’ایزی اردو‘ آوازوں کو تحریروں میں بدلنے والی ’جادوئی‘ ایپ

جدید ٹیکنالوجی بنی نوع انسان کے لئے آئے دن نت نئی اور ناقابل یقین سہولیات متعارف کرا رہی ہے۔ یہ اسی جدیدیت کا نتیجہ ہے کہ اب کوئی ان پڑھ شخص بھی پڑھے لکھے افراد کے مقابلے میں آ سکتا ہے۔ ان پڑھ افراد کے لیے یہ سہولت عام اینڈرائیڈ موبائل فون پر ایک ایپ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ ’ایزی اردو‘ نامی اس ایپ کے ذریعے موبائل فون کے صارفین اپنی آوازوں کو بڑی تیزی سے تحریروں میں بدل سکتے ہیں۔ جیسا کہ میں یہ تحریر آپ کیلئے اسی ایپ کے ذریعے بول کر لکھ رہا ہوں۔

پڑھے لکھے افراد کے لئے تو کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ کی پیڈ پر اردو لکھ سکتے ہیں مگر موبائل فونز کے کی بیڈز کے ذریعے ایک ایک لفظ سے الفاظ بنانے اور پھر تحریریں لکھنے میں کافی دیر لگتی ہے لیکن اس ایپ کے ذریعے بہت جلد بڑی سے بڑی تحریر محض بول کر پلک جھپکتے میں لکھی جا سکتی ہے۔
درحقیقت اس ایپ سے اصل اور جادوئی فائدہ ان پڑھ افراد کا ہے جو بول کر اپنے خیالات کو پلک جھپکتے ہی تحریروں میں بدل سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوئی فیس بھی نہیں اور اینڈرائیڈ موبائل فون رکھنے والے صارفین اسے باآسانی ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اپنے موبائل فون پر ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔

ایزی اردو ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد اسے اوپن کریں تو چند سیکنڈوں میں دو مختلف سیٹ اپ پر کلک کر کے موبائل فون پر ایزی اردو کی بورڈ انسٹال کرنا ہو گا۔ اس کے بعد آپ کے موبائل فون کا کی پیڈ تبدیل ہو جائے گا۔ یہی نہیں کی بورڈ کی تبدیلی کے بعد اسے اپنی پسند کے مطابق ڈیزائن یا رنگوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد آپ اپنی مرضی سے کسی بھی ایپ میں جا کر اردو بول کر اسے تحریر میں لا سکتے ہیں۔ اس جادوئی ایپ کے ذریعے محض اردو ہی نہیں دنیا کی کوئی بھی زبان لکھی جا سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ زبان آپ اپنے کی پیڈ میں ڈاؤن لوڈ کر چکے ہوں۔

بالکل صحیح تحریر لکھنے کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ اردو یا کوئی بھی مطلوبہ زبان کے صحیح الفاظ کی ادائیگی کریں۔ مطلب یہ کہ آپ کی زبان کو یہ ایپ سمجھ سکے اور اسے تحریر میں لا سکے۔ یہی نہیں آپ دنیا کی کوئی بھی زبان بول کر اسے کسی بھی زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔ اس ایپ کی مدد سے دوسرا بڑا فائدہ کم پڑھے لکھے افراد کے لیے ہے جو اردو تو لکھ سکتے ہیں مگر انہیں انگریزی نہیں آتی اور انہوں نے اپنے سامنے والے کو انگریزی میں اپنی بات سمجھانا ہے۔

اردو کے لیے یہ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد کی بورڈ پر سیدھے ہاتھ پر دیئے گئے بٹن پر سبز لائٹ بند کرنے آپ اردو میں کی بورڈ پر بولیں گے تو وہ اس کا انگریزی ترجمہ کر کے تحریر کر دے گا۔ آپ ان پڑھ ہیں آپ کو اردو بھی لکھنا نہیں آتی تو محض اردو بول کر اپنا مطلب انگریزی میں تحریر کر سکتے ہیں۔ جو اردو میں بولی گئی کسی خبر کی شکل میں ہو سکتا ہے یا آپ اپنے کسی دوست کو انگریزی میں خط لکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے الفاظ کی کوئی قید نہیں آپ جتنا اردو بو لیں گے ایپ اسے اتنا ہی انگریزی میں ٹرانسلیٹ کرکے لکھتا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایپ میں جاکر زبانوں کی تبدیلی سے اردو بول کر اسے کسی بھی زبان میں تحریر کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ سے بول کر موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کیے گئے کسی بھی ایپ مثلاً وٹس ایپ، میسنجر، ایس ایم ایس، فیس بک، ای میل یا کسی بھی ویب سائٹ پر لکھا جاسکتا ہے۔ پاکستانی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کام کرنے والوں کے لیے یہ ایپ کسی نعمت سے کم نہیں۔

افضل ندیم ڈوگر

Advertisements

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں : آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر

کسمپرسی کے عالم میں جہاں فانی سے کوچ کرنے والے مغل تاجداربہادر شاہ ظفر کے مقبرے پر آج بھی ادب سے حاضری لگائی جاتی ہے۔ آخری مغل تاجدار کے مقبرے کی شان ہی الگ ہے، پہلے بادشاہ کا خوف اور آداب و القابات تھے لیکن اب احترام ، عقیدت اور قرآنی آیات ہیں جو مقبرے پر کثرت سے پڑھی جاتی ہیں، 155 برس بات بھی اس مغل بادشاہ کا مقام ہندوستان کے کسی بھی بادشاہ سے بلند ہے۔ صوفی ازم اور رب سے لگاؤ کے سبب مغل بادشاہوں میں صرف بہادر شاہ ظفر کا مرتبہ صوفی بزرگ کا ہے۔ مقبرے میں داخل ہوں تو ماحول حسرت و یاس کا لگتا ہے ، ایسا درباد جہاں پاکستان، بنگلادیش اور بھارت کے سربراہان مملکت حاضری لگاتے ہیں۔

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

کہہ دوان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں‌ ہے دل داغدار میں

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

دہلی لال قلعہ چھوٹنے کا اثر بہادر شاہ ظفر کے دل اور شاعری میں تھا تو وہیں مدینہ میں رسول اللہ ﷺکے روزہ پر حاضری کی آرزو بھی بادشاہ ظفر کے اشعار میں چھلکتی ہے۔ عشق رسولؐ نے بہادر شاہ ظفر کو خوب ممتاز کیا۔ بہادر شا ہ ظفر کی زوجہ اور ملکہ ہند زینت محل کی ایک تصویر ان کی قبر کے ساتھ آویزاں ہے، کسی بھی ملکہ ہند وستان کی یہ واحد اصل تصویر کہی جاتی ہے، لیکن غور سے دیکھیں تو یہ سراسر کسمپرسی کی تصویر ہے۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا انتقال 7 نومبر 1862 کو ینگون میں ہوا۔

سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں

25 اپریل بروز منگل شام 7 بجے بے وقت سویا نیند سے بیدار ہوا تو عادت کے مطابق ہاتھ سرہانے پڑے موبائل فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون ہاتھ میں آتے ہی فیس بک سے رابطہ کرنے کی کوشش تو اچانک سامنے ایک خوش شکل شاعرہ کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے تحریر پڑھتے ہی دل کچھ غمگین ہو گیا۔ تحریر حادثے سے متعلق تھی جس میں بیان کیا گیا کہ ایک نوجوان شاعرہ بروز سوموار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 3 روزہ ادبی میلہ کے آخری دن 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے گریں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ کچھ تو بے وقت سونے کی کسلمندی تھی اور کچھ ایسی افسوس ناک خبر کا ملنا کہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوتے مجھے کچھ وقت لگ گیا، لیکن جب پوری طرح آنکھیں کُھلیں اور حواس بحال ہوئے تو تصویر پر کچھ غور کیا۔ غور کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے چہرے سے کچھ شناسائی ہے۔ نام پر غور کیا تو وہ بھی جانا پہچانا لگا۔ کچھ دیر اِسی حالت میں غور و فکر جاری تھا کہ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اُس دور میں چلا گیا جب وہ ہمیں پڑھایا کرتی تھیں۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک اسکول جس میں قابل پُرجوش فرزانہ ناز، بلکہ میڈم فرزانہ ناز چلتی پھرتیں اور بچوں کو بزمِ ادب کیلئے تیاری کرواتی دکھائی دیں۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ وقت تھم سا گیا اور ذہن ماضی کے خیالات میں گھومنے لگا۔ کبھی اِس خبر کو دیکھتا جس پر یقین کرنا مشکل تھا اور کبھی ماضی کی اُس ٹیچر کو یاد کرتا، میں تو میڈم فرزانہ ناز کو جانتا تھا جو میری اسکول ٹیچر تھیں لیکن میرے سامنے جو خبر تھی وہ میڈم فرزانہ ناز کی نہیں بلکہ مشہور نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز کی تھی۔ کبھی دل اُن کی شہرت پر مسرت محسوس کرتا لیکن پھر خبر کا خیال آتے ہی دنیا رکتی سی محسوس ہوتی۔

مزید اُن کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُن کے 2 کمسن بچے بھی ہیں، اور اِس پر ستم یہ کہ 3 مئی کو اُن کے پہلے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ کچھ برس قبل کی اسکول ٹیچر فرزانہ ناز پرجوش، قابل اور محنتی خاتون تھیں جنہیں یہاں پہنچنے تک طویل عرصہ لگ گیا۔ آج جب وہ مشہور شاعرہ تھیں، دو کمسن بچوں کی ماں تھیں تو اِس حادثہ کی نذر ہو گئیں۔ ادب سے محبت اور لگاؤ رکھنے والی ادبی میلے میں ہی کہیں گم ہو گئیں، جو اسٹیج پر وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کو اپنے شعری مجموعہ کی کتاب پیش کر رہی تھیں کہ اسٹیج پر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے اُن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے زمین پر گر گئیں جس کے سبب اُن کا سر پھٹ گیا اور زمین پر خون پھیل گیا۔

جلدی جلدی اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن ظلم تو یہ ہوا کہ اتنے بڑے ادبی میلے میں ایمبولینس تک کا انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر الشفاء انٹرنیشنل پہنچایا گیا مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا اور یوں وہ کومے میں چلی گئیں، مگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور منگل بروز 25 اپریل کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔

میں اِس حادثے کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انسان کس قدر بے بس ہے۔ کیا کچھ وہ اپنے لیے سوچتا ہے، اپنے مقصد کو پانے کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے، وہ اپنے لیے کتنے خواب دیکھتا ہے لیکن وہ سب خواب ایک لمحہ میں چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ساری زندگی وہ تیاری میں لگا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ اگلے لمحے تک سے واقف نہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

فرحان سعید خان

کتاب سے دوری

سومرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ دُنیا میں انسانی محرومی اور مایوسی کا توڑ مطالعہ  ہے، لیکن افسوس ہم ان چیزوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ اور وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم بری طرح مایوسی کا شکار ہیں۔ کتاب سے رشتہ ٹوٹ جانا بڑا المیہ ہے۔ اس سے معاشرہ کھوکھلا ہو گیا ہے اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال نے ہمارے رویوں پر بہت منفی اثر ڈالا ہے۔ آج ہر طرف تلخی، نفرت اور مایوسی ہے۔ حافظ نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ۔۔۔ ’’فرصتے، کتابے و گوشۂ چمنے‘‘۔۔۔ یعنی کتاب ہو، فرصت ہو اور باغ کا کوئی گوشہ، لیکن آج ہم کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ چمن کی اہمیت سے بھی شاید بیگانہ ہو گئے ہیں۔

کہتے ہیں کتاب سے بہتر اور بے ضرر ساتھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ کتاب کے ذریعے ہم اپنے بستر میں بیٹھ کر دُنیا کے عظیم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جن سے ملنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ یہ کوئی معمولی عیاشی نہیں۔ کتاب انسانی شخصیت میں گہرائی اور توازن پیدا کرتی ہے جو زندگی کا حسن ہے۔ اِسی توازن کے فقدان سے ہم آج دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ دُنیا نے علم کی بنیاد پر ہی ترقی کی ہے، اِس لئے ان معاشروں میں کتاب سے انسانی رشتہ بہت گہرا ہے، ہر آدمی، جہاں بھی اُسے وقت ملتا ہے، مطالعہ میں مصروف ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی وہ کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ وہاں پر جگہ جگہ لائبریریاں ہیں، جہاں کوئی بھی شہری حتیٰ کہ غیر ملکی بھی ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے، لیکن ہم نے لائبریری کا کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں گیلپ سروے کے نتائج شائع ہوئے تھے، جن کے مطابق پاکستان کے58 فیصد لوگوں نے زندگی میں کبھی لائبریری سے استفادہ نہیں کیا۔ یہ افسوسناک بات ہے، یہ ہمارے معاشرے پر بڑا منفی تبصرہ ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں لوکل باڈیز کے نظام کے تحت ہر یونین کونسل کے ہیڈ کوارٹر میں ایک لائبریری قائم کی گئی تھی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے لوکل باڈیز کے نظام کی بساط لپیٹ دی اور کتنی حیران کن بات ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ آمروں نے بنیادی جمہوریت کے انتخابات کروائے، لیکن جمہوری حکمرانوں نے لوکل باڈیز کی سطح پر انتخابات کروانے میں ہمیشہ گریز کیا۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں کی نیتوں میں فتور ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان دِنوں لوکل باڈیز کا احیا ہو گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ محلے کی سطح پر لائبریریاں ہوتی تھیں، پھر مُلک بھر میں تمام بڑے شہروں میں نیشنل سینٹر تھے، جہاں عوام کے لئے بہترین لائبریریاں تھیں اور علمی و ادبی موضوعات پر تقریبات ہوتی تھیں۔ مَیں نے لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان نیشنل سینٹر میں یادگار تقریبات میں شرکت کی، پھر یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

باقی پاکستان کو چھوڑیں، دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف نیشنل لائبریری رہ گئی ہے، جو ریڈ زون میں ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے ، پھر نیشنل لائبریری کتابیں ایشو بھی نہیں کرتی۔ اس طرح اس کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ایف 11 مرکز میں بھی ایک سرکاری لائبریری ہے، لیکن اس کی حالت کا اندازہ اِس سے لگائیں کہ اس میں ٹیلی فون اور بجلی نہیں۔ نیشنل لائبریری نے ہائر ایجوکیشن کے پاس ایک لائبریری قائم کی ہے، لیکن شاید ہی عام آدمی کو اس کا علم ہو۔ لال مسجد کے پاس ایک چلڈرن لائبریری تھی، جو ایک قابلِ قدر کوشش تھی، لیکن لال مسجد تنازعہ کی نذر ہو گئی۔

بلیو ایریا میں امریکن سینٹر کی لائبریری تھی، ہمارے کچھ سیاسی لیڈروں نے ایک جلوس نکال کر چار پانچ جانیں بھی لے لیں اور لائبریری بھی بند کرا دی۔ میلوڈی مارکیٹ میں برٹش کونسل کی لائبریری تھی، وہ بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل ہو گئی۔ میری تجویز ہے کہ کم از کم اسلام آباد میں ہر نئے سیکٹر کے کمرشل مرکز میں سی ڈی اے کو ایک کمیونٹی سینٹر بنانا چاہئے، جس میں باقی چیزوں کے علاوہ ایک چھوٹا سا کلب بھی ہو اور ایک لائبریری بھی تا کہ عام آدمی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لئے اسلام آباد کلب اور گن کلب کافی نہیں۔ جی 9- اور جی 7- میں کمیونٹی سینٹر موجود ہیں، لیکن ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ سی ڈی اے یہ سینٹر بنا کر پچھتا رہی ہے، کیونکہ بعد میں بننے والے سیکٹروں میں ایسا کوئی سینٹر نہیں بنایا گیا، مثلاً ایف 10اور ایف11 وغیرہ میں کوئی ایسی سہولت نہیں۔

میونسپل ایڈمنسٹریشن کو ان چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتابیں خرید کر پڑھنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں، کتابوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو رہا ہے، تو کتاب کی قیمت بھی بڑھنے کا پورا جواز موجود ہے، پھر کتاب کی چھپائی کا معیار بھی تو بلند ہوا ہے۔اگرچہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کتاب خرید سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتاب اُس کی ترجیح ہی نہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہمارے ہاں مطالعہ کا کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ صرف ایک محدود طبقہ کتاب کے عشق میں مبتلا ہے، اس صورتِ حال میں اچھی لائبریریوں کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، جہاں پارلیمنٹ جیسے اعلیٰ ترین اداروں کی رکنیت کے لئے تعلیم کی ضرورت تسلیم نہ کی جاتی ہو اور جہاں جیلوں کے دوستوں کو قومی اداروں کا سربراہ بنانے کا رواج عام ہو، وہاں کسی مثبت علمی کام کی توقع رکھنا شاید زیادتی ہو۔

خوش قسمتی سے موجودہ حکومت میں کچھ علم دوست لوگوں کی شمولیت سے صورتِ حال میں کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے ایک اہلِ قلم کانفرنس کا افتتاح کیا اور علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 50 کروڑ روپے کا فنڈ بھی دیا ہے۔ اہلِ قلم کانفرنسوں کا انعقاد بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن ایسی کانفرنسوں کا فائدہ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے، اس لئے کچھ دور رس اثرات کے حامل اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ میری حکومت اور اس میں علم دوست شخصیات سے گزارش ہے کہ اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں ایک گرینڈ پبلک لائبریری قائم کی جائے، جہاں سے ہر کوئی کتابیں لینے کا اہل ہو اور جو رات 12 بجے تک کھلی رہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلیٰ قسم کا ریسٹورنٹ بھی ہو۔ یورپ میں تو کتابوں کی دکانوں میں چائے کافی کا انتظام عام ہے، ہمارے ہاں یہ چیز ابھی رواج نہیں پا سکی۔ گلبرگ لاہور میں کتابوں کی ایک دکان Readings نے اس کی نقل کی ہے اور دکان کے اندر ایک کیفے ٹیریا بھی بنایا ہے۔ جاپان میں ایسی لائبریری بھی موجود ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ ایف 9 والی مجوزہ لائبریری کا افتتاح وزیراعظم صاحب خود کریں۔ اب تک ہمارے ہاں وزیراعظم اور صدر کانفرنسوں کے علاوہ صرف سڑکوں اور پُلوں کا افتتاح کرتے آ رہے ہیں، وہ بھی غلط نہیں، لیکن اب کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔

کتاب اور علم سے دوری ایک قومی المیہ ہے، یہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے لئے ایک سوال ہے۔ ہمارے ہاں اب کافی نجی ادارے خیر و فلاح کے بڑے کامیاب منصوبے چلا رہے ہیں، میرے خیال میں لائبریریوں کے ذریعے علم کے فروغ میں بھی مخیر لوگوں کو حصہ لینا چاہئے، کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے نام پر ہسپتال بنا رکھے ہیں، جہاں بجا طور پر بیمار اور بے سہارا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے جو یقینی طور پر ایک نیک کام ہے، لیکن معاشرے کے نظریاتی زخموں پر مرہم کوئی نہیں رکھے گا؟ کیا کوئی ادبی میموریل لائبریری نہیں بن سکتی، کیا علم کا فروغ کار خیر کے ضمن میں نہیں آتا؟

علم صرف کلاسوں سکولوں اور کالجوں میں نہیں ہوتا، ایسا ہوتا تو معاشرہ اتنا زوال پذیر نہ ہوتا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہماری علمی بنیاد کمزور ہے۔ ہم نے علم صرف امتحان پاس کرنے کو سمجھ لیا ہے۔ اب تو امتحان پاس کرنے کا معاملہ بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں دو فیصد کی کامیابی اربابِ اختیار اور پورے معاشرے کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ میرے خیال میں معاشرے کی جسمانی صحت کی جتنی ضرورت اور اہمیت ہے، اس سے زیادہ ذہنی صحت اور شعور کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں حکومت اور معاشرے کی سطح پر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ داؤد، میاں محمد منشا اور سید بابر علی جیسے لوگوں کو علم کے فروغ کے سلسلے میں اِس پہلو پر بھی توجہ کرنی چاہئے، بلاشبہ انہوں نے لمز جیسے ادارے بنا کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ کچھ اس طرف بھی توجہ کریں۔

اے خالق سرگانہ

حکیم مومن خان مومنؔ : تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حکیم مومن خان مومنؔ 1800 ء میں دِلّی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حکیم غلام نبی تھا۔ خاندانی حکیم تھے۔ مومنؔ سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیب ہو گئے تھے۔ اچھا حافظہ پایا تھا۔ شطرنج کے عمدہ کھلاڑی تھے۔عربی و فارسی کے بڑے عالم تھے۔ طبیعت شروع ہی سے شاعری کی طرف مائل تھی۔ شاعری کے علاوہ علمِ نجوم میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔اُن کی پیش گوئیاں حیران کن حد تک درست ثابت ہوتی تھیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی عزت و توقیر ہر جگہ کی جاتی تھی۔ مومنؔ وضع دار ،وجیہہ ،انتہائی پرکشش اور خوبصورت آدمی تھے۔عالمِ شباب میں اُن کی عشق و عاشقی کے چرچے عام رہے۔

مومن خان مومنؔ کو تاریخ گوئی میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کے شاگردوں میں نواب مصطفی خان شیفتہؔ بہت مشہور ہوئے جن کے دیوان کا نام ’’ تذکرہ گلشنِ بے خار‘‘ ہے۔ 1852 ء میں کوٹھے سے گر کر وفات پائی جس کے متعلق خود تاریخ لکھی۔ مومن خان مومنؔ کو اِس شعر پر شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مرزا غالبؔ کو مومنؔ کا یہ شعر اِس قدر پسند آیا کہ غالبؔ اپنا سارا دیوان اِس شعر کے عوض دینے کو تیار ہو گئے۔ اِس بات کا شہرہ مومنؔ کا مقامِ شاعری متعین کرنے میں بہت ممدو ثابت ہوا۔ عشق کی سچی واردات، نفاست اور سچائی جذبات مومنؔ کی شاعری کے خاص اوصاف تھے۔ شعری اثاثہ میں ایک دیوان اور چھ مثنویاں چھوڑیں۔

مومنؔ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجربات و واردات قلبی کو ایسی تہذیب و شائستگی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اُردو شاعری میں وہ اپنی مثال آپ بن گئے۔ اِس منفرد تغّزل نے مومن خان مومنؔ اور اُن کی شاعری کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ کلامِ مومنؔ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں خلوص اور سچائی بڑی صفائی سے جھلکتی ہے۔عشق و محبت کی وادی پُرخار میں جو اُن کے قلب و جگر پر بیتی اُسے شعر کے لطیف سانچے میں ڈھال دیا۔ خلوص اور سچائی کا انہیں یہ صلا ملا کہ بہ نسبت دیگر شعرا کے اُن کے کلام میں دلکشی، جاذبیت اور اپیل زیادہ پائی جاتی ہے۔ معاملات عشق میں مومنؔ کا بیان رسمی تکلفات سے قطعی ناآشنا معلوم ہوتا ہے۔

مومنؔ کی غزل میں مضامین کے لحاظ سے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں وہی فرسودہ اور پائمال مضامین دہرائے گئے ہیں۔ مگر مومنؔ نے اِن کو کمال مصوری اور ذہنی اُپچ سے کام لے کر تخیل کا ایسا رنگ دیا کہ وہ چونکا دینے کی حد تک بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ خیال کی کارفرمائی اور طرزِ اظہار نے اُردو غزل کے پرانے مضامین کو نیا لباس اور آہنگ دے کر تصور آفرین اور شائستہ فکر بنا دیا۔ مومنؔ کے تغزل کی دلکشی کا سارا راز اُن کے طرزِ بیان میں ہے۔ یہ طرزِ بیان دیگر غزل گو شعرا سے بالکل الگ، مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنؔ نے اپنے اِس مخصوص اُسلوب کی بدولت نہ صرف ذوقؔ اور غالبؔ کی دِلّی میں نام پیدا کیا بلکہ اُردو کے معروف متغزلین کی صف میں بھی ایک باوقار اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ مومنؔ نے اپنے اُسلوب میں ابہام، رمزو کنایہ، طنز و تضاد اور تراکیب سے بڑی صفائی اور ہنر مندی سے کام لیا ہے۔

سیّد ارشاد حسین

انسان تنہا کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟

گئے وقتوں کی بات ہے شہر لاہور میں ادبی و ثقافتی روایات کا شہرہ پوری دنیا میں تھا۔ لاہور کے چائے خانوں میں ادیبوں، دانشوروں، وکلاء اساتذہ کے گروپس بیٹھ کر آپس میں ملکی و بین الاقوامی حالات پر مباحثے کیا کرتے تھے۔ لاہور میں چائے خانوں کی بہتات تھی۔ ٹی ہائوس، کافی ہائوس، نگینہ بیکری، پرانی انارکلی کے لاتعداد ٹی سٹال ایسے تھے جہاں لوگ گروپوں کی شکل میں بیٹھ کر مختلف مسائل پر باتیں کیا کرتے تھے۔ یہی نہیں محلوں کے ڈیرے اور تھڑے بھی آباد ہوتے تھے۔ تھڑا کلچر لاہور شہر کا خاصہ تھا، بازاروں میں گھروں کے دروازے کے ساتھ ہی تھڑے بنے ہوئے ہوتے تھے جہاں شام کو لوگ جب دفتروں سے واپس آتے تھے وہاں بیٹھ کر خوش گپیاں کی جاتی تھیں۔ ایسے ہی چند خوشحال افراد نے اپنے گھروں کے باہر ڈیرے بھی بنائے ہوتے تھے جہاں احوال سیاست کے ساتھ ساتھ محلے دار ایک دوسرے کی خبر گیری بھی کرتے تھے.

بلکہ لاہور شہر کے بارے میں مشہور ہے یہاں کی سیاست اسی تھڑا کلچر سے شروع ہوتی تھی۔ لاہور کی سیاست شام 6 بجے کے بعد تھڑوں سے شروع ہوتی اور سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سائنس نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی۔ صرف سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا دور تھا۔ موبائل فون کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔ ایک لیٹربکس تھا جو ہر کسی کے گھر پر نہیں لگا ہوتا تھا۔ خط و کتابت کا عروج تھا کسی عزیز کو خط لکھنا اور پھر اس خط کے جواب کا انتظار کرنا درمیان میں جو دن آتے تھے انتظار کا رومانس جو انسانی دل دماغ پر ہوتا تھا اس کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ لوگوں کے آپس میں رابطے تھے۔ شام کو بڑے کمرے میں سارا گھر اکٹھا ہو جاتا، واحد سرکاری TV پر رات آٹھ بجے سارا خاندان مل کر ڈرامہ دیکھتا تھا۔ وقفے کے دوران اس ڈرامے پر آپس میں بات ہوتی تھی۔

پھر جب فلم دیکھنے کا پروگرام بن جاتا تو سارا خاندان اور دوست مل کر سینما گھر فلم دیکھنے جاتے ایک قسم کی مشترکہ خاندانی تفریح کا ساماں ہوتا تھا۔ لاہور کے میلے کسی نے نہیں دیکھے آج کی نسل تو شاید ان میلوں ٹھیلوں کی رونق سے نا واقف ہے مگر پرانے لوگ جانتے ہیں شہر میں میلوں کے دوران کیسا سماں ہوتا تھا۔ ایک عجب قسم کی ثقافتی زندگی کا دور تھا اس شہر لاہور میں۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، سائنس کی نت نئی ایجادات آئی، وی سی آر اور سینما کا دور ختم ہو گیا۔ پہلے ڈش انٹینا اور کیبل سسٹم متعارف ہوا۔ موبائل فون انٹرنیٹ کی جدید ترین 3G ،4G ٹیکنالوجی آئی۔ جدیدیت نے سارا منظرنامہ ہی بدل دیا۔ ٹیلی ویژن کا تصور ہی بدل گیا۔ لوگ موبائل فون پر ڈرامے اور فلمیں دیکھنے لگ گئے ہر بندے کے پاس اپنا موبائل سوشل میڈیا کی آمد نے ایک نیا منظرنامہ بنا دیا ہے۔ وہ بحث مباحثے جو چائے خانوں ،چوپالوں اور تھڑوں پر ہوا کرتے تھے اب سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹویٹر پر ہوتے ہیں۔

ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے واٹس اپ اور SMS کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی باشعور انسان جدیدیت کے خلاف نہیں ہوتا مگر ایک بات جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے جو سائنس نے انسانی زندگی کی تنہائی میں کہیں اضافہ تو نہیں کر دیا۔ اب ایک گھر میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں رابطہ کرنے کے لیے موبائل فون کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ کیا انسان تنہائی کی طرف نہیں جا رہا ۔ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے معاشرے نے جدید سائنس کی ترقی کو منفی انداز سے کیوں لیا ہے۔ یہ سب ایجادات مغرب سے آئی ہیں کیا وہاں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ ایک بحث طلب سوال ہے مگر ہمیں یہاں مغرب کو چھوڑ کر اپنے سماج اپنے خطے کے معروضی حالات کی طرف دیکھنا ہو گا۔ ان سطور کو لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جدید سائنس کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ بالکل نہیں ہمیں جدیدیت کو مثبت انداز سے لینا چاہیے۔ اپنی روایات کو ختم کرنا نہیں چاہیے انسانی تنہائی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔

انسانوں سے انسانوں کی جو جڑت ہے اس کو بالکل ختم نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعے کی عادت ڈالیں۔ مطالعہ بحث مباحثے کو جنم دیتا ہے۔ اپنے کتب خانے آباد رکھیں، چائے خانوں اور تھڑوں کی محفلیں آباد رہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے رابطہ رکھیں۔ سماج میں مکالمے کا سفر کبھی نہیں روکنا چاہیے ، مکالمہ جمود کو توڑتا ہے۔ ایک دوسرے کو فتح نہیں کرنا صرف اپنی دلیل سے قائل کرنا ہے۔ اس کے لیے جدید سائنس سے بھی استفادہ اٹھانا ہے اور انسانی جڑت کے جو روایتی طریقے ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ہمیں انسانوں کو تنہا نہیں کرنا ایک سماجی مکالمے کی طرف جانا ہے۔

حسنین جمیل

نامور افسانہ نگار، شاعرہ، ناول نگار امرتا پریتم

شہرہ آفاق نظم ” اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول” کی خالق شاعرہ
امرتا پریتم اگست 1919ء میں گورونانک پورہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام امرت کور تھا۔ والد کا نام گیانی کرتار سنگھ تہکاری تھا جو رسالہ ریخت نگار لاہور کے ایڈیٹر تھے۔ امرتاپریتم نے بڑے علمی و ادبی ماحول میں تربیت پائی اور اپنے والد سے گورمکھی”پنجابی” سیکھی اور شاعری کا فن سیکھا ۔چودہ برس کی عمر میں ہی گیانی کا امتحان پاس کر لیا۔ لاہور میں رہتے ہوئے انگریزی بھی پڑھ لی اور چھوٹی عمر ہی سے شاعری میں اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ ابھی امرتا پریتم کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی کہ ماں کی مامتا سے محروم ہو گئیں۔ ماں کی موت کے المناک واقعہ نے ان کے خوابیدہ جذبوں کو بیدار کر دیا اور وہ اپنے المناک جذبات کے طوفان کو شاعری کے ذریعہ زمانے تک پہنچانے لگیں۔

جب ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ” امرت لہراں” شائع ہوا تو اس وقت ان کی عمر سولہ برس کی تھی۔ اس مجموعہ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد جو شعری مجموعے منظر اشاعت پر آئے ان میں جیوندا جیون، لوک پیڑ، پتھر گیٹے، لمیاں واٹاں ، میں تاریخ ہند دی، تریل دھوتے پھل، اوگیتاں والیا، منجھ دی لالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اب تک ان کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں نظموں، گیتوں کہانیوں کے مجموعے اور کئی ناول شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد انگریزی کتابوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں میں تیسری عورت، 49 دن، پکی حویلی ، شوق صراحی ، اک ہتھ مہندی اک ہتھ شالا،اَک دا بوٹا، چک 36 میں رسیدی ٹکٹ، میں جمع میں، میں جمع تو، میں جمع دنیا، سرگھی ویلا، ناگ منی اور متعدد دوسری تصانیف شامل ہیں۔ دہلی سے گرمکھی رسم الخط میں شائع ہونے والے ایک رسالہ ناگ منی کی ادارت بھی کرتی رہیں۔ قیام پاکستان کے موقع پر ہونے والی قتل و غارت گری بابت لکھی گئی ان کی درج ذیل نظم کلاسیکی ادب کا حصہ بن چکی ہے.

ڈاکٹر جاوید اکرم