کہاں سے آیا، کدھر گیا وہ ناصر کاظمی

رتجگوں کا دلدادہ‘ لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے پھرنے کا عادی کبوتروں کو دانہ دنکا ڈالنے‘ پالنے پوسنے والا ناصرکاظمی ۔ وہ پاک ٹی ہائوس میں دوستوں کے درمیان بیٹھ کر خوش رہتا اور رات کے پچھلے پہر تنہائی میں آوارگی اور خود کلامی کرتے ہوئے مال روڈ کی دونوں جانب کھڑی عمارتوں اور گلی کوچوں کی نیم تاریک کھڑکیوں اور بند دروازوں کے سامنے سے گزرتا تو اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا‘ رات بھر جاگنے اور ادھوری غزل کو مکمل کرنے کے بعد وہ آہستہ سے شفیقہ کو آواز دیتا‘ بیوی نیم خوابیدہ حالت میں پوچھتی کب آئے اور سوئے کیوں نہیں‘ ناصر کاظمی سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنی غزل کا مطلع سناتا اس کی مردانہ اور گھمبیر آواز فضا میں ارتعاش پیدا کرتی‘ بیوی کھانے کے لیے پوچھتی اور ناصر کاظمی چائے پینے کا تقاضا کرتا‘ صبح دوپہر اور شام اپنے مکان کی بالائی چھت پر کبوتروں کی دیکھ بھال کرتا‘ فرصت کے اوقات میں فیچر لکھتا‘ ریڈیوکے پروگرام کا خاکہ تیار کرتا اور ’’ہم لوگ‘‘ کا اداریہ لکھتا۔

انبالہ شہر میں رہتے ہوئے اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا‘ بچپن انگڑائیاں لے کر ڈھل رہا تھا‘ وہ مسلم ہائی سکول میں دوسرے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کے علاوہ اپنے منفرد شوق رکھتا رہا‘ موسیقی سے دل بہلانے‘ ستار کے تاروں سے نکلنے والی بے الفاظ کی شاعری پر سر دھننے اور سوز و سلام کی محافل میں شرکت کرنے اور پھر کبوتر پالنے کا جنون ناصر کاظمی کو دوسرے ہم سبق لڑکوں سے ممتاز کرتا رہا۔ محلے میں صرف ایک یا دو ہم مزاج دوستوں سے بے تکلفی رہی ان میں افتخار کاظمی اور شبر نقوی اس کے گھر کے قریب اسی گلی میں رہتے تھے۔ انبالہ شہر میں محلہ سادات قاضی واڑہ میں کئی بیٹھکیں مشہور تھیں جہاں دوست احباب جمع ہوتے ہیں ان میں حسن اکبرمزد امام‘ میر حامد علی اور کرمو پہلوان کی بیٹھک میں ہمیشہ رونق رہتی۔

ناصر کاظمی اور افتخار کاظمی کو ستار سیکھنے اور شطرنج کھیلنے کا شوق تھا‘ کرمو پہلوان خوش ذوق اور خوش مزاج بزرگ تھے اور کسی زمانے میں پٹیالہ ریاست کے شاہی پہلوانوں میں شامل رہے‘ عالم پیری میں موسیقی کے رسیا ہو گئے۔ سانوالی رنگت تیکھے نقش بڑی آنکھیں چھریرا بدن خوبصورت چال اور آواز میں رسیلا پن…جانے اس کے انداز تکلم نے کسے ڈس لیا اور خود ناصر کاظمی کس مہ جبیں اور شوخ ادا کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا کہ اس کی محبت میں اداس رہنا پسند آنے لگا اس کی والدہ محمدی بیگم اپنے بیٹے کو دیکھتی کہ وہ خلائوں میں گھورتا‘ کبھی خود کلامی کرتا اور کبھی گم سم دکھائی دیتا وہ پوچھتی مگر وہ کیا جواب دیتا‘ بات ٹالنے کی خاطر وہ دیوار پر بیٹھے ہوئے کبوتر کی طرف اشارہ کرتا ’’ماں وہ کبوتر بیٹھا ہے کہو تو پکڑ لوں‘‘ وہ دبے پائوں جا کر کبوتر پر ہاتھ ڈالتا اور نعرہ زن ہوتا ’’اماں کبوتر پکڑ لیا‘‘ ماں جانتی تھی کہ ایک تو سچ کو چھپا رہا ہے۔

ناصر کاظمی کا ایک شوق تھا وہ شعر کہہ کے اختر رنگین رقم کی دکان پر جاتا اور اپنے شعر کی کتابت اور حاشیہ بنوا کر اختر رنگین رقم کو کچھ پیش کرتا لیکن محلے داری اور عزیز داری کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ محبت بھرے لہجے میں کہتے ’’ابے سلطان حسن کے بیٹے میں تجھ سے پیسے لیتا اچھا لگوں گا‘ کچھ اور لکھوانا ہو تو وہ بھی لکھ دوں گا‘‘ اور یوں وقت گزرنے پر ایسے وضع دار لوگوں کے لیے ناصر کاظمی کے دل میں جگہ بنتی گئی‘ پاکستان بنا تو اختر رنگین رقم سرگودھا میں آباد ہوئے‘ کچھ عرصے بعد وہ بھی چل بسے‘ محمدی بیگم اور سطان حسن بھی رخصت ہو گئے۔ ناصر کاظمی نے ان سب کا نوحہ لکھا‘ اپنے عشق کی نامرادی کا ذکر کیا۔ آ کے منزل پہ آنکھ بھر آئی سب مزا رفتگاں نے چھین لیا تیرا ملنا تو خیر مشکل تھا تیرا غم بھی جہاں نے چھین لیا ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا البتہ اس نے شاعری کو جتنا دیا اس کا احاطہ ممکن نہیں۔

اس جملے کا پہلا حصہ وہ ہے جو اس کے انتقال پر شفیقہ کاظمی نے میری طرف سے تعزیت کے وقت کہا کہ ناصر کاظمی کو شاعری نے کیا دیا ہمیں اس کی شاعری سے کیا ملا۔ یقینا شاعری ایسا کار ہنر ہے جس کا معاوضہ شاعر کا مقدر نہیں مگر ایسا بھی نہیں مثلاً شاعر مشرق علامہ اقبال خود معمولی حیثیت کے مالک تھے۔ ریلوے روڈ پر ان کی رہائش دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے استعمال میں آنے والی اشیاء کس معیار کی ہیں لیکن ایوان اقبال کی تعمیر دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خود علامہ اقبال کے وہم و گمان میں ایسی شاندار عمارت کا تصور نہ ہو گا۔ ناصر کاظمی نے جیسی زندگی بسر کی وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان کے احباب میں انتظار حسین‘ سجاد باقر رضوی‘ ہوش ترمذی اور دوسرے سخنور سبھی اس زمانے کے شاکی اور قلم کی مزدوری کرتے نظر آئے ۔

حسن عسکری کاظمی

سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں

25 اپریل بروز منگل شام 7 بجے بے وقت سویا نیند سے بیدار ہوا تو عادت کے مطابق ہاتھ سرہانے پڑے موبائل فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون ہاتھ میں آتے ہی فیس بک سے رابطہ کرنے کی کوشش تو اچانک سامنے ایک خوش شکل شاعرہ کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے تحریر پڑھتے ہی دل کچھ غمگین ہو گیا۔ تحریر حادثے سے متعلق تھی جس میں بیان کیا گیا کہ ایک نوجوان شاعرہ بروز سوموار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 3 روزہ ادبی میلہ کے آخری دن 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے گریں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ کچھ تو بے وقت سونے کی کسلمندی تھی اور کچھ ایسی افسوس ناک خبر کا ملنا کہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوتے مجھے کچھ وقت لگ گیا، لیکن جب پوری طرح آنکھیں کُھلیں اور حواس بحال ہوئے تو تصویر پر کچھ غور کیا۔ غور کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے چہرے سے کچھ شناسائی ہے۔ نام پر غور کیا تو وہ بھی جانا پہچانا لگا۔ کچھ دیر اِسی حالت میں غور و فکر جاری تھا کہ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اُس دور میں چلا گیا جب وہ ہمیں پڑھایا کرتی تھیں۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک اسکول جس میں قابل پُرجوش فرزانہ ناز، بلکہ میڈم فرزانہ ناز چلتی پھرتیں اور بچوں کو بزمِ ادب کیلئے تیاری کرواتی دکھائی دیں۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ وقت تھم سا گیا اور ذہن ماضی کے خیالات میں گھومنے لگا۔ کبھی اِس خبر کو دیکھتا جس پر یقین کرنا مشکل تھا اور کبھی ماضی کی اُس ٹیچر کو یاد کرتا، میں تو میڈم فرزانہ ناز کو جانتا تھا جو میری اسکول ٹیچر تھیں لیکن میرے سامنے جو خبر تھی وہ میڈم فرزانہ ناز کی نہیں بلکہ مشہور نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز کی تھی۔ کبھی دل اُن کی شہرت پر مسرت محسوس کرتا لیکن پھر خبر کا خیال آتے ہی دنیا رکتی سی محسوس ہوتی۔

مزید اُن کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُن کے 2 کمسن بچے بھی ہیں، اور اِس پر ستم یہ کہ 3 مئی کو اُن کے پہلے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ کچھ برس قبل کی اسکول ٹیچر فرزانہ ناز پرجوش، قابل اور محنتی خاتون تھیں جنہیں یہاں پہنچنے تک طویل عرصہ لگ گیا۔ آج جب وہ مشہور شاعرہ تھیں، دو کمسن بچوں کی ماں تھیں تو اِس حادثہ کی نذر ہو گئیں۔ ادب سے محبت اور لگاؤ رکھنے والی ادبی میلے میں ہی کہیں گم ہو گئیں، جو اسٹیج پر وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کو اپنے شعری مجموعہ کی کتاب پیش کر رہی تھیں کہ اسٹیج پر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے اُن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے زمین پر گر گئیں جس کے سبب اُن کا سر پھٹ گیا اور زمین پر خون پھیل گیا۔

جلدی جلدی اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن ظلم تو یہ ہوا کہ اتنے بڑے ادبی میلے میں ایمبولینس تک کا انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر الشفاء انٹرنیشنل پہنچایا گیا مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا اور یوں وہ کومے میں چلی گئیں، مگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور منگل بروز 25 اپریل کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔

میں اِس حادثے کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انسان کس قدر بے بس ہے۔ کیا کچھ وہ اپنے لیے سوچتا ہے، اپنے مقصد کو پانے کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے، وہ اپنے لیے کتنے خواب دیکھتا ہے لیکن وہ سب خواب ایک لمحہ میں چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ساری زندگی وہ تیاری میں لگا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ اگلے لمحے تک سے واقف نہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

فرحان سعید خان

راجندر سنگھ بیدی…ایک بے مثال افسانہ نگار

اُردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ویسے تو کئی نام لیے جا سکتے ہیں لیکن سعادت حسن منٹو‘ کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہ ہو گی۔ آج ہم راجندر سنگھ بیدی کے فن افسانہ نگاری کے بارے میں اپنے قارئین کو بتائیں گے۔ یکم ستمبر 1915ء کو پیدا ہونے والے راجندر سنگھ بیدی کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا‘ بیدی کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزارے۔ جہاں انہوں نے اردو میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ تھا۔ جس میں ان کا معرکہ آرا افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ بھی شامل تھا۔ یہ افسانوی مجموعہ 1940ء میں شائع ہوا۔

1942ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’گرہن‘‘ شائع ہوا۔ 1943ء میں انہوں نے لاہور کے ایک چھوٹے فلم اسٹوڈیو مہنیش واری فلمز میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈیڑھ برس بعد وہ دوبارہ آل انڈیا ریڈیو چلے گئے اور ان کی پوسٹنگ جموں میں کر دی گئی۔ وہ 1947ء تک آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے رہے اور وہ جموں اینڈ کشمیر براڈ کاسٹنگ سروس کے ڈائریکٹر بن گئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت راجندر سنگھ بیدی نے کئی اور افسانے لکھے جو بے حد مقبول ہوئے انہوں نے اردو افسانے کو نہ صرف نیا اسلوب دیا بلکہ موضوعات کے حوالے سے بھی کئی تجربے کئے۔ ان کا ناولٹ ’’اک چادر میلی سی‘‘ بھی اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں انہوں نے اسلوب کے حوالے سے بالکل مختلف تجربات کئے۔ اس کے علاوہ اس ناولٹ کا موضوع بھی چونکا دینے والا تھا۔ اس ناولٹ پر ہندوستان اور پاکستان میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔

ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں ’’کوکھ جلی‘‘ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ اور ڈراموں کا مجموعہ ’’سات کھیل‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’جو گیا‘ لاجونتی‘ گرہن‘ گرم کوٹ‘ کلیانی‘‘ اور کئی دوسرے افسانے شامل ہیں۔ بعض نقاد بھی ان کے افسانوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں ہندی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں راجندر سنگھ بیدی کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس ماحول پر ہے جس میں یہ افسانے لکھے گئے۔ اگر ایک افسانے میں پنجاب کے گائوں کا ماحول پیش کیا جا رہا ہے تو پھر کرداروں کی زبان بھی وہی ہو گی۔ اسی طرح اگر ایک افسانہ مکمل طور پر ہندو معاشرے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے تو پھر زبان بھی وہی ہو گی۔ بیدی نے فرسودہ روایات معاشرتی تفریق اور معاشی انصاف پر بہت لکھا۔ وہ کردار سازی بھی کمال کی کرتے تھے۔

ان کے افسانوں کے بعض کردار امر ہو چکے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک اور بڑی خوبی ان کی قوت مشاہدہ ہے۔ ان کے افسانوں میں ہمیں طنز و تشنیع بھی ملتا ہے۔ ان کے طنز کرنے کا انداز بھی بہت متاثر کن ہے۔ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بظاہر سادگی سے کہی ہوئی بات طنز کی چادر میں لپٹی ہوتی ہے اور بادی النظر میں یہ ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ بیدی نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ ذرا سا غور کریں تو پھر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ افسانہ نگار کمال مہارت سے اپنے فن کے جوہر دکھا گیا ہے۔  راجندر سنگھ بیدی 1982ء میں شدید علیل ہو گئے اور اسی سال وہ چل بسے۔ ان کی یاد میں بھارتی پنجاب کی حکومت نے راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ کا اجرا کیا یہ ایوارڈ ان کی اردو ادب کی خدمات کے حوالے سے شروع کیا گیا۔ راجندر سنگھ بیدی نے اردو ادب کی جتنی خدمت کی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مکالمہ نگاری سے جو مقام بنایا اُس حوالے سے اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

علامہ اقبال ؒ اور پطرس بخاری

امراض کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہو تو اُمت کے حکیم زیادہ یا د آتے ہیں جنھوں

نے سو سال پہلے مسلمانوں کو لاحق بیماریوں کا علاج بتا دیا تھا کہ؎

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

تراعلاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ایک اور جگہ کہا کہ

؎ علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

تشویشناک امر یہ ہے کہ اقبال ؒ کو بھلا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب کہ خود پاکستان اقبالؒ کا فیضان ِ نظر ہے، اقبالؒ کو وہی لوگ فراموش کرنا چاہتے ہیں جو جواز ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کی نفی کرتے ہیں۔ کیا وہ اتنے بارسوخ ہو چکے ہیں کہ مفکرِ پاکستان کو پاکستان سے جلا وطن کر دینا چاہتے ہیں۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی ساری دولت صرف کردیں تب بھی اقبال کی محبّت اور عقیدت کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔

یہی مہینہ ہے جب دانائے راز ؒ پورے ہندوستان، مشرق وسطیٰ، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیاء کے مسلمانوں کو ایک ولولہء تازہ دیکر رخصت ہوئے۔ بانگ ِ درا اور بال ِجبریل کی نظموں کا تو بہت تذکرہ ہوتا ہے، ان کے علاوہ بھی اقبالؒ کی کوئی نظم یا کوئی شعراٹھا لیں،آج بھی تروتازہ اور سو فیصد Relevant ہے۔

اس و قت میرے ہاتھ میں ضرب ِ کلیم ہے، ہر نظم اور ہر شعر ایک جہانِ دانش ہے۔ اجتہاد پراقبال ؒ نے اپنے لیکچرز میں بھی سیر حاصل بحث کی ہے۔ ضرب ِ کلیم میں ایک نظم کا عنوان ہی ’’اجتہاد‘‘ ہے۔ شعر سنئیے اور سر دُھنئیے۔

 

؎ ہند میں حکمت ِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت ِ کردار نہ افکار ِعمیق

حلقہ ٔ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں

آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان ِ حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کا طریق

اقبال کے نزدیک اپنے نظریے سے منہ موڑ لینے اور اپنے حرم اور مرکز سے ناتا توڑ نے کے باعث مسلمان ذلت و زوال کا شکار ہیں۔ نظریۂ توحید کلیدی حیثیّت کا حامل ہے اور اس میں ہی اصل قوُت پوشیدہ ہے مگر فکری وحدت کافی نہیں اس کے ساتھ عملی وحدت درکار ہے۔

؎ زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علمِ کلام

میں نے اے میر ِسپاہ تیری سپاہ دیکھی ہے

قُل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

آہ اس راز سے واقف ہے نہ مُلا نہ فقیہہ

وحدت افکار کی بے وحد تِ کر دار ہے خام

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے

اسکو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

اقبال ؒ کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ وحدت ِ فکر و عمل کے بغیر ایک ملت کے طور پرزندہ نہیں رہ سکتے اور اس وحدّت کے تحفّظ کے لیے قوت درکار ہے۔ فرماتے ہیں۔

؎ وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو

آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد

اے مرد ِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل

جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نو َ میدیء جاوید

جسکا یہ تصو ّف ہو وہ اسلام کر ایجاد

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

اسلام تو شوکت و جلال اور رفعت و کمال کا پیغام ہے وہ محکومی و غلامی کا نہیں فرمانروائی کا نظریہ ہے، مغربی تہذیب اپنا لینے اور اس کی نقالی کرنے والوں کو کوئی دوسرا اسلام ایجاد کرنا ہو گا کیونکہ اصل اسلام میں غلامی اور نقالی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر انگریزوں نے نماز پڑھنے پر پابندی عائد نہ کی تو کئی ٹو ڈی اور انگریز پرست اُسی کو آزادی قرار دیکر آقاؤں کے قصیدے پڑھنے لگے۔

مسلم دشمن قوتیں ہمیشہ اسلام کے فلسفہء جہاد سے خوفزدہ رہی ہیں، ترک ِ جہاد کے فتوے دینے کے لیے ہی انگریزوں کو ایک جعلی نبی کھڑا کر نا پڑا۔ مغربی   قوتیں مسلمانوں کے جہاد پر ہر طرح کی قدغنیں اور پابندیاں لگاتی ہیں لیکن مغرب کے جارہانہ اقدامات کو جائز قرار دیتی ہیں، وہ خود کیسے ہی خطرناک ہتھیار تیار کر یں اور انھیں بے گناہ شہریوں پر استعمال کریں، جس ملک کو چاہیں تاخت و   تاراج کر دیں انھیں اس کا پورا حق ہے۔ اسی دوہرے معیار اور منافقت کو اقبالؒ نے آج سے سو سال پہلے بے نقاب کیا تھا۔ “جہاد ” کے عنوان سے ایک نظم کے چند شعر ہیں:

؎ فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کار گر

علامہ ؒ کہتے ہیں کہ مادیت میں کھویا ہوامسلمان تو پہلے ہی جہاد ترک کر چکا ہے، اس لیے اب ایسے وعظوں کی ضرورت تو یورپ اور امریکا کو ہے۔

؎ تعلیم اسکو چاہیے ترک ِ جہاد کی

دُنیا کو جسکے پنجہء خونیں سے ہو خطر

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہیں شیخ ِکلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟

حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ

بات اسلام کا محاسبہ، یورپ سے در گزر !

دنیامیں صرف مسلمانوں کامحاسبہ اور محاصرہ ہوا ہے جب کہ یورپ اور امریکا کو کھلی چھوٹ۔ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ انصاف نہیں ہے کیونکہ

؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات

اب ایک دلچسپ واقعہ سن لیجیے

احمد شاہ پطرس بخاری انگریزی لسانیات کے ماہر، ذہین و فطین اور نہایت شوخ و شنگ طبیعت کے مالک تھے۔ اعجاز بٹالوی اور عاشق بٹالوی کے بھائی آغا بابر اپنی دلچسپ کتاب ’’خدو خال‘‘ میں لکھتے ہیں ’’بخاری صاحب امریکا سے جنیوا جاتے ہوئے تین دن لندن میں ٹھہرے اور وہاں انھوں نے بھائی عاشق کو ڈھونڈ نکالا۔ بخاری نے پوچھا عاشق صاحب کچھ حال احوال کہیے‘‘ عاشق بٹالوی صاحب نے اقبال ؒ کا یہ شعر پڑھا:

؎ میں نوائے سوختہ در گلو تو پریدہ رنگ امیدہ بو

میں حکایتِ غمِ آرزو تو حدیث ِ ماتم دِلبری

شعر سنتے ہی بخاری صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے ایک کیفیت طاری ہو گئی اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ بولے ’’زندگی تو واقعی رائیگاں گئی، کچھ بھی ہاتھ نہ آیا‘‘ کچھ دیر بعد بخاری صاحب کی حالت درست ہوئی تو انہو ں نے اقبال ؒ کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘ کے بارے میں بتایا کہ علامہ صاحب نے یہ نظم مجھے مخاطب کر کے لکھی تھی۔ میں نیا نیا ولایت سے آیا تھا علم کا خمار تھا۔ علامہ اقبال ؒ کے سامنے بے محابہ علم اور فلسفے کی نمائش کی تو انھوں نے یہ نظم لکھ کر میری طبیعت صاف کردی۔

؎ تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا زناریٔ برگساں نہ ہوتا

ہیگل کا صدف گہر سے خالی ہے اس کا طلسم سب خیالی

آدم کو ثبات کی طلب ہے دستور ِ حیات کی طلب ہے

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز سن مجھ سے یہ نقطہء دل افروز

انجام ِ خرد ہے بے حضوری ہے فلسفہ زندگی سے دُوری

دیں مسلک ِ زندگی کی تقویم دیں سر محمد ﷺ و ابراہیم

دل در سخنِ محمدی ؐ بند اے پور علی ؓ ز بو ُ علی چند

اے سید زادے تو اگر اپنی خودی سے بیگانہ نہ ہو جاتا تو برگساں جیسے فلسفیوں کا پجاری نہ بنتا، تو اپنی معرفت سے دور رہا جس کے باعث تو نے فلسفیوں کو اپنا رہنما بنا لیا ہے اور اسطرح تو اپنی اصلیت کھو گیا ہے۔ ہیگل (مشہور فلسفی) کی سیپی موتیوں سے خالی اور اس کا سارا طلسم خیالی ہے۔ یعنی ان کے فلسفے انسانیت کے لیے بے فائدہ اور بیکار ہیں۔ انسان ایسی شئے کی تلاش میں ہے جس سے اسے بقاء اور چَین نصیب ہو۔ ایسا کوئی دستور العمل ان فلسفیوں کی تصانیف میں نہیں ہے۔ جس چیز سے اس عالم کی تاریکی روشنی میں بدل سکتی ہے وہ مومن کی اذاں ہے۔ وہ خدا کی توحید اور کبریائی کا اعلان ہے۔

فلسفہ میرے خمیر اور رگ رگ میں ہے اور اس پر عبور رکھنے کے بعد میں تمہیں ایک نکتہ سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ عقل انسان کو خدا سے محروم کر دیتی ہے اور فلسفہ زندگی سے دور کر تا ہے۔ دینِ اسلام زندگی گزارنے کا ایک عظیم دستور العمل ہے۔ یہی حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم ؑکا راز ہے۔ یہی ان عظیم ہستیوں کی بتائی ہوئی راہ ِ عمل ہے۔ تو علی مرتضیٰ ؓ کی اولاد بو علی سینا جیسے فلسفیوں کی پیروی مت کر۔ تو راستہ دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہے تیرے لیے بہتر ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو اپنا رہنما بنا لے۔ )

ذوالفقار احمد چیمہ

حکیم مومن خان مومنؔ : تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حکیم مومن خان مومنؔ 1800 ء میں دِلّی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حکیم غلام نبی تھا۔ خاندانی حکیم تھے۔ مومنؔ سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیب ہو گئے تھے۔ اچھا حافظہ پایا تھا۔ شطرنج کے عمدہ کھلاڑی تھے۔عربی و فارسی کے بڑے عالم تھے۔ طبیعت شروع ہی سے شاعری کی طرف مائل تھی۔ شاعری کے علاوہ علمِ نجوم میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔اُن کی پیش گوئیاں حیران کن حد تک درست ثابت ہوتی تھیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی عزت و توقیر ہر جگہ کی جاتی تھی۔ مومنؔ وضع دار ،وجیہہ ،انتہائی پرکشش اور خوبصورت آدمی تھے۔عالمِ شباب میں اُن کی عشق و عاشقی کے چرچے عام رہے۔

مومن خان مومنؔ کو تاریخ گوئی میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کے شاگردوں میں نواب مصطفی خان شیفتہؔ بہت مشہور ہوئے جن کے دیوان کا نام ’’ تذکرہ گلشنِ بے خار‘‘ ہے۔ 1852 ء میں کوٹھے سے گر کر وفات پائی جس کے متعلق خود تاریخ لکھی۔ مومن خان مومنؔ کو اِس شعر پر شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مرزا غالبؔ کو مومنؔ کا یہ شعر اِس قدر پسند آیا کہ غالبؔ اپنا سارا دیوان اِس شعر کے عوض دینے کو تیار ہو گئے۔ اِس بات کا شہرہ مومنؔ کا مقامِ شاعری متعین کرنے میں بہت ممدو ثابت ہوا۔ عشق کی سچی واردات، نفاست اور سچائی جذبات مومنؔ کی شاعری کے خاص اوصاف تھے۔ شعری اثاثہ میں ایک دیوان اور چھ مثنویاں چھوڑیں۔

مومنؔ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجربات و واردات قلبی کو ایسی تہذیب و شائستگی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اُردو شاعری میں وہ اپنی مثال آپ بن گئے۔ اِس منفرد تغّزل نے مومن خان مومنؔ اور اُن کی شاعری کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ کلامِ مومنؔ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں خلوص اور سچائی بڑی صفائی سے جھلکتی ہے۔عشق و محبت کی وادی پُرخار میں جو اُن کے قلب و جگر پر بیتی اُسے شعر کے لطیف سانچے میں ڈھال دیا۔ خلوص اور سچائی کا انہیں یہ صلا ملا کہ بہ نسبت دیگر شعرا کے اُن کے کلام میں دلکشی، جاذبیت اور اپیل زیادہ پائی جاتی ہے۔ معاملات عشق میں مومنؔ کا بیان رسمی تکلفات سے قطعی ناآشنا معلوم ہوتا ہے۔

مومنؔ کی غزل میں مضامین کے لحاظ سے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں وہی فرسودہ اور پائمال مضامین دہرائے گئے ہیں۔ مگر مومنؔ نے اِن کو کمال مصوری اور ذہنی اُپچ سے کام لے کر تخیل کا ایسا رنگ دیا کہ وہ چونکا دینے کی حد تک بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ خیال کی کارفرمائی اور طرزِ اظہار نے اُردو غزل کے پرانے مضامین کو نیا لباس اور آہنگ دے کر تصور آفرین اور شائستہ فکر بنا دیا۔ مومنؔ کے تغزل کی دلکشی کا سارا راز اُن کے طرزِ بیان میں ہے۔ یہ طرزِ بیان دیگر غزل گو شعرا سے بالکل الگ، مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنؔ نے اپنے اِس مخصوص اُسلوب کی بدولت نہ صرف ذوقؔ اور غالبؔ کی دِلّی میں نام پیدا کیا بلکہ اُردو کے معروف متغزلین کی صف میں بھی ایک باوقار اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ مومنؔ نے اپنے اُسلوب میں ابہام، رمزو کنایہ، طنز و تضاد اور تراکیب سے بڑی صفائی اور ہنر مندی سے کام لیا ہے۔

سیّد ارشاد حسین

نامور افسانہ نگار، شاعرہ، ناول نگار امرتا پریتم

شہرہ آفاق نظم ” اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول” کی خالق شاعرہ
امرتا پریتم اگست 1919ء میں گورونانک پورہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام امرت کور تھا۔ والد کا نام گیانی کرتار سنگھ تہکاری تھا جو رسالہ ریخت نگار لاہور کے ایڈیٹر تھے۔ امرتاپریتم نے بڑے علمی و ادبی ماحول میں تربیت پائی اور اپنے والد سے گورمکھی”پنجابی” سیکھی اور شاعری کا فن سیکھا ۔چودہ برس کی عمر میں ہی گیانی کا امتحان پاس کر لیا۔ لاہور میں رہتے ہوئے انگریزی بھی پڑھ لی اور چھوٹی عمر ہی سے شاعری میں اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ ابھی امرتا پریتم کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی کہ ماں کی مامتا سے محروم ہو گئیں۔ ماں کی موت کے المناک واقعہ نے ان کے خوابیدہ جذبوں کو بیدار کر دیا اور وہ اپنے المناک جذبات کے طوفان کو شاعری کے ذریعہ زمانے تک پہنچانے لگیں۔

جب ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ” امرت لہراں” شائع ہوا تو اس وقت ان کی عمر سولہ برس کی تھی۔ اس مجموعہ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد جو شعری مجموعے منظر اشاعت پر آئے ان میں جیوندا جیون، لوک پیڑ، پتھر گیٹے، لمیاں واٹاں ، میں تاریخ ہند دی، تریل دھوتے پھل، اوگیتاں والیا، منجھ دی لالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اب تک ان کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں نظموں، گیتوں کہانیوں کے مجموعے اور کئی ناول شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد انگریزی کتابوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں میں تیسری عورت، 49 دن، پکی حویلی ، شوق صراحی ، اک ہتھ مہندی اک ہتھ شالا،اَک دا بوٹا، چک 36 میں رسیدی ٹکٹ، میں جمع میں، میں جمع تو، میں جمع دنیا، سرگھی ویلا، ناگ منی اور متعدد دوسری تصانیف شامل ہیں۔ دہلی سے گرمکھی رسم الخط میں شائع ہونے والے ایک رسالہ ناگ منی کی ادارت بھی کرتی رہیں۔ قیام پاکستان کے موقع پر ہونے والی قتل و غارت گری بابت لکھی گئی ان کی درج ذیل نظم کلاسیکی ادب کا حصہ بن چکی ہے.

ڈاکٹر جاوید اکرم

 

جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چند ایام

فیڈرل بی ایریا کے مکان میں جہاں بابا (جوش ملیح آبادی) کے مداحوں اور احباب کا آنا جانا رہتا تھا وہاں ہمارے عزیز و اقارب اور رشتے داروں کا بھی آنا جانا رہتا تھا۔ راولپنڈی سے ہماری خالہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی ان کے اہل و عیال اور خاوند آیا کرتے تھے۔ لاہور سے ہماری دوسری خالہ جو کہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی کی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ قدسیہ جہاں (بیہ خالہ) ان کے اہل و عیال اور خاوند بھی اکثر آیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بہنیں بابا کی حقیقی بھانجیاں تھیں۔ کراچی میں بھی ہمارے رشتے دار اکثر آیا کرتے تھے جن میں اشفاق بھائی رفیق بھائی اور ان کے اہل و عیال تشریف لایا کرتے تھے۔

ایک ہماری نانی کی کزن ’’سنو خالہ‘‘ بہت آیا کرتی تھیں۔ ان کی آواز کی گھن گرج کی وجہ سے بابا نے ان کو ریڈیو کا خطاب دیا تھا۔ ان کے شوہر ضمیر قد کے لحاظ سے قدرے لمبے تھے ہمارے والد محترم التفات احمد خان شہاب ملیح آبادی نے ان کا نام ’’گنا‘‘ رکھ دیا تھا اور وہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر ’’گنا خالو‘‘ کا نام رہتا تھا۔ ہماری نانی کے حقیقی بھانجے افتخار علی خان (منے ماموں) جو کہ نواب مصطفی علی خان کے صاحبزادے تھے اکثر اپنے بیوی بچوں سمیت آیا کرتے تھے۔ انتہائی دلچسپ انسان تھے وہ قصہ گوئی کے ماہر تھے اور ہم سب بہن بھائی ان کی قصہ گوئی سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے بعض اوقات ہم لوگ ان کی غیر یقینی بات کو بھی جانتے بوجھتے یقین کر کے ہنستے رہتے تھے۔ بابا سے ملنے والوں کا ایک بڑا حصہ اہل علم اور اہل قلم سے وابستہ حضرات کا تھا جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

ایک مرتبہ اداکار سید کمال مرحوم اپنے اہل و عیال اور اپنے بھائی میجر جلال مرحوم کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ میجر جلال نے بابا سے اصرار کیا تھا کہ آپ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں لیکن بابا نے اپنی مشغولیات کی بناء پر معذرت کر لی تھی ۔ ممتاز دانشور ضیاء محی الدین بھی محترم افتخار عارف کے ساتھ بابا کو اپنے پروگرام ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ میں مدعو کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہا کہ ہم آپ کا اپنے پروگرام میں دس ایک منٹ انٹرویو کریں گے ، بابا سے رہا نہ گیا اور فوراً ٹوک دیا کہ یہ دس ایک منٹ کیا ہوتے ہیں۔ یا تو دس منٹ ہوں گے یا صرف ایک منٹ۔ محترم ضیاء محی الدین بہت زور سے ہنسے اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ روحانی پیشوا حضرت بابا ذہین شاہ تاجی بابا سے ملنے اسی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔ بابا ذہین جی تاجی سفید لمبا دراز کرتا اور گلے میں سفید چادر زیب تن کر کے آیا کرتے تھے۔

فرخ جمال ملیح آبادی

(کتاب : جوش ملیح آبادی سے انتخاب)

اختر حسین جعفری کا بچپن

اختر حسین جعفری کا شمار پاکستان کے معروف شعرا ء میں ہوتا ہے۔ ذیل میں ان کی لکھی گئی کتاب سے کچھ پیراگراف شائع کئے جا رہے ہیں:

 میں 15 اگست 1932 کو ہوشیارپور کے ایک قصبہ میں پیدا ہوا۔ یہاں میرے والد بسلسلہ ملازمت تعینات تھے۔ چوتھی جماعت تک تعلیم وہاں کے ایک غیر معروف گائوں موضع لسوی سے حاصل کی۔ اسی دوران والدہ کے انتقال کے بعد میں اپنے دادا (جو ضلع گجرات میں مقیم تھے) کے پاس چلا آیا اور وہاں ایک ہندو سکول میں داخلہ لے لیا۔ اس سکول میں ایک ہندو استاد پنڈت درگا پرشاد تھے جو ہمیں اردو اور فارسی پڑھاتے تھے۔ میرا جو اردو ادب سے رشتہ قائم ہوا وہ انہی کی وجہ سے ہوا۔ پر نہ صرف داخلہ ملا بلکہ وہ تمام مراعات بھی ملیں جو اچھے ہندو طلباء کو سکول کی طرف سے ملتی تھیں۔

اس سکول میں مسلمان طلباء کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔ یہاں مسلمان طلباء کو دینیات بھی پڑھائی جاتی تھی۔ ماسٹر درگا پرشاد اردو اور فارسی کے علاوہ دینیات بھی پڑھاتے تھے۔ ہمیں افسوس ہوتا تھا کہ ہندو طلباء معاشی اور معاشرتی طورپر ہم سے بہتر تھے۔ اچھا لباس پہن کر آتے تھے۔ ہم ہندوئوں کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اور ان سے مراعات حاصل کرنے کے باوجود اس احساس کو اپنے دل سے کسی صورت نہ نکال سکے کہ ہم میں اور ہندو قوم میں فرق ہے جس کو دور کرنے کیلئے کسی نہ کسی واضح سیاسی عمل کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان کے حوالے سے میری ہندو دوستوں کے ساتھ بحث ہوتی تھی۔ اگرچہ ان دنوں پاکستان کے فلسفہ کے پس منظر سے کلی آگاہی نہ تھی۔

ان ہندو دوستوں میں میرے ساتھ سکول کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی بھی تھے جو ہندوستان کی تقسیم کے یکسر خلاف تھے۔ میں اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ اکثر کانگریسی لیڈروں کی تقاریر سننے جایا کرتا تھا۔ اس مفاہمت کی فضا کے باوجود میرے دل سے میرے ہندو دوست ایک علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی ضرورت کے تصور کو نہ نکال سکے۔ بچپن میں فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ میرا سکول کی ٹیم کے اچھے کھلاڑیوں میں شمار ہوتا تھا۔ ہاکی ٹیم میں مجھے بارہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ مجھے سکول کے زمانے میں زبانیں سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ انگریزی، اردو اور فارسی میں بہت دلچسپی تھی اور ان میں ہمیشہ امتیازی حیثیت حاصل کرتا۔

ریاضی اور سائنس سے واجبی سا تعلق تھا۔ سکول کے زمانے میں مجھے اردو اور فارسی ادب سے بہت دلچسپی تھی۔ میرے اساتذہ مجھے ہونہار طالب علموں میں شمار کرتے تھے۔ میں سکول کے زمانے میں شعر لکھتا تو نہیں تھا البتہ وزن میں پڑھتا تھا۔ شاعری ایف اے کے بعد کی۔ میں سکول میں تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیا کرتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں بچپن میں بھی شرارتیں نہیں کیا کرتا تھا۔ مگر شرارتی بچوں کا دوست ضرور تھا۔ شرارتی بچے مجھے اچھے لگتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہم سکول جا رہے تھے تو میرے ساتھی نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ میں چٹکی لی ۔ وہ ایک ہندو دکاندار تھا۔ اس نے ہم دونوں کو اپنی دکان پر بیٹھا لیا اس نے ہمیں جسمانی اذیت دی۔ جسمانی اذیت کے باوجود اس شرارت کی خوشی بڑھاپے میں بھی محسوس کرتا ہوں۔

میرے والد ادیب یا شاعر تو نہیں تھے مگر ادب کے ساتھ مطالعاتی حد تک ان کا مضبوط تعلق تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو والد صاحب کے ہاتھ میں کتاب دیکھی۔ شاعری میں وہ غالبؔ سے زیادہ ذوقؔ کو پسند کرتے تھے۔ اکثر فارغ وقت میں وہ ذوقؔ کی غزلیں مجھے سنایا کرتے۔ والد صاحب کو فارسی ادب سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ قدسی مشہدی کی رباعی نماز فجر کے بعد پڑھتے تھے اور ہمیں سنایا کرتے تھے۔ آپ کو بچن کا ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں۔ سرسولی گائوں میں تقریباً کبھی مکانات کچے تھے سوائے ایک مکان کے جو میرے والد کو سرکاری حیثیت کی بنا پر رہنے کو ملا تھا۔ اس مکان کے بارے میں وہاں یہ عام فضا تھی کہ اس کے بالمقابل بہت پرانے پیپل پر ایک آسیب کا ڈیرا ہے اور جو کوئی اس پختہ مکان میں رہتا ہے وہاں موت کا ہونا ناگزیر خیال کیا جاتا تھا۔

چنانچہ میرے والد کو بھی لوگوں نے اس مکان میں رہائش اختیار کرنے پر منع کیا۔ مگر وہ پڑھے لکھے اور روشن خیال آدمی تھے۔ اس لیے انہوں نے اس افواہ پر کوئی توجہ نہ دی اور اسی مکان میں رہائش پذیر رہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسی مکان میں ہماری رہائش کے دو سال کے اندر اندر بغیر کسی ظاہری بیماری کے میرے والدہ ایک روز اچانک انتقال کر گئیں۔ مگر ان کے انتقال کے باوجود میرے والد نے اس مکان سے سکونت ترک نہ کی۔ میں آخر میں بچوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ اس ملک کے لیے زندہ رہو، اور اسی کے لیے مرو… یہ ملک بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے۔ اس ملک کی سا لمیت اور حفاظت ہمارا فرض ہے۔

احمد ندیم قاسمی کا بچپن

میں ضلع سرگودھا کی تحصیل خوشاب کے ایک پہاڑی علاقہ سون سیکسر کے ایک گائوں انگہ میں پیدا ہوا۔ میری تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء ہے۔ ابتداء میں گائوں کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ ساتھ ہی وہاں کے پرائمری سکول میں داخلہ لیا اور پرائمری وہیں سے پاس کی۔ بلکہ ایک طرح سے اعزاز کے ساتھ پاس کی۔ اس زمانے میں چوتھی جماعت پرائمری کی آخری جماعت ہوتی تھی۔ ہماری جماعت کے 4 منتخب لڑکوں کو خوشاب میں وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے بھیجا گیا میں بھی ان میں شامل تھا۔ 4 میں سے ہم 3 لڑکوں نے کامیابی حاصل کی اور مجھے آٹھویں جماعت تک وظیفہ ملتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اسی موقع پر خوشاب میں زندگی میں پہلی مرتبہ سائیکل دیکھی اور ریل گاڑی کو لوہے کی پٹڑیوں پر بھاگتے دیکھا۔

میں پرائمری سکول کے اوّل مدرس منشی غلام حیدر کی شخصیت‘ محنت اور لگن سے بہت متاثر ہوا۔ وہ میرے رشتہ دار بھی تھے مگر سکول میں ان کے سامنے سب لڑکے برابر ہو جاتے تھے۔ معمولی سی غلطی کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ کڑی جسمانی سزا دیتے تھے مگر سکول میں اور پھر گھر میں اتنی محنت سے پڑھاتے تھے کہ ان کے مزاج کی سختی پس منظر میں چلی جاتی۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد میں اپنے چچا اور سرپرست پیر حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلا گیا۔ وہ ان دنوں وہاں ریونیو اسسٹنٹ تھے۔ وہاں میں نے گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول میں داخلہ لیا۔ ان دنوں نویں اور دسویں جماعتیں گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کیمبل پور سے وابستہ تھیں۔ چنانچہ مڈل پاس کرتے ہی میں کالجیٹ ہو گیا پھر چچا جان کا وہاں سے تبادلہ ہو گیا وہ شیخوپورہ میں تشریف لے آئے چنانچہ میں نے گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ میں داخلہ لیا.

ان دنوں مشہور شاعر ن م راشد کے والد جناب فضل الہی چشتی وہاں کے ہیڈ ماسٹر تھے، میں نے میٹرک کا امتحان وہیں سے پاس کیا۔ میں مڈل کی جماعتوں میں عربی کے استاد جناب غلام ربانی عزیز سے خاصا متاثر ہوا آپ مشہور ادیب ڈاکٹر غلام جیالنی برق کے بڑے بھائی ہیں اور خود بھی اعلی درجے کے مصنف تھے ان کی سنجیدگی اور صرف اپنے کام سے کام رکھنے کی روش مجھے پسند آئی۔ انٹرمیڈیٹ کالج میں بھی عربی ہی کے استاد پروفیسر انعام اللہ بیگ میری نظر میں مثالی استاد تھے میرا بچپن سراسر شرارتوں سے عبارت ہے میں پڑھائی میں بھی خاصا تیز تھا اور شرارت میں بھی۔ شاید یہی ہجہ ہے کہ میں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں ان میں بچوں کی شرارت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔

بے شمار شرارتوں میں سے ایک شرارت یہ ہے کہ میں نے مکی کے بھٹوں کے بالوں سے مہندی رنگ کی داڑھی اور مونچھیں بنا کر لگا لیں۔ سر پر بڑا سا پگڑا باندھ لیا۔ قمیض کے نیچے بہت سے کپڑے ٹھونس لیے جس سے میری توند ابھر کر کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ پھر میں نے ہاتھ میں عصا لیا اور اپنے خاندان کی حویلی کے ایک ایک گھر میں جھانکا اور خواتین کی چیخیں نکلوا دیں۔ حویلی میں بہت سخت پردہ تھا سو ایک اجنبی معمر مرد کو اپنے سامنے دیکھ کر خواتین کا خوفزدہ ہو جانا لازمی تھا۔ دوسری شرارت بھی سن لیجئے کہ میں نے داستان امیر حمزہ میں کہیں پڑھ لیا کہ عمروعیار نے اپنے استاد کو تنگ کرنے کے لیے انہیں جمال گھوٹا کھلا دیا تھا اور کئی دن تک اسہال کے مریض رہے تھے میں نے ایک پنساری سے جمال گھوٹا لیا اور جب گھر کے اندر سے ملازمین کے لیے کھانا آیا تو جمال گھوٹا سب پلیٹوں اور لسی کے جگ میں تجربتاً ملا دیا۔ بے چارے ملازم اور چپڑاسی بیت الخلاء کے چکر لگا لگا کر نڈھال ہو گئے اور چچا جان کو انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ جمال گھوٹا کی کچھ زیادہ ہی مقدار استعمال ہو گئی تھی۔

بچپن کا ایک ناقابل فراموش واقعہ تو یہ ہے کہ میں نے گھر سے پنسل کے لیے جو پیسے لیے ان سے ریوڑیاں خرید کر کھا لیں اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ہم جماعت یاسین کے بستے میں سے ایک نئی پنسل چوری کر کے اپنے بستے میں رکھ لی۔ امی کو جا کر یہی پنسل دکھائی کہ خرید لایا ہوں۔ انہوں نے اس کا سرا تھوڑا سا تراشا اور وہاں ریشم کے دھاگے سے ریشم کا پھول باندھ دیا۔ پنسل کی صورت بالکل بدل گئی مگر اس کے باوجود میں ایک ماہ تک پنسل سکول نہ لے گیا اور جس روز لے گیا اسی روز پکڑا گیا۔ یاسین نے پنسل دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ اس کی گم شدہ پنسل ہے۔ ہماری کلاس کو ماسٹر محمد حیات پڑھا رہے تھے انہوں نے مجھے پاس بلا کر پوچھا کہ سچ سچ بتائو یہ پنسل کس کی ہے؟ میں نے کڑک جواب دیا ’’میری ہے‘‘ انہوں نے میرے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان طلباء کی پنسلیں رکھ دیں۔ میری انگلیوں کو زور سے دبایا اور میں چیخ اٹھا۔ ماسٹر محمد حیات نے ایک بار پھر میرے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا ’’کس کی ہے؟‘‘ اور میں نے درد سے بل کھاتے ہوئے کہا یاسین کی ہے۔ اس کے بعد میں نے چوری کی جرات کبھی نہ کی۔

جب بھی خیال آیا انگلیوں میں پھوڑے سے بیدار ہو گئے۔ سکول میں سبھی مضامین سے دلچسپی رہی بطور خاص شعر و ادب سے ،تاریخ سے ،جغرافیے سے اور جیومٹری سے۔ اگر جان جاتی تھی تو حساب اور الجبرے سے۔ میٹرک پاس کرنے کی مسرت کا عنوان یہ تھا کہ حساب الجبرے سے چھٹکارا ملا۔ ٹوٹے پھوٹے شعر تو میں بچپن میں کہہ رہا تھا مگر میں نے پہلی باقاعدہ نظم جنوری 1931ء میں کہی جب میں میٹرک کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف تھا یہ مولانا محمد علی جوہر کا مرثیہ تھا۔ میں پرائمری سے مڈل تک بیشتر وقت اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔ پھر جب میں ساتویں آٹھویں میں تھا تو ریڈ کراس سوسائٹی نے مضامین کا کل پنجاب مقابلہ کیا اور میں اس مقابلے میں اول رہا۔ ریڈ کراس والوں کی سند اب تک میرے کاغذات کے انباروں میں کہیں محفوظ پڑی ہے۔ شاید کوئی ایسا کھیل ہو جو میں نہ کھیلا ہوں ٹینس‘ ہاکی‘ کبڈی سے لے کر پنگ پانگ (ٹیبل ٹینس) اور کیرم اور تاش تک۔ سبھی کھیل کھیلا ہوں مگر پیشہ وارانہ مہارت والی بال میں حاصل کی۔ لٹو بھی چلائے، گلی ڈنڈا بھی کھیلا، پتنگ بھی اڑائی اور پتنگ اڑانے سے مجھے اپنی ابتدائی زندگی کا ایک اور ناقابل فراموش واقعہ یاد آیا۔ میں اپنے ننھیال میں اپنے ماموں زاد بھائی محبوب الہی مرحوم کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ نیچے صحن میں لڑکیوں نے ترنجن کی محفل سجا رکھی تھی۔

چرخے گھوں گھوں کر رہے تھے اور سوت کاٹا جا رہا تھا۔ ہم دونوں بھائی چھت پر پتنگ اڑانے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہوا ساکن تھی آخر میں نے محبوب الہی سے کہا کہ پتنگ اور ڈور میرے حوالے کرو۔ تب میں پتنگ اڑانے کے لیے چھت پر تیزی سے الٹے قدموں بھاگا مگر یہ بھول گیا کہ میں چھت پر ہوں۔ چنانچہ چھت ختم ہو گئی اور میں نیچے ترنجن بیٹھی لڑکیوں کے ہجوم میں جا گرا۔ میں بچپن میں خوب موٹا متھنا تھا۔ سو مجھے کوئی چوٹ نہ آئی مگر لڑکیوں میں سے تین چار کو بہت چوٹیں آئیں۔ بچوں کے نام میرا پیغام یہ ہے کہ اپنے ملک سے اپنی تہذیب سے، اپنی روایات سے، اپنی زبانوں سے ،اپنے گیتوں سے ،محبت کرنا سیکھو کیونکہ یہی محبت تمہیں انسانیت کے ساتھ محبت کرنا سکھائے گی۔

احمد ندیم قاسمی

(مشہور زمانہ لوگوں کا بچپن سے ماخوذ)

وہ اور ہی ہوں گے کم ہمت، جو ظلم و تشدد سہہ نہ سکے

وہ اور ہی ہوں گے کم ہمت، جو ظلم و تشدد سہہ نہ سکے

شمشیر و سناں کی دھاروں پر، جو حرفِ صداقت کہہ نہ سکے

اک جذبِ حصولِ مقصد نے، یوں حرص و ہوا سے پاک کیا

ہم کفر کے ہاتھوں بِک نہ سکے، ہم وقت کی رَو میں بہہ نہ سکے

جس بات پہ تم نے ٹوکا تھا اور دار پہ ہم کو کھینچا تھا

مرنے پہ ہمارے عام ہوئی، گو جیتے جی ہم کہہ نہ سکے

تھے تم سے زیادہ طاقت وَر، پر چشمِ فلک نے دیکھا ہے

توحید کا طوفاں جب اٹھا، وہ مدِمقابل رہ نہ سکے

الطافؔ محبت چیز ہے کیا، اِ ک سوزِ دروں ایک جذبِ نہاں

وہ آخرِ شب کی آہیں بنیں، جو آنکھ سے آنسو بہہ نہ سکے

الطاف حسن قریشی