بیان کیا گیا کہ ایک نوجوان شاعرہ بروز سوموار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 3 روزہ ادبی میلہ کے آخری دن 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے گریں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ کچھ تو بے وقت سونے کی کسلمندی تھی اور کچھ ایسی افسوس ناک خبر کا ملنا کہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوتے مجھے کچھ وقت لگ گیا، لیکن جب پوری طرح آنکھیں کُھلیں اور حواس بحال ہوئے تو تصویر پر کچھ غور کیا۔ غور کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے چہرے سے کچھ شناسائی ہے۔ نام پر غور کیا تو وہ بھی جانا پہچانا لگا۔ کچھ دیر اِسی حالت میں غور و فکر جاری تھا کہ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اُس دور میں چلا گیا جب وہ ہمیں پڑھایا کرتی تھیں۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک اسکول جس میں قابل پُرجوش فرزانہ ناز، بلکہ میڈم فرزانہ ناز چلتی پھرتیں اور بچوں کو بزمِ ادب کیلئے تیاری کرواتی دکھائی دیں۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ وقت تھم سا گیا اور ذہن ماضی کے خیالات میں گھومنے لگا۔ کبھی اِس خبر کو دیکھتا جس پر یقین کرنا مشکل تھا اور کبھی ماضی کی اُس ٹیچر کو یاد کرتا، میں تو میڈم فرزانہ ناز کو جانتا تھا جو میری اسکول ٹیچر تھیں لیکن میرے سامنے جو خبر تھی وہ میڈم فرزانہ ناز کی نہیں بلکہ مشہور نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز کی تھی۔ کبھی دل اُن کی شہرت پر مسرت محسوس کرتا لیکن پھر خبر کا خیال آتے ہی دنیا رکتی سی محسوس ہوتی۔

مزید اُن کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُن کے 2 کمسن بچے بھی ہیں، اور اِس پر ستم یہ کہ 3 مئی کو اُن کے پہلے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ کچھ برس قبل کی اسکول ٹیچر فرزانہ ناز پرجوش، قابل اور محنتی خاتون تھیں جنہیں یہاں پہنچنے تک طویل عرصہ لگ گیا۔ آج جب وہ مشہور شاعرہ تھیں، دو کمسن بچوں کی ماں تھیں تو اِس حادثہ کی نذر ہو گئیں۔ ادب سے محبت اور لگاؤ رکھنے والی ادبی میلے میں ہی کہیں گم ہو گئیں، جو اسٹیج پر وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کو اپنے شعری مجموعہ کی کتاب پیش کر رہی تھیں کہ اسٹیج پر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے اُن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے زمین پر گر گئیں جس کے سبب اُن کا سر پھٹ گیا اور زمین پر خون پھیل گیا۔

جلدی جلدی اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن ظلم تو یہ ہوا کہ اتنے بڑے ادبی میلے میں ایمبولینس تک کا انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر الشفاء انٹرنیشنل پہنچایا گیا مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا اور یوں وہ کومے میں چلی گئیں، مگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور منگل بروز 25 اپریل کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔

میں اِس حادثے کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انسان کس قدر بے بس ہے۔ کیا کچھ وہ اپنے لیے سوچتا ہے، اپنے مقصد کو پانے کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے، وہ اپنے لیے کتنے خواب دیکھتا ہے لیکن وہ سب خواب ایک لمحہ میں چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ساری زندگی وہ تیاری میں لگا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ اگلے لمحے تک سے واقف نہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

فرحان سعید خان

راجندر سنگھ بیدی…ایک بے مثال افسانہ نگار

اُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ویسے تو کئی نام لیے جا سکتے ہیں لیکن سعادت حسن منٹو‘ کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہو گی۔ آج ہم راجندر سنگھ بیدی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔ یکم ستمبر 1915ء کو پیدا ہونے والے راجندر سنگھ بیدی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا‘ بیدی کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزارے۔ جہاں انہوں نے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ تھا۔ جس میں ان کا معرکہ آرا افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ بھی شامل تھا۔ یہ افسانوی مجموعہ 1940ء میں شائع ہوا۔

1942ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’گرہن‘‘ شائع ہوا۔ 1943ء میں انہوں نے لاہور کے ایک چھوٹے فلم اسٹوڈیو مہنیش واری فلمز میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈیڑھ برس بعد وہ دوبارہ آل انڈیا ریڈیو چلے گئے اور ان کی پوسٹنگ جموں میں کر دی گئی۔ وہ 1947ء تک آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے رہے اور وہ جموں اینڈ کشمیر براڈ کاسٹنگ سروس کے ڈائریکٹر بن گئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت راجندر سنگھ بیدی نے کئی اور افسانے لکھے جو بے حد مقبول ہوئے انہوں نے اردو افسانے کو نہ صرف نیا اسلوب دیا بلکہ موضوعات کے حوالے سے بھی کئی تجربے کئے۔ ان کا ناولٹ ’’اک چادر میلی سی‘‘ بھی اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں انہوں نے اسلوب کے حوالے سے بالکل مختلف تجربات کئے۔ اس کے علاوہ اس ناولٹ کا موضوع بھی چونکا دینے والا تھا۔ اس ناولٹ پر ہندوستان اور پاکستان میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔

ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں ’’کوکھ جلی‘‘ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ اور ڈراموں کا مجموعہ ’’سات کھیل‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’جو گیا‘ لاجونتی‘ گرہن‘ گرم کوٹ‘ کلیانی‘‘ اور کئی دوسرے افسانے شامل ہیں۔ بعض نقاد بھی ان کے افسانوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں ہندی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں راجندر سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس ماحول پر ہے جس میں یہ افسانے لکھے گئے۔ اگر ایک افسانے میں پنجاب کے گائوں کا ماحول پیش کیا جا رہا ہے تو پھر کرداروں کی زبان بھی وہی ہو گی۔ اسی طرح اگر ایک افسانہ مکمل طور پر ہندو معاشرے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے تو پھر زبان بھی وہی ہو گی۔ بیدی نے فرسودہ روایات معاشرتی تفریق اور معاشی انصاف پر بہت لکھا۔ وہ کردار سازی بھی کمال کی کرتے تھے۔

ان کے افسانوں کے بعض کردار امر ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک اور بڑی خوبی ان کی قوت مشاہدہ ہے۔ ان کے افسانوں میں ہمیں طنز و تشنیع بھی ملتا ہے۔ ان کے طنز کرنے کا انداز بھی بہت متاثر کن ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بظاہر سادگی سے کہی ہوئی بات طنز کی چادر میں لپٹی ہوتی ہے اور بادی النظر میں یہ ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ بیدی نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ ذرا سا غور کریں تو پھر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ افسانہ نگار کمال مہارت سے اپنے فن کے جوہر دکھا گیا ہے۔  راجندر سنگھ بیدی 1982ء میں شدید علیل ہو گئے اور اسی سال وہ چل بسے۔ ان کی یاد میں بھارتی پنجاب کی حکومت نے راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ کا اجرا کیا یہ ایوارڈ ان کی اردو ادب کی خدمات کے حوالے سے شروع کیا گیا۔ راجندر سنگھ بیدی نے اردو ادب کی جتنی خدمت کی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مکالمہ نگاری سے جو مقام بنایا اُس حوالے سے اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چند ایام

فیڈرل بی ایریا کے مکان میں جہاں بابا (جوش ملیح آبادی) کے مداحوں اور احباب کا آنا جانا رہتا تھا وہاں ہمارے عزیز و اقارب اور رشتے داروں کا بھی آنا جانا رہتا تھا۔ راولپنڈی سے ہماری خالہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی ان کے اہل و عیال اور خاوند آیا کرتے تھے۔ لاہور سے ہماری دوسری خالہ جو کہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی کی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ قدسیہ جہاں (بیہ خالہ) ان کے اہل و عیال اور خاوند بھی اکثر آیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بہنیں بابا کی حقیقی بھانجیاں تھیں۔ کراچی میں بھی ہمارے رشتے دار اکثر آیا کرتے تھے جن میں اشفاق بھائی رفیق بھائی اور ان کے اہل و عیال تشریف لایا کرتے تھے۔

ایک ہماری نانی کی کزن ’’سنو خالہ‘‘ بہت آیا کرتی تھیں۔ ان کی آواز کی گھن گرج کی وجہ سے بابا نے ان کو ریڈیو کا خطاب دیا تھا۔ ان کے شوہر ضمیر قد کے لحاظ سے قدرے لمبے تھے ہمارے والد محترم التفات احمد خان شہاب ملیح آبادی نے ان کا نام ’’گنا‘‘ رکھ دیا تھا اور وہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر ’’گنا خالو‘‘ کا نام رہتا تھا۔ ہماری نانی کے حقیقی بھانجے افتخار علی خان (منے ماموں) جو کہ نواب مصطفی علی خان کے صاحبزادے تھے اکثر اپنے بیوی بچوں سمیت آیا کرتے تھے۔ انتہائی دلچسپ انسان تھے وہ قصہ گوئی کے ماہر تھے اور ہم سب بہن بھائی ان کی قصہ گوئی سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے بعض اوقات ہم لوگ ان کی غیر یقینی بات کو بھی جانتے بوجھتے یقین کر کے ہنستے رہتے تھے۔ بابا سے ملنے والوں کا ایک بڑا حصہ اہل علم اور اہل قلم سے وابستہ حضرات کا تھا جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

ایک مرتبہ اداکار سید کمال مرحوم اپنے اہل و عیال اور اپنے بھائی میجر جلال مرحوم کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ میجر جلال نے بابا سے اصرار کیا تھا کہ آپ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں لیکن بابا نے اپنی مشغولیات کی بناء پر معذرت کر لی تھی ۔ ممتاز دانشور ضیاء محی الدین بھی محترم افتخار عارف کے ساتھ بابا کو اپنے پروگرام ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ میں مدعو کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہا کہ ہم آپ کا اپنے پروگرام میں دس ایک منٹ انٹرویو کریں گے ، بابا سے رہا نہ گیا اور فوراً ٹوک دیا کہ یہ دس ایک منٹ کیا ہوتے ہیں۔ یا تو دس منٹ ہوں گے یا صرف ایک منٹ۔ محترم ضیاء محی الدین بہت زور سے ہنسے اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ روحانی پیشوا حضرت بابا ذہین شاہ تاجی بابا سے ملنے اسی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔ بابا ذہین جی تاجی سفید لمبا دراز کرتا اور گلے میں سفید چادر زیب تن کر کے آیا کرتے تھے۔

فرخ جمال ملیح آبادی

(کتاب : جوش ملیح آبادی سے انتخاب)

بڑا قد : بچوں کے مقبول ترین لکھاری اشتیاق احمد کی سب سے پہلی کہانی

آٹھویں کلاس کے سب لڑکے مجھ سے بڑے تھے۔ میرا قد ان سب سے چھوٹا تھا… میں اس بات کو شدت سے محسوس کرتا اور چاہتا تھا کسی طرح میرا قد بڑھ جائے۔ قد بڑھانے کی غرض کے لیے میں لکڑی کی سیڑھی کا ڈنڈا پکڑ کر لٹکا کرتا تھا۔ یہ ورزش میں صبح سویرے ضرور کرتا، ساتھ ہی اپنا قد بھی ناپتا رہتا تا کہ پتا چل سکے کہ قد بڑھ رہا ہے یا نہیں۔ قد ناپنے کے لیے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ہمارے گھر کے ایک کمرے سے ملی ہوئی ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔ اس کی چھت اتنی اونچی تھی کہ میں اس میں کھڑا ہو جاتا تھا تو میرا سر چھت سے نہیں لگتا تھا، میرے سر سے کچھ ہی اوپر وہ چھت تھی۔۔۔ میں درمیان میں اپنے سر پر ہاتھ کھڑا کر کے دیکھتا کہ میرا ہاتھ چھت کی کڑی سے لگا یا نہیں۔

یہ میرا روز کا معمول تھا۔ ایک روز لکڑی کی سیڑھی پر لٹکنے کے بعد کوٹھری میں گیا۔ اب سیدھا کھڑا ہوا تو ہاتھ اٹھا کر ناپنے کی کوشش سے پہلے ہی میرا سر چھت کی کڑی سے جا لگا …میں حیرت زدہ رہ گیا۔ خوشی سے پھول گیا اور لگا چلانے:

’’امی جان! میرا قد بڑھ گیا ۔۔۔ میرا قد بڑھ گیا۔‘‘

میرے چلانے کی آواز سن کر امی جان گھبرا کر میری طرف آئیں اور بولیں:

’’کیا ہوا ۔۔۔ کیوں چیخ رہا ہے۔‘‘

’’امی! میرا قد بڑھ گیا ہے ۔۔۔ یہ دیکھیے ۔۔۔ میں روزانہ اس کوٹھڑی میں کھڑے ہو کر اپنا قد ناپتا تھا ۔۔۔ لیکن سر چھت سے نہیں لگتا تھا ۔۔۔ آج لگ گیا ہے ۔۔۔ اس کا مطلب ہے ۔۔۔ میرا قد بڑھ گیا ہے۔‘‘

میری بات سن کر امی جان مسکرا دیں۔ انہوں نے کہا:

’’بے وقوف! ۔۔۔ اتنی جلدی قد نہیں بڑھا کرتے ۔۔۔ اس چھت کی ایک کڑی چٹخ کر ٹیڑھی ہو گئی ہے۔۔۔ تمھارا سر اس سے جا لگا ہے۔‘‘

’’اوہ!‘‘ میرے منہ سے مارے مایوسی کے نکلا اور اور امی جان ہنسنے لگیں۔

انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا ۔۔۔ قد اتنی جلدی نہیں بڑھا کرتے۔

اشتیاق احمد

(یہ کہانی 1960ء میں رسالہ ’’قندیل‘‘ میں شائع ہوئی)

اختر حسین جعفری کا بچپن

اختر حسین جعفری کا شمار پاکستان کے معروف شعرا ء میں ہوتا ہے۔ ذیل میں ان کی لکھی گئی کتاب سے کچھ پیراگراف شائع کئے جا رہے ہیں:

 میں 15 اگست 1932 کو ہوشیارپور کے ایک قصبہ میں پیدا ہوا۔ یہاں میرے والد بسلسلہ ملازمت تعینات تھے۔ چوتھی جماعت تک تعلیم وہاں کے ایک غیر معروف گائوں موضع لسوی سے حاصل کی۔ اسی دوران والدہ کے انتقال کے بعد میں اپنے دادا (جو ضلع گجرات میں مقیم تھے) کے پاس چلا آیا اور وہاں ایک ہندو سکول میں داخلہ لے لیا۔ اس سکول میں ایک ہندو استاد پنڈت درگا پرشاد تھے جو ہمیں اردو اور فارسی پڑھاتے تھے۔ میرا جو اردو ادب سے رشتہ قائم ہوا وہ انہی کی وجہ سے ہوا۔ پر نہ صرف داخلہ ملا بلکہ وہ تمام مراعات بھی ملیں جو اچھے ہندو طلباء کو سکول کی طرف سے ملتی تھیں۔

اس سکول میں مسلمان طلباء کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔ یہاں مسلمان طلباء کو دینیات بھی پڑھائی جاتی تھی۔ ماسٹر درگا پرشاد اردو اور فارسی کے علاوہ دینیات بھی پڑھاتے تھے۔ ہمیں افسوس ہوتا تھا کہ ہندو طلباء معاشی اور معاشرتی طورپر ہم سے بہتر تھے۔ اچھا لباس پہن کر آتے تھے۔ ہم ہندوئوں کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اور ان سے مراعات حاصل کرنے کے باوجود اس احساس کو اپنے دل سے کسی صورت نہ نکال سکے کہ ہم میں اور ہندو قوم میں فرق ہے جس کو دور کرنے کیلئے کسی نہ کسی واضح سیاسی عمل کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان کے حوالے سے میری ہندو دوستوں کے ساتھ بحث ہوتی تھی۔ اگرچہ ان دنوں پاکستان کے فلسفہ کے پس منظر سے کلی آگاہی نہ تھی۔

ان ہندو دوستوں میں میرے ساتھ سکول کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی بھی تھے جو ہندوستان کی تقسیم کے یکسر خلاف تھے۔ میں اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ اکثر کانگریسی لیڈروں کی تقاریر سننے جایا کرتا تھا۔ اس مفاہمت کی فضا کے باوجود میرے دل سے میرے ہندو دوست ایک علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی ضرورت کے تصور کو نہ نکال سکے۔ بچپن میں فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ میرا سکول کی ٹیم کے اچھے کھلاڑیوں میں شمار ہوتا تھا۔ ہاکی ٹیم میں مجھے بارہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ مجھے سکول کے زمانے میں زبانیں سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ انگریزی، اردو اور فارسی میں بہت دلچسپی تھی اور ان میں ہمیشہ امتیازی حیثیت حاصل کرتا۔

ریاضی اور سائنس سے واجبی سا تعلق تھا۔ سکول کے زمانے میں مجھے اردو اور فارسی ادب سے بہت دلچسپی تھی۔ میرے اساتذہ مجھے ہونہار طالب علموں میں شمار کرتے تھے۔ میں سکول کے زمانے میں شعر لکھتا تو نہیں تھا البتہ وزن میں پڑھتا تھا۔ شاعری ایف اے کے بعد کی۔ میں سکول میں تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیا کرتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں بچپن میں بھی شرارتیں نہیں کیا کرتا تھا۔ مگر شرارتی بچوں کا دوست ضرور تھا۔ شرارتی بچے مجھے اچھے لگتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہم سکول جا رہے تھے تو میرے ساتھی نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ میں چٹکی لی ۔ وہ ایک ہندو دکاندار تھا۔ اس نے ہم دونوں کو اپنی دکان پر بیٹھا لیا اس نے ہمیں جسمانی اذیت دی۔ جسمانی اذیت کے باوجود اس شرارت کی خوشی بڑھاپے میں بھی محسوس کرتا ہوں۔

میرے والد ادیب یا شاعر تو نہیں تھے مگر ادب کے ساتھ مطالعاتی حد تک ان کا مضبوط تعلق تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو والد صاحب کے ہاتھ میں کتاب دیکھی۔ شاعری میں وہ غالبؔ سے زیادہ ذوقؔ کو پسند کرتے تھے۔ اکثر فارغ وقت میں وہ ذوقؔ کی غزلیں مجھے سنایا کرتے۔ والد صاحب کو فارسی ادب سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ قدسی مشہدی کی رباعی نماز فجر کے بعد پڑھتے تھے اور ہمیں سنایا کرتے تھے۔ آپ کو بچن کا ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں۔ سرسولی گائوں میں تقریباً کبھی مکانات کچے تھے سوائے ایک مکان کے جو میرے والد کو سرکاری حیثیت کی بنا پر رہنے کو ملا تھا۔ اس مکان کے بارے میں وہاں یہ عام فضا تھی کہ اس کے بالمقابل بہت پرانے پیپل پر ایک آسیب کا ڈیرا ہے اور جو کوئی اس پختہ مکان میں رہتا ہے وہاں موت کا ہونا ناگزیر خیال کیا جاتا تھا۔

چنانچہ میرے والد کو بھی لوگوں نے اس مکان میں رہائش اختیار کرنے پر منع کیا۔ مگر وہ پڑھے لکھے اور روشن خیال آدمی تھے۔ اس لیے انہوں نے اس افواہ پر کوئی توجہ نہ دی اور اسی مکان میں رہائش پذیر رہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسی مکان میں ہماری رہائش کے دو سال کے اندر اندر بغیر کسی ظاہری بیماری کے میرے والدہ ایک روز اچانک انتقال کر گئیں۔ مگر ان کے انتقال کے باوجود میرے والد نے اس مکان سے سکونت ترک نہ کی۔ میں آخر میں بچوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ اس ملک کے لیے زندہ رہو، اور اسی کے لیے مرو… یہ ملک بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے۔ اس ملک کی سا لمیت اور حفاظت ہمارا فرض ہے۔

بابوں کی باتیں : اشفاق احمد

ایک مرتبہ ہم لاری پر جوہر آباد جا رہے تھے‘ بڑی دیر کی بات ہے میرے ساتھ لاری میں ایک اور معزز آدمی پرانی وضع کے ریٹائرڈ تھے‘ گرمی بہت تھی‘ انہوں نے گود میں پگڑی رکھی ہوئی تھی۔ ہوا آ رہی تھی ، ایک خاص علاقہ آیا تو انہوں نے پگڑی اٹھا کے سر پر رکھ لی اور ادب سے بیٹھ گئے۔ میں متجسس آدمی تھا میں نے کہا، جی! یہاں کسی بزرگ کا مزار ہے۔ کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا، جی کوئی درگاہ ہے یہاں۔ کہنے لگے نہیں۔ میں بولا، معاف کیجئے گا میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے پگڑی گود سے اٹھا کر سر پر رکھ لی ہے اور باادب ہو کر بیٹھ گئے ہیں، کوئی وجہ ہو گی۔ کہنے لگے !بات یہ ہے کہ میں اس علاقے کا واقف ہوں، یہاں ڈیزرٹ تھا ، ریت تھی اور کچھ بھی نہیں تھا، حکومت نے سوچا کہ اس میں کوئی فصل اگائی جائے ۔ لوگ آتے نہیں تھے ۔

ایک آدمی آیا ،اس نے آ کر جھونپڑا بنایا اوریہاں پانی کی تلاش میں ٹیوب ویل وغیرہ سنگ کرنے کی کوشش کی۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے یہاں سبزہ اگایا اور اس زمین کو ہریالی بخشی۔ میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں پتا نہیں وہ آدمی کہاں ہوگا، میں نے اس کے احترام میں یہ پگڑی اٹھا کے رکھ لی۔ دیکھیے، یہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری زندگی کے اوپر عجیب طرح سے اثرانداز ہوتی ہیں اور اگر آپ اپنی آنکھیں بالکل کھلی رکھیں اورکان بھی تو آپ کو اردگرد اتنی کہانیاں ملیں گی جن کے اوپر آپ نے اس سے پہلے توجہ نہیں دی ہو گی۔ ہمارے استاد پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم صاحب ہم سیانے تھے، میں ففتھ ایئر میں پڑھتا تھا ،ان کی ایک عادت تھی کہ جب کسی کی شادی ہوتی تھی تو لڑکی کے گھر والوں میں ان کے گھر جا کر بارات کو کھانا کھلانے کا بندوبست ان کے اوپر ہوتا تھا۔

صوفی صاحب نے ہم کو کہا کہ چلو بھئی فلاں گھر میں کھانا دینا ہے، بارات آ گئی ہے۔ مجھے یاد ہے، ہم بھاٹی دروازے بتیاں والی سرکار کے پیچھے ایک گھر تھا‘ وہاں چلے گئے. انہوں نے کہا، لو جی صوفی صاحب آ گئے، فکر کی کوئی بات نہیں، نائی دیگیں لے آئے اب جو بارات تھی اس کے بارے میں خیال تھا کہ 80 کے قریب بندے ہوں گے، وہ 160 کے قریب آ گئے۔ اب صوفی صاحب کی آنکھیں، اگر آپ میں سے کسی کو یاد ہے ماشاء اللہ بہت موٹی تھیں، گھبرا گئے ، ان کے ماتھے پر پسینا ناک پر بھی آ جاتا تھا، کہنے لگے اشفاق ہن کیہہ کریے؟۔ میں نے کہا پتا نہیں، دیگوں میں پانی ڈال دیتے ہیں۔ پہلا موقع تھا ،میں ففتھ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا انہوں نے ایک زوردار تھپڑ میرے منہ مارا۔

 کہنے لگے، بیوقوف آدمی، اس میں پانی ڈال کے مرنا ہے وہ تو فوراً ختم ہو جائے گا، اس میں گھی کا ایک اور پیپا ڈالنا ہے۔ گاڑھا ہو جائے گا تو کھایا نہیں جاتا۔ اب ہم اندر سروے کر رہے تھے اور صوفی صاحب بیچ میں نکال کے ڈالتے جاتے تھے۔ ہم باراتیوں سے کہتے، اور لائیں۔ وہ کہتے تھے گرم لائو جی۔ ہم تو بھاگے پھرتے تھے اب آخر کیفیت یہ آ گئی کہ دیگیں ختم ہو گئیں اور ان کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ وہ کانپ رہے تھے اگر کسی نے اندر سے کہہ دیا کہ اور بھیجیں، ان کے پاس دینے کے لیے صرف ایک رہ گئی تھی لیکن وہ ڈرے ہوئے تھے۔ جب خوفزدہ تھے تو اندر سے آواز آئی بس۔ جب دوسرے بندے نے کہا، بس بس جی صوفی صاحب۔ میں نے کہا، خدا کے واسطے ایسی ٹینشن کا کام آئندہ نہیں کرنا۔

 کہنے لگے نہیں، بالکل نہیں، میری بھی توبہ۔ وہاں سے ہم چل پڑے، پیچھے ہم شاگرد، خود آگے آگے۔ صوفی صاحب کوئی پندرہ بیس گز سے زیادہ گئے ہوں گے ایک مائی باہر نکلی۔ کہنے لگی لو غلام مصطفی میں تو تینوں لبھ دی پھرنی آں۔ تاریخ رکھ دتی ہے13 بھادوں دی ،کاکی دی۔ تو صوفی صاحب جو توبہ کر کے نکلے، کہنے لگے کاغذ ہے؟ ہاں، پنسل ہے ؟ کہنے لگے ہاں۔ لکھ 13سیر گوشت ایک بوری چول ،صوفی صاحب لکھوا رہے ہیں تو میں نے کہا ،جی یہ پھر ہو گا، کہنے لگے نہیں ! یہ تو ان کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا آپ صرف کتاب کی تشریح وغیرہ پڑھایا کریں یہ تو ان کا کام تھا تو یہ جو عمل کی دنیا ہے اس میں داخل ہونا ضروری ہے۔

 کتاب ’’بابوں کی باتیں‘‘ سے مقتبس

بانو قدسیہ کی کچھ یادیں

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، آپ اُن سے کبھی ملے بھی نہیں ہوتے لیکن آپ کو اُن سے محبت ہو جاتی ہے۔ یہ محبت بھی بڑی ظالم شے ہے، انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے، کوئی انسان اپنی فطرت اور عادات میں جتنا چاہے کُھردرا اور سخت ہو، محبت اُسے موم بنا ہی دیتی ہے، وہ زیر ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ نے بھی محبت کی اور اپنی محبت کو پا لیا۔ یہ محبت اُن کی تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہے، محبت کی یہی چاشنی ہے جو اُن کی تحریروں میں رس گھولتی ہے۔ پڑھنے والا پڑھتا ہے اور سر دُھنتا ہے۔ بانو قدسیہ جیسے لوگوں کا ایک مسئلہ بھی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام سے محبت کرتے ہیں، اسلامی شعائر کا مذاق نہیں اُڑاتے اور یہی چیز لوگوں کو چُبھتی ہے۔ آج کا ہر نیا ادیب یہ سوچتا ہے کہ وہ خود کو اُس وقت تک بڑا ادیب ثابت نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے سوالات کو ایک نئے سرے سے دوبارہ نہ اُٹھائے، حالانکہ اِن سوالوں کے جوابات کئی بار معقول انداز سے دیئے جا چکے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں بانو قدسیہ ایک سوال کے جواب میں کہتی ہیں، ’’میں ’راجہ گدھ‘ کے متعلق آپ کو بتا سکتی ہوں۔ آج وہ سترہ اٹھارہ سال سے سی ایس ایس کے امتحان میں لگا ہوا ہے۔ ڈاکٹر اجمل آپ کو یاد ہو گا ؟ نفسیات دان تھے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُسے مقابلہ کے اِس امتحان میں لگایا تھا۔ میں یہاں پر بیٹھی تھی اور میرا کوئی ارداہ نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا ناول لکھوں گی، ’راجہ گدھ‘ کی طرح کا۔ اُن دنوں ہمارے گھر میں ایک امریکی لڑکا ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ امریکی تہذیب، امریکی زندگی، امریکی اندازِ زیست سب کے بارے میں یہ ثابت کرے کہ وہ ہم سے بہتر ہے، مسلمانوں سے بہتر ہے، تو ایک روز وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا، اچھا مجھے دو لفظوں میں، ایک جملے میں بتائیے، آپ صرف چھوٹی سی بات مجھ سے کیجئے کہ اسلام کا ایسنس (جوہر) کیا ہے؟

میں نے اُس سے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ عیسائیت کا ایسنس کیا ہے؟ اس نے کہا: ove – Love thy neighbor as thyself، یہ ایسنس ہے عیسائیت کا۔ میں نے کہا اسلام کا جو ایسنس ہے وہ اخوت ہے، برابری ہے، بھائی چارہ ہے brother hood ہے۔ کہنے لگا چھوڑیئے یہ کسی مذہب نے نہیں بتایا کہ برابری ہونی چاہیئے۔ یہ تو کوئی ایسنس نہیں ہے یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا۔ یقین کیجیئے، یہاں پر پہلے ایک بہت بڑا درخت ہوتا تھا سندری کا درخت۔ سندری کا درخت ہوتا ہے جس سے سارنگی بنتی ہے۔ اُس کے بڑے بڑے پتے تھے اور وہ یہاں لان کے عین وسط میں لگا ہوا تھا، وہ ایک دَم سفید ہوگیا اور اُس پر مجھے یوں لگا جیسے لکھا ہوا آیا ہو، اسلام کا ایسنس حرام و حلال ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اُسے میں نے کیوں کہا کیونکہ اُس پر ایکشن (عمل) سے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جتنے کمانڈمنٹس ہیں یا تو وہ حرام ہیں یا حلال ہیں۔ حلال سے آپ کی فلاح پیدا ہوتی ہے اور حرام سے آپ کے بیچ میں تشنج پیدا ہوتا ہے، آپ میں ڈپریشن پیدا ہوتا ہے۔ میں نے اُس امریکی لڑکے کو بلایا اور اسے کہا، یاد رکھنا اسلام حرام و حلال کی تمیز دیتا ہے اور یہی اس کا ایسنس ہے۔

بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ اُس کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکھی اور میں وہ بتا نہیں سکتی کہ کس طرح اللہ نے اُن کی رہنمائی کی اور اُن کی مدد فرمائی اور انہیں یہ لگتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے نہیں لکھی بلکہ اُن سے کسی نے لکھوائی ہے۔ اُس کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ میری بہت ساری کتابیں ہیں۔ 25 کے قریب کتابیں میری ہو چکی ہیں اور جتنا بھی اُس پر کام ہوا ہے میں آپ کو بتا ہی نہیں سکتی کہ کس طرح ہوا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کو اپنی معاشرت اور ثقافت کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ اُنہیں معلوم تھا کہ یہ ملک اُنہوں نے کیسے حاصل کیا ہے۔

پاکستان بننے سے متعلق کہتی ہیں، ’’جب پاکستان بنا ہے اُسی سال میں نے بی اے کیا۔ آپ یقین کریں جو تجربات ہمیں پاکستان کے قیام کے وقت ہوئے ہیں، وہ آپ لوگوں کو سمجھ میں بھی نہیں آ سکتے۔ آپ لوگ چھوٹے ہیں۔ آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کیا چیز تھی اور کیا بنا ہے۔ جب کالج میں ہم امتحان دے رہے تھے تو یک دم آگ لگ گئی۔ پھر کنیرڈ کالج سے اُٹھا کر لڑکیوں کو بس میں ڈالا گیا اور ایف سی کالج لے کر گئے اور ہم نے وہاں امتحان کا پرچہ دیا۔ راستے میں بھی اندیشہ تھا کہ لڑکیاں اغواء نہ کر لی جائیں۔ ایسے حالات میں ہم نے امتحان کیا۔ پھر پاکستان بنا۔ پھر آپ جانتے نہیں جیسے اشفاق صاحب ہمیشہ کہتے رہتے تھے، کہتے چلے گئے ہیں، پاکستان جو ہے یاد رکھئے، یاد رکھیے، پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عزتِ نفس حاصل ہو۔ پاکستان کا سلوگن (نعرہ) روٹی کپڑا اور مکان نہیں ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان جو ہے وہ تو اوپر والا دیتا ہے۔ آپ یقین کریں روٹی کپڑا اور مکان انسان دے نہیں سکتا کسی کو۔ آپ دعویٰ کرلیجئے، دے کر دکھائیے کسی کو، اگر آپ کو اپنے بچوں کو بھی روٹی کپڑا اور مکان دینا پڑے تو آپ دے نہیں سکیں گے۔ مجبوریاں درپیش ہوجائیں گی، کوئی وجہ ہو جائے گی، نوکری چھوٹ جائے گی، کچھ ہو جائے گا۔ لیکن عزتِ نفس، شیریں کلامی، کسی کے ساتھ اچھا سُخن کرنا، یہی ہم کسی کو دے سکتے ہیں۔‘‘

جنہوں نے کبھی بانو قدسیہ کو نہیں پڑھا، یہ سوال یقیناً اب اُن کے اذہان میں وارد ہوا ہو گا کہ آخر بانو قدسیہ کون تھی؟ بانو قدسیہ کا مختصر تعارف اُن کیلئے پیش کئے دیتے ہیں۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیمِ ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ اُن کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور اُن کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اُس وقت اُن کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اُس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ اُن کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انہیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے اُنہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو اُن کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر جماعت کو اپنا اپنا ڈرامہ پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو 30 منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لئے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ اُن سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اُس چیلنج کو قبول کیا اور بقول اُن کے جتنی بھی اْردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ اُن کی پہلی کاوش تھی۔

اُس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اِس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اْردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر اُن کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950ء میں اُس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔ اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتیکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اُس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تا کہ مقابلہ پورا ہو۔ اِس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا، اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ افزائی بھی کی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک اُن کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انہیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔

بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور، جبکہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انہوں نے بی اے کا امتحان دیا اُس وقت 47ء کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اِس آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ اِس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لئے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے اور بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں اِس لیے مطمئن تھیں کہ یہاں تو مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ حصہ تو پاکستان کے حصے میں ہی آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے، چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیئے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بِچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔

پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انہیں کامیابی ملی تھی۔ 1949ء میں انہوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد اُن کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956ء میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شُغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں لکھاری کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انہوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا، تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔

ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اُس کے لئے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہوجاتی تھی۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف کے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جبکہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر اُنہوں نے 1965ء تک لکھا، پھر ٹی وی نے انہیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لئے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کئے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اِس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترکہ کاوش سے اُن کا گھر تعمیر ہوا۔

لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ اِن دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا، ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اْبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ اِن دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہوگئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اْتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اُس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981ء میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ، اُن کے لئے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔

یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لئے محض اسی لئے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اِس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے۔ راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں 2003ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کئے۔ بانو قدسیہ کو 26 جنوری 2017ء کو طبعیت خرابی کے باعث لاہور کے اتفاق اسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیرِ علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ انتقال کر گئیں۔ بانو قدسیہ کے انتقال کے بعد ملک بھر میں اُن کے ناولوں کے اقتباسات لوگوں نے بڑی تعداد میں پڑھے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا۔ اُن کے ناولوں کے چند مشہور اقتباسات درج ذیل ہیں۔

’’کرنیل کور ہونٹ بغیر ہلے کہہ رہے تھے۔ یا رسول اللہ ﷺ ! تیرے در پر آئے ہوئے لوگوں کے لئے تیرے پیاروں نے دروازے کیوں بند کر رکھے ہیں؟ مجھے اِس بات کا رنج نہیں کہ سوڈھی سرداروں کی لڑکی تیلی سے بیاہی جارہی ہے۔ میں تو پوچھتی ہوں کتنے سو، برسوں میں ایک نو مسلم مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمان کہلانے کے لئے کتنے برسوں کی کھٹالی میں رہنا پڑتا ہے۔‘‘

(کتنے سو سال سے اقتباس)

اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے۔ یا باری تعالیٰ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔ آقائے دو جہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے، جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اْس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اْس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔

ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ؟

جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے، بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ، یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں۔ خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے، جبکہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں‘‘

(’امر بیل ‘ سے لیا گیا اقتباس)

’’محبت نفرت کا سیدھا سادہ شیطانی روپ ہے، محبت سادہ لباس میں ملبوس عمر وعیار ہے، ہمیشہ دو راہوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے، اُس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشاں گِرا ہوتا ہے، محبت کے جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کچھ سزا نہیں ہوتی، ہمیشہ عمر قید ہوتی ہے، محبت کا مزاج ہوا کی طرح ہے، کہیں ٹکتا نہیں، محبت میں بیک وقت توڑنے اور جوڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے، محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، جب تک روز اُس تصویر میں رنگ نہ بھرو، تصویر فیڈ ہونے لگتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا۔ اِس طرح جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو رات رہتی ہے۔‘‘

(راجہ گدھ سے اقتباس)

اعظم طارق کوہستانی

لالۂ صحرائی، ایک ہمہ جہت ادیب اور شاعر

7جولائی 2000ء لالۂ صحرائی کی دنیاوی زندگی کا آخری دن تھا تا ہم ادبی دنیا میں انہیں ان کے کارہائے نمایاں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی ہی سے ادب سے ایسی دوستی استوار کرلی تھی جو تاحیات ان کی رفیق رہی۔ اسی دوستی کا نتیجہ تھا کہ وہ مڈل تک مشاہیر ادب کا مطالعہ کر چکے تھے۔ اقبال، ظفر علی خان اور اصغر گونڈوی کے کلام کے مداح تھے۔ اقبال سے بالخصوص عقیدت تھی۔ اس عقیدت کی متعدد وجوہ ہو سکتی ہیں تا ہم انہوں نے اپنے ایک مطبوعہ مضمون ’’کلام اقبال کی اثر انگیزی‘‘ مشمولہ تکبیر شمارہ نمبر 17 ،20 اپریل 1984ء میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال کے ’’توغنی از ہر دو عالم من فقیر‘‘ والے قطعے پر محمد رمضان عطائی نامی جس شخص نے بطور خاص یہ قطعہ اقبال سے اپنے نام کروایا تھا۔ وہ لالۂ صحرائی کے فارسی کے اُستاد تھے اور انہوں نے اپنے اس مضمون میں یہ واقعہ جزیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ یہ قطعہ پڑھ کے ان کے استاد پر جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ پھر وہ اقبال ؒ سے ملنے گئے اور اس ہدیہ بے بہا کو اپنے نام کرنے کی درخواست کی۔ اقبالؒ سے نیاز مندی کا یہ عالم تھا کہ لالۂ صحرائی نے جو اپنا پہلا مضمون لکھا، وہ ان کی وفات پر تھا جو روزنامہ احسان میں چھپا مگر ان کی یہ پہلی تحریر اب ناپید ہے۔

لالۂ صحرائی کی سندی تعلیم میٹرک تھی تاہم ادبی ذوق و شوق رکھنے کے باعث انہوں نے اسناد سے ماورا ہو کر ادب کی خدمت کی۔ ان کا زمانہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔ ترقی پسند مصنفین کے مطالعے اور تحریکِ ادبِ اسلامی سے فکری وابستگی کی بنا پر انہوں نے اسلامی ادب کو پروان چڑھانے کے لئے کام کیا۔ وہ مولانا مودودی کی تحریروں سے بے حد متاثر تھے۔ بصیرت، استدلال اور صداقت کی جس قوت کی انہیں تلاش تھی وہ انہیں مولانا مودودی کے قریب لے گئی اور ان کی یہی عقیدت تھی جس کی بنا پر انہوں نے نہ صرف جماعتِ اسلامی کے اجتماعات کے احوال قلم بند کئے ہیں بلکہ مولانا مودودی صاحب اور دیگر اکابرین تحریک اسلامی کے خاکے بھی تحریر کئے ہیں۔ جماعتِ اسلامی سے وابستگی اور فوج کی ملازمت سے سبک دوشی کے لمحے کو انہوں نے ’’وہ ایک لمحہ‘‘ کے عنوان سے  رپور تاثر کی صورت میں قلم بند کیا ہے۔ اس طرح وہ صالح ادب کے تصور کے تحت تحریک ادب اسلامی کے ایک فعال رکن بن گئے۔

ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اپنے جن پسندیدہ مصنفین اور شعرا کا ذکر کیا ہے، ان میں میر، غالب، انشا، شیفتہ، اکبر الہٰ آبادی، حالی، شبلی، سید سلیمان ندوی ، اقبال، ظفر علی، علی تاج، آل احمد سرور، مولانا مودودی، یلدرم، حسن عسکری، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، غلام عباس، سعادت حسن منٹو، فرحت اللہ بیگ، عظیم بیگ چغتائی، پطرس بخاری، خضر تمیمی، حسین میر کاشمیری، مشفق خواجہ، مشتاق احمد یوسفی، آغا شاعرقزلباش تاجورنجیب آبادی، حامد علی خان، حامد اللہ افسر، شاد عظیم آبادی، فانی بدایوانی، مجید امجد ، اختر شیرانی، احسان دانش، فراق گورکھ پوری اور ضمیر جعفری و غیرہ شامل ہیں۔

لالۂ صحرائی نے متعدد اصناف پر طبع آزمائی کی ہے، جن میں انشائیہ ، ڈراما، افسانہ، سفر نامہ، رپورتاژ، طنز و مزاح ، تراجم، مضمون نویسی، تبصرے، نعت گوئی اور نظم نگاری شامل ہیں۔ ادبی گروہ بندیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو ان کا ادبی سرمایہ لائق تحسین ہے۔ ان کی بیشترتحریریں زیور طباعت سے آراستہ نہیں ہو سکیں۔ اس عدم اشاعت کی وجہ ان کا درویشانہ اور استغنا پر مبنی رویہ ہے۔ وہ نمود و نمائش سے ماورا ہو کر تاحیات ادب کی خدمت میں مصروف رہے۔ ان کی غیر مطبوعہ تحریروں کو مرتب کیا جائے تو ان کے صحیح ادبی مقام و مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مضمون نویسی میں انہوں نے سیاسی، شخصی، تاثراتی، ملی، تحقیقی اور طنز و مزاح پر مبنی مضامین لکھے ہیں۔

وہ تمام عمر نثر میں اظہار خیال کرتے رہے لیکن عمر کے آخری حصے میں نعت گوئی کی جانب مائل ہوئے اور پھر اس صنف میں آمد کی انتہا تک پہنچ گئے۔ نعت گوئی میں جناب عاصی کرنالی سے اصلاح لیتے رہے تا آنکہ وہ نظم نگاری کی جانب بھی مائل ہو گئے۔ اس ضمن میں انہوں نے ملک و ملت کی اہم شخصیات اور واقعات کو نظم کے سانچے میں ڈھالا۔ انہوں نے قومی و ملکی موضوعات اور جہاد پر نظمیں لکھنے کے ساتھ ساتھ ذاتی تاثرات پر مبنی نظمیں بھی تحریر کی ہیں۔ نظم نگاری میں انہوں نے مروجہ اوزان کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد نظم کو بھی وسیلۂ اظہار بنایا۔ نظم نگاری میں ان کا کارنامہ غزوات رحمتہ للعالمین ﷺ (1997ء) ہے، جس پر انہیں صدارتی ایوارڈ ملا۔ یہ کتاب 200 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کارنامے کے پس پشت کارفرما شخصیات کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔

عاصی کرنالی اپنے دوست کرم حیدری کے ہمراہ مولانا ظفر علی خان کی وفات سے تین ماہ قبل ان سے ملنے مری گئے۔ حیدری صاحب نے ظفر علی خان سے عاصی صاحب کی شاعری کا ذکر کیا اور نمونۂ کلام بھی سنوایا تو انہوں نے عاصی صاحب سے اول تا آخر غزوات منظوم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تا ہم عاصی صاحب اتنا بڑا کام خود کرنے سے قاصر رہے بعد میں انہوں نے یہ خدمت لالۂ صحرائی کو سونپ دی۔ اس سے قبل اردو شاعری کی روایت میں منظوم غزوات، مثنویوں اور جنگ ناموں کی صورت میں اجمالاً بیان ہوئے ہیں اور ان میں بیش تر کا بنیادی موضوع واقعہ کربلا ہے۔ نظیر اکبر آبادی کے کلیات میں ’’جنگ خیبر‘‘ کے نام سے ایک نظم ملتی ہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں میں تحریکِ بیداری کے تحت سرسید کی فرمائش پر حالی نے مسدسِ ’’مدوجزر اسلام‘‘ لکھی۔ تا ہم حالی نے بھی غزوات کا ذکر اجمالاً کیا ہے۔

حالی کے بعد حفیظ جالندھری وہ واحد شاعر ہیں۔ جنہوں نے اسلامی تاریخ کو شاہنامۂ اسلام کی صورت میں منظوم کیا لیکن انہوں نے بھی بڑے غزوات کی حد تک خامہ فرسائی کی اور چھوٹے غزوات کو نظر انداز کر دیا۔ مثال کے طور پر غزوۂ احد اور غزوۂ خندق کے درمیان پیش آنے والے غزوۂ بنو قریظہ کا ذکر نہیں کیا۔ غزوۂ احد کے بعد یہودیوں کی ریشہ دوانیاں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ آنحصورؐ نے انہیں دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا لیکن وہ اپنے قلعوں میں محصور ہو کر مسلمانوں کے خلاف جنگ آزما ہو گئے۔ مسلمانوں نے قلعوں کا محاصرہ کیا اور بالآخر فتح یاب ہوئے۔ حفیظ جالندھری نے یہودیوں کی ریشہ دوانیاں تو بیان کی ہیں اور حواشی میں پورا واقعہ بھی بیان کیا ہے لیکن اس غزوے کو نظم نہیں کیا۔ تاہم لالۂ صحرائی نے دورِ نبویؐ کے کل 23غزوات کو ’’غزواتِ رحمتہ للعالمینؐ ‘‘کے نام سے نظم کیا ہے۔ انہوں نے غزوات کی واقعہ نگاری کے ساتھ ساتھ ان کا پس منظر اور نتائج بھی تفصیل سے نظم کئے ہیں۔ اس سلسلے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ انہوں نے صرف انہی مستند واقعات کو نظم کیا ہے جن پر سیرت و مغازی کی کتب میں اتفاق ہے۔ انہوں نے واقعات کی تحقیقی صداقت کا خیال رکھا ہے لیکن کتاب کے آخر میں حوالوں یاکتابیات کا اہتمام نہیں کیا۔ اگر وہ اس جانب توجہ کرتے تو تحقیقی اعتبار سے ان کی اس کتاب کا مرتبہ بہت بلند ہو جاتا۔

لالۂ صحرائی کے نعتیہ مجموعے ہاران نعت کی پشت پر زیر ترتیب کتب میں ’’ زمین حجاز‘‘ کے عنوان سے ایک سفر نامے کا ذکر بھی ہے تا ہم وہ اسے مکمل صورت میں شائع نہیں کروا سکے۔ اس سفر نامے کا ایک حصہ قومی ڈائجسٹ نومبر 79ئکے شمارے میں ’’سائے ہیبت کے ، پھواررحمت کی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ترجمہ نگاری کے ضمن میں ان کی تحریریں لائق مطالعہ ہیں لیکن وہ بھی بد قسمتی سے تاحال طباعت سے آراستہ نہیں ہو سکیں۔ مشہور جرمن صحافی لیو پولڈ ویلس مسلمان ہو کر محمد اسد کے نام سے جانے گئے، لالۂ صحرائی نے ان کی مشہور کتاب The Road to Makka کے چار ابواب کا ترجمہ کیا جن میں سے دو ترجمے ’’منزل کے قریب‘‘ اور ’’اے خنک شہرے‘‘ دو مختلف رسائل میں شائع ہوئے اور ’’پہلا وہ گھر خدا کا ‘‘ اور ’’بازگشت ‘‘ تاحال غیر مطبوعہ ہیں۔

لالۂ صحرائی نے روس کے اعلیٰ سرکاری وفد کے رکن وکٹر کر اچنکو Victor Kravchenko کی کتاب Choose Freedom کا تین جلدوں میں ترجمہ ’’بیڑیوں کو سلام‘‘ کے عنوان سے کیا۔ کتاب کے مصنف نے اشتراکی نظام سے بے زاری کا اظہار کیا اور بالآخر اس نے امریکہ کی شہریت اختیار کر لی۔ اس کتاب میں اس نے اشتراکی نظام کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ لالۂ صحرائی کی یہ کاوش بھی کلی طور پر طبع نہیں ہو سکی۔ اس ترجمے کے صرف چند ابواب مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔

لالۂ صحرائی نے جو افسانوی تراجم کئے، ان میں فلا ہردی کا ’’پہلی اُڑان‘‘، ٹالسٹائی کے دو افسانوں ’’ بہن‘‘ اور ’’دوگززمین‘‘، الفریڈ ہیلر کا ’’ صابن کی ٹکیہ‘‘ اور موپساں کے افسانے کا ترجمہ ’’انقلابی‘‘ کے عنوان سے کیا۔ ان کے غیر مطبوعہ تراجم میں اے ڈبلیو وہین کے All Quite on the westem Front کا ترجمہ ’’خموش محاذ‘‘کے عنوان سے موجود ہے۔ یہ ناول جرمن زبان سے انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا اور لالۂ صحرائی نے اسے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا۔ اس ناول کا موضوع جنگ ہے۔ اس ترجمے کا مسودہ نہایت ضعیف حالت میں ہے۔ سکے کی پنسل سے ترجمہ کرنے کے بعد قلم سے روشنائی کی مدد سے تصحیح بھی کی گئی ہے۔ ناول کے کل بارہ ابواب ہیں اور ان کے ماقبل مذکورہ تراجم کی روایات کی طرح یہاں بھی عنوانات قائم کرکے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایان سٹیفنز کے سفر نامے Homed Moon کے تیسرے حصے ’’ کشمیر‘‘ میں شامل پندرہویں باب Road to Hunza کا ترجمہ ’’ماہِ نو‘‘ کے عنوان سے کیا۔ ’’سوئے اسلام جو ہم بادلِ دیوانہ چلے‘‘ از ڈاکٹر عبدالکریم جرمانوس اور ’’ اسلام میں تصویر سازی کیوں ممنوع ہے‘‘ از مریم جمیلہ بھی لالۂ صحرائی کے غیر مطبوعہ تراجم میں شامل ہیں۔

لالۂ صحرائی کے فنی سفر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت ادیب تھے۔ انہیں قدرتِ بیان اور طرزِ اجتہاد کی خداداد صلاحیتیں عطا ہوئی تھیں۔ وہ خوش نویس اور طبعاً نفیس مزاج انسان تھے۔ ان کے مسودات ان کی نفاستِ طبع کے آئینہ دار ہیں۔ وہ اپنی جو تحریریں چھپوانے کی غرض سے لکھتے تھے، ان میں کاتب کے لئے ہدایات بھی درج کرتے تھے تاکہ ان کا منتہائے مقصود بہ طریقِ احسن قاری کے روبہ رو آسکے۔ ان کے غیر مطبوعہ مسودات میں سے اکثر ایسے اشارات پر مبنی ہیں۔ حسنِ بیان، حسنِ سیرت اور استغنائے مزاج کا یہ مظہر ادبی تنقید کی ستم ظریفیوں کا شکار رہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ادبی گروہ بندیوں سے بالا تر ہو کر فن کاروں کے علمی و ادبی سرمائے کو پر کھنے کی طرح ڈالیں تاکہ ان کا صحیح مقام و مرتبہ متعین ہوسکے:

قافلہ عمر کا ہے پابہ رکاب

زیست کا کیا ہے اعتبار افسوس

(شاہ نصیر دہلوی)

ڈاکٹر زاہرہ نثار