راجندر سنگھ بیدی…ایک بے مثال افسانہ نگار

اُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ویسے تو کئی نام لیے جا سکتے ہیں لیکن سعادت حسن منٹو‘ کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہو گی۔ آج ہم راجندر سنگھ بیدی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔ یکم ستمبر 1915ء کو پیدا ہونے والے راجندر سنگھ بیدی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا‘ بیدی کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزارے۔ جہاں انہوں نے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ تھا۔ جس میں ان کا معرکہ آرا افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ بھی شامل تھا۔ یہ افسانوی مجموعہ 1940ء میں شائع ہوا۔

1942ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’گرہن‘‘ شائع ہوا۔ 1943ء میں انہوں نے لاہور کے ایک چھوٹے فلم اسٹوڈیو مہنیش واری فلمز میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈیڑھ برس بعد وہ دوبارہ آل انڈیا ریڈیو چلے گئے اور ان کی پوسٹنگ جموں میں کر دی گئی۔ وہ 1947ء تک آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے رہے اور وہ جموں اینڈ کشمیر براڈ کاسٹنگ سروس کے ڈائریکٹر بن گئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت راجندر سنگھ بیدی نے کئی اور افسانے لکھے جو بے حد مقبول ہوئے انہوں نے اردو افسانے کو نہ صرف نیا اسلوب دیا بلکہ موضوعات کے حوالے سے بھی کئی تجربے کئے۔ ان کا ناولٹ ’’اک چادر میلی سی‘‘ بھی اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں انہوں نے اسلوب کے حوالے سے بالکل مختلف تجربات کئے۔ اس کے علاوہ اس ناولٹ کا موضوع بھی چونکا دینے والا تھا۔ اس ناولٹ پر ہندوستان اور پاکستان میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔

ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں ’’کوکھ جلی‘‘ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ اور ڈراموں کا مجموعہ ’’سات کھیل‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’جو گیا‘ لاجونتی‘ گرہن‘ گرم کوٹ‘ کلیانی‘‘ اور کئی دوسرے افسانے شامل ہیں۔ بعض نقاد بھی ان کے افسانوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں ہندی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں راجندر سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس ماحول پر ہے جس میں یہ افسانے لکھے گئے۔ اگر ایک افسانے میں پنجاب کے گائوں کا ماحول پیش کیا جا رہا ہے تو پھر کرداروں کی زبان بھی وہی ہو گی۔ اسی طرح اگر ایک افسانہ مکمل طور پر ہندو معاشرے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے تو پھر زبان بھی وہی ہو گی۔ بیدی نے فرسودہ روایات معاشرتی تفریق اور معاشی انصاف پر بہت لکھا۔ وہ کردار سازی بھی کمال کی کرتے تھے۔

ان کے افسانوں کے بعض کردار امر ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک اور بڑی خوبی ان کی قوت مشاہدہ ہے۔ ان کے افسانوں میں ہمیں طنز و تشنیع بھی ملتا ہے۔ ان کے طنز کرنے کا انداز بھی بہت متاثر کن ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بظاہر سادگی سے کہی ہوئی بات طنز کی چادر میں لپٹی ہوتی ہے اور بادی النظر میں یہ ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ بیدی نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ ذرا سا غور کریں تو پھر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ افسانہ نگار کمال مہارت سے اپنے فن کے جوہر دکھا گیا ہے۔  راجندر سنگھ بیدی 1982ء میں شدید علیل ہو گئے اور اسی سال وہ چل بسے۔ ان کی یاد میں بھارتی پنجاب کی حکومت نے راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ کا اجرا کیا یہ ایوارڈ ان کی اردو ادب کی خدمات کے حوالے سے شروع کیا گیا۔ راجندر سنگھ بیدی نے اردو ادب کی جتنی خدمت کی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مکالمہ نگاری سے جو مقام بنایا اُس حوالے سے اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

بانو قدسیہ کی کچھ یادیں

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا، آپ اُن سے کبھی ملے بھی نہیں ہوتے لیکن آپ کو اُن سے محبت ہو جاتی ہے۔ یہ محبت بھی بڑی ظالم شے ہے، انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے، کوئی انسان اپنی فطرت اور عادات میں جتنا چاہے کُھردرا اور سخت ہو، محبت اُسے موم بنا ہی دیتی ہے، وہ زیر ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ نے بھی محبت کی اور اپنی محبت کو پا لیا۔ یہ محبت اُن کی تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہے، محبت کی یہی چاشنی ہے جو اُن کی تحریروں میں رس گھولتی ہے۔ پڑھنے والا پڑھتا ہے اور سر دُھنتا ہے۔ بانو قدسیہ جیسے لوگوں کا ایک مسئلہ بھی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام سے محبت کرتے ہیں، اسلامی شعائر کا مذاق نہیں اُڑاتے اور یہی چیز لوگوں کو چُبھتی ہے۔ آج کا ہر نیا ادیب یہ سوچتا ہے کہ وہ خود کو اُس وقت تک بڑا ادیب ثابت نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے سوالات کو ایک نئے سرے سے دوبارہ نہ اُٹھائے، حالانکہ اِن سوالوں کے جوابات کئی بار معقول انداز سے دیئے جا چکے ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں بانو قدسیہ ایک سوال کے جواب میں کہتی ہیں، ’’میں ’راجہ گدھ‘ کے متعلق آپ کو بتا سکتی ہوں۔ آج وہ سترہ اٹھارہ سال سے سی ایس ایس کے امتحان میں لگا ہوا ہے۔ ڈاکٹر اجمل آپ کو یاد ہو گا ؟ نفسیات دان تھے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل بھی رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُسے مقابلہ کے اِس امتحان میں لگایا تھا۔ میں یہاں پر بیٹھی تھی اور میرا کوئی ارداہ نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا ناول لکھوں گی، ’راجہ گدھ‘ کی طرح کا۔ اُن دنوں ہمارے گھر میں ایک امریکی لڑکا ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ امریکی تہذیب، امریکی زندگی، امریکی اندازِ زیست سب کے بارے میں یہ ثابت کرے کہ وہ ہم سے بہتر ہے، مسلمانوں سے بہتر ہے، تو ایک روز وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا، اچھا مجھے دو لفظوں میں، ایک جملے میں بتائیے، آپ صرف چھوٹی سی بات مجھ سے کیجئے کہ اسلام کا ایسنس (جوہر) کیا ہے؟

میں نے اُس سے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ عیسائیت کا ایسنس کیا ہے؟ اس نے کہا: ove – Love thy neighbor as thyself، یہ ایسنس ہے عیسائیت کا۔ میں نے کہا اسلام کا جو ایسنس ہے وہ اخوت ہے، برابری ہے، بھائی چارہ ہے brother hood ہے۔ کہنے لگا چھوڑیئے یہ کسی مذہب نے نہیں بتایا کہ برابری ہونی چاہیئے۔ یہ تو کوئی ایسنس نہیں ہے یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا۔ یقین کیجیئے، یہاں پر پہلے ایک بہت بڑا درخت ہوتا تھا سندری کا درخت۔ سندری کا درخت ہوتا ہے جس سے سارنگی بنتی ہے۔ اُس کے بڑے بڑے پتے تھے اور وہ یہاں لان کے عین وسط میں لگا ہوا تھا، وہ ایک دَم سفید ہوگیا اور اُس پر مجھے یوں لگا جیسے لکھا ہوا آیا ہو، اسلام کا ایسنس حرام و حلال ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اُسے میں نے کیوں کہا کیونکہ اُس پر ایکشن (عمل) سے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جتنے کمانڈمنٹس ہیں یا تو وہ حرام ہیں یا حلال ہیں۔ حلال سے آپ کی فلاح پیدا ہوتی ہے اور حرام سے آپ کے بیچ میں تشنج پیدا ہوتا ہے، آپ میں ڈپریشن پیدا ہوتا ہے۔ میں نے اُس امریکی لڑکے کو بلایا اور اسے کہا، یاد رکھنا اسلام حرام و حلال کی تمیز دیتا ہے اور یہی اس کا ایسنس ہے۔

بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ اُس کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکھی اور میں وہ بتا نہیں سکتی کہ کس طرح اللہ نے اُن کی رہنمائی کی اور اُن کی مدد فرمائی اور انہیں یہ لگتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے نہیں لکھی بلکہ اُن سے کسی نے لکھوائی ہے۔ اُس کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ میری بہت ساری کتابیں ہیں۔ 25 کے قریب کتابیں میری ہو چکی ہیں اور جتنا بھی اُس پر کام ہوا ہے میں آپ کو بتا ہی نہیں سکتی کہ کس طرح ہوا ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ تھے جو اسلام کو اپنی معاشرت اور ثقافت کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ اُنہیں معلوم تھا کہ یہ ملک اُنہوں نے کیسے حاصل کیا ہے۔

پاکستان بننے سے متعلق کہتی ہیں، ’’جب پاکستان بنا ہے اُسی سال میں نے بی اے کیا۔ آپ یقین کریں جو تجربات ہمیں پاکستان کے قیام کے وقت ہوئے ہیں، وہ آپ لوگوں کو سمجھ میں بھی نہیں آ سکتے۔ آپ لوگ چھوٹے ہیں۔ آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کیا چیز تھی اور کیا بنا ہے۔ جب کالج میں ہم امتحان دے رہے تھے تو یک دم آگ لگ گئی۔ پھر کنیرڈ کالج سے اُٹھا کر لڑکیوں کو بس میں ڈالا گیا اور ایف سی کالج لے کر گئے اور ہم نے وہاں امتحان کا پرچہ دیا۔ راستے میں بھی اندیشہ تھا کہ لڑکیاں اغواء نہ کر لی جائیں۔ ایسے حالات میں ہم نے امتحان کیا۔ پھر پاکستان بنا۔ پھر آپ جانتے نہیں جیسے اشفاق صاحب ہمیشہ کہتے رہتے تھے، کہتے چلے گئے ہیں، پاکستان جو ہے یاد رکھئے، یاد رکھیے، پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عزتِ نفس حاصل ہو۔ پاکستان کا سلوگن (نعرہ) روٹی کپڑا اور مکان نہیں ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان جو ہے وہ تو اوپر والا دیتا ہے۔ آپ یقین کریں روٹی کپڑا اور مکان انسان دے نہیں سکتا کسی کو۔ آپ دعویٰ کرلیجئے، دے کر دکھائیے کسی کو، اگر آپ کو اپنے بچوں کو بھی روٹی کپڑا اور مکان دینا پڑے تو آپ دے نہیں سکیں گے۔ مجبوریاں درپیش ہوجائیں گی، کوئی وجہ ہو جائے گی، نوکری چھوٹ جائے گی، کچھ ہو جائے گا۔ لیکن عزتِ نفس، شیریں کلامی، کسی کے ساتھ اچھا سُخن کرنا، یہی ہم کسی کو دے سکتے ہیں۔‘‘

جنہوں نے کبھی بانو قدسیہ کو نہیں پڑھا، یہ سوال یقیناً اب اُن کے اذہان میں وارد ہوا ہو گا کہ آخر بانو قدسیہ کون تھی؟ بانو قدسیہ کا مختصر تعارف اُن کیلئے پیش کئے دیتے ہیں۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیمِ ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ اُن کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور اُن کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اُس وقت اُن کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اُس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ اُن کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انہیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے اُنہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو اُن کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر جماعت کو اپنا اپنا ڈرامہ پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو 30 منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لئے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ اُن سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اُس چیلنج کو قبول کیا اور بقول اُن کے جتنی بھی اْردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ اُن کی پہلی کاوش تھی۔

اُس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اِس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اْردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر اُن کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950ء میں اُس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔ اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتیکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اُس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تا کہ مقابلہ پورا ہو۔ اِس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا، اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ افزائی بھی کی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک اُن کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انہیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔

بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور، جبکہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انہوں نے بی اے کا امتحان دیا اُس وقت 47ء کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اِس آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ اِس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لئے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے اور بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں اِس لیے مطمئن تھیں کہ یہاں تو مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ حصہ تو پاکستان کے حصے میں ہی آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے، چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیئے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بِچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔

پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انہیں کامیابی ملی تھی۔ 1949ء میں انہوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد اُن کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956ء میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شُغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں لکھاری کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انہوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا، تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرپٹ رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔

ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اُس کے لئے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہوجاتی تھی۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف کے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جبکہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر اُنہوں نے 1965ء تک لکھا، پھر ٹی وی نے انہیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لئے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کئے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اِس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترکہ کاوش سے اُن کا گھر تعمیر ہوا۔

لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ اِن دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا، ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اْبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ اِن دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہوگئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اْتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اُس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981ء میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ، اُن کے لئے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔

یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لئے محض اسی لئے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اِس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے۔ راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں 2003ء میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کئے۔ بانو قدسیہ کو 26 جنوری 2017ء کو طبعیت خرابی کے باعث لاہور کے اتفاق اسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیرِ علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ انتقال کر گئیں۔ بانو قدسیہ کے انتقال کے بعد ملک بھر میں اُن کے ناولوں کے اقتباسات لوگوں نے بڑی تعداد میں پڑھے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا۔ اُن کے ناولوں کے چند مشہور اقتباسات درج ذیل ہیں۔

’’کرنیل کور ہونٹ بغیر ہلے کہہ رہے تھے۔ یا رسول اللہ ﷺ ! تیرے در پر آئے ہوئے لوگوں کے لئے تیرے پیاروں نے دروازے کیوں بند کر رکھے ہیں؟ مجھے اِس بات کا رنج نہیں کہ سوڈھی سرداروں کی لڑکی تیلی سے بیاہی جارہی ہے۔ میں تو پوچھتی ہوں کتنے سو، برسوں میں ایک نو مسلم مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمان کہلانے کے لئے کتنے برسوں کی کھٹالی میں رہنا پڑتا ہے۔‘‘

(کتنے سو سال سے اقتباس)

اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے۔ یا باری تعالیٰ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔ آقائے دو جہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے، جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اْس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اْس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔

ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ؟

جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے، بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ، یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں۔ خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے، جبکہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں‘‘

(’امر بیل ‘ سے لیا گیا اقتباس)

’’محبت نفرت کا سیدھا سادہ شیطانی روپ ہے، محبت سادہ لباس میں ملبوس عمر وعیار ہے، ہمیشہ دو راہوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے، اُس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشاں گِرا ہوتا ہے، محبت کے جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کچھ سزا نہیں ہوتی، ہمیشہ عمر قید ہوتی ہے، محبت کا مزاج ہوا کی طرح ہے، کہیں ٹکتا نہیں، محبت میں بیک وقت توڑنے اور جوڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے، محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے، جب تک روز اُس تصویر میں رنگ نہ بھرو، تصویر فیڈ ہونے لگتی ہے، روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا۔ اِس طرح جس روز محبت کا آفتاب طلوع نہ ہو رات رہتی ہے۔‘‘

(راجہ گدھ سے اقتباس)

اعظم طارق کوہستانی

بانو قدسیہ کے ناولوں سے اقتباسات

بالآخر ’’بانو آپا‘‘ بھی چلی گئیں۔ 4 فروری 2017ء کو اپنے آخری سفر پر روانہ ہوئیں اور یوں اشفاق احمد سے 13 سال کی جدائی بھی ختم ہو گئی۔ 1928ء میں فیروز پور، بھارتی پنجاب میں پیدا ہونے والی بانو نے قیام پاکستان کے بعد اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ ہجرت کی اور لاہور کو نیا گھر بنایا۔ یہاں انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے اُردو زبان میں ماسٹرز کیا۔ یہیں ان کے ایک ہم جماعت نے انہیں اپنا ہم سفر بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اور یوں انہیں اشفاق احمد کا ساتھ ملا جو بعد میں معروف افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، مترجم اور براڈ کاسٹر کے طور پر مشہور ہوئے۔ حلقہ احباب میں انہیں ’’بانو آپا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بانوقدسیہ نے طالبِ علمی کے دور میں اپنا پہلا افسانہ لکھا جو ’’ادب لطیف‘‘ نامی میگزین میں شائع ہوا۔

انہوں نے اُردو اورپنجابی زبانوں میں کئی مقبول ڈرامے بھی لکھے۔ بانو قدسیہ کی مشہور کتابوں میں آتش زیرپا، آدھی بات، ایک قدم، امربیل، آسے پاسے، بازگشت، چہار چمن، دست بستہ، دوسرا دروازہ، فٹ پاتھ کی گھاس، حاصل گھاٹ، ہوا کے نام، کچھ اور نہیں، موم کی گلیاں، ناقابلِ ذکر، پیا نام کا دیا، شہرِ بے مثال، سورج مکھی، تماثیل، توجہ کی طالب شامل ہیں۔ 1981ء میں انہوں نے شہرہ آفاق ناول ’’راجہ گدھ‘‘ تحریر کیا۔ اُردو ادب کی لازوال خدمات پر انہیں سال 2003ء میں ستارہ امتیاز اور سال 2010ء میں بلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

ذیل میں بانو قدسیہ کے چند ناولوں سے اقتباسات قارئین کی ذوق کے نذر کر رہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

 میرے اردگرد کپلنگ کا مقولہ گھومتا رہتا ہے۔ مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق۔ یہ دونوں کبھی نہیں مل سکتے۔ سوچتا ہوں مل بھی کیسے سکتے ہیں؟ مشرق میں جب سورج نکلتا ہے مغرب میں عین اس وقت آغازِ شب کا منظر ہوتا ہے۔ سورج انسان کے دن رات متعین کرنے والا ہے۔ پھر جب ایک کی رات ہو اور دوسری جگہ سورج کی کرنیں پھیلی ہوں۔ ایک قوم سوتی ہو ایک بیدار ہو تو فاصلے کم ہونے میں نہیں آتے۔ (حاصل گھاٹ سے اقتباس)

کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سہارا بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور گیس میں بدل جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے، جو موسم، جو رُت، جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔ (راجہ گدھ سے اقتباس)

 میری چپ، حویلی کے صدر دروازے کے قدموں میں گرے ہوئے اس قفل کی مانند ہے جسے چور پچھلی رات دروازے کے کنڈے سے اُتار کر پھینک گئے ہوں۔ ایسا تالا بہت کچھ  کہتا ہے، لیکن کوئی تفصیل بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ ساری واردات سے آگاہ ہوتا ہے۔ لیکن اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ حفاظت نہ کر سکنے کا غم، اپنی ہیچ مدانی کا احساس، اپنے مالکوں سے گہری دغا بازی کا حیرت انگیز انکشاف اسے گم سم کر دیتا ہے۔ (انترہوت اداسی سے اقتباس)

بحث کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ بال کی کھال نکالنے سے کیا حاصل؟ میری بلا سے آپ چاہے کچھ سمجھتے ہوں مجھے اپنے نظریوں پر شکوک نہیں ہونے چاہئے۔ آپ اگر دنیا کو چپٹا سمجھتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ (شہرِ بے مثال سے اقتباس)

 بھلا زوال کیا ہوا تھا؟ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ابلیس کا گناہ فقط تکبر ہے لیکن میرا خیال ہے کہ تکبر کا حاصل مایوسی ہے۔ جب ابلیس اس بات پر مصر ہوا کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کر سکتا تو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا لیکن جب تکبر ناکامی سے دو چار ہوا تو ابلیس اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام بھی ناکام ہوئے۔ وہ بھی جنت سے نکالے گئے۔ لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے۔ یہی تو ساری بات ہے۔ ابلیس نے دعویٰ کر رکھا ہے، میں تیری مخلوق کو تیری رحمت سے مایوس کروں گا۔ نااُمید، مایوس لوگ میرے گروہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کے چاہنے والوں کا اغواء ممکن نہیں۔ وہ کنویں میں لٹکائے جائیں، صلیب پر لٹکیں، وہ مایوس نہیں ہوں گے۔ (سامان وجود سے اقتباس)

 اللہ تعالیٰ جس کو اپنا آپ یاد دلانا چاہتا ہے اسے دکھ کا الیکٹرک شاک دے کر اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسان دوسروں کے لئے نرم پڑ جاتا ہے۔ پھر اس سے نیک اعمال خودبخود اور بخوشی سرزد ہونے لگتے ہیں۔ دکھ تو روحانیت کی سیڑھی ہے۔ اس پر صابرو شاکر ہی چڑھ سکتے ہیں۔ (دست بستہ سے اقتباس)

خواہشات تو سبھی کے دل میں ہوتی ہیں۔ سب ان کی تکمیل چاہتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ ان تک رسائی کے لیے کون سا راستہ جاتا ہے۔ اسی راستے کے انتخاب میں تو انسان کا پتہ چلتا ہے۔ اسی انتخاب میں انسان کی بڑائی یا اس کا چھوٹا پن چھپا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ وہ سونے کا ہے یا پیتل کا۔ ہیرو بھی ہیروئین تک پہنچنا چاہتا ہے اور ولن بھی… صرف راستے کے انتخاب سے ایک ہیرو ٹھہرتا ہے اور دوسرا ولن۔ (فٹ پاتھ کی گھاس سے اقتباس)

پاکستان لوٹ جانے میں جو بھی وجوہات مانع تھیں، اپنی جگہ، لیکن امریکہ میں بھی میرا دم گھٹنے لگا۔ وہاں میری اندر کی زندگی ایسی تھی جیسے مکڑی کا جالا ہوا میں تیرتا ہو… کشتی کی ٹوٹی پتوار بے کراں سمندر پر بے مقصد پھرتی ہو… میں لمحے سے لمحے تک… دن کو دن سے، سالوں کو نئے سال سے جوڑتا رہا۔ امریکہ صرف ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا سفر تھا۔ ضروریات بڑھ رہی تھیں، ان کے لئے جدوجہد اور بھی روز افزوں تھی۔ دن ہفتے، مہینے، سال معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی نذر ہوتے رہے۔ پاکستان میں میرا جسم نا آسودہ تھا، امریکہ میں روح تشنہ رہنے لگی۔ ہولے ہولے اس تشنہ روح نے سوال پوچھنا شروع کر دئیے… کیا میں دنیا میں صرف زیادہ کمفرٹس فراہم کرنے کے لئے لایا گیا ہوں؟ مجھے کیا کرنا ہے؟ کس کے لئے کرنا ہے اور پھر کیوں کرنا ہے؟ (کعبہ میرے پیچھے سے اقتباس)

 اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے۔ یا باری تعالیٰ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے؟ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے۔ آقائے دو جہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے؟ جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ؟؟ جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مرکھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے سامنے معذور کھڑے ہوں۔ خوشی کو قناعت میں بدلنے والے رب سے کوئی کیا کہے۔ جبکہ آج تک اُس نے کبھی انسان کی ایجاد کردہ گھڑی اپنی کلائی پر باندھ کر دیکھی ہی نہیں۔ (امربیل سے اقتباس)

گھر ہمیشہ مہربانیوں سے لٹتے ہیں۔ نئی محبتوں سے اُجڑتے ہیں۔ ایسی مہربانیاں جو گھر کی سالمیت کو دیمک بن کر چاٹ جاتی ہیں۔ ایسی مہربانیاں جو ماں سے زیادہ چاہ کر کی جاتی ہیں۔ جب کوئی چاہنے والا گھر کے ایک فرد کی انا کو جگا کر اسے وہ سارے مظالم سمجھاتا ہے جو گھر کے دوسرے فرد اس پر کرتے رہے ہیں۔ وہ ان ساری لڑائیوں کے ڈھکے چھپے معنی واضح کر دیتا ہے تو گھر کی پہلی اینٹ گرتی ہے۔ گھر کی ایک ایک اینٹ محبت سے اکھاڑی جاتی ہے۔ ہر چوگاٹ پر دہلیز چوم چوم کر توڑی جاتی ہے۔ جب باہر کا چاہنے والا لفظوں میں شیرینی گھول کر گھر والوں کو بہکاتا ہے تو پھر کوئی سالمیت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ ہر انسان کمزور لمحوں میں خود ترسی کا شکار رہتا ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق میں لگا رہتا ہے کہ اس پر مظالم ہوئے اور اسی لئے وہ ظلم کرنے میں حق بجانب ہے۔ ہم اپنوں کو تو نہ سمجھا سکے تو ان کو کیا بتاتے کہ ہمارے گھر کی اساس غلط نہ تھی چاہنے والے غلط تھے۔ ہر پُرانی محبت میں پُرانے پن کی وجہ سے جو غلطیاں کوتاہیاں موجود ہوتی ہیں اُن کو اجاگر کرنے والے بہت ذہین تھے.(سمجھوتہ سے اقتباس)

بانو قدسیہ کی یاد میں

’راجہ گدھ،’، ’پُروا’، ’توبہ شکن’، ’حاصل گھاٹ’، ’دست بستہ’ ان کہانیوں میں شامل ہیں جن کا ذکر سنیچر کی شام کو بانو قدسیہ کے انتقال کی خبر کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ہونے لگا۔ اردو زبان کی مصنفہ بانو قدسیہ کے انتقال کی خبر آنے کے کچھ ہی دیر کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر سب سے پہلا ہیش ٹیگ تھا: BanoQudsia #. بانو قدسیہ کو یاد کرنے اور ان کی ادبی خدمات کا ذکر کرنے والوں میں سیاستدان اور مختلف طبقات کے لوگ شامل تھے۔ کسی نے ان کے لیے دعا کی اور کسی نے یاد کیا کہ کیسے بانو قدسیہ کی کہانیاں ان کی زندگی پر اثر انداز ہوئیں۔ بہت سے لوگوں نے بانو قدسیہ کے ساتھ اپنی کچھ یادگار تصاویر بھی ٹوئٹر پر لگائیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اپنی ٹویٹ میں بانو قسدیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی ادبی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ادبی شخصیات کی قلت کے اس دور میں ایک اور عظیم کہانی نویس دنیا سے چلا  گیا’۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی ٹویٹ کیا کہ ’ان کا متصوفانہ طرز تحریر اور جداگانہ اسلوب ہمیشہ زندہ رہے گا‘۔

عصمت چغتائی : سماج کی باغی رومان پرور ادیبہ

برصغیر کی ممتاز فسانہ نگار عصمت چغتائی نے خواتین کے حقوق کی آواز بلند کی تو ان کی تحریریں تحریک بن گئیں، اپنے دامن میں بیک وقت الزامات اور اعزازات سمیٹنے والی عصمت چغتائی کو بچھڑے 25 برس ہو چکے ہیں۔

بیسویں صدی کے وسط میں ہر طرف منٹو، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی جیسے افسانہ نگاروں کا ڈنکا بج رہا تھا کہ ایک اور نام برابر آن کھڑا ہوا،یہ نام تھا عصمت چغتائی کا۔

اگست 1915ء میں بھارتی صوبے اترپردیش میں آنکھ کھولنے والی عصمت چغتائی نے شعور کی آنکھ کھولی تو عورت کو محکوم، محروم، مظلوم پایا،عورت کو برابر ثابت کرنے کے لیے قلم اٹھایا تو ان کے افسانے اور کہانیاں تحریک بن گئیں،یہ تحریریں اردو ادب کا ستون بھی قرار پائیں۔

عصمت چغتائی نے تین سو سے زائد مختصرکہانیاں لکھیں، ناولوں میں ضدی، ٹیڑھی لکیر، اک قطرہ خون اور بہروپ نگر نے مقبولیت کی انتہا چھوئی۔

ان کا افسانہ ’لحاف‘ اپنے ساتھ فحش نگاری کے الزامات لایا، فحش نگاری کا مقدمہ بھی چلا مگر سماج کی یہ باغی کئی ادبی اعزازت کی بھی حقدار ٹھہریں۔

عصمت چغتائی کی زندگی ادبی کارناموں سے ہی نہیں سجی ہوئی، ہنگامے، تنازع، مقدمے اور بدنامیاں بھی ان کے حصے میں آئیں، برصغیر کی اس بڑی ادیبہ نے، 24 اکتوبر 1991ء کو دنیا سے منہ موڑا تو زندگی کی طرح ان کی موت بھی متنازع اور ہنگامہ پرور تھی۔

باتیں اشفاق احمد کی

زندگی میں کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے اور آپ اس بات کو مائنڈ نہ کیجیے گا۔ اگر آپ کو روحانیت کی طرف جانے کا بہت شوق ہے تو اس بات کو برا نہ سمجھئے گا کہ بعض اوقات ماں باپ کے اثرات اس طرح سے اولاد میں منتقل نہیں ہوتے جس طرح سے انسان آرزو کرتا ہے۔ اس پر کسی کا زور بھی نہیں ہوتا۔ ٹھیک 44 برس بعد جب میرا پوتا جو بڑا اچھا بڑا ذہین لڑکا اور خیرو شر کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے وہ جاگنگ کر کے گھر میں واپس آتا ہے ،تو اس کے جوگر جو کیچڑ میں لتھڑے ہوتے ہیں،وہ ان کے ساتھ اندر گھس آتا ہے اور وہ ویسے ہی خراب جوگروں کے ساتھ چائے بھی پیتا ہے اور سارا قالین کیچڑ سے بھر دیتا ہے۔

 میں اب آپ کے سامنے اس بات کا اعتراف کرنے لگا ہوں کہ میں اسے برداشت نہیں کرتا تھا کہ وہ خراب، کیچڑ سے بھرے جوگروں کے ساتھ قالین پڑ چڑھے۔ میرا باپ جس نے مجھے ڈرم لا کر دیا تھا میں اسی کا بیٹا ہوں اور اب میں پوتے کی اس حرکت کو برداشت نہیں کرتا۔ دیکھئے یہاں کیا تضاد پیدا ہوا ہے۔ میں نے اپنے پوتے کو بہت شدت کے ساتھ ڈانتا اور جھڑکا کہ تم پڑھے لکھے لڑکے ہو تمہیں شرم آنی چاہیے کہ یہ قالین ہے برآمدہ ہے اور تم اسے کیچڑ سے بھر دیتے ہو۔ اس نے کہا: ’’دادا آئی ایم ویری سوری!! میں جلدی میں ہوتا ہوں، جوگر اُتار نے مشکل ہوتے ہیں۔ امی مجھے بلا رہی ہوتی ہیں کہ have a cup of tea تو میں جلدی میں ایسے ہی اندر آجاتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا کہ تمہیں اس کا احساس ہونا چاہیے۔

 اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو چنانچہ میں اس پر کمنٹس کرتارہا۔ ٹھیک ہے مجھے ایک لحاظ سے حق تو تھا، لیکن جب یہ واقعہ گزر گیا، تو میں نے ایک چھوٹے سے عام سے رسالے میں اقوال زرّیں وغیرہ میں ایک قول پڑھا کہ ’’جو شخص ہمیشہ نکتہ چینی کے موڈ میں رہتا ہے اور دوسروں کے نقص نکالتا ہے، وہ اپنے آپ میں تبدیلی کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے‘‘ انسان کو خود یہ سوچنا چاہیے کہ جی مجھ میں فلاں تبدیلی آنی چاہیے جی میں سگریٹ پیتا ہوں، اسے چھوڑنا چاہتا ہوں یا میں صبح نہیں اُٹھ سکتا میں اپنے آپ کو اس حوالے سے تبدیل کر لوں۔

 ایک نکتہ چیں میں کبھی تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی ذات کی جو بیڑی ہے وہ کمزور ہونے لگتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب سیل کمزور ہو جائیں تو ایک بیٹری کا بلب ذرا سا جلتا ہے پھر بجھ جاتا ہے۔ اسی طرح کی کیفیت ایک نکتہ چیں کی ہوتی ہے۔ میں نے وہ قول پڑھنے کے بعد محسوس کیا کہ میری نکتہ چینی اس لڑکے پرویسی نہیں ہے۔ جیسا کہ میرے باپ کی ہو سکتی تھی۔ میرے باپ نے سرکس سیکھنے کی بات پر مجھے نہیں کہا کہ عقل کی بات کر تو کیا کہہ رہاہے؟

 اس نے مجھے یہ کہنے کے بجائے ڈرم لا کر دیا اور میری ماں نے مجھے بادو باراں کے طوفان میں نہیں کہا کہ چب کر ڈرنے کی بات کیا ہے؟ اور میں نے دیکھا کہ میرے پوتے کی ماں (میری بہو) بازار سے تار سے بنا ہوا میٹ لے آئی اور اس کے ساتھ ناریل کے بالوں والا ڈور میٹ بھی لائی، تا کہ اس کے ساتھ پیر گھس کے جائے اور اندر کیچڑ نہ جانے پائے۔ سو یہ فرق تھا مجھ میں اور اس ماں میں۔ میں نکتہ چینی کرتارہا اور اس نے حل تلاش کر لیا۔ 

(کتاب ’’زاویہ‘‘ سے ماخوذ)  

فاطمہ ثریا بجیا، ادبی دنیا کا ایک اور چراغ بجھ گیا

fatima-surraya-bajia2

اپنی زندگی میں ہی لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر لینے والی خاتون مصنفہ اور بے مثل ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا بدھ کے روز کراچی میں رحلت کر گئیں۔ ان کی شخصیت بیان کرنے میں ایک میٹھے لہجے والی گرم جوش اور ان تھک محنت کرنے والی خاتون کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے جن کے دل میں بچوں کو سوتے وقت سنائی جانیوالی کہانیوں کے سرچشمے مدھر سروں میں بہتے رہتے تھے۔

مرحومہ نے بڑی بہن ہونے کے ناطے اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی ماں بن کر پرورش کی جن میں ایک سے بڑھ کر ایک نابغہ روزگار ہستیاں شامل ہیں۔ ان سے چھوٹی زہرہ نگاہ جنہوں نے اوائل عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوا لیا تھا۔ تاہم شادی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئیں۔

ایک چھوٹی بہن آپا زبیدہ جو چھوٹی اسکرین پر خواتین کو گھریلو ٹوٹکے بتاتی ہیں اور چھوٹے بھائی انور مقصود جنہوں نے معین اختر مرحوم کے ساتھ جوڑی بنا کر ناقابل فراموش کردار نگاریاں کیں۔ انور مقصود ایک اعلیٰ درجہ کے مصور  ہی  نہیں بلکہ پاکستان میں سب سے پہلا میوزک بینڈ بھی انھیں نے قائم کیا تھا۔ ان سب  چھوٹے بھائی بہنوں میں فاطمہ بجیا کی ہی تربیت اور تعلیم  رنگ دکھا رہی ہے۔

فاطمہ بجیا کا گھرانا علم و فضل میں بہت ممتاز تھا اور ان کے دادا کو ان کی قابلیت دیکھ کر نظام حیدر آباد میر عثمان علی نے بدایوں سے حیدر آباد آنے کی دعوت دی تھی جہاں ان کو اعلیٰ حکومتی عہدہ پیش کیا گیا لیکن جب بھارتی حکومت نے نظام  کا تختہ الٹ دیا تو ان کی فیملی کے پاس پاکستان ہجرت کر جانے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ رہا۔

ثریا بجیا کی فیملی نے پاکستان آ کر کراچی میں پڑاؤ ڈالا۔ اپنے خاندان کی ہجرت کی داستان بیان کرتے وہ یاد کرتی ہیں کہ ایک بھارتی فوجی افسر نے انھیں بمبئی جانے والی ٹرین میں سوار کرایا جہاں سے وہ سمندری سفر کے ذریعے کراچی پہنچے۔ ان کا خاندان کافی بڑا تھا جس میں ان کی دادی کے علاوہ پردادی بھی شامل تھیں اور ان کے والدین کے علاوہ 9 چھوٹے بھائی بہن۔ ان کے گھریلو سامان میں 80,000 سے زائد کتب بھی شامل تھیں جس کا ذکر کرنا مرحومہ کبھی نہ بھولتی تھیں۔

حیدر آباد میں پر آسائش زندگی بسر کرنیوالی اس فیملی کو کراچی میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک الگ داستان ہے۔ لیکن پوری فیملی نے تمام مصائب و مشکلات کا نہایت مردانہ وار مقابلہ کیا اور ان پر قابو پا لیا‘ بجیا کی شادی ٹوٹ گئی اور انھیں نومولود بچوں کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ ان کی والدہ  ہجرت کے پہلے عشرے میں ہی چل بسیں جس کے بعد سارے گھرانے کی ذمے داری بجیا کے کندھوں پر آ گئی۔ انھوں نے ابتداء میں گڑیاں بنانا شروع کر دیں پھر کپڑوں کی ڈیزائننگ اور کشیدہ کاری شروع کی تا کہ باورچی خانہ کا خرچ چلتا رہے۔

fatima-surraya-bajia

چند سال قبل ایک انٹرویو میں بجیا نے بتایا کہ وہ پاکستان میں کپڑوں کی ڈیزائننگ کرنے والی پہلی شخصیت تھیں۔ آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا ) نے گل رعنا کلب کراچی میں ان کی خدمات سے استفادہ کیا۔ احمد مقصود ہمدانی ان کے سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ بجیا کی کمزوریوں میں ان کی تمباکو والا پان کھانے کی عادت تھی جو وہ برس ہا برس تک کھاتی رہیں جس سے بالاخر انھیں تکلیف بھی ہوئی جسے ڈاکٹروں نے منہ کے سرطان سے موسوم کیا۔

تاہم خوش قسمتی سے وہ ایک لمبے اور تکلیف دہ آپریشن کے بعد اس جان لیوا مرض کے چنگل سے نکل آئیں اور صحت یاب ہوتے ہی دوبارہ ڈرامہ نگاری شروع کر دی۔ بجیا نے بچوں اور خواتین اور عام ناظرین کے لیے 300 سے زیادہ ڈرامے لکھے۔ شروع میں انھوں نے ریڈیو کے لیے لکھنا شروع کیا لیکن جب ٹی وی آ گیا تو وہ سمعی کے ساتھ بصری آرٹ کی جانب متوجہ ہو گئیں۔ انھوں نے آڈیو  ویژول اسٹوڈیو کے لیے بھی بہت کام کیا۔ ان کی حد سے زیادہ مقبول ٹی وی سیریز میں شمع‘ افشاں‘ انا اور آگاہی شامل ہیں۔ انھیں جاپانی لٹریچر بھی بہت پسند تھا اور انھوں نے جاپان کی ہائکو کی طرز پر شاعری بھی کی ۔

انھوں نے جاپانی افسانوں کے تراجم بھی کیے اور اردو میں ان کے ڈراموں کو اسٹیج کیا۔فاطمہ ثریا بجیا کو میوزیکل ڈرامے لکھنا بہت پسند تھے اور ان کے ایک ڈرامے ’’پھول بنی سرسوں‘‘ بہت پسند کیا گیا اس میں انھوں نے اردو کے کلاسیکل شاعر امیر خسرو کی شاعری استعمال کی جو کہ سات سو برس قدیم ہے مگر آج بھی تازہ بہ تازہ نو بہ نو ہے۔

مرحومہ کا بیگم آمنہ مجید ملک کے قائم کردہ طالبات کے اسکول سے بھی ایک خاص تعلق تھا جس کے لیے وہ بچوں کے ڈرامے ترتیب دیتی تھیں۔بجیا نے اپنے لیے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی سلطنت چنی اور اس پر جم کے حکومت بھی کی۔ ذرا سوچئے پچھلے آٹھ ماہ کے دوران کیسے کیسے نادر لوگ مرگ انبوہ میں گم ہو گئے۔ عبداللہ حسین، جمیل الدین عالی، کمال احمد رضوی، اسلم اظہر، نسرین انجم بھٹی، ندا فاضلی، انتظار حسین اور پرسوں (دس فروری 2016) فاطمہ ثریا بجیا بھی چلی گئیں۔

بجیا نے اپنی آٹھ سے زیادہ عشروں پر محیط  زندگی میں کیا کیا نہیں دیکھا۔ حیدر آباد دکن کا تہذیبی و سیاسی زوال، ایک محفوظ حویلی کی بانہوں سے نکل کر کراچی کی ہجرتی بے سروسامانی، چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال، ہجرت کے سانپ اور سیڑھی والے کھیل سے ہار نہ ماننے والی بجیا نے سفید پوشی سے اپنے اور اپنے بہنوں بھائیوں کے لیے رفتہ رفتہ آسودگی کا نور کاڑھ ہی لیا۔

کوئی بیورو کریٹ بنا (احمد مقصود حمیدی)، کوئی فیشن ڈیزائنر (مسز کاظمی)، کوئی صداکار و اداکار و صحافی و ڈرامہ نگار (انور مقصود)، تو کوئی بی بی سی اردو کا ہو رہا (سارہ نقوی)، تو کسی نے شاعری میں جھنڈے گاڑ دیے (زہرہ نگاہ)، تو کسی نے کوکنگ کے کلاسیکی فن کو جدید تہذیبی تڑکا لگا کے اسے چھوٹی اسکرین کے ذریعے گھر گھر عام کر دیا (زبیدہ طارق عرف زبیدہ آپا)۔ بجیا نے خود اپنے لیے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی سلطنت چنی اور اس پر جم کے حکومت بھی کی۔ آٹھ سے دس ناول لکھے جن کے مسودے آج بھی شایع ہونے کے لیے بے کل ہیں۔ بس ایک ناول چھپ سکا جو چودہ برس کی لکھارن کے والد نے حیدر آباد دکن میں شایع کروایا۔ بجیا کا تعلق قدامت پسند کلاسیکل تہذیب سے تھا۔ مگر وہ کٹھ ملانی نہیں تھیں۔

جنرل ضیا کے دور میں جب ٹی وی ڈراموں پر دوپٹہ پالیسی لاگو ہوئی اور موسیقی کے اندر سے بھی موسیقی نکال لی گئی تو بجیا نے روٹھ کر گھر بیٹھ جانے یا پھر ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا حصہ بننے کے بجائے اس جبر کو بھی اپنے حق میں نہایت ذہانت سے استعمال کر لیا۔ یعنی قرطبہ اور بغداد کے تہذیبی و درباری ماحول کے پردے میں وہ سب کچھ دکھا دیا جو انھیں ضیائی ماحول میں دکھانے سے روکا جا رہا تھا۔

سب نے اوپر تلے واہ واہ بھی کی۔ کیونکہ قرطبہ اور بغداد میں جو تہذیبی چمک دمک اور پرفارمنگ آرٹ و فنون لطیفہ کی پذیرائی تھی وہ بھی بہرحال برصغیری دانش میں گم گشتہ مسلمان تہذیب کا ہی حصہ تھی۔ لہٰذا کون خلیفہ کے روبرو زرق برق کنیزوں کے لباسوں اور غنائیت کی تھرکن پر انگلی اٹھا سکتا تھا۔

بجیا کو کسی لڑکے اور لڑکی کے بغرض ملازمت سفارش سے کبھی عار نہیں رہا۔ اکثر وہ اس کام میں بھاگ دوڑ کے دوران ہلکان بھی ہو جاتی تھیں۔ آخری عمر میں سرطانی بیماری بھی انھیں ایسے فی سبیل اللہ کاموں سے نہ روک پائی۔ بقول انور مقصود بجیا کی فطرت میں ’’نہیں‘‘ تو تھا ہی نہیں۔ حکومت پاکستان نے بجیا کو پرائڈ آف پرفارمنس اور پھر ہلال امتیاز سے نواز کر اور حکومت جاپان نے اعلیٰ سول ایوارڈ عطا کر کے اور حکومت سندھ نے کچھ عرصے کے لیے مشیر تعلیم و ثقافت مقرر کر کے اپنی توقیر میں اضافہ کیا۔

راستو کیا ہوئے وہ لوگ  جو آتے جاتے

میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے

ابنِ آدم