علامہ اقبال ؒ اور پطرس بخاری

امراض کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہو تو اُمت کے حکیم زیادہ یا د آتے ہیں جنھوں

نے سو سال پہلے مسلمانوں کو لاحق بیماریوں کا علاج بتا دیا تھا کہ؎

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

تراعلاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ایک اور جگہ کہا کہ

؎ علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

تشویشناک امر یہ ہے کہ اقبال ؒ کو بھلا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب کہ خود پاکستان اقبالؒ کا فیضان ِ نظر ہے، اقبالؒ کو وہی لوگ فراموش کرنا چاہتے ہیں جو جواز ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کی نفی کرتے ہیں۔ کیا وہ اتنے بارسوخ ہو چکے ہیں کہ مفکرِ پاکستان کو پاکستان سے جلا وطن کر دینا چاہتے ہیں۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی ساری دولت صرف کردیں تب بھی اقبال کی محبّت اور عقیدت کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔

یہی مہینہ ہے جب دانائے راز ؒ پورے ہندوستان، مشرق وسطیٰ، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیاء کے مسلمانوں کو ایک ولولہء تازہ دیکر رخصت ہوئے۔ بانگ ِ درا اور بال ِجبریل کی نظموں کا تو بہت تذکرہ ہوتا ہے، ان کے علاوہ بھی اقبالؒ کی کوئی نظم یا کوئی شعراٹھا لیں،آج بھی تروتازہ اور سو فیصد Relevant ہے۔

اس و قت میرے ہاتھ میں ضرب ِ کلیم ہے، ہر نظم اور ہر شعر ایک جہانِ دانش ہے۔ اجتہاد پراقبال ؒ نے اپنے لیکچرز میں بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔ ضرب ِ کلیم میں ایک نظم کا عنوان ہی ’’اجتہاد‘‘ ہے۔ شعر سنئیے اور سر دُھنئیے۔

 

؎ ہند میں حکمت ِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت ِ کردار نہ افکار ِعمیق

حلقہ ٔ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں

آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان ِ حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کا طریق

اقبال کے نزدیک اپنے نظریے سے منہ موڑ لینے اور اپنے حرم اور مرکز سے ناتا توڑ نے کے باعث مسلمان ذلت و زوال کا شکار ہیں۔ نظریۂ توحید کلیدی حیثیّت کا حامل ہے اور اس میں ہی اصل قوُت پوشیدہ ہے مگر فکری وحدت کافی نہیں اس کے ساتھ عملی وحدت درکار ہے۔

؎ زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علمِ کلام

میں نے اے میر ِسپاہ تیری سپاہ دیکھی ہے

قُل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

آہ اس راز سے واقف ہے نہ مُلا نہ فقیہہ

وحدت افکار کی بے وحد تِ کر دار ہے خام

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے

اسکو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

اقبال ؒ کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ وحدت ِ فکر و عمل کے بغیر ایک ملت کے طور پرزندہ نہیں رہ سکتے اور اس وحدّت کے تحفّظ کے لیے قوت درکار ہے۔ فرماتے ہیں۔

؎ وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو

آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد

اے مرد ِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل

جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نو َ میدیء جاوید

جسکا یہ تصو ّف ہو وہ اسلام کر ایجاد

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

اسلام تو شوکت و جلال اور رفعت و کمال کا پیغام ہے وہ محکومی و غلامی کا نہیں فرمانروائی کا نظریہ ہے، مغربی تہذیب اپنا لینے اور اس کی نقالی کرنے والوں کو کوئی دوسرا اسلام ایجاد کرنا ہو گا کیونکہ اصل اسلام میں غلامی اور نقالی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر انگریزوں نے نماز پڑھنے پر پابندی عائد نہ کی تو کئی ٹو ڈی اور انگریز پرست اُسی کو آزادی قرار دیکر آقاؤں کے قصیدے پڑھنے لگے۔

مسلم دشمن قوتیں ہمیشہ اسلام کے فلسفہء جہاد سے خوفزدہ رہی ہیں، ترک ِ جہاد کے فتوے دینے کے لیے ہی انگریزوں کو ایک جعلی نبی کھڑا کر نا پڑا۔ مغربی   قوتیں مسلمانوں کے جہاد پر ہر طرح کی قدغنیں اور پابندیاں لگاتی ہیں لیکن مغرب کے جارہانہ اقدامات کو جائز قرار دیتی ہیں، وہ خود کیسے ہی خطرناک ہتھیار تیار کر یں اور انھیں بے گناہ شہریوں پر استعمال کریں، جس ملک کو چاہیں تاخت و   تاراج کر دیں انھیں اس کا پورا حق ہے۔ اسی دوہرے معیار اور منافقت کو اقبالؒ نے آج سے سو سال پہلے بے نقاب کیا تھا۔ “جہاد ” کے عنوان سے ایک نظم کے چند شعر ہیں:

؎ فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کار گر

علامہ ؒ کہتے ہیں کہ مادیت میں کھویا ہوامسلمان تو پہلے ہی جہاد ترک کر چکا ہے، اس لیے اب ایسے وعظوں کی ضرورت تو یورپ اور امریکا کو ہے۔

؎ تعلیم اسکو چاہیے ترک ِ جہاد کی

دُنیا کو جسکے پنجہء خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ ِکلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ

بات اسلام کا محاسبہ، یورپ سے در گزر !

دنیامیں صرف مسلمانوں کامحاسبہ اور محاصرہ ہوا ہے جب کہ یورپ اور امریکا کو کھلی چھوٹ۔ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ انصاف نہیں ہے کیونکہ

؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات

اب ایک دلچسپ واقعہ سن لیجیے

احمد شاہ پطرس بخاری انگریزی لسانیات کے ماہر، ذہین و فطین اور نہایت شوخ و شنگ طبیعت کے مالک تھے۔ اعجاز بٹالوی اور عاشق بٹالوی کے بھائی آغا بابر اپنی دلچسپ کتاب ’’خدو خال‘‘ میں لکھتے ہیں ’’بخاری صاحب امریکا سے جنیوا جاتے ہوئے تین دن لندن میں ٹھہرے اور وہاں انھوں نے بھائی عاشق کو ڈھونڈ نکالا۔ بخاری نے پوچھا عاشق صاحب کچھ حال احوال کہیے‘‘ عاشق بٹالوی صاحب نے اقبال ؒ کا یہ شعر پڑھا:

؎ میں نوائے سوختہ در گلو تو پریدہ رنگ امیدہ بو

میں حکایتِ غمِ آرزو تو حدیث ِ ماتم دِلبری

شعر سنتے ہی بخاری صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے ایک کیفیت طاری ہو گئی اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بولے ’’زندگی تو واقعی رائیگاں گئی، کچھ بھی ہاتھ نہ آیا‘‘ کچھ دیر بعد بخاری صاحب کی حالت درست ہوئی تو انہو ں نے اقبال ؒ کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘ کے بارے میں بتایا کہ علامہ صاحب نے یہ نظم مجھے مخاطب کر کے لکھی تھی۔ میں نیا نیا ولایت سے آیا تھا علم کا خمار تھا۔ علامہ اقبال ؒ کے سامنے بے محابہ علم اور فلسفے کی نمائش کی تو انھوں نے یہ نظم لکھ کر میری طبیعت صاف کردی۔

؎ تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا زناریٔ برگساں نہ ہوتا

ہیگل کا صدف گہر سے خالی ہے اس کا طلسم سب خیالی

آدم کو ثبات کی طلب ہے دستور ِ حیات کی طلب ہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز سن مجھ سے یہ نقطہء دل افروز

انجام ِ خرد ہے بے حضوری ہے فلسفہ زندگی سے دُوری

دیں مسلک ِ زندگی کی تقویم دیں سر محمد ﷺ و ابراہیم

دل در سخنِ محمدی ؐ بند اے پور علی ؓ ز بو ُ علی چند

اے سید زادے تو اگر اپنی خودی سے بیگانہ نہ ہو جاتا تو برگساں جیسے فلسفیوں کا پجاری نہ بنتا، تو اپنی معرفت سے دور رہا جس کے باعث تو نے فلسفیوں کو اپنا رہنما بنا لیا ہے اور اسطرح تو اپنی اصلیت کھو گیا ہے۔ ہیگل (مشہور فلسفی) کی سیپی موتیوں سے خالی اور اس کا سارا طلسم خیالی ہے۔ یعنی ان کے فلسفے انسانیت کے لیے بے فائدہ اور بیکار ہیں۔ انسان ایسی شئے کی تلاش میں ہے جس سے اسے بقاء اور چَین نصیب ہو۔ ایسا کوئی دستور العمل ان فلسفیوں کی تصانیف میں نہیں ہے۔ جس چیز سے اس عالم کی تاریکی روشنی میں بدل سکتی ہے وہ مومن کی اذاں ہے۔ وہ خدا کی توحید اور کبریائی کا اعلان ہے۔

فلسفہ میرے خمیر اور رگ رگ میں ہے اور اس پر عبور رکھنے کے بعد میں تمہیں ایک نکتہ سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ عقل انسان کو خدا سے محروم کر دیتی ہے اور فلسفہ زندگی سے دور کر تا ہے۔ دینِ اسلام زندگی گزارنے کا ایک عظیم دستور العمل ہے۔ یہی حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم ؑکا راز ہے۔ یہی ان عظیم ہستیوں کی بتائی ہوئی راہ ِ عمل ہے۔ تو علی مرتضیٰ ؓ کی اولاد بو علی سینا جیسے فلسفیوں کی پیروی مت کر۔ تو راستہ دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہے تیرے لیے بہتر ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو اپنا رہنما بنا لے۔ )

ذوالفقار احمد چیمہ

Advertisements

حکیم مومن خان مومنؔ : تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حکیم مومن خان مومنؔ 1800 ء میں دِلّی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حکیم غلام نبی تھا۔ خاندانی حکیم تھے۔ مومنؔ سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیب ہو گئے تھے۔ اچھا حافظہ پایا تھا۔ شطرنج کے عمدہ کھلاڑی تھے۔عربی و فارسی کے بڑے عالم تھے۔ طبیعت شروع ہی سے شاعری کی طرف مائل تھی۔ شاعری کے علاوہ علمِ نجوم میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔اُن کی پیش گوئیاں حیران کن حد تک درست ثابت ہوتی تھیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی عزت و توقیر ہر جگہ کی جاتی تھی۔ مومنؔ وضع دار ،وجیہہ ،انتہائی پرکشش اور خوبصورت آدمی تھے۔عالمِ شباب میں اُن کی عشق و عاشقی کے چرچے عام رہے۔

مومن خان مومنؔ کو تاریخ گوئی میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کے شاگردوں میں نواب مصطفی خان شیفتہؔ بہت مشہور ہوئے جن کے دیوان کا نام ’’ تذکرہ گلشنِ بے خار‘‘ ہے۔ 1852 ء میں کوٹھے سے گر کر وفات پائی جس کے متعلق خود تاریخ لکھی۔ مومن خان مومنؔ کو اِس شعر پر شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مرزا غالبؔ کو مومنؔ کا یہ شعر اِس قدر پسند آیا کہ غالبؔ اپنا سارا دیوان اِس شعر کے عوض دینے کو تیار ہو گئے۔ اِس بات کا شہرہ مومنؔ کا مقامِ شاعری متعین کرنے میں بہت ممدو ثابت ہوا۔ عشق کی سچی واردات، نفاست اور سچائی جذبات مومنؔ کی شاعری کے خاص اوصاف تھے۔ شعری اثاثہ میں ایک دیوان اور چھ مثنویاں چھوڑیں۔

مومنؔ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجربات و واردات قلبی کو ایسی تہذیب و شائستگی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اُردو شاعری میں وہ اپنی مثال آپ بن گئے۔ اِس منفرد تغّزل نے مومن خان مومنؔ اور اُن کی شاعری کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ کلامِ مومنؔ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں خلوص اور سچائی بڑی صفائی سے جھلکتی ہے۔عشق و محبت کی وادی پُرخار میں جو اُن کے قلب و جگر پر بیتی اُسے شعر کے لطیف سانچے میں ڈھال دیا۔ خلوص اور سچائی کا انہیں یہ صلا ملا کہ بہ نسبت دیگر شعرا کے اُن کے کلام میں دلکشی، جاذبیت اور اپیل زیادہ پائی جاتی ہے۔ معاملات عشق میں مومنؔ کا بیان رسمی تکلفات سے قطعی ناآشنا معلوم ہوتا ہے۔

مومنؔ کی غزل میں مضامین کے لحاظ سے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں وہی فرسودہ اور پائمال مضامین دہرائے گئے ہیں۔ مگر مومنؔ نے اِن کو کمال مصوری اور ذہنی اُپچ سے کام لے کر تخیل کا ایسا رنگ دیا کہ وہ چونکا دینے کی حد تک بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ خیال کی کارفرمائی اور طرزِ اظہار نے اُردو غزل کے پرانے مضامین کو نیا لباس اور آہنگ دے کر تصور آفرین اور شائستہ فکر بنا دیا۔ مومنؔ کے تغزل کی دلکشی کا سارا راز اُن کے طرزِ بیان میں ہے۔ یہ طرزِ بیان دیگر غزل گو شعرا سے بالکل الگ، مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنؔ نے اپنے اِس مخصوص اُسلوب کی بدولت نہ صرف ذوقؔ اور غالبؔ کی دِلّی میں نام پیدا کیا بلکہ اُردو کے معروف متغزلین کی صف میں بھی ایک باوقار اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ مومنؔ نے اپنے اُسلوب میں ابہام، رمزو کنایہ، طنز و تضاد اور تراکیب سے بڑی صفائی اور ہنر مندی سے کام لیا ہے۔

سیّد ارشاد حسین

انسان تنہا کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟

گئے وقتوں کی بات ہے شہر لاہور میں ادبی و ثقافتی روایات کا شہرہ پوری دنیا میں تھا۔ لاہور کے چائے خانوں میں ادیبوں، دانشوروں، وکلاء اساتذہ کے گروپس بیٹھ کر آپس میں ملکی و بین الاقوامی حالات پر مباحثے کیا کرتے تھے۔ لاہور میں چائے خانوں کی بہتات تھی۔ ٹی ہائوس، کافی ہائوس، نگینہ بیکری، پرانی انارکلی کے لاتعداد ٹی سٹال ایسے تھے جہاں لوگ گروپوں کی شکل میں بیٹھ کر مختلف مسائل پر باتیں کیا کرتے تھے۔ یہی نہیں محلوں کے ڈیرے اور تھڑے بھی آباد ہوتے تھے۔ تھڑا کلچر لاہور شہر کا خاصہ تھا، بازاروں میں گھروں کے دروازے کے ساتھ ہی تھڑے بنے ہوئے ہوتے تھے جہاں شام کو لوگ جب دفتروں سے واپس آتے تھے وہاں بیٹھ کر خوش گپیاں کی جاتی تھیں۔ ایسے ہی چند خوشحال افراد نے اپنے گھروں کے باہر ڈیرے بھی بنائے ہوتے تھے جہاں احوال سیاست کے ساتھ ساتھ محلے دار ایک دوسرے کی خبر گیری بھی کرتے تھے.

بلکہ لاہور شہر کے بارے میں مشہور ہے یہاں کی سیاست اسی تھڑا کلچر سے شروع ہوتی تھی۔ لاہور کی سیاست شام 6 بجے کے بعد تھڑوں سے شروع ہوتی اور سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سائنس نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی۔ صرف سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا دور تھا۔ موبائل فون کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔ ایک لیٹربکس تھا جو ہر کسی کے گھر پر نہیں لگا ہوتا تھا۔ خط و کتابت کا عروج تھا کسی عزیز کو خط لکھنا اور پھر اس خط کے جواب کا انتظار کرنا درمیان میں جو دن آتے تھے انتظار کا رومانس جو انسانی دل دماغ پر ہوتا تھا اس کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ لوگوں کے آپس میں رابطے تھے۔ شام کو بڑے کمرے میں سارا گھر اکٹھا ہو جاتا، واحد سرکاری TV پر رات آٹھ بجے سارا خاندان مل کر ڈرامہ دیکھتا تھا۔ وقفے کے دوران اس ڈرامے پر آپس میں بات ہوتی تھی۔

پھر جب فلم دیکھنے کا پروگرام بن جاتا تو سارا خاندان اور دوست مل کر سینما گھر فلم دیکھنے جاتے ایک قسم کی مشترکہ خاندانی تفریح کا ساماں ہوتا تھا۔ لاہور کے میلے کسی نے نہیں دیکھے آج کی نسل تو شاید ان میلوں ٹھیلوں کی رونق سے نا واقف ہے مگر پرانے لوگ جانتے ہیں شہر میں میلوں کے دوران کیسا سماں ہوتا تھا۔ ایک عجب قسم کی ثقافتی زندگی کا دور تھا اس شہر لاہور میں۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، سائنس کی نت نئی ایجادات آئی، وی سی آر اور سینما کا دور ختم ہو گیا۔ پہلے ڈش انٹینا اور کیبل سسٹم متعارف ہوا۔ موبائل فون انٹرنیٹ کی جدید ترین 3G ،4G ٹیکنالوجی آئی۔ جدیدیت نے سارا منظرنامہ ہی بدل دیا۔ ٹیلی ویژن کا تصور ہی بدل گیا۔ لوگ موبائل فون پر ڈرامے اور فلمیں دیکھنے لگ گئے ہر بندے کے پاس اپنا موبائل سوشل میڈیا کی آمد نے ایک نیا منظرنامہ بنا دیا ہے۔ وہ بحث مباحثے جو چائے خانوں ،چوپالوں اور تھڑوں پر ہوا کرتے تھے اب سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹویٹر پر ہوتے ہیں۔

ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے واٹس اپ اور SMS کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی باشعور انسان جدیدیت کے خلاف نہیں ہوتا مگر ایک بات جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے جو سائنس نے انسانی زندگی کی تنہائی میں کہیں اضافہ تو نہیں کر دیا۔ اب ایک گھر میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں رابطہ کرنے کے لیے موبائل فون کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ کیا انسان تنہائی کی طرف نہیں جا رہا ۔ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے معاشرے نے جدید سائنس کی ترقی کو منفی انداز سے کیوں لیا ہے۔ یہ سب ایجادات مغرب سے آئی ہیں کیا وہاں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ ایک بحث طلب سوال ہے مگر ہمیں یہاں مغرب کو چھوڑ کر اپنے سماج اپنے خطے کے معروضی حالات کی طرف دیکھنا ہو گا۔ ان سطور کو لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جدید سائنس کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ بالکل نہیں ہمیں جدیدیت کو مثبت انداز سے لینا چاہیے۔ اپنی روایات کو ختم کرنا نہیں چاہیے انسانی تنہائی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔

انسانوں سے انسانوں کی جو جڑت ہے اس کو بالکل ختم نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعے کی عادت ڈالیں۔ مطالعہ بحث مباحثے کو جنم دیتا ہے۔ اپنے کتب خانے آباد رکھیں، چائے خانوں اور تھڑوں کی محفلیں آباد رہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے رابطہ رکھیں۔ سماج میں مکالمے کا سفر کبھی نہیں روکنا چاہیے ، مکالمہ جمود کو توڑتا ہے۔ ایک دوسرے کو فتح نہیں کرنا صرف اپنی دلیل سے قائل کرنا ہے۔ اس کے لیے جدید سائنس سے بھی استفادہ اٹھانا ہے اور انسانی جڑت کے جو روایتی طریقے ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ہمیں انسانوں کو تنہا نہیں کرنا ایک سماجی مکالمے کی طرف جانا ہے۔

حسنین جمیل

نامور افسانہ نگار، شاعرہ، ناول نگار امرتا پریتم

شہرہ آفاق نظم ” اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول” کی خالق شاعرہ
امرتا پریتم اگست 1919ء میں گورونانک پورہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام امرت کور تھا۔ والد کا نام گیانی کرتار سنگھ تہکاری تھا جو رسالہ ریخت نگار لاہور کے ایڈیٹر تھے۔ امرتاپریتم نے بڑے علمی و ادبی ماحول میں تربیت پائی اور اپنے والد سے گورمکھی”پنجابی” سیکھی اور شاعری کا فن سیکھا ۔چودہ برس کی عمر میں ہی گیانی کا امتحان پاس کر لیا۔ لاہور میں رہتے ہوئے انگریزی بھی پڑھ لی اور چھوٹی عمر ہی سے شاعری میں اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ ابھی امرتا پریتم کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی کہ ماں کی مامتا سے محروم ہو گئیں۔ ماں کی موت کے المناک واقعہ نے ان کے خوابیدہ جذبوں کو بیدار کر دیا اور وہ اپنے المناک جذبات کے طوفان کو شاعری کے ذریعہ زمانے تک پہنچانے لگیں۔

جب ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ” امرت لہراں” شائع ہوا تو اس وقت ان کی عمر سولہ برس کی تھی۔ اس مجموعہ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد جو شعری مجموعے منظر اشاعت پر آئے ان میں جیوندا جیون، لوک پیڑ، پتھر گیٹے، لمیاں واٹاں ، میں تاریخ ہند دی، تریل دھوتے پھل، اوگیتاں والیا، منجھ دی لالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اب تک ان کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں نظموں، گیتوں کہانیوں کے مجموعے اور کئی ناول شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد انگریزی کتابوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں میں تیسری عورت، 49 دن، پکی حویلی ، شوق صراحی ، اک ہتھ مہندی اک ہتھ شالا،اَک دا بوٹا، چک 36 میں رسیدی ٹکٹ، میں جمع میں، میں جمع تو، میں جمع دنیا، سرگھی ویلا، ناگ منی اور متعدد دوسری تصانیف شامل ہیں۔ دہلی سے گرمکھی رسم الخط میں شائع ہونے والے ایک رسالہ ناگ منی کی ادارت بھی کرتی رہیں۔ قیام پاکستان کے موقع پر ہونے والی قتل و غارت گری بابت لکھی گئی ان کی درج ذیل نظم کلاسیکی ادب کا حصہ بن چکی ہے.

ڈاکٹر جاوید اکرم

 

شاہی کتب خانے

دور قدیم کے شاہی کتب خانے عام طور پر شاہی محل یا کسی مندر کا حصہ ہوتے تھے ان کو بادشاہ کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی اور تمام اخراجات کتب خانہ بھی شاہی خزانے کو برداشت کرنا پڑتے تھے۔ چنانچہ ان میں رسائی بھی شاہی خاندان کے افراد یا امراء تک محدود تھی۔ قدیم کتب خانوں کی حیثیت محکمہ دستاویزات کی طرح تھی۔ اس میں خاندان شاہی کے حالات حکومت کے اخراجات کا ریکارڈ اور جنگی معاہدات وغیرہ سے متعلق کاغذات محفوظ رکھے جاتے تھے۔ لہذا ضرورت کے وقت بادشاہ یا وزراء یہاں حکومتی معاملات کے لیے آتے یا پھر شہزادے تفریح طبع اور ذوق مطالعہ کی تسکین کی خاطر چلے آتے تھے۔

ایسے حالات میں عوام کا گزران کتب خانوں میں دشوار تھا۔ عہد قدیم میں فراعنہ مصر کے کتب خانوں سے لے کر نینوا کے کتب خانے تک یہی حالات دیکھنے میں آتے تھے۔ برخلاف اس کے عباسیہ دور کے شاہی کتب خانوں میں بغداد کا بیت الحکمت بہت مشہور ہے یہ اگرچہ شاہی کتب خانہ تھا مگر قدیم کتب خانوں کی طرح محلات یا مندروں سے ملحق نہ تھا اس کی عمارت بالکل جدا اور کتب خانے کے لیے مخصوص تھی۔ بیت الحکمت میں خلیفہ و امراء کو مطالعہ کی جس طرح مراعات حاصل تھیں۔ اسی طرح ہر ایک پڑھے لکھے انسان کو یہاں داخلے کی عام اجازت تھی۔ یعنی یہ کتب خانے شاہی اخراجات سے چلتے اور شاہی سرپرستی میں ہونے کے باوجود عام کتب خانوں کی طرح خدمات انجام دیتے تھے۔ کہتے ہیں بیت الحکمت میں دس ہزار کتابیں مختلف موضوعات پر تھیں۔ ان میں بہت سی غیر زبانوں کی کتابوں کے تراجم بھی موجود تھے لہذا ہر فکر و خیال کا قاری خواہ غلام ہو یا آزاد یہاں سے استفادہ کر سکتا تھا۔

 ہارون رشید نے بیت الحکمت میں دو محکمے قائم کئے تھے۔ ایک کتابوں کی فراہمی کا اور دوسرا تصنیف و تالیف کا۔ ان شعبہ جات میں بلا لحاظ مذہب و ملت بڑے بڑے عالموں اور دانشوروں کو تحریر و تراجم کے لیے رکھا گیا تھا جبکہ قدیم کتب خانوں میں اس رواداری اور مساوات کا پتا نہیں چلتا۔ جانسن اپنی کتاب کمیونی کیشن میں اسکندریہ کے کتب خانے کی بابت لکھتا ہے کہ اس میں ایک غلام بھی آ کر کتابوں سے فیض حاصل کر سکتا تھا مگر یہ بات صرف کہی جا سکتی ہے ورنہ جس دور میں عوام کو آزادانہ حقوق حاصل نہ ہوں وہاں علماء اور غلام شاہی کتب خانوں سے استفادہ کر سکیں قیاس میں نہیں آتا۔ عباسیہ دور کے کتب خانوں کی تاریخ سے پتا چلتا ہے وہاں ان سلاطین کتب خانوں میں ہر کس و ناکس کو مطالعہ کی عام اجازت تھی۔

 (کتب اور کتب خانوں کی تاریخ سے انتخاب)

جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چند ایام

فیڈرل بی ایریا کے مکان میں جہاں بابا (جوش ملیح آبادی) کے مداحوں اور احباب کا آنا جانا رہتا تھا وہاں ہمارے عزیز و اقارب اور رشتے داروں کا بھی آنا جانا رہتا تھا۔ راولپنڈی سے ہماری خالہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی ان کے اہل و عیال اور خاوند آیا کرتے تھے۔ لاہور سے ہماری دوسری خالہ جو کہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی کی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ قدسیہ جہاں (بیہ خالہ) ان کے اہل و عیال اور خاوند بھی اکثر آیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بہنیں بابا کی حقیقی بھانجیاں تھیں۔ کراچی میں بھی ہمارے رشتے دار اکثر آیا کرتے تھے جن میں اشفاق بھائی رفیق بھائی اور ان کے اہل و عیال تشریف لایا کرتے تھے۔

ایک ہماری نانی کی کزن ’’سنو خالہ‘‘ بہت آیا کرتی تھیں۔ ان کی آواز کی گھن گرج کی وجہ سے بابا نے ان کو ریڈیو کا خطاب دیا تھا۔ ان کے شوہر ضمیر قد کے لحاظ سے قدرے لمبے تھے ہمارے والد محترم التفات احمد خان شہاب ملیح آبادی نے ان کا نام ’’گنا‘‘ رکھ دیا تھا اور وہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر ’’گنا خالو‘‘ کا نام رہتا تھا۔ ہماری نانی کے حقیقی بھانجے افتخار علی خان (منے ماموں) جو کہ نواب مصطفی علی خان کے صاحبزادے تھے اکثر اپنے بیوی بچوں سمیت آیا کرتے تھے۔ انتہائی دلچسپ انسان تھے وہ قصہ گوئی کے ماہر تھے اور ہم سب بہن بھائی ان کی قصہ گوئی سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے بعض اوقات ہم لوگ ان کی غیر یقینی بات کو بھی جانتے بوجھتے یقین کر کے ہنستے رہتے تھے۔ بابا سے ملنے والوں کا ایک بڑا حصہ اہل علم اور اہل قلم سے وابستہ حضرات کا تھا جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

ایک مرتبہ اداکار سید کمال مرحوم اپنے اہل و عیال اور اپنے بھائی میجر جلال مرحوم کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ میجر جلال نے بابا سے اصرار کیا تھا کہ آپ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں لیکن بابا نے اپنی مشغولیات کی بناء پر معذرت کر لی تھی ۔ ممتاز دانشور ضیاء محی الدین بھی محترم افتخار عارف کے ساتھ بابا کو اپنے پروگرام ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ میں مدعو کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہا کہ ہم آپ کا اپنے پروگرام میں دس ایک منٹ انٹرویو کریں گے ، بابا سے رہا نہ گیا اور فوراً ٹوک دیا کہ یہ دس ایک منٹ کیا ہوتے ہیں۔ یا تو دس منٹ ہوں گے یا صرف ایک منٹ۔ محترم ضیاء محی الدین بہت زور سے ہنسے اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ روحانی پیشوا حضرت بابا ذہین شاہ تاجی بابا سے ملنے اسی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔ بابا ذہین جی تاجی سفید لمبا دراز کرتا اور گلے میں سفید چادر زیب تن کر کے آیا کرتے تھے۔

فرخ جمال ملیح آبادی

(کتاب : جوش ملیح آبادی سے انتخاب)

یہ ادبی میلے ٹھیلے

مجھے لگتا ہے کے ایل ایف کا آئیڈیا جے پور لٹریری فیسٹیول سے لیا گیا ہو گا۔ مگر پاکستانی زمین اس آئیڈیئے کے لیے اتنی زرخیز ثابت ہوئی کہ معاملہ کئی ہاتھ آگے چلا گیا۔ دو ہزار تیرہ میں لاہور میں رضی احمد نے لاہور لٹریری فیسٹول ( ایل ایل ایف ) منعقد کیا۔ سرکار نے بھی کچھ فراخ دلی کی اور یہ شہر کے کیلنڈر کا سالانہ ایونٹ بن گیا یعنی ہر فروری کے آخری ہفتے میں ایل ایل ایف ہوگا۔ مگر اس برس چوبیس تا چھبیس فروری جو پانچواں ایل ایل ایف ہونے والا تھا اس کے ساتھ صرف ایک دن پہلے کے خودکش حملے نے ہاتھ کر دیا۔ ہاتھ تو دراصل حکومتِ پنجاب کے فول پروف حفاظتی دعووں کے ساتھ ہوا مگر انتظامیہ کی بد حواسی کا نزلہ ایل ایل ایف پر گر گیا۔ پہلے جگہ بدلوائی گئی۔ پھر تین دن کم کرا کے ایک دن کرایا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ تین دن میں اگر پچھلے ایل ایل ایف کی طرح ایک لاکھ لوگ امڈ آئے تو خود کش بمباروں کی تو چاندی ہو جائے گی۔

ایل ایل ایف کو بند جگہ میں اپنے سیکیورٹی انتظامات خود کرنے کی شرط پر صبح سے شام تک منعقد ہونے کی اجازت دینے کے بعد حکومتِ پنجاب نے یکسوئی سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنا شروع کیا۔ اور ایک روزہ ایل ایل ایف کے صرف گیارہ دن بعد ( پانچ مارچ ) قذافی اسٹیڈیم میں ہر دو تماشائیوں کی حفاظت پر اوسطاً ڈیڑھ سپاہی تعینات کر کے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ حکومت ِ پنجاب کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ یہ وہی ایل ایل ایف ہے جو پچھلے برس نیویارک اور لندن میں بھی منعقد کیا گیا تا کہ دہشت گردی کی گرد سے آلودہ پاکستان کا شفاف علمی و ادبی چہرہ بھی سامنے آ سکے۔ اور یہ وہی ایل ایل ایف ہے جس کے بارے میں خادمِ اعلیٰ شہباز شریف گذشتہ برس کہہ چکے ہیں کہ ایسے میلے پاکستان کی اچھائیوں کا آئینہ ہیں۔

بات پتہ نہیں کیا ہو رہی تھی اور میں کہاں سے کہاں بہک گیا۔ عرض یہ کرنا تھا کہ پچھلے سات برس میں کراچی لٹریری فیسٹیول سے جو نئی علمی و ادبی روایت شروع ہوئی اس نے جانے کہاں کہاں تک جڑیں بنا لی ہیں۔ پچھلے تین برس سے کچھ مقامی جنونی فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کرا رہے ہیں۔ اس میں زیادہ زور اردو اور علاقائی لکھاریوں اور ادب کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ بلوچستان سے میڈیا اچھی خبریں بہت کم اٹھاتا ہے مگر گوادر کے نوجوانوں نے مسلسل تین برس سے گوادر بک فیسٹیول کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نام نہاد قومی میڈیا کو اپنی بے ساختہ کوریج پر مجبور کر دیا۔ میں نے اب تک کتاب کی جتنی بھوک اور للک گوادر بک فیسٹیول میں دیکھی شائد ہی کسی اور لٹریری میلے میں نظر آئی ہو۔حالانکہ گوادریوں کی جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے جتنے بڑے شہروں کے کتابی کیڑوں کے کھیسے میں پائے جاتے ہیں۔

سندھ میں کے ایل ایف کی دیکھا دیکھی دیگر علم دوستوں نے بھی لٹریری فیسٹیولز منعقد کرنے شروع کر دیے ہیں۔ پچھلے دو برس سے حیدرآباد میں گلوکار سیف سمیجو ، ثنا خوجہ اور بیسیوں نوجوان رضاکار لاہوتی میوزک اینڈ لٹریچر فیسٹیول کا علم بلند کیے ہوئے ہیں ( میوزک اور لٹریچر ایک ساتھ ! وٹ این آئیڈیا سر جی )۔ کراچی میں گذرے نومبر میں پہلا سندھ لٹریری فیسٹیول بخشن مہرانوی اور علی آکاش نے دوستوں سے مل کر اور عین وقت پر کچھ سپانسرز کے پھسل جانے کے باوجود کروایا اور اس برس بھی کمر بستہ ہیں۔ اور تو اور پچھلے برس ٹنڈو آدم میں سانگھڑ لٹریچر فیسٹیول بھی مقامی لوگوں نے منظم کر ہی لیا ( اگر کہیں اور بھی اس طرح کی سرگرمی ہو رہی ہو تو مطلع فرمائیے )۔

ان تمام علمی سرگرمیوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ منتظمین نے سرکار پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنے سپانسرز خود پیدا کیے ہیں۔ لہذا ان میلوں میں لمبی زندگی پانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اب تو ان فیسٹیولز پر تنقید بھی ہونے لگی ہے جیسے کے ایل ایف ، آئی ایل ایف اور ایل ایل ایف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انھیں اشرافیہ کے علمی زوق کے اعتبار سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اردو اور علاقائی ادب و لکھاریوں کے بجائے مغربی و دیگر بدیسی مصنفوں کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔ زیادہ تر اجلاسوں کی زبان انگریزی ہوتی ہے۔ فوڈ اسٹالز پر کتابوں کے اسٹالز سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایسے ایسے فیشن نظر آتے ہیں گویا کتابوں کا میلہ نہیں ڈربی ریس ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تنقید کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب بڑے میلوں میں اردو اور علاقائی زبانوں کی نمایندگی سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ جوں جوں صارف کا اصرار بڑھتا جائے گا توں توں ان میلوں کی شکل بھی بدلتی چلی جائے گی۔ سارا کھیل ڈیمانڈ اور سپلائی کا ہے۔ مجھے تو یہ میلے طبقاتی دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً کے ایل ایف میں اب ہر سال ایسے نوجوانوں سے پہلے سے زیادہ ملاقات ہو رہی ہے جو اندرونِ سندھ سے بسوں میں بیٹھ کر کراچی صرف اس میلے میں مصنفین کو سننے اور کتابوں سے ملنے آتے ہیں۔

اور جو مطمئن نہیں ہے وہ اپنے ذوق کے اعتبار سے میلہ منعقد کرالے۔ جیسے سندھ لٹریچر فیسٹیول نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر گفتگو کی کمی کو پورا کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ روایت مسلسل پھیلنی چاہیے۔ کسی شعلہ بار اجتماع میں شرکت کر کے اپنا خون ابالنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو تین دن کے ان میلوں میں ہر رنگ و نسل و طبقے کے درمیان ٹھنڈے ٹھنڈے وقت گذار دیا جائے۔ وگرنہ وقت تو ہمیں گذار ہی رہا ہے۔ اتنی سی بات کب سمجھ میں آئے گی کہ اس سماج کو کلاشنکوف سے زیادہ ملاقات ، مکالمے اور کتاب کی ضرورت ہے۔ ایسے چوروں کی ضرورت ہے جو جیکٹ میں چوری چھپے بارود بھر کے لانے کے بجائے کتابیں بھر کے اڑ جائیں۔

وسعت اللہ خان