شوکت تھانوی… ایک نادر روزگار افسانہ نویس

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں قدرت نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں۔ ان کے فن کی کئی جہتیں ہوتی ہیں اور انہیں کثیر الجہات شخصیت کہا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت کا نام تھا شوکت تھانوی۔ شوکت تھانوی صحافی بھی تھے اور مضمون نگاری بھی کرتے تھے۔ کالم نگاری میں بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ ناول نویسی میں بھی نام کمایا، افسانے بھی لکھے، براڈ کاسٹر بھی تھے۔ ڈرامہ نویسی میں بھی ان کا نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ مزاح نگاری بھی ان کا میدان تھا اور پھر شاعر بھی تھے۔ اب بھلا کون ایسا دوسرا ادیب یا شاعر ہو گا جو اتنی جہتوں کا مالک ہو گا۔ مرحوم احمد ندیم قاسمی نے بالکل درست کہا تھا کہ شوکت تھانوی جیسا زبردست انسان کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے۔

لگتا ہے ان کے فن کی کوئی حد ہی نہیں۔ وہ لامحدود صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ اب اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ نقادوں کی رائے میں شوکت تھانوی کے فن کا خزانہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آپ ان کے فن کا محاکمہ کرتے کرتے تھک جائیں گے لیکن ان کے مکمل فن کا آخری سرا پھر بھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ شوکت تھانوی دو فروری 1904ء کو تھانہ بھون بندربان اترپردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔ تھانہ بھون اترپردیش کے ضلع مظفرنگر کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ تھانہ دراصل جگہ کا نام ہے اور اس کا مطلب پولیس تھانہ نہیں۔ امتیاز علی تاج نے شوکت تھانوی کو مشورہ دیا کہ وہ لاہورمیں ہنجولی آرٹ پکچرز میں شمولیت اختیار کر لیں۔ شوکت تھانوی نے امتیاز علی تاج کا یہ مشورہ قبول کر لیا اور پنچولی آرٹ پکچرز میں کہانی نویس اور نغمہ نگار کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔  1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پنچولی آرٹ پکچرز بند ہو گیا۔ اس کے بعد شوکت تھانوی نے ریڈیو پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی۔ پھر انہوں نے ایک اخبار میں مزاحیہ کالم لکھنے شروع کر دیئے۔ ان کے کالم کا عنوان تھا ’’وغیرہ وغیرہ‘‘۔ یہ کالم اس زمانے میں بہت مقبول ہوا۔ شوکت تھانوی نے مجموعی طور پر 60 کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں افسانوں کے مجموعے اور مزاحیہ مضامین اور ناول شامل ہیں۔

ان کا شعری مجموعہ ’’گوہرستان‘‘ بھی خاصا مقبول ہوا۔ کالم نگاری کے حوالے سے ان کے مضمون ’’سوادیشی ریل‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے کیونکہ اس مضمون کے بعد ہی انہیں صف اول کا مزاح نگار تسلیم کر لیا گیا۔ انہوں نے ایک فلم ’’گلنار‘‘ میں اداکاری بھی کی۔ لاہور کی کشش شوکت تھانوی کو لاہور لے آئی۔ انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب ’’لاہوریات‘‘ بھی لکھی۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی ٹانگے والے سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ وہ انہیں ریڈیو سٹیشن چھوڑ آئے۔ کیونکہ وہ جب بھی یہ کہتے ہیں تو ٹانگے والا انہیں ریلوے سٹیشن لے جاتا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں انارکلی بازار کا بھی بڑا ذکر کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور میں دو چیزیں بیک وقت ہو رہی ہیں۔ چیزوں کی تباہی اور تعمیر ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس مضمون میں لاہور کی تاریخی عمارات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ایک زمانے میں وہ روزانہ دس میل تک سائیکل کا سفر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لاہور میں بیویاں اپنے شوہروں کے غلط کاموں پر ان کو مطعون نہیں کرتیں بلکہ ان کے دوستوں کو موردالزام ٹھہراتی ہیں۔ شوکت تھانوی کی مشہور کتابوں میں ’’بار خاطر، بہروپیا، دنیائے تبسم، مسکراہٹیں، بیگم، بادشاہ، غلام، بیوی، کائنات تبسم، خوامخواہ، مابدولت، کچھ یادیں کچھ باتیں اور خبطی‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مشہور ٹی وی آرٹسٹ عرش منیر ان کی اہلیہ تھیں۔

شوکت تھانوی کو تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ شوکت تھانوی کی غزل بھی بڑی متاثر کن تھی۔ ہم ذیل میں ان کے چند اشعار قارئین کی نذر کر رہے ہیں۔ دھوکہ تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں انہی کا نام محبت، انہی کا نام جنون مری نگاہ کے دھوکے تری نظر کے فریب 4 مئی 1963ء کو شوکت تھانوی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے فن کا خزانہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفر

Advertisements

کہاں سے آیا، کدھر گیا وہ ناصر کاظمی

رتجگوں کا دلدادہ‘ لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے پھرنے کا عادی کبوتروں کو دانہ دنکا ڈالنے‘ پالنے پوسنے والا ناصرکاظمی ۔ وہ پاک ٹی ہائوس میں دوستوں کے درمیان بیٹھ کر خوش رہتا اور رات کے پچھلے پہر تنہائی میں آوارگی اور خود کلامی کرتے ہوئے مال روڈ کی دونوں جانب کھڑی عمارتوں اور گلی کوچوں کی نیم تاریک کھڑکیوں اور بند دروازوں کے سامنے سے گزرتا تو اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا‘ رات بھر جاگنے اور ادھوری غزل کو مکمل کرنے کے بعد وہ آہستہ سے شفیقہ کو آواز دیتا‘ بیوی نیم خوابیدہ حالت میں پوچھتی کب آئے اور سوئے کیوں نہیں‘ ناصر کاظمی سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنی غزل کا مطلع سناتا اس کی مردانہ اور گھمبیر آواز فضا میں ارتعاش پیدا کرتی‘ بیوی کھانے کے لیے پوچھتی اور ناصر کاظمی چائے پینے کا تقاضا کرتا‘ صبح دوپہر اور شام اپنے مکان کی بالائی چھت پر کبوتروں کی دیکھ بھال کرتا‘ فرصت کے اوقات میں فیچر لکھتا‘ ریڈیوکے پروگرام کا خاکہ تیار کرتا اور ’’ہم لوگ‘‘ کا اداریہ لکھتا۔

انبالہ شہر میں رہتے ہوئے اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا‘ بچپن انگڑائیاں لے کر ڈھل رہا تھا‘ وہ مسلم ہائی سکول میں دوسرے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کے علاوہ اپنے منفرد شوق رکھتا رہا‘ موسیقی سے دل بہلانے‘ ستار کے تاروں سے نکلنے والی بے الفاظ کی شاعری پر سر دھننے اور سوز و سلام کی محافل میں شرکت کرنے اور پھر کبوتر پالنے کا جنون ناصر کاظمی کو دوسرے ہم سبق لڑکوں سے ممتاز کرتا رہا۔ محلے میں صرف ایک یا دو ہم مزاج دوستوں سے بے تکلفی رہی ان میں افتخار کاظمی اور شبر نقوی اس کے گھر کے قریب اسی گلی میں رہتے تھے۔ انبالہ شہر میں محلہ سادات قاضی واڑہ میں کئی بیٹھکیں مشہور تھیں جہاں دوست احباب جمع ہوتے ہیں ان میں حسن اکبرمزد امام‘ میر حامد علی اور کرمو پہلوان کی بیٹھک میں ہمیشہ رونق رہتی۔

ناصر کاظمی اور افتخار کاظمی کو ستار سیکھنے اور شطرنج کھیلنے کا شوق تھا‘ کرمو پہلوان خوش ذوق اور خوش مزاج بزرگ تھے اور کسی زمانے میں پٹیالہ ریاست کے شاہی پہلوانوں میں شامل رہے‘ عالم پیری میں موسیقی کے رسیا ہو گئے۔ سانوالی رنگت تیکھے نقش بڑی آنکھیں چھریرا بدن خوبصورت چال اور آواز میں رسیلا پن…جانے اس کے انداز تکلم نے کسے ڈس لیا اور خود ناصر کاظمی کس مہ جبیں اور شوخ ادا کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا کہ اس کی محبت میں اداس رہنا پسند آنے لگا اس کی والدہ محمدی بیگم اپنے بیٹے کو دیکھتی کہ وہ خلائوں میں گھورتا‘ کبھی خود کلامی کرتا اور کبھی گم سم دکھائی دیتا وہ پوچھتی مگر وہ کیا جواب دیتا‘ بات ٹالنے کی خاطر وہ دیوار پر بیٹھے ہوئے کبوتر کی طرف اشارہ کرتا ’’ماں وہ کبوتر بیٹھا ہے کہو تو پکڑ لوں‘‘ وہ دبے پائوں جا کر کبوتر پر ہاتھ ڈالتا اور نعرہ زن ہوتا ’’اماں کبوتر پکڑ لیا‘‘ ماں جانتی تھی کہ ایک تو سچ کو چھپا رہا ہے۔

ناصر کاظمی کا ایک شوق تھا وہ شعر کہہ کے اختر رنگین رقم کی دکان پر جاتا اور اپنے شعر کی کتابت اور حاشیہ بنوا کر اختر رنگین رقم کو کچھ پیش کرتا لیکن محلے داری اور عزیز داری کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں کہتے ’’ابے سلطان حسن کے بیٹے میں تجھ سے پیسے لیتا اچھا لگوں گا‘ کچھ اور لکھوانا ہو تو وہ بھی لکھ دوں گا‘‘ اور یوں وقت گزرنے پر ایسے وضع دار لوگوں کے لیے ناصر کاظمی کے دل میں جگہ بنتی گئی‘ پاکستان بنا تو اختر رنگین رقم سرگودھا میں آباد ہوئے‘ کچھ عرصے بعد وہ بھی چل بسے‘ محمدی بیگم اور سطان حسن بھی رخصت ہو گئے۔ ناصر کاظمی نے ان سب کا نوحہ لکھا‘ اپنے عشق کی نامرادی کا ذکر کیا۔ آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی سب مزا رفتگاں نے چھین لیا تیرا ملنا تو خیر مشکل تھا تیرا غم بھی جہاں نے چھین لیا ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا البتہ اس نے شاعری کو جتنا دیا اس کا احاطہ ممکن نہیں۔

اس جملے کا پہلا حصہ وہ ہے جو اس کے انتقال پر شفیقہ کاظمی نے میری طرف سے تعزیت کے وقت کہا کہ ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا ہمیں اس کی شاعری سے کیا ملا۔ یقینا شاعری ایسا کار ہنر ہے جس کا معاوضہ شاعر کا مقدر نہیں مگر ایسا بھی نہیں مثلاً شاعر مشرق علامہ اقبال خود معمولی حیثیت کے مالک تھے۔ ریلوے روڈ پر ان کی رہائش دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کس معیار کی ہیں لیکن ایوان اقبال کی تعمیر دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود علامہ اقبال کے وہم و گمان میں ایسی شاندار عمارت کا تصور نہ ہو گا۔ ناصر کاظمی نے جیسی زندگی بسر کی وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے احباب میں انتظار حسین‘ سجاد باقر رضوی‘ ہوش ترمذی اور دوسرے سخنور سبھی اس زمانے کے شاکی اور قلم کی مزدوری کرتے نظر آئے ۔

حسن عسکری کاظمی

سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں

25 اپریل بروز منگل شام 7 بجے بے وقت سویا نیند سے بیدار ہوا تو عادت کے مطابق ہاتھ سرہانے پڑے موبائل فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون ہاتھ میں آتے ہی فیس بک سے رابطہ کرنے کی کوشش تو اچانک سامنے ایک خوش شکل شاعرہ کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے تحریر پڑھتے ہی دل کچھ غمگین ہو گیا۔ تحریر حادثے سے متعلق تھی جس میں بیان کیا گیا کہ ایک نوجوان شاعرہ بروز سوموار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 3 روزہ ادبی میلہ کے آخری دن 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے گریں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ کچھ تو بے وقت سونے کی کسلمندی تھی اور کچھ ایسی افسوس ناک خبر کا ملنا کہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوتے مجھے کچھ وقت لگ گیا، لیکن جب پوری طرح آنکھیں کُھلیں اور حواس بحال ہوئے تو تصویر پر کچھ غور کیا۔ غور کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے چہرے سے کچھ شناسائی ہے۔ نام پر غور کیا تو وہ بھی جانا پہچانا لگا۔ کچھ دیر اِسی حالت میں غور و فکر جاری تھا کہ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اُس دور میں چلا گیا جب وہ ہمیں پڑھایا کرتی تھیں۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک اسکول جس میں قابل پُرجوش فرزانہ ناز، بلکہ میڈم فرزانہ ناز چلتی پھرتیں اور بچوں کو بزمِ ادب کیلئے تیاری کرواتی دکھائی دیں۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ وقت تھم سا گیا اور ذہن ماضی کے خیالات میں گھومنے لگا۔ کبھی اِس خبر کو دیکھتا جس پر یقین کرنا مشکل تھا اور کبھی ماضی کی اُس ٹیچر کو یاد کرتا، میں تو میڈم فرزانہ ناز کو جانتا تھا جو میری اسکول ٹیچر تھیں لیکن میرے سامنے جو خبر تھی وہ میڈم فرزانہ ناز کی نہیں بلکہ مشہور نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز کی تھی۔ کبھی دل اُن کی شہرت پر مسرت محسوس کرتا لیکن پھر خبر کا خیال آتے ہی دنیا رکتی سی محسوس ہوتی۔

مزید اُن کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُن کے 2 کمسن بچے بھی ہیں، اور اِس پر ستم یہ کہ 3 مئی کو اُن کے پہلے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ کچھ برس قبل کی اسکول ٹیچر فرزانہ ناز پرجوش، قابل اور محنتی خاتون تھیں جنہیں یہاں پہنچنے تک طویل عرصہ لگ گیا۔ آج جب وہ مشہور شاعرہ تھیں، دو کمسن بچوں کی ماں تھیں تو اِس حادثہ کی نذر ہو گئیں۔ ادب سے محبت اور لگاؤ رکھنے والی ادبی میلے میں ہی کہیں گم ہو گئیں، جو اسٹیج پر وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کو اپنے شعری مجموعہ کی کتاب پیش کر رہی تھیں کہ اسٹیج پر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے اُن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے زمین پر گر گئیں جس کے سبب اُن کا سر پھٹ گیا اور زمین پر خون پھیل گیا۔

جلدی جلدی اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن ظلم تو یہ ہوا کہ اتنے بڑے ادبی میلے میں ایمبولینس تک کا انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر الشفاء انٹرنیشنل پہنچایا گیا مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا اور یوں وہ کومے میں چلی گئیں، مگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور منگل بروز 25 اپریل کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔

میں اِس حادثے کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انسان کس قدر بے بس ہے۔ کیا کچھ وہ اپنے لیے سوچتا ہے، اپنے مقصد کو پانے کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے، وہ اپنے لیے کتنے خواب دیکھتا ہے لیکن وہ سب خواب ایک لمحہ میں چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ساری زندگی وہ تیاری میں لگا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ اگلے لمحے تک سے واقف نہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

فرحان سعید خان

راجندر سنگھ بیدی…ایک بے مثال افسانہ نگار

اُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ویسے تو کئی نام لیے جا سکتے ہیں لیکن سعادت حسن منٹو‘ کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہو گی۔ آج ہم راجندر سنگھ بیدی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔ یکم ستمبر 1915ء کو پیدا ہونے والے راجندر سنگھ بیدی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا‘ بیدی کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزارے۔ جہاں انہوں نے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ تھا۔ جس میں ان کا معرکہ آرا افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ بھی شامل تھا۔ یہ افسانوی مجموعہ 1940ء میں شائع ہوا۔

1942ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’گرہن‘‘ شائع ہوا۔ 1943ء میں انہوں نے لاہور کے ایک چھوٹے فلم اسٹوڈیو مہنیش واری فلمز میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈیڑھ برس بعد وہ دوبارہ آل انڈیا ریڈیو چلے گئے اور ان کی پوسٹنگ جموں میں کر دی گئی۔ وہ 1947ء تک آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے رہے اور وہ جموں اینڈ کشمیر براڈ کاسٹنگ سروس کے ڈائریکٹر بن گئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت راجندر سنگھ بیدی نے کئی اور افسانے لکھے جو بے حد مقبول ہوئے انہوں نے اردو افسانے کو نہ صرف نیا اسلوب دیا بلکہ موضوعات کے حوالے سے بھی کئی تجربے کئے۔ ان کا ناولٹ ’’اک چادر میلی سی‘‘ بھی اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں انہوں نے اسلوب کے حوالے سے بالکل مختلف تجربات کئے۔ اس کے علاوہ اس ناولٹ کا موضوع بھی چونکا دینے والا تھا۔ اس ناولٹ پر ہندوستان اور پاکستان میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔

ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں ’’کوکھ جلی‘‘ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ اور ڈراموں کا مجموعہ ’’سات کھیل‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’جو گیا‘ لاجونتی‘ گرہن‘ گرم کوٹ‘ کلیانی‘‘ اور کئی دوسرے افسانے شامل ہیں۔ بعض نقاد بھی ان کے افسانوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں ہندی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں راجندر سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس ماحول پر ہے جس میں یہ افسانے لکھے گئے۔ اگر ایک افسانے میں پنجاب کے گائوں کا ماحول پیش کیا جا رہا ہے تو پھر کرداروں کی زبان بھی وہی ہو گی۔ اسی طرح اگر ایک افسانہ مکمل طور پر ہندو معاشرے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے تو پھر زبان بھی وہی ہو گی۔ بیدی نے فرسودہ روایات معاشرتی تفریق اور معاشی انصاف پر بہت لکھا۔ وہ کردار سازی بھی کمال کی کرتے تھے۔

ان کے افسانوں کے بعض کردار امر ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک اور بڑی خوبی ان کی قوت مشاہدہ ہے۔ ان کے افسانوں میں ہمیں طنز و تشنیع بھی ملتا ہے۔ ان کے طنز کرنے کا انداز بھی بہت متاثر کن ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بظاہر سادگی سے کہی ہوئی بات طنز کی چادر میں لپٹی ہوتی ہے اور بادی النظر میں یہ ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ بیدی نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ ذرا سا غور کریں تو پھر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ افسانہ نگار کمال مہارت سے اپنے فن کے جوہر دکھا گیا ہے۔  راجندر سنگھ بیدی 1982ء میں شدید علیل ہو گئے اور اسی سال وہ چل بسے۔ ان کی یاد میں بھارتی پنجاب کی حکومت نے راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ کا اجرا کیا یہ ایوارڈ ان کی اردو ادب کی خدمات کے حوالے سے شروع کیا گیا۔ راجندر سنگھ بیدی نے اردو ادب کی جتنی خدمت کی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مکالمہ نگاری سے جو مقام بنایا اُس حوالے سے اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

علامہ اقبال ؒ اور پطرس بخاری

امراض کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہو تو اُمت کے حکیم زیادہ یا د آتے ہیں جنھوں

نے سو سال پہلے مسلمانوں کو لاحق بیماریوں کا علاج بتا دیا تھا کہ؎

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

تراعلاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ایک اور جگہ کہا کہ

؎ علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

تشویشناک امر یہ ہے کہ اقبال ؒ کو بھلا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب کہ خود پاکستان اقبالؒ کا فیضان ِ نظر ہے، اقبالؒ کو وہی لوگ فراموش کرنا چاہتے ہیں جو جواز ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کی نفی کرتے ہیں۔ کیا وہ اتنے بارسوخ ہو چکے ہیں کہ مفکرِ پاکستان کو پاکستان سے جلا وطن کر دینا چاہتے ہیں۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی ساری دولت صرف کردیں تب بھی اقبال کی محبّت اور عقیدت کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔

یہی مہینہ ہے جب دانائے راز ؒ پورے ہندوستان، مشرق وسطیٰ، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیاء کے مسلمانوں کو ایک ولولہء تازہ دیکر رخصت ہوئے۔ بانگ ِ درا اور بال ِجبریل کی نظموں کا تو بہت تذکرہ ہوتا ہے، ان کے علاوہ بھی اقبالؒ کی کوئی نظم یا کوئی شعراٹھا لیں،آج بھی تروتازہ اور سو فیصد Relevant ہے۔

اس و قت میرے ہاتھ میں ضرب ِ کلیم ہے، ہر نظم اور ہر شعر ایک جہانِ دانش ہے۔ اجتہاد پراقبال ؒ نے اپنے لیکچرز میں بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔ ضرب ِ کلیم میں ایک نظم کا عنوان ہی ’’اجتہاد‘‘ ہے۔ شعر سنئیے اور سر دُھنئیے۔

 

؎ ہند میں حکمت ِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت ِ کردار نہ افکار ِعمیق

حلقہ ٔ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں

آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان ِ حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کا طریق

اقبال کے نزدیک اپنے نظریے سے منہ موڑ لینے اور اپنے حرم اور مرکز سے ناتا توڑ نے کے باعث مسلمان ذلت و زوال کا شکار ہیں۔ نظریۂ توحید کلیدی حیثیّت کا حامل ہے اور اس میں ہی اصل قوُت پوشیدہ ہے مگر فکری وحدت کافی نہیں اس کے ساتھ عملی وحدت درکار ہے۔

؎ زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علمِ کلام

میں نے اے میر ِسپاہ تیری سپاہ دیکھی ہے

قُل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

آہ اس راز سے واقف ہے نہ مُلا نہ فقیہہ

وحدت افکار کی بے وحد تِ کر دار ہے خام

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے

اسکو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

اقبال ؒ کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ وحدت ِ فکر و عمل کے بغیر ایک ملت کے طور پرزندہ نہیں رہ سکتے اور اس وحدّت کے تحفّظ کے لیے قوت درکار ہے۔ فرماتے ہیں۔

؎ وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو

آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد

اے مرد ِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل

جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نو َ میدیء جاوید

جسکا یہ تصو ّف ہو وہ اسلام کر ایجاد

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

اسلام تو شوکت و جلال اور رفعت و کمال کا پیغام ہے وہ محکومی و غلامی کا نہیں فرمانروائی کا نظریہ ہے، مغربی تہذیب اپنا لینے اور اس کی نقالی کرنے والوں کو کوئی دوسرا اسلام ایجاد کرنا ہو گا کیونکہ اصل اسلام میں غلامی اور نقالی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر انگریزوں نے نماز پڑھنے پر پابندی عائد نہ کی تو کئی ٹو ڈی اور انگریز پرست اُسی کو آزادی قرار دیکر آقاؤں کے قصیدے پڑھنے لگے۔

مسلم دشمن قوتیں ہمیشہ اسلام کے فلسفہء جہاد سے خوفزدہ رہی ہیں، ترک ِ جہاد کے فتوے دینے کے لیے ہی انگریزوں کو ایک جعلی نبی کھڑا کر نا پڑا۔ مغربی   قوتیں مسلمانوں کے جہاد پر ہر طرح کی قدغنیں اور پابندیاں لگاتی ہیں لیکن مغرب کے جارہانہ اقدامات کو جائز قرار دیتی ہیں، وہ خود کیسے ہی خطرناک ہتھیار تیار کر یں اور انھیں بے گناہ شہریوں پر استعمال کریں، جس ملک کو چاہیں تاخت و   تاراج کر دیں انھیں اس کا پورا حق ہے۔ اسی دوہرے معیار اور منافقت کو اقبالؒ نے آج سے سو سال پہلے بے نقاب کیا تھا۔ “جہاد ” کے عنوان سے ایک نظم کے چند شعر ہیں:

؎ فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کار گر

علامہ ؒ کہتے ہیں کہ مادیت میں کھویا ہوامسلمان تو پہلے ہی جہاد ترک کر چکا ہے، اس لیے اب ایسے وعظوں کی ضرورت تو یورپ اور امریکا کو ہے۔

؎ تعلیم اسکو چاہیے ترک ِ جہاد کی

دُنیا کو جسکے پنجہء خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ ِکلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ

بات اسلام کا محاسبہ، یورپ سے در گزر !

دنیامیں صرف مسلمانوں کامحاسبہ اور محاصرہ ہوا ہے جب کہ یورپ اور امریکا کو کھلی چھوٹ۔ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ انصاف نہیں ہے کیونکہ

؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات

اب ایک دلچسپ واقعہ سن لیجیے

احمد شاہ پطرس بخاری انگریزی لسانیات کے ماہر، ذہین و فطین اور نہایت شوخ و شنگ طبیعت کے مالک تھے۔ اعجاز بٹالوی اور عاشق بٹالوی کے بھائی آغا بابر اپنی دلچسپ کتاب ’’خدو خال‘‘ میں لکھتے ہیں ’’بخاری صاحب امریکا سے جنیوا جاتے ہوئے تین دن لندن میں ٹھہرے اور وہاں انھوں نے بھائی عاشق کو ڈھونڈ نکالا۔ بخاری نے پوچھا عاشق صاحب کچھ حال احوال کہیے‘‘ عاشق بٹالوی صاحب نے اقبال ؒ کا یہ شعر پڑھا:

؎ میں نوائے سوختہ در گلو تو پریدہ رنگ امیدہ بو

میں حکایتِ غمِ آرزو تو حدیث ِ ماتم دِلبری

شعر سنتے ہی بخاری صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے ایک کیفیت طاری ہو گئی اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بولے ’’زندگی تو واقعی رائیگاں گئی، کچھ بھی ہاتھ نہ آیا‘‘ کچھ دیر بعد بخاری صاحب کی حالت درست ہوئی تو انہو ں نے اقبال ؒ کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘ کے بارے میں بتایا کہ علامہ صاحب نے یہ نظم مجھے مخاطب کر کے لکھی تھی۔ میں نیا نیا ولایت سے آیا تھا علم کا خمار تھا۔ علامہ اقبال ؒ کے سامنے بے محابہ علم اور فلسفے کی نمائش کی تو انھوں نے یہ نظم لکھ کر میری طبیعت صاف کردی۔

؎ تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا زناریٔ برگساں نہ ہوتا

ہیگل کا صدف گہر سے خالی ہے اس کا طلسم سب خیالی

آدم کو ثبات کی طلب ہے دستور ِ حیات کی طلب ہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز سن مجھ سے یہ نقطہء دل افروز

انجام ِ خرد ہے بے حضوری ہے فلسفہ زندگی سے دُوری

دیں مسلک ِ زندگی کی تقویم دیں سر محمد ﷺ و ابراہیم

دل در سخنِ محمدی ؐ بند اے پور علی ؓ ز بو ُ علی چند

اے سید زادے تو اگر اپنی خودی سے بیگانہ نہ ہو جاتا تو برگساں جیسے فلسفیوں کا پجاری نہ بنتا، تو اپنی معرفت سے دور رہا جس کے باعث تو نے فلسفیوں کو اپنا رہنما بنا لیا ہے اور اسطرح تو اپنی اصلیت کھو گیا ہے۔ ہیگل (مشہور فلسفی) کی سیپی موتیوں سے خالی اور اس کا سارا طلسم خیالی ہے۔ یعنی ان کے فلسفے انسانیت کے لیے بے فائدہ اور بیکار ہیں۔ انسان ایسی شئے کی تلاش میں ہے جس سے اسے بقاء اور چَین نصیب ہو۔ ایسا کوئی دستور العمل ان فلسفیوں کی تصانیف میں نہیں ہے۔ جس چیز سے اس عالم کی تاریکی روشنی میں بدل سکتی ہے وہ مومن کی اذاں ہے۔ وہ خدا کی توحید اور کبریائی کا اعلان ہے۔

فلسفہ میرے خمیر اور رگ رگ میں ہے اور اس پر عبور رکھنے کے بعد میں تمہیں ایک نکتہ سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ عقل انسان کو خدا سے محروم کر دیتی ہے اور فلسفہ زندگی سے دور کر تا ہے۔ دینِ اسلام زندگی گزارنے کا ایک عظیم دستور العمل ہے۔ یہی حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم ؑکا راز ہے۔ یہی ان عظیم ہستیوں کی بتائی ہوئی راہ ِ عمل ہے۔ تو علی مرتضیٰ ؓ کی اولاد بو علی سینا جیسے فلسفیوں کی پیروی مت کر۔ تو راستہ دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہے تیرے لیے بہتر ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو اپنا رہنما بنا لے۔ )

ذوالفقار احمد چیمہ

حکیم مومن خان مومنؔ : تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حکیم مومن خان مومنؔ 1800 ء میں دِلّی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حکیم غلام نبی تھا۔ خاندانی حکیم تھے۔ مومنؔ سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیب ہو گئے تھے۔ اچھا حافظہ پایا تھا۔ شطرنج کے عمدہ کھلاڑی تھے۔عربی و فارسی کے بڑے عالم تھے۔ طبیعت شروع ہی سے شاعری کی طرف مائل تھی۔ شاعری کے علاوہ علمِ نجوم میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔اُن کی پیش گوئیاں حیران کن حد تک درست ثابت ہوتی تھیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی عزت و توقیر ہر جگہ کی جاتی تھی۔ مومنؔ وضع دار ،وجیہہ ،انتہائی پرکشش اور خوبصورت آدمی تھے۔عالمِ شباب میں اُن کی عشق و عاشقی کے چرچے عام رہے۔

مومن خان مومنؔ کو تاریخ گوئی میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کے شاگردوں میں نواب مصطفی خان شیفتہؔ بہت مشہور ہوئے جن کے دیوان کا نام ’’ تذکرہ گلشنِ بے خار‘‘ ہے۔ 1852 ء میں کوٹھے سے گر کر وفات پائی جس کے متعلق خود تاریخ لکھی۔ مومن خان مومنؔ کو اِس شعر پر شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مرزا غالبؔ کو مومنؔ کا یہ شعر اِس قدر پسند آیا کہ غالبؔ اپنا سارا دیوان اِس شعر کے عوض دینے کو تیار ہو گئے۔ اِس بات کا شہرہ مومنؔ کا مقامِ شاعری متعین کرنے میں بہت ممدو ثابت ہوا۔ عشق کی سچی واردات، نفاست اور سچائی جذبات مومنؔ کی شاعری کے خاص اوصاف تھے۔ شعری اثاثہ میں ایک دیوان اور چھ مثنویاں چھوڑیں۔

مومنؔ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجربات و واردات قلبی کو ایسی تہذیب و شائستگی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اُردو شاعری میں وہ اپنی مثال آپ بن گئے۔ اِس منفرد تغّزل نے مومن خان مومنؔ اور اُن کی شاعری کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ کلامِ مومنؔ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں خلوص اور سچائی بڑی صفائی سے جھلکتی ہے۔عشق و محبت کی وادی پُرخار میں جو اُن کے قلب و جگر پر بیتی اُسے شعر کے لطیف سانچے میں ڈھال دیا۔ خلوص اور سچائی کا انہیں یہ صلا ملا کہ بہ نسبت دیگر شعرا کے اُن کے کلام میں دلکشی، جاذبیت اور اپیل زیادہ پائی جاتی ہے۔ معاملات عشق میں مومنؔ کا بیان رسمی تکلفات سے قطعی ناآشنا معلوم ہوتا ہے۔

مومنؔ کی غزل میں مضامین کے لحاظ سے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں وہی فرسودہ اور پائمال مضامین دہرائے گئے ہیں۔ مگر مومنؔ نے اِن کو کمال مصوری اور ذہنی اُپچ سے کام لے کر تخیل کا ایسا رنگ دیا کہ وہ چونکا دینے کی حد تک بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ خیال کی کارفرمائی اور طرزِ اظہار نے اُردو غزل کے پرانے مضامین کو نیا لباس اور آہنگ دے کر تصور آفرین اور شائستہ فکر بنا دیا۔ مومنؔ کے تغزل کی دلکشی کا سارا راز اُن کے طرزِ بیان میں ہے۔ یہ طرزِ بیان دیگر غزل گو شعرا سے بالکل الگ، مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنؔ نے اپنے اِس مخصوص اُسلوب کی بدولت نہ صرف ذوقؔ اور غالبؔ کی دِلّی میں نام پیدا کیا بلکہ اُردو کے معروف متغزلین کی صف میں بھی ایک باوقار اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ مومنؔ نے اپنے اُسلوب میں ابہام، رمزو کنایہ، طنز و تضاد اور تراکیب سے بڑی صفائی اور ہنر مندی سے کام لیا ہے۔

سیّد ارشاد حسین

انسان تنہا کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟

گئے وقتوں کی بات ہے شہر لاہور میں ادبی و ثقافتی روایات کا شہرہ پوری دنیا میں تھا۔ لاہور کے چائے خانوں میں ادیبوں، دانشوروں، وکلاء اساتذہ کے گروپس بیٹھ کر آپس میں ملکی و بین الاقوامی حالات پر مباحثے کیا کرتے تھے۔ لاہور میں چائے خانوں کی بہتات تھی۔ ٹی ہائوس، کافی ہائوس، نگینہ بیکری، پرانی انارکلی کے لاتعداد ٹی سٹال ایسے تھے جہاں لوگ گروپوں کی شکل میں بیٹھ کر مختلف مسائل پر باتیں کیا کرتے تھے۔ یہی نہیں محلوں کے ڈیرے اور تھڑے بھی آباد ہوتے تھے۔ تھڑا کلچر لاہور شہر کا خاصہ تھا، بازاروں میں گھروں کے دروازے کے ساتھ ہی تھڑے بنے ہوئے ہوتے تھے جہاں شام کو لوگ جب دفتروں سے واپس آتے تھے وہاں بیٹھ کر خوش گپیاں کی جاتی تھیں۔ ایسے ہی چند خوشحال افراد نے اپنے گھروں کے باہر ڈیرے بھی بنائے ہوتے تھے جہاں احوال سیاست کے ساتھ ساتھ محلے دار ایک دوسرے کی خبر گیری بھی کرتے تھے.

بلکہ لاہور شہر کے بارے میں مشہور ہے یہاں کی سیاست اسی تھڑا کلچر سے شروع ہوتی تھی۔ لاہور کی سیاست شام 6 بجے کے بعد تھڑوں سے شروع ہوتی اور سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سائنس نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی۔ صرف سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا دور تھا۔ موبائل فون کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔ ایک لیٹربکس تھا جو ہر کسی کے گھر پر نہیں لگا ہوتا تھا۔ خط و کتابت کا عروج تھا کسی عزیز کو خط لکھنا اور پھر اس خط کے جواب کا انتظار کرنا درمیان میں جو دن آتے تھے انتظار کا رومانس جو انسانی دل دماغ پر ہوتا تھا اس کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ لوگوں کے آپس میں رابطے تھے۔ شام کو بڑے کمرے میں سارا گھر اکٹھا ہو جاتا، واحد سرکاری TV پر رات آٹھ بجے سارا خاندان مل کر ڈرامہ دیکھتا تھا۔ وقفے کے دوران اس ڈرامے پر آپس میں بات ہوتی تھی۔

پھر جب فلم دیکھنے کا پروگرام بن جاتا تو سارا خاندان اور دوست مل کر سینما گھر فلم دیکھنے جاتے ایک قسم کی مشترکہ خاندانی تفریح کا ساماں ہوتا تھا۔ لاہور کے میلے کسی نے نہیں دیکھے آج کی نسل تو شاید ان میلوں ٹھیلوں کی رونق سے نا واقف ہے مگر پرانے لوگ جانتے ہیں شہر میں میلوں کے دوران کیسا سماں ہوتا تھا۔ ایک عجب قسم کی ثقافتی زندگی کا دور تھا اس شہر لاہور میں۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، سائنس کی نت نئی ایجادات آئی، وی سی آر اور سینما کا دور ختم ہو گیا۔ پہلے ڈش انٹینا اور کیبل سسٹم متعارف ہوا۔ موبائل فون انٹرنیٹ کی جدید ترین 3G ،4G ٹیکنالوجی آئی۔ جدیدیت نے سارا منظرنامہ ہی بدل دیا۔ ٹیلی ویژن کا تصور ہی بدل گیا۔ لوگ موبائل فون پر ڈرامے اور فلمیں دیکھنے لگ گئے ہر بندے کے پاس اپنا موبائل سوشل میڈیا کی آمد نے ایک نیا منظرنامہ بنا دیا ہے۔ وہ بحث مباحثے جو چائے خانوں ،چوپالوں اور تھڑوں پر ہوا کرتے تھے اب سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹویٹر پر ہوتے ہیں۔

ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے واٹس اپ اور SMS کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی باشعور انسان جدیدیت کے خلاف نہیں ہوتا مگر ایک بات جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے جو سائنس نے انسانی زندگی کی تنہائی میں کہیں اضافہ تو نہیں کر دیا۔ اب ایک گھر میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں رابطہ کرنے کے لیے موبائل فون کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ کیا انسان تنہائی کی طرف نہیں جا رہا ۔ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے معاشرے نے جدید سائنس کی ترقی کو منفی انداز سے کیوں لیا ہے۔ یہ سب ایجادات مغرب سے آئی ہیں کیا وہاں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ ایک بحث طلب سوال ہے مگر ہمیں یہاں مغرب کو چھوڑ کر اپنے سماج اپنے خطے کے معروضی حالات کی طرف دیکھنا ہو گا۔ ان سطور کو لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جدید سائنس کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ بالکل نہیں ہمیں جدیدیت کو مثبت انداز سے لینا چاہیے۔ اپنی روایات کو ختم کرنا نہیں چاہیے انسانی تنہائی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔

انسانوں سے انسانوں کی جو جڑت ہے اس کو بالکل ختم نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعے کی عادت ڈالیں۔ مطالعہ بحث مباحثے کو جنم دیتا ہے۔ اپنے کتب خانے آباد رکھیں، چائے خانوں اور تھڑوں کی محفلیں آباد رہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے رابطہ رکھیں۔ سماج میں مکالمے کا سفر کبھی نہیں روکنا چاہیے ، مکالمہ جمود کو توڑتا ہے۔ ایک دوسرے کو فتح نہیں کرنا صرف اپنی دلیل سے قائل کرنا ہے۔ اس کے لیے جدید سائنس سے بھی استفادہ اٹھانا ہے اور انسانی جڑت کے جو روایتی طریقے ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ہمیں انسانوں کو تنہا نہیں کرنا ایک سماجی مکالمے کی طرف جانا ہے۔

حسنین جمیل