جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چند ایام

فیڈرل بی ایریا کے مکان میں جہاں بابا (جوش ملیح آبادی) کے مداحوں اور احباب کا آنا جانا رہتا تھا وہاں ہمارے عزیز و اقارب اور رشتے داروں کا بھی آنا جانا رہتا تھا۔ راولپنڈی سے ہماری خالہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی ان کے اہل و عیال اور خاوند آیا کرتے تھے۔ لاہور سے ہماری دوسری خالہ جو کہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی کی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ قدسیہ جہاں (بیہ خالہ) ان کے اہل و عیال اور خاوند بھی اکثر آیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بہنیں بابا کی حقیقی بھانجیاں تھیں۔ کراچی میں بھی ہمارے رشتے دار اکثر آیا کرتے تھے جن میں اشفاق بھائی رفیق بھائی اور ان کے اہل و عیال تشریف لایا کرتے تھے۔

ایک ہماری نانی کی کزن ’’سنو خالہ‘‘ بہت آیا کرتی تھیں۔ ان کی آواز کی گھن گرج کی وجہ سے بابا نے ان کو ریڈیو کا خطاب دیا تھا۔ ان کے شوہر ضمیر قد کے لحاظ سے قدرے لمبے تھے ہمارے والد محترم التفات احمد خان شہاب ملیح آبادی نے ان کا نام ’’گنا‘‘ رکھ دیا تھا اور وہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر ’’گنا خالو‘‘ کا نام رہتا تھا۔ ہماری نانی کے حقیقی بھانجے افتخار علی خان (منے ماموں) جو کہ نواب مصطفی علی خان کے صاحبزادے تھے اکثر اپنے بیوی بچوں سمیت آیا کرتے تھے۔ انتہائی دلچسپ انسان تھے وہ قصہ گوئی کے ماہر تھے اور ہم سب بہن بھائی ان کی قصہ گوئی سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے بعض اوقات ہم لوگ ان کی غیر یقینی بات کو بھی جانتے بوجھتے یقین کر کے ہنستے رہتے تھے۔ بابا سے ملنے والوں کا ایک بڑا حصہ اہل علم اور اہل قلم سے وابستہ حضرات کا تھا جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

ایک مرتبہ اداکار سید کمال مرحوم اپنے اہل و عیال اور اپنے بھائی میجر جلال مرحوم کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ میجر جلال نے بابا سے اصرار کیا تھا کہ آپ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں لیکن بابا نے اپنی مشغولیات کی بناء پر معذرت کر لی تھی ۔ ممتاز دانشور ضیاء محی الدین بھی محترم افتخار عارف کے ساتھ بابا کو اپنے پروگرام ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ میں مدعو کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہا کہ ہم آپ کا اپنے پروگرام میں دس ایک منٹ انٹرویو کریں گے ، بابا سے رہا نہ گیا اور فوراً ٹوک دیا کہ یہ دس ایک منٹ کیا ہوتے ہیں۔ یا تو دس منٹ ہوں گے یا صرف ایک منٹ۔ محترم ضیاء محی الدین بہت زور سے ہنسے اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ روحانی پیشوا حضرت بابا ذہین شاہ تاجی بابا سے ملنے اسی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔ بابا ذہین جی تاجی سفید لمبا دراز کرتا اور گلے میں سفید چادر زیب تن کر کے آیا کرتے تھے۔

فرخ جمال ملیح آبادی

(کتاب : جوش ملیح آبادی سے انتخاب)

Advertisements

یہ ادبی میلے ٹھیلے

مجھے لگتا ہے کے ایل ایف کا آئیڈیا جے پور لٹریری فیسٹیول سے لیا گیا ہو گا۔ مگر پاکستانی زمین اس آئیڈیئے کے لیے اتنی زرخیز ثابت ہوئی کہ معاملہ کئی ہاتھ آگے چلا گیا۔ دو ہزار تیرہ میں لاہور میں رضی احمد نے لاہور لٹریری فیسٹول ( ایل ایل ایف ) منعقد کیا۔ سرکار نے بھی کچھ فراخ دلی کی اور یہ شہر کے کیلنڈر کا سالانہ ایونٹ بن گیا یعنی ہر فروری کے آخری ہفتے میں ایل ایل ایف ہوگا۔ مگر اس برس چوبیس تا چھبیس فروری جو پانچواں ایل ایل ایف ہونے والا تھا اس کے ساتھ صرف ایک دن پہلے کے خودکش حملے نے ہاتھ کر دیا۔ ہاتھ تو دراصل حکومتِ پنجاب کے فول پروف حفاظتی دعووں کے ساتھ ہوا مگر انتظامیہ کی بد حواسی کا نزلہ ایل ایل ایف پر گر گیا۔ پہلے جگہ بدلوائی گئی۔ پھر تین دن کم کرا کے ایک دن کرایا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ تین دن میں اگر پچھلے ایل ایل ایف کی طرح ایک لاکھ لوگ امڈ آئے تو خود کش بمباروں کی تو چاندی ہو جائے گی۔

ایل ایل ایف کو بند جگہ میں اپنے سیکیورٹی انتظامات خود کرنے کی شرط پر صبح سے شام تک منعقد ہونے کی اجازت دینے کے بعد حکومتِ پنجاب نے یکسوئی سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنا شروع کیا۔ اور ایک روزہ ایل ایل ایف کے صرف گیارہ دن بعد ( پانچ مارچ ) قذافی اسٹیڈیم میں ہر دو تماشائیوں کی حفاظت پر اوسطاً ڈیڑھ سپاہی تعینات کر کے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ حکومت ِ پنجاب کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ یہ وہی ایل ایل ایف ہے جو پچھلے برس نیویارک اور لندن میں بھی منعقد کیا گیا تا کہ دہشت گردی کی گرد سے آلودہ پاکستان کا شفاف علمی و ادبی چہرہ بھی سامنے آ سکے۔ اور یہ وہی ایل ایل ایف ہے جس کے بارے میں خادمِ اعلیٰ شہباز شریف گذشتہ برس کہہ چکے ہیں کہ ایسے میلے پاکستان کی اچھائیوں کا آئینہ ہیں۔

بات پتہ نہیں کیا ہو رہی تھی اور میں کہاں سے کہاں بہک گیا۔ عرض یہ کرنا تھا کہ پچھلے سات برس میں کراچی لٹریری فیسٹیول سے جو نئی علمی و ادبی روایت شروع ہوئی اس نے جانے کہاں کہاں تک جڑیں بنا لی ہیں۔ پچھلے تین برس سے کچھ مقامی جنونی فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کرا رہے ہیں۔ اس میں زیادہ زور اردو اور علاقائی لکھاریوں اور ادب کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ بلوچستان سے میڈیا اچھی خبریں بہت کم اٹھاتا ہے مگر گوادر کے نوجوانوں نے مسلسل تین برس سے گوادر بک فیسٹیول کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نام نہاد قومی میڈیا کو اپنی بے ساختہ کوریج پر مجبور کر دیا۔ میں نے اب تک کتاب کی جتنی بھوک اور للک گوادر بک فیسٹیول میں دیکھی شائد ہی کسی اور لٹریری میلے میں نظر آئی ہو۔حالانکہ گوادریوں کی جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے جتنے بڑے شہروں کے کتابی کیڑوں کے کھیسے میں پائے جاتے ہیں۔

سندھ میں کے ایل ایف کی دیکھا دیکھی دیگر علم دوستوں نے بھی لٹریری فیسٹیولز منعقد کرنے شروع کر دیے ہیں۔ پچھلے دو برس سے حیدرآباد میں گلوکار سیف سمیجو ، ثنا خوجہ اور بیسیوں نوجوان رضاکار لاہوتی میوزک اینڈ لٹریچر فیسٹیول کا علم بلند کیے ہوئے ہیں ( میوزک اور لٹریچر ایک ساتھ ! وٹ این آئیڈیا سر جی )۔ کراچی میں گذرے نومبر میں پہلا سندھ لٹریری فیسٹیول بخشن مہرانوی اور علی آکاش نے دوستوں سے مل کر اور عین وقت پر کچھ سپانسرز کے پھسل جانے کے باوجود کروایا اور اس برس بھی کمر بستہ ہیں۔ اور تو اور پچھلے برس ٹنڈو آدم میں سانگھڑ لٹریچر فیسٹیول بھی مقامی لوگوں نے منظم کر ہی لیا ( اگر کہیں اور بھی اس طرح کی سرگرمی ہو رہی ہو تو مطلع فرمائیے )۔

ان تمام علمی سرگرمیوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ منتظمین نے سرکار پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنے سپانسرز خود پیدا کیے ہیں۔ لہذا ان میلوں میں لمبی زندگی پانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اب تو ان فیسٹیولز پر تنقید بھی ہونے لگی ہے جیسے کے ایل ایف ، آئی ایل ایف اور ایل ایل ایف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انھیں اشرافیہ کے علمی زوق کے اعتبار سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اردو اور علاقائی ادب و لکھاریوں کے بجائے مغربی و دیگر بدیسی مصنفوں کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔ زیادہ تر اجلاسوں کی زبان انگریزی ہوتی ہے۔ فوڈ اسٹالز پر کتابوں کے اسٹالز سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایسے ایسے فیشن نظر آتے ہیں گویا کتابوں کا میلہ نہیں ڈربی ریس ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تنقید کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب بڑے میلوں میں اردو اور علاقائی زبانوں کی نمایندگی سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ جوں جوں صارف کا اصرار بڑھتا جائے گا توں توں ان میلوں کی شکل بھی بدلتی چلی جائے گی۔ سارا کھیل ڈیمانڈ اور سپلائی کا ہے۔ مجھے تو یہ میلے طبقاتی دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً کے ایل ایف میں اب ہر سال ایسے نوجوانوں سے پہلے سے زیادہ ملاقات ہو رہی ہے جو اندرونِ سندھ سے بسوں میں بیٹھ کر کراچی صرف اس میلے میں مصنفین کو سننے اور کتابوں سے ملنے آتے ہیں۔

اور جو مطمئن نہیں ہے وہ اپنے ذوق کے اعتبار سے میلہ منعقد کرالے۔ جیسے سندھ لٹریچر فیسٹیول نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر گفتگو کی کمی کو پورا کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ روایت مسلسل پھیلنی چاہیے۔ کسی شعلہ بار اجتماع میں شرکت کر کے اپنا خون ابالنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو تین دن کے ان میلوں میں ہر رنگ و نسل و طبقے کے درمیان ٹھنڈے ٹھنڈے وقت گذار دیا جائے۔ وگرنہ وقت تو ہمیں گذار ہی رہا ہے۔ اتنی سی بات کب سمجھ میں آئے گی کہ اس سماج کو کلاشنکوف سے زیادہ ملاقات ، مکالمے اور کتاب کی ضرورت ہے۔ ایسے چوروں کی ضرورت ہے جو جیکٹ میں چوری چھپے بارود بھر کے لانے کے بجائے کتابیں بھر کے اڑ جائیں۔

وسعت اللہ خان

مشہور لوگوں کے کتب خانے

محمد شاہ تغلیق کا کتب خانہ عہد تغلق کتب خانوں کے اعتبار سے خاصا اہم ہے۔ سلطان محمد تغلق کا کتب خانہ نہایت قیمتی تھا۔ دہلی جو اس زمانے میں علم و ہنر کا مرکز تھا اور اس وقت تقریباً ایک ہزار کتب خانوں سے منور تھا۔ ان میں بہت سے کتب خانے علمی درس گاہوں سے منسلک تھے۔ ان میں ریاضی‘ ہیئت طب اور دوسرے بہت سے علوم پر ہزاروں کتابیں موجود تھیں۔ سلطان عالموں کو دعوت دیتا اور ان کی قدر دانی کرتا تھا۔ دور دراز سے آنے والا اگر کسی نسخے کو سلطان کی خدمت میں پیش کرتا تو وہ اس کا دامن زر و جواہر سے بھر دیتا تھا۔ وہ فنون لطیفہ کا دلدادہ متمدن‘ فاضل اور بلند پایہ شاعر تھا۔ نجوم‘ فلسفہ‘ ریاضی اور طبعیات میں یکساں مہارت رکھتا تھا۔ وہ سکندر نامہ اور تاریخ محمودی جیسی تصانیف کا کامل واقفیت رکھتا تھا۔ فن شعر گوئی میں کوئی سلطان سے بہتر نہ تھا۔

  دہلی سے دارالخلافہ دیوگری منتقل ہوا تو شہر میں بہت سے کتب خانوں کو نقصان پہنچایا۔ ابن بطوطہ 1341ء میں جب دہلی آیا تو وہ دہلی کو اس حالت میں دیکھ کر بڑا حیران ہوا۔ فیروز شاہ تغلق کا کتب خانہ سلطان فیروزشاہ ایک صاحب علم فرماں روا تھا اس نے عوام کی فلاح و بہبود کے متعدد کام کیے۔ جگہ جگہ رفاہ عامہ کے لیے دینی مدرسے قائم کئے فیروز شاہ نے کتب خانوں کی ترقی و توسیع میں بھی خوب دلچسپی لی۔ اس نے اپنے کتب خانہ میں ایک اعلی معیاری دارالترجمہ قائم کیا جہاں رات دن مختلف مشرقی زبانوں سے فارسی اور عربی میں تراجم کا کام ہوتا تھا۔ نگر کوٹ کی فتح کے موقع پر سلطان کو سنسکرت زبان کی جو سینکڑوں کتابیں ملیں اس نے ان میں سے اکثر کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کروایا اور اپنے کتب خانہ میں سنبھال کر رکھا۔

مشہور کتاب دلائل فیروز شاہی انہی میں سے ایک کتاب کا ترجمہ ہے۔ فیروز شاہ کو کتابوں سے دیوانگی کی حد تک لگائو تھا۔ وہ خود صاحب علم و فلم تھا اور اہل علم و ہنر کی بڑی قدر کرتا تھا فتوحات فیروز شاہی اس کی خودنوشت کتاب ہے۔ سلطان نے ملک میں تعلیمی ترقی کے لیے جب بہت سے مدرسے اور کالج کھولے تو ان میں کتب خانوں کا قیام لازمی قرار دیا۔ چنانچہ مدرسہ فیروز شاہی کا کتب خانہ اپنی مثال آپ تھا۔ اسی مدرسہ میں فارسی‘ عربی‘ ہندی‘ ترکی زبان کی نفیس کتابوں کا ذخیرہ محفوظ کیا گیا تھا۔ فیروزشاہ تغلق کے فاضل درباریوں میں ایک تاتار خان تھا وہ مفسر بھی تھا ۔ اس نے بہت سی تفسیروں کو سامنے رکھ کر ایک جامع تفسیر لکھی۔ اسی طرح قانون پر کتابیں جمع کیں اور ایک مستند فتاویٰ تحریر کیا یہ فتاویٰ 30 جلدوں پر مشتمل تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ذاتی لائبریری بھی تھی۔

سکندر لودھی کا کتب خانہ (1489-1517)ء لودھی خاندان میں سکندر لودھی سب سے زیادہ قابل‘ معاملہ فہم اور دین دار بادشاہ کہا جاتا تھا۔ وہ علم اور عالموں کا بڑا قدردان تھا اور خود بھی بہت اچھا شاعر تھا۔ اس نے دوسری زبانوں کی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کرانے کے لیے معقول انتظام کیا ہوا تھا۔ سلطان کیونکہ خود مطالعہ کا بڑا شوقین تھا۔ اس لیے پورے خاندان اور دربار میں علم و ادب کی محفلوں کا چرچا رہتا تھا۔ علم طب پر سنسکرت اور عربی زبانوں کی مشہور کتابیں ترجمہ کروا کے کتب خانہ میں رکھی گئی تھیں۔ اس طرح اس کے دور حکومت میں قصر شاہی کے کتب خانہ میں نادر اور عمدہ کتابوں کا وافر ذخیرہ فراہم کیا گیا تھا۔ اس عہد میں ہندوستانی طریقہ علاج پر کتابیں لکھی گئیں۔ سلطان لودھی کے دربار میں نامور خوش نویس اور قابل لوگ جمع تھے۔ 1510ء میں محمد بن شیخ ضیاء نے ایک فارسی تصنیف فرہنگ سکندری تیار کی۔ سکندر لودھی کی نظر عنایت سے اس کی پوری سلطنت میں بے شمار کتب خانے وجود میں آئے۔

اشرف علی

بڑا قد : بچوں کے مقبول ترین لکھاری اشتیاق احمد کی سب سے پہلی کہانی

آٹھویں کلاس کے سب لڑکے مجھ سے بڑے تھے۔ میرا قد ان سب سے چھوٹا تھا… میں اس بات کو شدت سے محسوس کرتا اور چاہتا تھا کسی طرح میرا قد بڑھ جائے۔ قد بڑھانے کی غرض کے لیے میں لکڑی کی سیڑھی کا ڈنڈا پکڑ کر لٹکا کرتا تھا۔ یہ ورزش میں صبح سویرے ضرور کرتا، ساتھ ہی اپنا قد بھی ناپتا رہتا تا کہ پتا چل سکے کہ قد بڑھ رہا ہے یا نہیں۔ قد ناپنے کے لیے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ہمارے گھر کے ایک کمرے سے ملی ہوئی ایک چھوٹی سی کوٹھڑی تھی۔ اس کی چھت اتنی اونچی تھی کہ میں اس میں کھڑا ہو جاتا تھا تو میرا سر چھت سے نہیں لگتا تھا، میرے سر سے کچھ ہی اوپر وہ چھت تھی۔۔۔ میں درمیان میں اپنے سر پر ہاتھ کھڑا کر کے دیکھتا کہ میرا ہاتھ چھت کی کڑی سے لگا یا نہیں۔

یہ میرا روز کا معمول تھا۔ ایک روز لکڑی کی سیڑھی پر لٹکنے کے بعد کوٹھری میں گیا۔ اب سیدھا کھڑا ہوا تو ہاتھ اٹھا کر ناپنے کی کوشش سے پہلے ہی میرا سر چھت کی کڑی سے جا لگا …میں حیرت زدہ رہ گیا۔ خوشی سے پھول گیا اور لگا چلانے:

’’امی جان! میرا قد بڑھ گیا ۔۔۔ میرا قد بڑھ گیا۔‘‘

میرے چلانے کی آواز سن کر امی جان گھبرا کر میری طرف آئیں اور بولیں:

’’کیا ہوا ۔۔۔ کیوں چیخ رہا ہے۔‘‘

’’امی! میرا قد بڑھ گیا ہے ۔۔۔ یہ دیکھیے ۔۔۔ میں روزانہ اس کوٹھڑی میں کھڑے ہو کر اپنا قد ناپتا تھا ۔۔۔ لیکن سر چھت سے نہیں لگتا تھا ۔۔۔ آج لگ گیا ہے ۔۔۔ اس کا مطلب ہے ۔۔۔ میرا قد بڑھ گیا ہے۔‘‘

میری بات سن کر امی جان مسکرا دیں۔ انہوں نے کہا:

’’بے وقوف! ۔۔۔ اتنی جلدی قد نہیں بڑھا کرتے ۔۔۔ اس چھت کی ایک کڑی چٹخ کر ٹیڑھی ہو گئی ہے۔۔۔ تمھارا سر اس سے جا لگا ہے۔‘‘

’’اوہ!‘‘ میرے منہ سے مارے مایوسی کے نکلا اور اور امی جان ہنسنے لگیں۔

انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا ۔۔۔ قد اتنی جلدی نہیں بڑھا کرتے۔

اشتیاق احمد

(یہ کہانی 1960ء میں رسالہ ’’قندیل‘‘ میں شائع ہوئی)

اختر حسین جعفری کا بچپن

اختر حسین جعفری کا شمار پاکستان کے معروف شعرا ء میں ہوتا ہے۔ ذیل میں ان کی لکھی گئی کتاب سے کچھ پیراگراف شائع کئے جا رہے ہیں:

 میں 15 اگست 1932 کو ہوشیارپور کے ایک قصبہ میں پیدا ہوا۔ یہاں میرے والد بسلسلہ ملازمت تعینات تھے۔ چوتھی جماعت تک تعلیم وہاں کے ایک غیر معروف گائوں موضع لسوی سے حاصل کی۔ اسی دوران والدہ کے انتقال کے بعد میں اپنے دادا (جو ضلع گجرات میں مقیم تھے) کے پاس چلا آیا اور وہاں ایک ہندو سکول میں داخلہ لے لیا۔ اس سکول میں ایک ہندو استاد پنڈت درگا پرشاد تھے جو ہمیں اردو اور فارسی پڑھاتے تھے۔ میرا جو اردو ادب سے رشتہ قائم ہوا وہ انہی کی وجہ سے ہوا۔ پر نہ صرف داخلہ ملا بلکہ وہ تمام مراعات بھی ملیں جو اچھے ہندو طلباء کو سکول کی طرف سے ملتی تھیں۔

اس سکول میں مسلمان طلباء کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔ یہاں مسلمان طلباء کو دینیات بھی پڑھائی جاتی تھی۔ ماسٹر درگا پرشاد اردو اور فارسی کے علاوہ دینیات بھی پڑھاتے تھے۔ ہمیں افسوس ہوتا تھا کہ ہندو طلباء معاشی اور معاشرتی طورپر ہم سے بہتر تھے۔ اچھا لباس پہن کر آتے تھے۔ ہم ہندوئوں کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اور ان سے مراعات حاصل کرنے کے باوجود اس احساس کو اپنے دل سے کسی صورت نہ نکال سکے کہ ہم میں اور ہندو قوم میں فرق ہے جس کو دور کرنے کیلئے کسی نہ کسی واضح سیاسی عمل کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان کے حوالے سے میری ہندو دوستوں کے ساتھ بحث ہوتی تھی۔ اگرچہ ان دنوں پاکستان کے فلسفہ کے پس منظر سے کلی آگاہی نہ تھی۔

ان ہندو دوستوں میں میرے ساتھ سکول کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی بھی تھے جو ہندوستان کی تقسیم کے یکسر خلاف تھے۔ میں اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ اکثر کانگریسی لیڈروں کی تقاریر سننے جایا کرتا تھا۔ اس مفاہمت کی فضا کے باوجود میرے دل سے میرے ہندو دوست ایک علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی ضرورت کے تصور کو نہ نکال سکے۔ بچپن میں فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ میرا سکول کی ٹیم کے اچھے کھلاڑیوں میں شمار ہوتا تھا۔ ہاکی ٹیم میں مجھے بارہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ مجھے سکول کے زمانے میں زبانیں سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ انگریزی، اردو اور فارسی میں بہت دلچسپی تھی اور ان میں ہمیشہ امتیازی حیثیت حاصل کرتا۔

ریاضی اور سائنس سے واجبی سا تعلق تھا۔ سکول کے زمانے میں مجھے اردو اور فارسی ادب سے بہت دلچسپی تھی۔ میرے اساتذہ مجھے ہونہار طالب علموں میں شمار کرتے تھے۔ میں سکول کے زمانے میں شعر لکھتا تو نہیں تھا البتہ وزن میں پڑھتا تھا۔ شاعری ایف اے کے بعد کی۔ میں سکول میں تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیا کرتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں بچپن میں بھی شرارتیں نہیں کیا کرتا تھا۔ مگر شرارتی بچوں کا دوست ضرور تھا۔ شرارتی بچے مجھے اچھے لگتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہم سکول جا رہے تھے تو میرے ساتھی نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ میں چٹکی لی ۔ وہ ایک ہندو دکاندار تھا۔ اس نے ہم دونوں کو اپنی دکان پر بیٹھا لیا اس نے ہمیں جسمانی اذیت دی۔ جسمانی اذیت کے باوجود اس شرارت کی خوشی بڑھاپے میں بھی محسوس کرتا ہوں۔

میرے والد ادیب یا شاعر تو نہیں تھے مگر ادب کے ساتھ مطالعاتی حد تک ان کا مضبوط تعلق تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو والد صاحب کے ہاتھ میں کتاب دیکھی۔ شاعری میں وہ غالبؔ سے زیادہ ذوقؔ کو پسند کرتے تھے۔ اکثر فارغ وقت میں وہ ذوقؔ کی غزلیں مجھے سنایا کرتے۔ والد صاحب کو فارسی ادب سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ قدسی مشہدی کی رباعی نماز فجر کے بعد پڑھتے تھے اور ہمیں سنایا کرتے تھے۔ آپ کو بچن کا ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں۔ سرسولی گائوں میں تقریباً کبھی مکانات کچے تھے سوائے ایک مکان کے جو میرے والد کو سرکاری حیثیت کی بنا پر رہنے کو ملا تھا۔ اس مکان کے بارے میں وہاں یہ عام فضا تھی کہ اس کے بالمقابل بہت پرانے پیپل پر ایک آسیب کا ڈیرا ہے اور جو کوئی اس پختہ مکان میں رہتا ہے وہاں موت کا ہونا ناگزیر خیال کیا جاتا تھا۔

چنانچہ میرے والد کو بھی لوگوں نے اس مکان میں رہائش اختیار کرنے پر منع کیا۔ مگر وہ پڑھے لکھے اور روشن خیال آدمی تھے۔ اس لیے انہوں نے اس افواہ پر کوئی توجہ نہ دی اور اسی مکان میں رہائش پذیر رہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسی مکان میں ہماری رہائش کے دو سال کے اندر اندر بغیر کسی ظاہری بیماری کے میرے والدہ ایک روز اچانک انتقال کر گئیں۔ مگر ان کے انتقال کے باوجود میرے والد نے اس مکان سے سکونت ترک نہ کی۔ میں آخر میں بچوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ اس ملک کے لیے زندہ رہو، اور اسی کے لیے مرو… یہ ملک بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے۔ اس ملک کی سا لمیت اور حفاظت ہمارا فرض ہے۔

بابوں کی باتیں : اشفاق احمد

ایک مرتبہ ہم لاری پر جوہر آباد جا رہے تھے‘ بڑی دیر کی بات ہے میرے ساتھ لاری میں ایک اور معزز آدمی پرانی وضع کے ریٹائرڈ تھے‘ گرمی بہت تھی‘ انہوں نے گود میں پگڑی رکھی ہوئی تھی۔ ہوا آ رہی تھی ، ایک خاص علاقہ آیا تو انہوں نے پگڑی اٹھا کے سر پر رکھ لی اور ادب سے بیٹھ گئے۔ میں متجسس آدمی تھا میں نے کہا، جی! یہاں کسی بزرگ کا مزار ہے۔ کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا، جی کوئی درگاہ ہے یہاں۔ کہنے لگے نہیں۔ میں بولا، معاف کیجئے گا میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے پگڑی گود سے اٹھا کر سر پر رکھ لی ہے اور باادب ہو کر بیٹھ گئے ہیں، کوئی وجہ ہو گی۔ کہنے لگے !بات یہ ہے کہ میں اس علاقے کا واقف ہوں، یہاں ڈیزرٹ تھا ، ریت تھی اور کچھ بھی نہیں تھا، حکومت نے سوچا کہ اس میں کوئی فصل اگائی جائے ۔ لوگ آتے نہیں تھے ۔

ایک آدمی آیا ،اس نے آ کر جھونپڑا بنایا اوریہاں پانی کی تلاش میں ٹیوب ویل وغیرہ سنگ کرنے کی کوشش کی۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے یہاں سبزہ اگایا اور اس زمین کو ہریالی بخشی۔ میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں پتا نہیں وہ آدمی کہاں ہوگا، میں نے اس کے احترام میں یہ پگڑی اٹھا کے رکھ لی۔ دیکھیے، یہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری زندگی کے اوپر عجیب طرح سے اثرانداز ہوتی ہیں اور اگر آپ اپنی آنکھیں بالکل کھلی رکھیں اورکان بھی تو آپ کو اردگرد اتنی کہانیاں ملیں گی جن کے اوپر آپ نے اس سے پہلے توجہ نہیں دی ہو گی۔ ہمارے استاد پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم صاحب ہم سیانے تھے، میں ففتھ ایئر میں پڑھتا تھا ،ان کی ایک عادت تھی کہ جب کسی کی شادی ہوتی تھی تو لڑکی کے گھر والوں میں ان کے گھر جا کر بارات کو کھانا کھلانے کا بندوبست ان کے اوپر ہوتا تھا۔

صوفی صاحب نے ہم کو کہا کہ چلو بھئی فلاں گھر میں کھانا دینا ہے، بارات آ گئی ہے۔ مجھے یاد ہے، ہم بھاٹی دروازے بتیاں والی سرکار کے پیچھے ایک گھر تھا‘ وہاں چلے گئے. انہوں نے کہا، لو جی صوفی صاحب آ گئے، فکر کی کوئی بات نہیں، نائی دیگیں لے آئے اب جو بارات تھی اس کے بارے میں خیال تھا کہ 80 کے قریب بندے ہوں گے، وہ 160 کے قریب آ گئے۔ اب صوفی صاحب کی آنکھیں، اگر آپ میں سے کسی کو یاد ہے ماشاء اللہ بہت موٹی تھیں، گھبرا گئے ، ان کے ماتھے پر پسینا ناک پر بھی آ جاتا تھا، کہنے لگے اشفاق ہن کیہہ کریے؟۔ میں نے کہا پتا نہیں، دیگوں میں پانی ڈال دیتے ہیں۔ پہلا موقع تھا ،میں ففتھ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا انہوں نے ایک زوردار تھپڑ میرے منہ مارا۔

 کہنے لگے، بیوقوف آدمی، اس میں پانی ڈال کے مرنا ہے وہ تو فوراً ختم ہو جائے گا، اس میں گھی کا ایک اور پیپا ڈالنا ہے۔ گاڑھا ہو جائے گا تو کھایا نہیں جاتا۔ اب ہم اندر سروے کر رہے تھے اور صوفی صاحب بیچ میں نکال کے ڈالتے جاتے تھے۔ ہم باراتیوں سے کہتے، اور لائیں۔ وہ کہتے تھے گرم لائو جی۔ ہم تو بھاگے پھرتے تھے اب آخر کیفیت یہ آ گئی کہ دیگیں ختم ہو گئیں اور ان کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ وہ کانپ رہے تھے اگر کسی نے اندر سے کہہ دیا کہ اور بھیجیں، ان کے پاس دینے کے لیے صرف ایک رہ گئی تھی لیکن وہ ڈرے ہوئے تھے۔ جب خوفزدہ تھے تو اندر سے آواز آئی بس۔ جب دوسرے بندے نے کہا، بس بس جی صوفی صاحب۔ میں نے کہا، خدا کے واسطے ایسی ٹینشن کا کام آئندہ نہیں کرنا۔

 کہنے لگے نہیں، بالکل نہیں، میری بھی توبہ۔ وہاں سے ہم چل پڑے، پیچھے ہم شاگرد، خود آگے آگے۔ صوفی صاحب کوئی پندرہ بیس گز سے زیادہ گئے ہوں گے ایک مائی باہر نکلی۔ کہنے لگی لو غلام مصطفی میں تو تینوں لبھ دی پھرنی آں۔ تاریخ رکھ دتی ہے13 بھادوں دی ،کاکی دی۔ تو صوفی صاحب جو توبہ کر کے نکلے، کہنے لگے کاغذ ہے؟ ہاں، پنسل ہے ؟ کہنے لگے ہاں۔ لکھ 13سیر گوشت ایک بوری چول ،صوفی صاحب لکھوا رہے ہیں تو میں نے کہا ،جی یہ پھر ہو گا، کہنے لگے نہیں ! یہ تو ان کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا آپ صرف کتاب کی تشریح وغیرہ پڑھایا کریں یہ تو ان کا کام تھا تو یہ جو عمل کی دنیا ہے اس میں داخل ہونا ضروری ہے۔

 کتاب ’’بابوں کی باتیں‘‘ سے مقتبس

احمد ندیم قاسمی کا بچپن

میں ضلع سرگودھا کی تحصیل خوشاب کے ایک پہاڑی علاقہ سون سیکسر کے ایک گائوں انگہ میں پیدا ہوا۔ میری تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء ہے۔ ابتداء میں گائوں کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ ساتھ ہی وہاں کے پرائمری سکول میں داخلہ لیا اور پرائمری وہیں سے پاس کی۔ بلکہ ایک طرح سے اعزاز کے ساتھ پاس کی۔ اس زمانے میں چوتھی جماعت پرائمری کی آخری جماعت ہوتی تھی۔ ہماری جماعت کے 4 منتخب لڑکوں کو خوشاب میں وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے بھیجا گیا میں بھی ان میں شامل تھا۔ 4 میں سے ہم 3 لڑکوں نے کامیابی حاصل کی اور مجھے آٹھویں جماعت تک وظیفہ ملتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اسی موقع پر خوشاب میں زندگی میں پہلی مرتبہ سائیکل دیکھی اور ریل گاڑی کو لوہے کی پٹڑیوں پر بھاگتے دیکھا۔

میں پرائمری سکول کے اوّل مدرس منشی غلام حیدر کی شخصیت‘ محنت اور لگن سے بہت متاثر ہوا۔ وہ میرے رشتہ دار بھی تھے مگر سکول میں ان کے سامنے سب لڑکے برابر ہو جاتے تھے۔ معمولی سی غلطی کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ کڑی جسمانی سزا دیتے تھے مگر سکول میں اور پھر گھر میں اتنی محنت سے پڑھاتے تھے کہ ان کے مزاج کی سختی پس منظر میں چلی جاتی۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد میں اپنے چچا اور سرپرست پیر حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلا گیا۔ وہ ان دنوں وہاں ریونیو اسسٹنٹ تھے۔ وہاں میں نے گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول میں داخلہ لیا۔ ان دنوں نویں اور دسویں جماعتیں گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کیمبل پور سے وابستہ تھیں۔ چنانچہ مڈل پاس کرتے ہی میں کالجیٹ ہو گیا پھر چچا جان کا وہاں سے تبادلہ ہو گیا وہ شیخوپورہ میں تشریف لے آئے چنانچہ میں نے گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ میں داخلہ لیا.

ان دنوں مشہور شاعر ن م راشد کے والد جناب فضل الہی چشتی وہاں کے ہیڈ ماسٹر تھے، میں نے میٹرک کا امتحان وہیں سے پاس کیا۔ میں مڈل کی جماعتوں میں عربی کے استاد جناب غلام ربانی عزیز سے خاصا متاثر ہوا آپ مشہور ادیب ڈاکٹر غلام جیالنی برق کے بڑے بھائی ہیں اور خود بھی اعلی درجے کے مصنف تھے ان کی سنجیدگی اور صرف اپنے کام سے کام رکھنے کی روش مجھے پسند آئی۔ انٹرمیڈیٹ کالج میں بھی عربی ہی کے استاد پروفیسر انعام اللہ بیگ میری نظر میں مثالی استاد تھے میرا بچپن سراسر شرارتوں سے عبارت ہے میں پڑھائی میں بھی خاصا تیز تھا اور شرارت میں بھی۔ شاید یہی ہجہ ہے کہ میں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں ان میں بچوں کی شرارت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔

بے شمار شرارتوں میں سے ایک شرارت یہ ہے کہ میں نے مکی کے بھٹوں کے بالوں سے مہندی رنگ کی داڑھی اور مونچھیں بنا کر لگا لیں۔ سر پر بڑا سا پگڑا باندھ لیا۔ قمیض کے نیچے بہت سے کپڑے ٹھونس لیے جس سے میری توند ابھر کر کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ پھر میں نے ہاتھ میں عصا لیا اور اپنے خاندان کی حویلی کے ایک ایک گھر میں جھانکا اور خواتین کی چیخیں نکلوا دیں۔ حویلی میں بہت سخت پردہ تھا سو ایک اجنبی معمر مرد کو اپنے سامنے دیکھ کر خواتین کا خوفزدہ ہو جانا لازمی تھا۔ دوسری شرارت بھی سن لیجئے کہ میں نے داستان امیر حمزہ میں کہیں پڑھ لیا کہ عمروعیار نے اپنے استاد کو تنگ کرنے کے لیے انہیں جمال گھوٹا کھلا دیا تھا اور کئی دن تک اسہال کے مریض رہے تھے میں نے ایک پنساری سے جمال گھوٹا لیا اور جب گھر کے اندر سے ملازمین کے لیے کھانا آیا تو جمال گھوٹا سب پلیٹوں اور لسی کے جگ میں تجربتاً ملا دیا۔ بے چارے ملازم اور چپڑاسی بیت الخلاء کے چکر لگا لگا کر نڈھال ہو گئے اور چچا جان کو انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ جمال گھوٹا کی کچھ زیادہ ہی مقدار استعمال ہو گئی تھی۔

بچپن کا ایک ناقابل فراموش واقعہ تو یہ ہے کہ میں نے گھر سے پنسل کے لیے جو پیسے لیے ان سے ریوڑیاں خرید کر کھا لیں اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ہم جماعت یاسین کے بستے میں سے ایک نئی پنسل چوری کر کے اپنے بستے میں رکھ لی۔ امی کو جا کر یہی پنسل دکھائی کہ خرید لایا ہوں۔ انہوں نے اس کا سرا تھوڑا سا تراشا اور وہاں ریشم کے دھاگے سے ریشم کا پھول باندھ دیا۔ پنسل کی صورت بالکل بدل گئی مگر اس کے باوجود میں ایک ماہ تک پنسل سکول نہ لے گیا اور جس روز لے گیا اسی روز پکڑا گیا۔ یاسین نے پنسل دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ اس کی گم شدہ پنسل ہے۔ ہماری کلاس کو ماسٹر محمد حیات پڑھا رہے تھے انہوں نے مجھے پاس بلا کر پوچھا کہ سچ سچ بتائو یہ پنسل کس کی ہے؟ میں نے کڑک جواب دیا ’’میری ہے‘‘ انہوں نے میرے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان طلباء کی پنسلیں رکھ دیں۔ میری انگلیوں کو زور سے دبایا اور میں چیخ اٹھا۔ ماسٹر محمد حیات نے ایک بار پھر میرے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا ’’کس کی ہے؟‘‘ اور میں نے درد سے بل کھاتے ہوئے کہا یاسین کی ہے۔ اس کے بعد میں نے چوری کی جرات کبھی نہ کی۔

جب بھی خیال آیا انگلیوں میں پھوڑے سے بیدار ہو گئے۔ سکول میں سبھی مضامین سے دلچسپی رہی بطور خاص شعر و ادب سے ،تاریخ سے ،جغرافیے سے اور جیومٹری سے۔ اگر جان جاتی تھی تو حساب اور الجبرے سے۔ میٹرک پاس کرنے کی مسرت کا عنوان یہ تھا کہ حساب الجبرے سے چھٹکارا ملا۔ ٹوٹے پھوٹے شعر تو میں بچپن میں کہہ رہا تھا مگر میں نے پہلی باقاعدہ نظم جنوری 1931ء میں کہی جب میں میٹرک کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف تھا یہ مولانا محمد علی جوہر کا مرثیہ تھا۔ میں پرائمری سے مڈل تک بیشتر وقت اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔ پھر جب میں ساتویں آٹھویں میں تھا تو ریڈ کراس سوسائٹی نے مضامین کا کل پنجاب مقابلہ کیا اور میں اس مقابلے میں اول رہا۔ ریڈ کراس والوں کی سند اب تک میرے کاغذات کے انباروں میں کہیں محفوظ پڑی ہے۔ شاید کوئی ایسا کھیل ہو جو میں نہ کھیلا ہوں ٹینس‘ ہاکی‘ کبڈی سے لے کر پنگ پانگ (ٹیبل ٹینس) اور کیرم اور تاش تک۔ سبھی کھیل کھیلا ہوں مگر پیشہ وارانہ مہارت والی بال میں حاصل کی۔ لٹو بھی چلائے، گلی ڈنڈا بھی کھیلا، پتنگ بھی اڑائی اور پتنگ اڑانے سے مجھے اپنی ابتدائی زندگی کا ایک اور ناقابل فراموش واقعہ یاد آیا۔ میں اپنے ننھیال میں اپنے ماموں زاد بھائی محبوب الہی مرحوم کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ نیچے صحن میں لڑکیوں نے ترنجن کی محفل سجا رکھی تھی۔

چرخے گھوں گھوں کر رہے تھے اور سوت کاٹا جا رہا تھا۔ ہم دونوں بھائی چھت پر پتنگ اڑانے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہوا ساکن تھی آخر میں نے محبوب الہی سے کہا کہ پتنگ اور ڈور میرے حوالے کرو۔ تب میں پتنگ اڑانے کے لیے چھت پر تیزی سے الٹے قدموں بھاگا مگر یہ بھول گیا کہ میں چھت پر ہوں۔ چنانچہ چھت ختم ہو گئی اور میں نیچے ترنجن بیٹھی لڑکیوں کے ہجوم میں جا گرا۔ میں بچپن میں خوب موٹا متھنا تھا۔ سو مجھے کوئی چوٹ نہ آئی مگر لڑکیوں میں سے تین چار کو بہت چوٹیں آئیں۔ بچوں کے نام میرا پیغام یہ ہے کہ اپنے ملک سے اپنی تہذیب سے، اپنی روایات سے، اپنی زبانوں سے ،اپنے گیتوں سے ،محبت کرنا سیکھو کیونکہ یہی محبت تمہیں انسانیت کے ساتھ محبت کرنا سکھائے گی۔

احمد ندیم قاسمی

(مشہور زمانہ لوگوں کا بچپن سے ماخوذ)

علم کی قزاقی

ایسے دور میں جب بوتلوں میں منرل واٹر کے نام پر نلکے کا پانی، دودھ کے نام پر کیمیکل اور دواؤں کے نام پر زہر کھایا جا رہا ہے۔ اصلی کتابوں کی جعلی اشاعت کی وبا پر بات کرنا نری عیاشی ہے۔ پر آج عیاشی ہی سہی۔ دنیا میں اس وقت بلا اجازت شایع ہونے والی کتابوں کے جعلی ایڈیشنز سے کتابوں کی صنعت کو سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور اس میں سے تین ارب ڈالر تک کا نقصان صرف امریکی پبلشرز کو درپیش ہے۔ مختلف ممالک میں نافذ انٹلکچوئیل پراپرٹی رائٹس قوانین اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ضابطے بھی جعلی کتابوں کے کاروباریوں اور پھیلائے جال  کا کچھ  بال بیکا نہیں کر پائے۔ دھونس، دھمکی، مقدمہ کوئی شے بھی بہت زیادہ کارگر نہیں۔ مگر رونے پیٹنے واویلے کے ساتھ ساتھ مرض کے بنیادی اسباب جان کر انھیں کنٹرول کرنے کی کوششیں بھی آٹے میں نمک جیسی ہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ موضوع یوں اہم ہونا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کی پبلشنگ دنیا کو بین الاقوامی پبلشر برادری ملکی و غیر ملکی جعلی کتابوں کے سب سے بڑے اشاعت گھر کے طور پر جانتی ہے (اس بدنامی کے پیچھے یہودی لابی اور دیگر پاکستان دشمن قوتیں اور سی پیک سے جلنے والے کتنے ہیں یہ میں نہیں جانتا)۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف مقامی طور پر کتابوں کی دو نمبر اشاعت ملک و قوم کی علمی خدمت میں دن رات کوشاں ہے بلکہ مشرقِ وسطی، افریقہ حتی کہ بھارت کی بھی علمی پیاس بذریعہ تھرڈ پارٹی ایکسپورٹ بجھا رہی ہے۔ اور یہ سب اس کاپی رائٹ ایکٹ مجریہ انیس سو باسٹھ کے سائے تلے ہو رہا ہے جس کے مطابق جعلی ایڈیشن کی اشاعت، تقسیم، فروخت اور درآمد و برآمد پر تین تا سات برس قید اور ایک تا تین لاکھ جرمانے کی سزا ہے۔ پچھلے چون برس میں اس قانون کے تحت ایک عدد پبلشر کو پندرہ ہزار روپے جرمانہ ہو پایا اور ایک عدد پبلشر کو قید کی سزا ملی مگر وہ چند ماہ بعد ضمانت پر رہا ہو کر پھر اپنے کاروبار میں منہمک ہو گیا۔ کچھ دیوانے مصنفین پھر بھی عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔

مغرب میں چونکہ کتاب بینی کا شوق عام ہے اور مصنفین کو بھی بھاری رائلٹی ملتی ہے لہذا ان کا شور مچانا سمجھ میں آتا ہے کہ کتاب کی ہر جعلی کاپی ان کے کاروبار اور رائلٹی پر ڈاکہ ہے۔ مگر پاکستان میں علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کسی اور اشاعتی ادارے یا مصنف کو اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں کہ جعلی کتابوں کا کاروبار کتنا سود مند یا نقصان دہ ہے۔ بیشتر مصنفین کو رائلٹی ہی نہیں ملتی۔ اکثر سادہ لوحوں کو چنٹ پبلشر چند لاکھ روپے کے یکمشت معاوضے کا کلوروفارم سونگھا کر تاحیات حقوق اپنے نام کروا لیتے ہیں۔ کوئی مصنف اگر رائلٹی پر ہی بضد رہے تو پھر اس کا دماغی علاج بھی پبلشرز کے پاس ہے۔ رائلٹی ملتی بھی ہے تو پہلے ایڈیشن کی۔ اس کے بعد کتاب جانے اور پبلشر۔

میرے علم میں تو صرف ایک مثال ہے عبید اللہ علیم کی۔ جس پبلشر نے ان کے دو شعری مجموعے ’’چاند چہرہ ستارہ آنکھیں‘‘  اور ’’ویران سرائے کا دیا‘‘ ایک ایک ایک ہزار کی تعداد میں کئی سال پہلے چھاپے ان کے پہلے ایڈیشن کی رائلٹی تو واقعی علیم صاحب کو ان کی زندگی تک ملی۔ مگر ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں شعری مجموعے اتنے بابرکت ثابت ہوئے کہ پچھلے پچیس برس میں پرانے اوریجنل ایڈیشن کے نام پر چھپنے والی ایک ہزار کاپیاں کم ازکم دس ہزار گھروں میں دستیاب ہیں اور مارکیٹ میں بھی تازہ کاغذ اور چھپائی کی بھینی بھینی خوشبو سمیت موجود ہیں۔ پبلشر کے ریکارڈ میں آج بھی صرف ایک ایڈیشن ہے اور وہ بھی ایک ہزار کاپیوں کا۔ اب یہ چمتکاری اوریجنل پبلشر نے دکھائی یا کتابی قزاقوں نے؟ بوجھو تو جانیں۔

اس ملک میں تو ’’آگ کا دریا‘‘ والی عینی آپا، فیضؔ اور فرازؔ نہ بچ سکے تو عام مصنف کس کھیت کی مولی ہے۔ ایسے حالات میں مصنفین کو کیا پڑی کہ وہ اپنے لیے انصاف طلب کریں یا شور مچائیں۔ ان کی مثال تو اس بھینس کی ہے جسے چور کھول کے لے جانے لگا تو پیچھے سے مالک نے شور مچا دیا بھینس بھینس چوروں سے خبردار۔ بھینس نے پلٹ کر کہا تو بھی تو دودھ کے بدلے صرف چارہ ہی دیتا ہے۔ چور بھی بھوکا نہیں ماریں گے۔ پاکستان میں کتابوں کی اشاعتی چوری کے موضوع پر محض ایک پریزنٹیشن میری نظر سے گزری۔ اسے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری سائنس کے خالد محمود اور بلوچستان یونیورسٹی کے محمد الیاس نے تیار کیا۔ اس پریزنٹیشن کے اعتبار سے کتابوں کی جعلی اشاعت کی سب سے بڑی وجہ معیاری کتابوں  کی قیمت کا ایک عام آدمی کی دسترس سے باہر ہونا ہے۔ پھر ہینگ اور پھٹکڑی ڈالے بغیر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی خواہش ہے۔

کئی کتابوں کے جعلی ایڈیشن اس لیے بھی چھاپے جاتے ہیں کیونکہ اوریجنل ایڈیشن نایاب ہوتا ہے مگر اس کی ضرورت نایاب نہیں ہوتی۔ ایک وجہ کئی اسکول سسٹمز کے نصاب میں غیر ملکی کتابوں کی شمولیت ہے۔ والدین جو پہلے ہی سے بھاری فیسوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں وہ اوریجنل کتاب کے بجائے اس کی کاپی سستے کا سوچ کر خرید لیتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ یہ سستی بھی ہو۔ کئی اسکولوں نے اس کا توڑ یہ نکالا ہے کہ کتابیں کاپیاں بھی وہی فراہم کریں گے اور اگر باہر سے خریدنی ہیں تو صرف مخصوص کتاب فروشوں سے ہی خریدی جائیں (یہ ایک الگ طرح کا گٹھ جوڑی کاروبار اور تفصیل کا متقاضی ہے)۔ غیر ملکی کتابوں کی مقامی پائریسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مقامی اشاعت کے حقوق بہت کم غیر ملکی ادارے دیتے ہیں اور اکثر کڑی شرائط پر۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر ملکی کتابوں کی درآمد کے قوانین سہل نہیں اور انھیں ہر پبلشر درآمد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اگرچہ بھارت میں شایع ہونے والی سائنسی و طبی موضوعات پر شایع ہونے والی کتابیں اس مانگ کو پورا کر سکتی ہیں۔ مگر دونوں ممالک آلو پیاز اور کیلے وغیرہ کی تجارت تو کر سکتے ہیں لیکن اخبارات، رسائل اور کتابوں کی دو طرفہ تجارت دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹس کو اس وقت مناسب نہیں لگتی۔ مبادا ایک دوسرے کی کتابیں اور اخبارات پڑھ کے کہیں ذہن نہ صاف ہونے لگ جائیں۔ کتابوں کے جعلی ایڈیشنز کی اشاعت سے سب سے زیادہ فائدہ بلاشبہہ درسی کتابوں کے کاروبار کا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ایڈیشنز بھی ان کتابوں کے شایع ہوتے ہیں۔ درسی مواد کی مانگ ہمیشہ زیادہ اور رسد ہمیشہ کم رہتی ہے۔ اس کے بعد جعلی ایڈیشن کا فائدہ کتب فروش کو ہے اور پھر کہیں جا کے اگر تھوڑا بہت مالیاتی فائدہ ہے تو کتاب خریدنے والے کو۔

کتابوں کی جعلی اشاعت ختم تو نہیں البتہ کم ہو سکتی ہے اگر نصابی کتابوں کی قیمتیں سبسڈی دے کر کم رکھنے اور ضروری غیر ملکی نصابی کتابوں کے مقامی اشاعتی حقوق کے حصول میں حکومتیں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے مینڈیٹ اور دائرہِ اشاعت میں اضافے سے بھی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ کتابیں درآمد کرنے کے قوانین کو بھی زیادہ آسان بنانے سے فرق پڑ سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ فرق کاپی رائٹس اور سائبر قوانین کے موثر اور مسلسل نفاز سے آ سکتا ہے۔ مگر بانوے فیصد لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان میں کاپی رائٹس کے قوانین موجود ہیں۔

اگر مصنفین کو معقول و منصفانہ رائلٹی ملنے کا کوئی قانونی و انتظامی ڈھانچہ بن سکے تو اس سے حوصلہ پا کر ایسے لوگ بھی اپنے تصورات و خیالات و تحقیق شایع کروانے میں دلچسپی لیں گے جنہوں نے آج تک مصنفین کو ہاتھ پھیلائے شکائیتی ٹٹو کے روپ میں ہی دیکھا ہے۔ اور اب تو انٹرنیٹ پر ڈجیٹل پائریسی کے روپ میں ایک اور بے لگام کتابی دہشتگردی شروع ہو چکی ہے۔ سنا ہے دو ہزار چار سے کسی سرکاری پاکستان انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن (پپرو) کا بھی وجود ہے۔ کیا کسی کو اس کے دفتر کا پتہ یا فون نمبر یا اہلکاروں کا نام معلوم ہے؟ پپرو تم کہاں ہو۔

وسعت اللہ خان

کتاب کلچر کیسے زندہ ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں ادبی سرگرمیوں کا دائرہ عموماً ادبی میلوں، ادبی کتابوں کی نمائش تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، بلاشبہ یہ ادبی سرگرمیاں ادب کے اس قحط کے دور میں حوصلہ افزا کہی جا سکتی ہیں لیکن معاشرے کے مزاج میں تبدیلی کے لیے یہ سرگرمیاں کوئی بامعنی کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ پچھلے ہفتے کراچی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام ایک لٹریچر فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا۔

یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کا مقصد پاکستان کی زرخیز، قدیم اور متنوع ثقافتوں اور ادب کو اجاگر کرنا ہے، تاکہ وہ پھلیں پھولیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر زیادہ مثبت اثرات مرتب کر سکیں۔ اس افتتاحی تقریب میں امریکا، برطانیہ، اٹلی اور بھارت کے ہائی کمشنر اور کونسلرز نے شرکت کی، ان حضرات نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی ان ادبی سرگرمیوں سے ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کو مہمیز ملتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جرائم کی تعداد میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی روک تھام کے لیے عموماً انتظامی سطح پر ہی اقدامات کیے جا رہے ہیں، چونکہ انتظامیہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات میں جرائم کی وجوہات اور محرکات کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے قانونی اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے عمومی جرائم کے علاوہ معاشروں میں جو سماجی جرائم کی وبا ہے، اس کا تدارک بھی سطحی انداز میں قانون کے ڈنڈے ہی سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کا نتیجہ خرابیوں میں کمی کے بجائے اضافے کی شکل میں ہی نظر آتا ہے۔

ادب اور شاعری دو ایسے میڈیم ہیں جو معاشرتی بگاڑ میں موثر اور مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ادیب اور شاعر معاشرتی بگاڑ کے محرکات سے واقف ہوتے ہیں اور اس کے طبقاتی محرکات ان کی نظروں میں ہوتے ہیں لہٰذا وہ ان خرابیوں کو دور کرنے کی موثر اور مثبت کوششیں کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں جہاں سماجی برائیاں معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ کیا ادب اور شاعری کو موثر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں؟

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کراچی میں جرائم کی شرح اس قدر کم تھی کہ عوام رات کو اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھ کر سوتے تھے۔ چوری، ڈاکے، اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر تھیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ترقی پسند ادب اور شاعری کی رسائی عوام تک تھی۔ کراچی میں کیبن لائبریریوں کا کلچر اس قدر عام تھا کہ کراچی کے محلوں گلیوں میں کیبن لائبریریاں قائم تھیں، جہاں سے عوام ایک آنہ کرائے پر برصغیر کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں حاصل کرتے تھے، نوجوانوں کا فاضل وقت ادب اور شاعری کے مطالعے میں گزرتا تھا اور جو ادبی کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہوتی تھیں وہ آدمی کو انسان بنانے میں بہت موثر کردار ادا کرتی تھیں۔

پاکستان خصوصاً کراچی میں ہر سال ادبی میلے، ادبی کتابوں کی نمائشوں وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے، بظاہر یہ تقریبات ادب کے فروغ کا ہی حصہ نظر آتی ہیں لیکن اس قسم کی تقریبات میں شامل ہونے والوں کی تعداد پاکستان کی آبادی کے پس منظر میں بہت محدود نظر آتی ہے۔ امریکا، برطانیہ، اٹلی، بھارت وغیرہ کے نمایندوں نے اپنی تقاریر میں یہ دلچسپ بات کی ہے کہ صرف اسٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگ ہی اس فیسٹیول کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی اس فیسٹیول کا حصہ ہوتے ہیں جو مقررین سے سوال پوچھتے ہیں۔

فیسٹیول کی روح رواں امینہ سید نے کہا کہ ’’ہم لاکھوں لوگوں تک ادب کی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے ان تقریبات کو استعمال کرتے ہیں‘‘۔ موصوفہ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی لٹریچر فیسٹیول منعقد کرنے کی درخواستیں مل رہی ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ شہروں تک فیسٹیول کا دائرہ بڑھائیں۔ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے بیس کروڑ عوام تک ادب کی رسائی نہ ادبی میلوں سے ہو سکتی ہے نہ ادبی کتابوں کی نمائشوں سے نہ ثقافتی فیسٹیولز سے عوام تک ادبی کتابوں کی رسائی کا ایک ہی راستہ ہے کہ کم ازکم صوبائی سطح پر ایک بڑا پبلشنگ ہاؤس قائم کیا جائے جو برصغیر اور دنیا بھر کے ادب سے منتخب ادبی کتابوں کے ترجمے کرے اور ان کے سستے ایڈیشن چھاپ کر ملک گیر سطح پر ادب کی رسائی کا ایک منظم مسئلہ شروع کیا جائے۔

حال ہی میں وزیراعظم نے اکادمی آف لیئرز کو 50 کروڑ روپوں کا ’’تحفہ‘‘ دیا ہے، اگر اس رقم کو پبلشنگ ہاؤسز اور کیبن لائبریریز کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے تو نہ صرف کتاب کلچر کے مردہ جسم میں دوبارہ جان پڑ سکتی ہے بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے جرائم، دہشتگردی کی لعنتوں کو ختم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ کاش نام نمود اور کاروبار کے فروغ کے لیے ادب کو استعمال کرنے والے کتاب کلچر کے فروغ میں دلچسپی لے سکیں۔

ظہیر اختر بیدری

بانو قدسیہ کی کچھ یادیں

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، آپ اُن سے کبھی ملے بھی نہیں ہوتے لیکن آپ کو اُن سے محبت ہو جاتی ہے۔ یہ محبت بھی بڑی ظالم شے ہے، انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے، کوئی انسان اپنی فطرت اور عادات میں جتنا چاہے کُھردرا اور سخت ہو، محبت اُسے موم بنا ہی دیتی ہے، وہ زیر ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ نے بھی محبت کی اور اپنی محبت کو پا لیا۔ یہ محبت اُن کی تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہے، محبت کی یہی چاشنی ہے جو اُن کی تحریروں میں رس گھولتی ہے۔ پڑھنے والا پڑھتا ہے اور سر دُھنتا ہے۔ بانو قدسیہ جیسے لوگوں کا ایک مسئلہ بھی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام سے محبت کرتے ہیں، اسلامی شعائر کا مذاق نہیں اُڑاتے اور یہی چیز لوگوں کو چُبھتی ہے۔ آج کا ہر نیا ادیب یہ سوچتا ہے کہ وہ خود کو اُس وقت تک بڑا ادیب ثابت نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے سوالات کو ایک نئے سرے سے دوبارہ نہ اُٹھائے، حالانکہ اِن سوالوں کے جوابات کئی بار معقول انداز سے دیئے جا چکے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں بانو قدسیہ ایک سوال کے جواب میں کہتی ہیں، ’’میں ’راجہ گدھ‘ کے متعلق آپ کو بتا سکتی ہوں۔ آج وہ سترہ اٹھارہ سال سے سی ایس ایس کے امتحان میں لگا ہوا ہے۔ ڈاکٹر اجمل آپ کو یاد ہو گا ؟ نفسیات دان تھے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُسے مقابلہ کے اِس امتحان میں لگایا تھا۔ میں یہاں پر بیٹھی تھی اور میرا کوئی ارداہ نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا ناول لکھوں گی، ’راجہ گدھ‘ کی طرح کا۔ اُن دنوں ہمارے گھر میں ایک امریکی لڑکا ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ امریکی تہذیب، امریکی زندگی، امریکی اندازِ زیست سب کے بارے میں یہ ثابت کرے کہ وہ ہم سے بہتر ہے، مسلمانوں سے بہتر ہے، تو ایک روز وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا، اچھا مجھے دو لفظوں میں، ایک جملے میں بتائیے، آپ صرف چھوٹی سی بات مجھ سے کیجئے کہ اسلام کا ایسنس (جوہر) کیا ہے؟

میں نے اُس سے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ عیسائیت کا ایسنس کیا ہے؟ اس نے کہا: ove – Love thy neighbor as thyself، یہ ایسنس ہے عیسائیت کا۔ میں نے کہا اسلام کا جو ایسنس ہے وہ اخوت ہے، برابری ہے، بھائی چارہ ہے brother hood ہے۔ کہنے لگا چھوڑیئے یہ کسی مذہب نے نہیں بتایا کہ برابری ہونی چاہیئے۔ یہ تو کوئی ایسنس نہیں ہے یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا۔ یقین کیجیئے، یہاں پر پہلے ایک بہت بڑا درخت ہوتا تھا سندری کا درخت۔ سندری کا درخت ہوتا ہے جس سے سارنگی بنتی ہے۔ اُس کے بڑے بڑے پتے تھے اور وہ یہاں لان کے عین وسط میں لگا ہوا تھا، وہ ایک دَم سفید ہوگیا اور اُس پر مجھے یوں لگا جیسے لکھا ہوا آیا ہو، اسلام کا ایسنس حرام و حلال ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اُسے میں نے کیوں کہا کیونکہ اُس پر ایکشن (عمل) سے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جتنے کمانڈمنٹس ہیں یا تو وہ حرام ہیں یا حلال ہیں۔ حلال سے آپ کی فلاح پیدا ہوتی ہے اور حرام سے آپ کے بیچ میں تشنج پیدا ہوتا ہے، آپ میں ڈپریشن پیدا ہوتا ہے۔ میں نے اُس امریکی لڑکے کو بلایا اور اسے کہا، یاد رکھنا اسلام حرام و حلال کی تمیز دیتا ہے اور یہی اس کا ایسنس ہے۔

بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ اُس کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکھی اور میں وہ بتا نہیں سکتی کہ کس طرح اللہ نے اُن کی رہنمائی کی اور اُن کی مدد فرمائی اور انہیں یہ لگتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے نہیں لکھی بلکہ اُن سے کسی نے لکھوائی ہے۔ اُس کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ میری بہت ساری کتابیں ہیں۔ 25 کے قریب کتابیں میری ہو چکی ہیں اور جتنا بھی اُس پر کام ہوا ہے میں آپ کو بتا ہی نہیں سکتی کہ کس طرح ہوا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کو اپنی معاشرت اور ثقافت کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ اُنہیں معلوم تھا کہ یہ ملک اُنہوں نے کیسے حاصل کیا ہے۔

پاکستان بننے سے متعلق کہتی ہیں، ’’جب پاکستان بنا ہے اُسی سال میں نے بی اے کیا۔ آپ یقین کریں جو تجربات ہمیں پاکستان کے قیام کے وقت ہوئے ہیں، وہ آپ لوگوں کو سمجھ میں بھی نہیں آ سکتے۔ آپ لوگ چھوٹے ہیں۔ آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کیا چیز تھی اور کیا بنا ہے۔ جب کالج میں ہم امتحان دے رہے تھے تو یک دم آگ لگ گئی۔ پھر کنیرڈ کالج سے اُٹھا کر لڑکیوں کو بس میں ڈالا گیا اور ایف سی کالج لے کر گئے اور ہم نے وہاں امتحان کا پرچہ دیا۔ راستے میں بھی اندیشہ تھا کہ لڑکیاں اغواء نہ کر لی جائیں۔ ایسے حالات میں ہم نے امتحان کیا۔ پھر پاکستان بنا۔ پھر آپ جانتے نہیں جیسے اشفاق صاحب ہمیشہ کہتے رہتے تھے، کہتے چلے گئے ہیں، پاکستان جو ہے یاد رکھئے، یاد رکھیے، پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عزتِ نفس حاصل ہو۔ پاکستان کا سلوگن (نعرہ) روٹی کپڑا اور مکان نہیں ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان جو ہے وہ تو اوپر والا دیتا ہے۔ آپ یقین کریں روٹی کپڑا اور مکان انسان دے نہیں سکتا کسی کو۔ آپ دعویٰ کرلیجئے، دے کر دکھائیے کسی کو، اگر آپ کو اپنے بچوں کو بھی روٹی کپڑا اور مکان دینا پڑے تو آپ دے نہیں سکیں گے۔ مجبوریاں درپیش ہوجائیں گی، کوئی وجہ ہو جائے گی، نوکری چھوٹ جائے گی، کچھ ہو جائے گا۔ لیکن عزتِ نفس، شیریں کلامی، کسی کے ساتھ اچھا سُخن کرنا، یہی ہم کسی کو دے سکتے ہیں۔‘‘

جنہوں نے کبھی بانو قدسیہ کو نہیں پڑھا، یہ سوال یقیناً اب اُن کے اذہان میں وارد ہوا ہو گا کہ آخر بانو قدسیہ کون تھی؟ بانو قدسیہ کا مختصر تعارف اُن کیلئے پیش کئے دیتے ہیں۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیمِ ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ اُن کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور اُن کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اُس وقت اُن کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اُس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ اُن کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انہیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے اُنہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو اُن کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر جماعت کو اپنا اپنا ڈرامہ پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو 30 منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لئے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ اُن سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اُس چیلنج کو قبول کیا اور بقول اُن کے جتنی بھی اْردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ اُن کی پہلی کاوش تھی۔

اُس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اِس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اْردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر اُن کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950ء میں اُس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔ اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتیکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اُس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تا کہ مقابلہ پورا ہو۔ اِس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا، اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ افزائی بھی کی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک اُن کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انہیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔

بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور، جبکہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انہوں نے بی اے کا امتحان دیا اُس وقت 47ء کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اِس آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ اِس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لئے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے اور بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں اِس لیے مطمئن تھیں کہ یہاں تو مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ حصہ تو پاکستان کے حصے میں ہی آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے، چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیئے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بِچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔

پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انہیں کامیابی ملی تھی۔ 1949ء میں انہوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد اُن کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956ء میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شُغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں لکھاری کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انہوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا، تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔

ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اُس کے لئے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہوجاتی تھی۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف کے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جبکہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر اُنہوں نے 1965ء تک لکھا، پھر ٹی وی نے انہیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لئے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کئے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اِس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترکہ کاوش سے اُن کا گھر تعمیر ہوا۔

لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ اِن دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا، ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اْبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ اِن دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہوگئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اْتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اُس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981ء میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ، اُن کے لئے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔

یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لئے محض اسی لئے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اِس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے۔ راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں 2003ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کئے۔ بانو قدسیہ کو 26 جنوری 2017ء کو طبعیت خرابی کے باعث لاہور کے اتفاق اسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیرِ علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ انتقال کر گئیں۔ بانو قدسیہ کے انتقال کے بعد ملک بھر میں اُن کے ناولوں کے اقتباسات لوگوں نے بڑی تعداد میں پڑھے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا۔ اُن کے ناولوں کے چند مشہور اقتباسات درج ذیل ہیں۔

’’کرنیل کور ہونٹ بغیر ہلے کہہ رہے تھے۔ یا رسول اللہ ﷺ ! تیرے در پر آئے ہوئے لوگوں کے لئے تیرے پیاروں نے دروازے کیوں بند کر رکھے ہیں؟ مجھے اِس بات کا رنج نہیں کہ سوڈھی سرداروں کی لڑکی تیلی سے بیاہی جارہی ہے۔ میں تو پوچھتی ہوں کتنے سو، برسوں میں ایک نو مسلم مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمان کہلانے کے لئے کتنے برسوں کی کھٹالی میں رہنا پڑتا ہے۔‘‘

(کتنے سو سال سے اقتباس)

اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے۔ یا باری تعالیٰ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔ آقائے دو جہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے، جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اْس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اْس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔

ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ؟

جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے، بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ، یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں۔ خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے، جبکہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں‘‘

(’امر بیل ‘ سے لیا گیا اقتباس)

’’محبت نفرت کا سیدھا سادہ شیطانی روپ ہے، محبت سادہ لباس میں ملبوس عمر وعیار ہے، ہمیشہ دو راہوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے، اُس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشاں گِرا ہوتا ہے، محبت کے جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کچھ سزا نہیں ہوتی، ہمیشہ عمر قید ہوتی ہے، محبت کا مزاج ہوا کی طرح ہے، کہیں ٹکتا نہیں، محبت میں بیک وقت توڑنے اور جوڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے، محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، جب تک روز اُس تصویر میں رنگ نہ بھرو، تصویر فیڈ ہونے لگتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا۔ اِس طرح جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو رات رہتی ہے۔‘‘

(راجہ گدھ سے اقتباس)

اعظم طارق کوہستانی