سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں

25 اپریل بروز منگل شام 7 بجے بے وقت سویا نیند سے بیدار ہوا تو عادت کے مطابق ہاتھ سرہانے پڑے موبائل فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون ہاتھ میں آتے ہی فیس بک سے رابطہ کرنے کی کوشش تو اچانک سامنے ایک خوش شکل شاعرہ کی تصویر تھی اور تصویر کے نیچے تحریر پڑھتے ہی دل کچھ غمگین ہو گیا۔ تحریر حادثے سے متعلق تھی جس میں بیان کیا گیا کہ ایک نوجوان شاعرہ بروز سوموار اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 3 روزہ ادبی میلہ کے آخری دن 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے گریں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ کچھ تو بے وقت سونے کی کسلمندی تھی اور کچھ ایسی افسوس ناک خبر کا ملنا کہ پوری طرح بیدار ہوتے ہوتے مجھے کچھ وقت لگ گیا، لیکن جب پوری طرح آنکھیں کُھلیں اور حواس بحال ہوئے تو تصویر پر کچھ غور کیا۔ غور کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے چہرے سے کچھ شناسائی ہے۔ نام پر غور کیا تو وہ بھی جانا پہچانا لگا۔ کچھ دیر اِسی حالت میں غور و فکر جاری تھا کہ ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اُس دور میں چلا گیا جب وہ ہمیں پڑھایا کرتی تھیں۔

ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک اسکول جس میں قابل پُرجوش فرزانہ ناز، بلکہ میڈم فرزانہ ناز چلتی پھرتیں اور بچوں کو بزمِ ادب کیلئے تیاری کرواتی دکھائی دیں۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ وقت تھم سا گیا اور ذہن ماضی کے خیالات میں گھومنے لگا۔ کبھی اِس خبر کو دیکھتا جس پر یقین کرنا مشکل تھا اور کبھی ماضی کی اُس ٹیچر کو یاد کرتا، میں تو میڈم فرزانہ ناز کو جانتا تھا جو میری اسکول ٹیچر تھیں لیکن میرے سامنے جو خبر تھی وہ میڈم فرزانہ ناز کی نہیں بلکہ مشہور نوجوان شاعرہ فرزانہ ناز کی تھی۔ کبھی دل اُن کی شہرت پر مسرت محسوس کرتا لیکن پھر خبر کا خیال آتے ہی دنیا رکتی سی محسوس ہوتی۔

مزید اُن کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اُن کے 2 کمسن بچے بھی ہیں، اور اِس پر ستم یہ کہ 3 مئی کو اُن کے پہلے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ کچھ برس قبل کی اسکول ٹیچر فرزانہ ناز پرجوش، قابل اور محنتی خاتون تھیں جنہیں یہاں پہنچنے تک طویل عرصہ لگ گیا۔ آج جب وہ مشہور شاعرہ تھیں، دو کمسن بچوں کی ماں تھیں تو اِس حادثہ کی نذر ہو گئیں۔ ادب سے محبت اور لگاؤ رکھنے والی ادبی میلے میں ہی کہیں گم ہو گئیں، جو اسٹیج پر وفاقی وزیر احسن اقبال صاحب کو اپنے شعری مجموعہ کی کتاب پیش کر رہی تھیں کہ اسٹیج پر زیادہ بھیڑ کی وجہ سے اُن کا پاؤں پھسل گیا اور وہ 12 فُٹ اونچے اسٹیج سے زمین پر گر گئیں جس کے سبب اُن کا سر پھٹ گیا اور زمین پر خون پھیل گیا۔

جلدی جلدی اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی لیکن ظلم تو یہ ہوا کہ اتنے بڑے ادبی میلے میں ایمبولینس تک کا انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر الشفاء انٹرنیشنل پہنچایا گیا مگر تاخیر ہوجانے کی وجہ سے خون کافی بہہ گیا تھا اور یوں وہ کومے میں چلی گئیں، مگر زیادہ دیر یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا اور منگل بروز 25 اپریل کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔

میں اِس حادثے کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ انسان کس قدر بے بس ہے۔ کیا کچھ وہ اپنے لیے سوچتا ہے، اپنے مقصد کو پانے کیلئے کتنی تگ و دو کرتا ہے، وہ اپنے لیے کتنے خواب دیکھتا ہے لیکن وہ سب خواب ایک لمحہ میں چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ ساری زندگی وہ تیاری میں لگا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ وہ اگلے لمحے تک سے واقف نہیں۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں

فرحان سعید خان

Advertisements

کتاب سے دوری

سومرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ دُنیا میں انسانی محرومی اور مایوسی کا توڑ مطالعہ  ہے، لیکن افسوس ہم ان چیزوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ اور وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم بری طرح مایوسی کا شکار ہیں۔ کتاب سے رشتہ ٹوٹ جانا بڑا المیہ ہے۔ اس سے معاشرہ کھوکھلا ہو گیا ہے اور توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال نے ہمارے رویوں پر بہت منفی اثر ڈالا ہے۔ آج ہر طرف تلخی، نفرت اور مایوسی ہے۔ حافظ نے اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ۔۔۔ ’’فرصتے، کتابے و گوشۂ چمنے‘‘۔۔۔ یعنی کتاب ہو، فرصت ہو اور باغ کا کوئی گوشہ، لیکن آج ہم کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ چمن کی اہمیت سے بھی شاید بیگانہ ہو گئے ہیں۔

کہتے ہیں کتاب سے بہتر اور بے ضرر ساتھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ کتاب کے ذریعے ہم اپنے بستر میں بیٹھ کر دُنیا کے عظیم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جن سے ملنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ یہ کوئی معمولی عیاشی نہیں۔ کتاب انسانی شخصیت میں گہرائی اور توازن پیدا کرتی ہے جو زندگی کا حسن ہے۔ اِسی توازن کے فقدان سے ہم آج دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ دُنیا نے علم کی بنیاد پر ہی ترقی کی ہے، اِس لئے ان معاشروں میں کتاب سے انسانی رشتہ بہت گہرا ہے، ہر آدمی، جہاں بھی اُسے وقت ملتا ہے، مطالعہ میں مصروف ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ بس کا انتظار کرتے ہوئے بھی وہ کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ وہاں پر جگہ جگہ لائبریریاں ہیں، جہاں کوئی بھی شہری حتیٰ کہ غیر ملکی بھی ان سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے، لیکن ہم نے لائبریری کا کلچر پیدا ہی نہیں کیا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں گیلپ سروے کے نتائج شائع ہوئے تھے، جن کے مطابق پاکستان کے58 فیصد لوگوں نے زندگی میں کبھی لائبریری سے استفادہ نہیں کیا۔ یہ افسوسناک بات ہے، یہ ہمارے معاشرے پر بڑا منفی تبصرہ ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں لوکل باڈیز کے نظام کے تحت ہر یونین کونسل کے ہیڈ کوارٹر میں ایک لائبریری قائم کی گئی تھی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے لوکل باڈیز کے نظام کی بساط لپیٹ دی اور کتنی حیران کن بات ہے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ آمروں نے بنیادی جمہوریت کے انتخابات کروائے، لیکن جمہوری حکمرانوں نے لوکل باڈیز کی سطح پر انتخابات کروانے میں ہمیشہ گریز کیا۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں کی نیتوں میں فتور ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان دِنوں لوکل باڈیز کا احیا ہو گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ محلے کی سطح پر لائبریریاں ہوتی تھیں، پھر مُلک بھر میں تمام بڑے شہروں میں نیشنل سینٹر تھے، جہاں عوام کے لئے بہترین لائبریریاں تھیں اور علمی و ادبی موضوعات پر تقریبات ہوتی تھیں۔ مَیں نے لاہور میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں پاکستان نیشنل سینٹر میں یادگار تقریبات میں شرکت کی، پھر یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔

باقی پاکستان کو چھوڑیں، دارالحکومت اسلام آباد میں بھی صرف نیشنل لائبریری رہ گئی ہے، جو ریڈ زون میں ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے ، پھر نیشنل لائبریری کتابیں ایشو بھی نہیں کرتی۔ اس طرح اس کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ایف 11 مرکز میں بھی ایک سرکاری لائبریری ہے، لیکن اس کی حالت کا اندازہ اِس سے لگائیں کہ اس میں ٹیلی فون اور بجلی نہیں۔ نیشنل لائبریری نے ہائر ایجوکیشن کے پاس ایک لائبریری قائم کی ہے، لیکن شاید ہی عام آدمی کو اس کا علم ہو۔ لال مسجد کے پاس ایک چلڈرن لائبریری تھی، جو ایک قابلِ قدر کوشش تھی، لیکن لال مسجد تنازعہ کی نذر ہو گئی۔

بلیو ایریا میں امریکن سینٹر کی لائبریری تھی، ہمارے کچھ سیاسی لیڈروں نے ایک جلوس نکال کر چار پانچ جانیں بھی لے لیں اور لائبریری بھی بند کرا دی۔ میلوڈی مارکیٹ میں برٹش کونسل کی لائبریری تھی، وہ بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل ہو گئی۔ میری تجویز ہے کہ کم از کم اسلام آباد میں ہر نئے سیکٹر کے کمرشل مرکز میں سی ڈی اے کو ایک کمیونٹی سینٹر بنانا چاہئے، جس میں باقی چیزوں کے علاوہ ایک چھوٹا سا کلب بھی ہو اور ایک لائبریری بھی تا کہ عام آدمی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لئے اسلام آباد کلب اور گن کلب کافی نہیں۔ جی 9- اور جی 7- میں کمیونٹی سینٹر موجود ہیں، لیکن ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ سی ڈی اے یہ سینٹر بنا کر پچھتا رہی ہے، کیونکہ بعد میں بننے والے سیکٹروں میں ایسا کوئی سینٹر نہیں بنایا گیا، مثلاً ایف 10اور ایف11 وغیرہ میں کوئی ایسی سہولت نہیں۔

میونسپل ایڈمنسٹریشن کو ان چیزوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کتابیں خرید کر پڑھنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں، کتابوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو رہا ہے، تو کتاب کی قیمت بھی بڑھنے کا پورا جواز موجود ہے، پھر کتاب کی چھپائی کا معیار بھی تو بلند ہوا ہے۔اگرچہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کتاب خرید سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتاب اُس کی ترجیح ہی نہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہمارے ہاں مطالعہ کا کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ صرف ایک محدود طبقہ کتاب کے عشق میں مبتلا ہے، اس صورتِ حال میں اچھی لائبریریوں کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، جہاں پارلیمنٹ جیسے اعلیٰ ترین اداروں کی رکنیت کے لئے تعلیم کی ضرورت تسلیم نہ کی جاتی ہو اور جہاں جیلوں کے دوستوں کو قومی اداروں کا سربراہ بنانے کا رواج عام ہو، وہاں کسی مثبت علمی کام کی توقع رکھنا شاید زیادتی ہو۔

خوش قسمتی سے موجودہ حکومت میں کچھ علم دوست لوگوں کی شمولیت سے صورتِ حال میں کچھ تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے ایک اہلِ قلم کانفرنس کا افتتاح کیا اور علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 50 کروڑ روپے کا فنڈ بھی دیا ہے۔ اہلِ قلم کانفرنسوں کا انعقاد بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن ایسی کانفرنسوں کا فائدہ زیادہ تر وقتی ہوتا ہے، اس لئے کچھ دور رس اثرات کے حامل اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ میری حکومت اور اس میں علم دوست شخصیات سے گزارش ہے کہ اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں ایک گرینڈ پبلک لائبریری قائم کی جائے، جہاں سے ہر کوئی کتابیں لینے کا اہل ہو اور جو رات 12 بجے تک کھلی رہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلیٰ قسم کا ریسٹورنٹ بھی ہو۔ یورپ میں تو کتابوں کی دکانوں میں چائے کافی کا انتظام عام ہے، ہمارے ہاں یہ چیز ابھی رواج نہیں پا سکی۔ گلبرگ لاہور میں کتابوں کی ایک دکان Readings نے اس کی نقل کی ہے اور دکان کے اندر ایک کیفے ٹیریا بھی بنایا ہے۔ جاپان میں ایسی لائبریری بھی موجود ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ ایف 9 والی مجوزہ لائبریری کا افتتاح وزیراعظم صاحب خود کریں۔ اب تک ہمارے ہاں وزیراعظم اور صدر کانفرنسوں کے علاوہ صرف سڑکوں اور پُلوں کا افتتاح کرتے آ رہے ہیں، وہ بھی غلط نہیں، لیکن اب کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔

کتاب اور علم سے دوری ایک قومی المیہ ہے، یہ کسی ایک حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے لئے ایک سوال ہے۔ ہمارے ہاں اب کافی نجی ادارے خیر و فلاح کے بڑے کامیاب منصوبے چلا رہے ہیں، میرے خیال میں لائبریریوں کے ذریعے علم کے فروغ میں بھی مخیر لوگوں کو حصہ لینا چاہئے، کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے اور ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے نام پر ہسپتال بنا رکھے ہیں، جہاں بجا طور پر بیمار اور بے سہارا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے جو یقینی طور پر ایک نیک کام ہے، لیکن معاشرے کے نظریاتی زخموں پر مرہم کوئی نہیں رکھے گا؟ کیا کوئی ادبی میموریل لائبریری نہیں بن سکتی، کیا علم کا فروغ کار خیر کے ضمن میں نہیں آتا؟

علم صرف کلاسوں سکولوں اور کالجوں میں نہیں ہوتا، ایسا ہوتا تو معاشرہ اتنا زوال پذیر نہ ہوتا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہماری علمی بنیاد کمزور ہے۔ ہم نے علم صرف امتحان پاس کرنے کو سمجھ لیا ہے۔ اب تو امتحان پاس کرنے کا معاملہ بھی مشکوک ہو گیا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں دو فیصد کی کامیابی اربابِ اختیار اور پورے معاشرے کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ میرے خیال میں معاشرے کی جسمانی صحت کی جتنی ضرورت اور اہمیت ہے، اس سے زیادہ ذہنی صحت اور شعور کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلے میں حکومت اور معاشرے کی سطح پر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ داؤد، میاں محمد منشا اور سید بابر علی جیسے لوگوں کو علم کے فروغ کے سلسلے میں اِس پہلو پر بھی توجہ کرنی چاہئے، بلاشبہ انہوں نے لمز جیسے ادارے بنا کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ کچھ اس طرف بھی توجہ کریں۔

اے خالق سرگانہ

حکیم مومن خان مومنؔ : تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حکیم مومن خان مومنؔ 1800 ء میں دِلّی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حکیم غلام نبی تھا۔ خاندانی حکیم تھے۔ مومنؔ سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں شاہی طبیب ہو گئے تھے۔ اچھا حافظہ پایا تھا۔ شطرنج کے عمدہ کھلاڑی تھے۔عربی و فارسی کے بڑے عالم تھے۔ طبیعت شروع ہی سے شاعری کی طرف مائل تھی۔ شاعری کے علاوہ علمِ نجوم میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔اُن کی پیش گوئیاں حیران کن حد تک درست ثابت ہوتی تھیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی عزت و توقیر ہر جگہ کی جاتی تھی۔ مومنؔ وضع دار ،وجیہہ ،انتہائی پرکشش اور خوبصورت آدمی تھے۔عالمِ شباب میں اُن کی عشق و عاشقی کے چرچے عام رہے۔

مومن خان مومنؔ کو تاریخ گوئی میں ملکہ حاصل تھا۔ اُن کے شاگردوں میں نواب مصطفی خان شیفتہؔ بہت مشہور ہوئے جن کے دیوان کا نام ’’ تذکرہ گلشنِ بے خار‘‘ ہے۔ 1852 ء میں کوٹھے سے گر کر وفات پائی جس کے متعلق خود تاریخ لکھی۔ مومن خان مومنؔ کو اِس شعر پر شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مرزا غالبؔ کو مومنؔ کا یہ شعر اِس قدر پسند آیا کہ غالبؔ اپنا سارا دیوان اِس شعر کے عوض دینے کو تیار ہو گئے۔ اِس بات کا شہرہ مومنؔ کا مقامِ شاعری متعین کرنے میں بہت ممدو ثابت ہوا۔ عشق کی سچی واردات، نفاست اور سچائی جذبات مومنؔ کی شاعری کے خاص اوصاف تھے۔ شعری اثاثہ میں ایک دیوان اور چھ مثنویاں چھوڑیں۔

مومنؔ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تجربات و واردات قلبی کو ایسی تہذیب و شائستگی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اُردو شاعری میں وہ اپنی مثال آپ بن گئے۔ اِس منفرد تغّزل نے مومن خان مومنؔ اور اُن کی شاعری کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ کلامِ مومنؔ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں خلوص اور سچائی بڑی صفائی سے جھلکتی ہے۔عشق و محبت کی وادی پُرخار میں جو اُن کے قلب و جگر پر بیتی اُسے شعر کے لطیف سانچے میں ڈھال دیا۔ خلوص اور سچائی کا انہیں یہ صلا ملا کہ بہ نسبت دیگر شعرا کے اُن کے کلام میں دلکشی، جاذبیت اور اپیل زیادہ پائی جاتی ہے۔ معاملات عشق میں مومنؔ کا بیان رسمی تکلفات سے قطعی ناآشنا معلوم ہوتا ہے۔

مومنؔ کی غزل میں مضامین کے لحاظ سے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں وہی فرسودہ اور پائمال مضامین دہرائے گئے ہیں۔ مگر مومنؔ نے اِن کو کمال مصوری اور ذہنی اُپچ سے کام لے کر تخیل کا ایسا رنگ دیا کہ وہ چونکا دینے کی حد تک بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ خیال کی کارفرمائی اور طرزِ اظہار نے اُردو غزل کے پرانے مضامین کو نیا لباس اور آہنگ دے کر تصور آفرین اور شائستہ فکر بنا دیا۔ مومنؔ کے تغزل کی دلکشی کا سارا راز اُن کے طرزِ بیان میں ہے۔ یہ طرزِ بیان دیگر غزل گو شعرا سے بالکل الگ، مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنؔ نے اپنے اِس مخصوص اُسلوب کی بدولت نہ صرف ذوقؔ اور غالبؔ کی دِلّی میں نام پیدا کیا بلکہ اُردو کے معروف متغزلین کی صف میں بھی ایک باوقار اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ مومنؔ نے اپنے اُسلوب میں ابہام، رمزو کنایہ، طنز و تضاد اور تراکیب سے بڑی صفائی اور ہنر مندی سے کام لیا ہے۔

سیّد ارشاد حسین

انسان تنہا کیوں ہوتا جا رہا ہے ؟

گئے وقتوں کی بات ہے شہر لاہور میں ادبی و ثقافتی روایات کا شہرہ پوری دنیا میں تھا۔ لاہور کے چائے خانوں میں ادیبوں، دانشوروں، وکلاء اساتذہ کے گروپس بیٹھ کر آپس میں ملکی و بین الاقوامی حالات پر مباحثے کیا کرتے تھے۔ لاہور میں چائے خانوں کی بہتات تھی۔ ٹی ہائوس، کافی ہائوس، نگینہ بیکری، پرانی انارکلی کے لاتعداد ٹی سٹال ایسے تھے جہاں لوگ گروپوں کی شکل میں بیٹھ کر مختلف مسائل پر باتیں کیا کرتے تھے۔ یہی نہیں محلوں کے ڈیرے اور تھڑے بھی آباد ہوتے تھے۔ تھڑا کلچر لاہور شہر کا خاصہ تھا، بازاروں میں گھروں کے دروازے کے ساتھ ہی تھڑے بنے ہوئے ہوتے تھے جہاں شام کو لوگ جب دفتروں سے واپس آتے تھے وہاں بیٹھ کر خوش گپیاں کی جاتی تھیں۔ ایسے ہی چند خوشحال افراد نے اپنے گھروں کے باہر ڈیرے بھی بنائے ہوتے تھے جہاں احوال سیاست کے ساتھ ساتھ محلے دار ایک دوسرے کی خبر گیری بھی کرتے تھے.

بلکہ لاہور شہر کے بارے میں مشہور ہے یہاں کی سیاست اسی تھڑا کلچر سے شروع ہوتی تھی۔ لاہور کی سیاست شام 6 بجے کے بعد تھڑوں سے شروع ہوتی اور سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سائنس نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی۔ صرف سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا دور تھا۔ موبائل فون کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔ ایک لیٹربکس تھا جو ہر کسی کے گھر پر نہیں لگا ہوتا تھا۔ خط و کتابت کا عروج تھا کسی عزیز کو خط لکھنا اور پھر اس خط کے جواب کا انتظار کرنا درمیان میں جو دن آتے تھے انتظار کا رومانس جو انسانی دل دماغ پر ہوتا تھا اس کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ لوگوں کے آپس میں رابطے تھے۔ شام کو بڑے کمرے میں سارا گھر اکٹھا ہو جاتا، واحد سرکاری TV پر رات آٹھ بجے سارا خاندان مل کر ڈرامہ دیکھتا تھا۔ وقفے کے دوران اس ڈرامے پر آپس میں بات ہوتی تھی۔

پھر جب فلم دیکھنے کا پروگرام بن جاتا تو سارا خاندان اور دوست مل کر سینما گھر فلم دیکھنے جاتے ایک قسم کی مشترکہ خاندانی تفریح کا ساماں ہوتا تھا۔ لاہور کے میلے کسی نے نہیں دیکھے آج کی نسل تو شاید ان میلوں ٹھیلوں کی رونق سے نا واقف ہے مگر پرانے لوگ جانتے ہیں شہر میں میلوں کے دوران کیسا سماں ہوتا تھا۔ ایک عجب قسم کی ثقافتی زندگی کا دور تھا اس شہر لاہور میں۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، سائنس کی نت نئی ایجادات آئی، وی سی آر اور سینما کا دور ختم ہو گیا۔ پہلے ڈش انٹینا اور کیبل سسٹم متعارف ہوا۔ موبائل فون انٹرنیٹ کی جدید ترین 3G ،4G ٹیکنالوجی آئی۔ جدیدیت نے سارا منظرنامہ ہی بدل دیا۔ ٹیلی ویژن کا تصور ہی بدل گیا۔ لوگ موبائل فون پر ڈرامے اور فلمیں دیکھنے لگ گئے ہر بندے کے پاس اپنا موبائل سوشل میڈیا کی آمد نے ایک نیا منظرنامہ بنا دیا ہے۔ وہ بحث مباحثے جو چائے خانوں ،چوپالوں اور تھڑوں پر ہوا کرتے تھے اب سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹویٹر پر ہوتے ہیں۔

ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے واٹس اپ اور SMS کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی باشعور انسان جدیدیت کے خلاف نہیں ہوتا مگر ایک بات جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے جو سائنس نے انسانی زندگی کی تنہائی میں کہیں اضافہ تو نہیں کر دیا۔ اب ایک گھر میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں رابطہ کرنے کے لیے موبائل فون کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ کیا انسان تنہائی کی طرف نہیں جا رہا ۔ آخر ایسا کیوں ہے ہمارے معاشرے نے جدید سائنس کی ترقی کو منفی انداز سے کیوں لیا ہے۔ یہ سب ایجادات مغرب سے آئی ہیں کیا وہاں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ ایک بحث طلب سوال ہے مگر ہمیں یہاں مغرب کو چھوڑ کر اپنے سماج اپنے خطے کے معروضی حالات کی طرف دیکھنا ہو گا۔ ان سطور کو لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جدید سائنس کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ بالکل نہیں ہمیں جدیدیت کو مثبت انداز سے لینا چاہیے۔ اپنی روایات کو ختم کرنا نہیں چاہیے انسانی تنہائی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔

انسانوں سے انسانوں کی جو جڑت ہے اس کو بالکل ختم نہیں ہونا چاہیے۔ مطالعے کی عادت ڈالیں۔ مطالعہ بحث مباحثے کو جنم دیتا ہے۔ اپنے کتب خانے آباد رکھیں، چائے خانوں اور تھڑوں کی محفلیں آباد رہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے رابطہ رکھیں۔ سماج میں مکالمے کا سفر کبھی نہیں روکنا چاہیے ، مکالمہ جمود کو توڑتا ہے۔ ایک دوسرے کو فتح نہیں کرنا صرف اپنی دلیل سے قائل کرنا ہے۔ اس کے لیے جدید سائنس سے بھی استفادہ اٹھانا ہے اور انسانی جڑت کے جو روایتی طریقے ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ہمیں انسانوں کو تنہا نہیں کرنا ایک سماجی مکالمے کی طرف جانا ہے۔

حسنین جمیل

نامور افسانہ نگار، شاعرہ، ناول نگار امرتا پریتم

شہرہ آفاق نظم ” اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول” کی خالق شاعرہ
امرتا پریتم اگست 1919ء میں گورونانک پورہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام امرت کور تھا۔ والد کا نام گیانی کرتار سنگھ تہکاری تھا جو رسالہ ریخت نگار لاہور کے ایڈیٹر تھے۔ امرتاپریتم نے بڑے علمی و ادبی ماحول میں تربیت پائی اور اپنے والد سے گورمکھی”پنجابی” سیکھی اور شاعری کا فن سیکھا ۔چودہ برس کی عمر میں ہی گیانی کا امتحان پاس کر لیا۔ لاہور میں رہتے ہوئے انگریزی بھی پڑھ لی اور چھوٹی عمر ہی سے شاعری میں اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ ابھی امرتا پریتم کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی کہ ماں کی مامتا سے محروم ہو گئیں۔ ماں کی موت کے المناک واقعہ نے ان کے خوابیدہ جذبوں کو بیدار کر دیا اور وہ اپنے المناک جذبات کے طوفان کو شاعری کے ذریعہ زمانے تک پہنچانے لگیں۔

جب ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ” امرت لہراں” شائع ہوا تو اس وقت ان کی عمر سولہ برس کی تھی۔ اس مجموعہ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد جو شعری مجموعے منظر اشاعت پر آئے ان میں جیوندا جیون، لوک پیڑ، پتھر گیٹے، لمیاں واٹاں ، میں تاریخ ہند دی، تریل دھوتے پھل، اوگیتاں والیا، منجھ دی لالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اب تک ان کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں نظموں، گیتوں کہانیوں کے مجموعے اور کئی ناول شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد انگریزی کتابوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں میں تیسری عورت، 49 دن، پکی حویلی ، شوق صراحی ، اک ہتھ مہندی اک ہتھ شالا،اَک دا بوٹا، چک 36 میں رسیدی ٹکٹ، میں جمع میں، میں جمع تو، میں جمع دنیا، سرگھی ویلا، ناگ منی اور متعدد دوسری تصانیف شامل ہیں۔ دہلی سے گرمکھی رسم الخط میں شائع ہونے والے ایک رسالہ ناگ منی کی ادارت بھی کرتی رہیں۔ قیام پاکستان کے موقع پر ہونے والی قتل و غارت گری بابت لکھی گئی ان کی درج ذیل نظم کلاسیکی ادب کا حصہ بن چکی ہے.

ڈاکٹر جاوید اکرم

 

جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چند ایام

فیڈرل بی ایریا کے مکان میں جہاں بابا (جوش ملیح آبادی) کے مداحوں اور احباب کا آنا جانا رہتا تھا وہاں ہمارے عزیز و اقارب اور رشتے داروں کا بھی آنا جانا رہتا تھا۔ راولپنڈی سے ہماری خالہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی ان کے اہل و عیال اور خاوند آیا کرتے تھے۔ لاہور سے ہماری دوسری خالہ جو کہ محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی کی چھوٹی ہمشیرہ محترمہ قدسیہ جہاں (بیہ خالہ) ان کے اہل و عیال اور خاوند بھی اکثر آیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بہنیں بابا کی حقیقی بھانجیاں تھیں۔ کراچی میں بھی ہمارے رشتے دار اکثر آیا کرتے تھے جن میں اشفاق بھائی رفیق بھائی اور ان کے اہل و عیال تشریف لایا کرتے تھے۔

ایک ہماری نانی کی کزن ’’سنو خالہ‘‘ بہت آیا کرتی تھیں۔ ان کی آواز کی گھن گرج کی وجہ سے بابا نے ان کو ریڈیو کا خطاب دیا تھا۔ ان کے شوہر ضمیر قد کے لحاظ سے قدرے لمبے تھے ہمارے والد محترم التفات احمد خان شہاب ملیح آبادی نے ان کا نام ’’گنا‘‘ رکھ دیا تھا اور وہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر ’’گنا خالو‘‘ کا نام رہتا تھا۔ ہماری نانی کے حقیقی بھانجے افتخار علی خان (منے ماموں) جو کہ نواب مصطفی علی خان کے صاحبزادے تھے اکثر اپنے بیوی بچوں سمیت آیا کرتے تھے۔ انتہائی دلچسپ انسان تھے وہ قصہ گوئی کے ماہر تھے اور ہم سب بہن بھائی ان کی قصہ گوئی سے بہت محظوظ ہوا کرتے تھے بعض اوقات ہم لوگ ان کی غیر یقینی بات کو بھی جانتے بوجھتے یقین کر کے ہنستے رہتے تھے۔ بابا سے ملنے والوں کا ایک بڑا حصہ اہل علم اور اہل قلم سے وابستہ حضرات کا تھا جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

ایک مرتبہ اداکار سید کمال مرحوم اپنے اہل و عیال اور اپنے بھائی میجر جلال مرحوم کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ میجر جلال نے بابا سے اصرار کیا تھا کہ آپ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں لیکن بابا نے اپنی مشغولیات کی بناء پر معذرت کر لی تھی ۔ ممتاز دانشور ضیاء محی الدین بھی محترم افتخار عارف کے ساتھ بابا کو اپنے پروگرام ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ میں مدعو کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے بابا سے کہا کہ ہم آپ کا اپنے پروگرام میں دس ایک منٹ انٹرویو کریں گے ، بابا سے رہا نہ گیا اور فوراً ٹوک دیا کہ یہ دس ایک منٹ کیا ہوتے ہیں۔ یا تو دس منٹ ہوں گے یا صرف ایک منٹ۔ محترم ضیاء محی الدین بہت زور سے ہنسے اور اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ روحانی پیشوا حضرت بابا ذہین شاہ تاجی بابا سے ملنے اسی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔ بابا ذہین جی تاجی سفید لمبا دراز کرتا اور گلے میں سفید چادر زیب تن کر کے آیا کرتے تھے۔

فرخ جمال ملیح آبادی

(کتاب : جوش ملیح آبادی سے انتخاب)

یہ ادبی میلے ٹھیلے

مجھے لگتا ہے کے ایل ایف کا آئیڈیا جے پور لٹریری فیسٹیول سے لیا گیا ہو گا۔ مگر پاکستانی زمین اس آئیڈیئے کے لیے اتنی زرخیز ثابت ہوئی کہ معاملہ کئی ہاتھ آگے چلا گیا۔ دو ہزار تیرہ میں لاہور میں رضی احمد نے لاہور لٹریری فیسٹول ( ایل ایل ایف ) منعقد کیا۔ سرکار نے بھی کچھ فراخ دلی کی اور یہ شہر کے کیلنڈر کا سالانہ ایونٹ بن گیا یعنی ہر فروری کے آخری ہفتے میں ایل ایل ایف ہوگا۔ مگر اس برس چوبیس تا چھبیس فروری جو پانچواں ایل ایل ایف ہونے والا تھا اس کے ساتھ صرف ایک دن پہلے کے خودکش حملے نے ہاتھ کر دیا۔ ہاتھ تو دراصل حکومتِ پنجاب کے فول پروف حفاظتی دعووں کے ساتھ ہوا مگر انتظامیہ کی بد حواسی کا نزلہ ایل ایل ایف پر گر گیا۔ پہلے جگہ بدلوائی گئی۔ پھر تین دن کم کرا کے ایک دن کرایا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ تین دن میں اگر پچھلے ایل ایل ایف کی طرح ایک لاکھ لوگ امڈ آئے تو خود کش بمباروں کی تو چاندی ہو جائے گی۔

ایل ایل ایف کو بند جگہ میں اپنے سیکیورٹی انتظامات خود کرنے کی شرط پر صبح سے شام تک منعقد ہونے کی اجازت دینے کے بعد حکومتِ پنجاب نے یکسوئی سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنا شروع کیا۔ اور ایک روزہ ایل ایل ایف کے صرف گیارہ دن بعد ( پانچ مارچ ) قذافی اسٹیڈیم میں ہر دو تماشائیوں کی حفاظت پر اوسطاً ڈیڑھ سپاہی تعینات کر کے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ حکومت ِ پنجاب کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ یہ وہی ایل ایل ایف ہے جو پچھلے برس نیویارک اور لندن میں بھی منعقد کیا گیا تا کہ دہشت گردی کی گرد سے آلودہ پاکستان کا شفاف علمی و ادبی چہرہ بھی سامنے آ سکے۔ اور یہ وہی ایل ایل ایف ہے جس کے بارے میں خادمِ اعلیٰ شہباز شریف گذشتہ برس کہہ چکے ہیں کہ ایسے میلے پاکستان کی اچھائیوں کا آئینہ ہیں۔

بات پتہ نہیں کیا ہو رہی تھی اور میں کہاں سے کہاں بہک گیا۔ عرض یہ کرنا تھا کہ پچھلے سات برس میں کراچی لٹریری فیسٹیول سے جو نئی علمی و ادبی روایت شروع ہوئی اس نے جانے کہاں کہاں تک جڑیں بنا لی ہیں۔ پچھلے تین برس سے کچھ مقامی جنونی فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کرا رہے ہیں۔ اس میں زیادہ زور اردو اور علاقائی لکھاریوں اور ادب کی حوصلہ افزائی پر ہے۔ بلوچستان سے میڈیا اچھی خبریں بہت کم اٹھاتا ہے مگر گوادر کے نوجوانوں نے مسلسل تین برس سے گوادر بک فیسٹیول کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نام نہاد قومی میڈیا کو اپنی بے ساختہ کوریج پر مجبور کر دیا۔ میں نے اب تک کتاب کی جتنی بھوک اور للک گوادر بک فیسٹیول میں دیکھی شائد ہی کسی اور لٹریری میلے میں نظر آئی ہو۔حالانکہ گوادریوں کی جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے جتنے بڑے شہروں کے کتابی کیڑوں کے کھیسے میں پائے جاتے ہیں۔

سندھ میں کے ایل ایف کی دیکھا دیکھی دیگر علم دوستوں نے بھی لٹریری فیسٹیولز منعقد کرنے شروع کر دیے ہیں۔ پچھلے دو برس سے حیدرآباد میں گلوکار سیف سمیجو ، ثنا خوجہ اور بیسیوں نوجوان رضاکار لاہوتی میوزک اینڈ لٹریچر فیسٹیول کا علم بلند کیے ہوئے ہیں ( میوزک اور لٹریچر ایک ساتھ ! وٹ این آئیڈیا سر جی )۔ کراچی میں گذرے نومبر میں پہلا سندھ لٹریری فیسٹیول بخشن مہرانوی اور علی آکاش نے دوستوں سے مل کر اور عین وقت پر کچھ سپانسرز کے پھسل جانے کے باوجود کروایا اور اس برس بھی کمر بستہ ہیں۔ اور تو اور پچھلے برس ٹنڈو آدم میں سانگھڑ لٹریچر فیسٹیول بھی مقامی لوگوں نے منظم کر ہی لیا ( اگر کہیں اور بھی اس طرح کی سرگرمی ہو رہی ہو تو مطلع فرمائیے )۔

ان تمام علمی سرگرمیوں کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ منتظمین نے سرکار پر مکمل تکیہ کرنے کے بجائے اپنے سپانسرز خود پیدا کیے ہیں۔ لہذا ان میلوں میں لمبی زندگی پانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اب تو ان فیسٹیولز پر تنقید بھی ہونے لگی ہے جیسے کے ایل ایف ، آئی ایل ایف اور ایل ایل ایف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ انھیں اشرافیہ کے علمی زوق کے اعتبار سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اردو اور علاقائی ادب و لکھاریوں کے بجائے مغربی و دیگر بدیسی مصنفوں کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔ زیادہ تر اجلاسوں کی زبان انگریزی ہوتی ہے۔ فوڈ اسٹالز پر کتابوں کے اسٹالز سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایسے ایسے فیشن نظر آتے ہیں گویا کتابوں کا میلہ نہیں ڈربی ریس ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تنقید کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب بڑے میلوں میں اردو اور علاقائی زبانوں کی نمایندگی سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ جوں جوں صارف کا اصرار بڑھتا جائے گا توں توں ان میلوں کی شکل بھی بدلتی چلی جائے گی۔ سارا کھیل ڈیمانڈ اور سپلائی کا ہے۔ مجھے تو یہ میلے طبقاتی دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً کے ایل ایف میں اب ہر سال ایسے نوجوانوں سے پہلے سے زیادہ ملاقات ہو رہی ہے جو اندرونِ سندھ سے بسوں میں بیٹھ کر کراچی صرف اس میلے میں مصنفین کو سننے اور کتابوں سے ملنے آتے ہیں۔

اور جو مطمئن نہیں ہے وہ اپنے ذوق کے اعتبار سے میلہ منعقد کرالے۔ جیسے سندھ لٹریچر فیسٹیول نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر گفتگو کی کمی کو پورا کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ روایت مسلسل پھیلنی چاہیے۔ کسی شعلہ بار اجتماع میں شرکت کر کے اپنا خون ابالنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو تین دن کے ان میلوں میں ہر رنگ و نسل و طبقے کے درمیان ٹھنڈے ٹھنڈے وقت گذار دیا جائے۔ وگرنہ وقت تو ہمیں گذار ہی رہا ہے۔ اتنی سی بات کب سمجھ میں آئے گی کہ اس سماج کو کلاشنکوف سے زیادہ ملاقات ، مکالمے اور کتاب کی ضرورت ہے۔ ایسے چوروں کی ضرورت ہے جو جیکٹ میں چوری چھپے بارود بھر کے لانے کے بجائے کتابیں بھر کے اڑ جائیں۔

وسعت اللہ خان

مشہور لوگوں کے کتب خانے

محمد شاہ تغلیق کا کتب خانہ عہد تغلق کتب خانوں کے اعتبار سے خاصا اہم ہے۔ سلطان محمد تغلق کا کتب خانہ نہایت قیمتی تھا۔ دہلی جو اس زمانے میں علم و ہنر کا مرکز تھا اور اس وقت تقریباً ایک ہزار کتب خانوں سے منور تھا۔ ان میں بہت سے کتب خانے علمی درس گاہوں سے منسلک تھے۔ ان میں ریاضی‘ ہیئت طب اور دوسرے بہت سے علوم پر ہزاروں کتابیں موجود تھیں۔ سلطان عالموں کو دعوت دیتا اور ان کی قدر دانی کرتا تھا۔ دور دراز سے آنے والا اگر کسی نسخے کو سلطان کی خدمت میں پیش کرتا تو وہ اس کا دامن زر و جواہر سے بھر دیتا تھا۔ وہ فنون لطیفہ کا دلدادہ متمدن‘ فاضل اور بلند پایہ شاعر تھا۔ نجوم‘ فلسفہ‘ ریاضی اور طبعیات میں یکساں مہارت رکھتا تھا۔ وہ سکندر نامہ اور تاریخ محمودی جیسی تصانیف کا کامل واقفیت رکھتا تھا۔ فن شعر گوئی میں کوئی سلطان سے بہتر نہ تھا۔

  دہلی سے دارالخلافہ دیوگری منتقل ہوا تو شہر میں بہت سے کتب خانوں کو نقصان پہنچایا۔ ابن بطوطہ 1341ء میں جب دہلی آیا تو وہ دہلی کو اس حالت میں دیکھ کر بڑا حیران ہوا۔ فیروز شاہ تغلق کا کتب خانہ سلطان فیروزشاہ ایک صاحب علم فرماں روا تھا اس نے عوام کی فلاح و بہبود کے متعدد کام کیے۔ جگہ جگہ رفاہ عامہ کے لیے دینی مدرسے قائم کئے فیروز شاہ نے کتب خانوں کی ترقی و توسیع میں بھی خوب دلچسپی لی۔ اس نے اپنے کتب خانہ میں ایک اعلی معیاری دارالترجمہ قائم کیا جہاں رات دن مختلف مشرقی زبانوں سے فارسی اور عربی میں تراجم کا کام ہوتا تھا۔ نگر کوٹ کی فتح کے موقع پر سلطان کو سنسکرت زبان کی جو سینکڑوں کتابیں ملیں اس نے ان میں سے اکثر کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کروایا اور اپنے کتب خانہ میں سنبھال کر رکھا۔

مشہور کتاب دلائل فیروز شاہی انہی میں سے ایک کتاب کا ترجمہ ہے۔ فیروز شاہ کو کتابوں سے دیوانگی کی حد تک لگائو تھا۔ وہ خود صاحب علم و فلم تھا اور اہل علم و ہنر کی بڑی قدر کرتا تھا فتوحات فیروز شاہی اس کی خودنوشت کتاب ہے۔ سلطان نے ملک میں تعلیمی ترقی کے لیے جب بہت سے مدرسے اور کالج کھولے تو ان میں کتب خانوں کا قیام لازمی قرار دیا۔ چنانچہ مدرسہ فیروز شاہی کا کتب خانہ اپنی مثال آپ تھا۔ اسی مدرسہ میں فارسی‘ عربی‘ ہندی‘ ترکی زبان کی نفیس کتابوں کا ذخیرہ محفوظ کیا گیا تھا۔ فیروزشاہ تغلق کے فاضل درباریوں میں ایک تاتار خان تھا وہ مفسر بھی تھا ۔ اس نے بہت سی تفسیروں کو سامنے رکھ کر ایک جامع تفسیر لکھی۔ اسی طرح قانون پر کتابیں جمع کیں اور ایک مستند فتاویٰ تحریر کیا یہ فتاویٰ 30 جلدوں پر مشتمل تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ذاتی لائبریری بھی تھی۔

سکندر لودھی کا کتب خانہ (1489-1517)ء لودھی خاندان میں سکندر لودھی سب سے زیادہ قابل‘ معاملہ فہم اور دین دار بادشاہ کہا جاتا تھا۔ وہ علم اور عالموں کا بڑا قدردان تھا اور خود بھی بہت اچھا شاعر تھا۔ اس نے دوسری زبانوں کی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کرانے کے لیے معقول انتظام کیا ہوا تھا۔ سلطان کیونکہ خود مطالعہ کا بڑا شوقین تھا۔ اس لیے پورے خاندان اور دربار میں علم و ادب کی محفلوں کا چرچا رہتا تھا۔ علم طب پر سنسکرت اور عربی زبانوں کی مشہور کتابیں ترجمہ کروا کے کتب خانہ میں رکھی گئی تھیں۔ اس طرح اس کے دور حکومت میں قصر شاہی کے کتب خانہ میں نادر اور عمدہ کتابوں کا وافر ذخیرہ فراہم کیا گیا تھا۔ اس عہد میں ہندوستانی طریقہ علاج پر کتابیں لکھی گئیں۔ سلطان لودھی کے دربار میں نامور خوش نویس اور قابل لوگ جمع تھے۔ 1510ء میں محمد بن شیخ ضیاء نے ایک فارسی تصنیف فرہنگ سکندری تیار کی۔ سکندر لودھی کی نظر عنایت سے اس کی پوری سلطنت میں بے شمار کتب خانے وجود میں آئے۔

اشرف علی

اختر حسین جعفری کا بچپن

اختر حسین جعفری کا شمار پاکستان کے معروف شعرا ء میں ہوتا ہے۔ ذیل میں ان کی لکھی گئی کتاب سے کچھ پیراگراف شائع کئے جا رہے ہیں:

 میں 15 اگست 1932 کو ہوشیارپور کے ایک قصبہ میں پیدا ہوا۔ یہاں میرے والد بسلسلہ ملازمت تعینات تھے۔ چوتھی جماعت تک تعلیم وہاں کے ایک غیر معروف گائوں موضع لسوی سے حاصل کی۔ اسی دوران والدہ کے انتقال کے بعد میں اپنے دادا (جو ضلع گجرات میں مقیم تھے) کے پاس چلا آیا اور وہاں ایک ہندو سکول میں داخلہ لے لیا۔ اس سکول میں ایک ہندو استاد پنڈت درگا پرشاد تھے جو ہمیں اردو اور فارسی پڑھاتے تھے۔ میرا جو اردو ادب سے رشتہ قائم ہوا وہ انہی کی وجہ سے ہوا۔ پر نہ صرف داخلہ ملا بلکہ وہ تمام مراعات بھی ملیں جو اچھے ہندو طلباء کو سکول کی طرف سے ملتی تھیں۔

اس سکول میں مسلمان طلباء کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔ یہاں مسلمان طلباء کو دینیات بھی پڑھائی جاتی تھی۔ ماسٹر درگا پرشاد اردو اور فارسی کے علاوہ دینیات بھی پڑھاتے تھے۔ ہمیں افسوس ہوتا تھا کہ ہندو طلباء معاشی اور معاشرتی طورپر ہم سے بہتر تھے۔ اچھا لباس پہن کر آتے تھے۔ ہم ہندوئوں کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اور ان سے مراعات حاصل کرنے کے باوجود اس احساس کو اپنے دل سے کسی صورت نہ نکال سکے کہ ہم میں اور ہندو قوم میں فرق ہے جس کو دور کرنے کیلئے کسی نہ کسی واضح سیاسی عمل کی ضرورت ہے چنانچہ پاکستان کے حوالے سے میری ہندو دوستوں کے ساتھ بحث ہوتی تھی۔ اگرچہ ان دنوں پاکستان کے فلسفہ کے پس منظر سے کلی آگاہی نہ تھی۔

ان ہندو دوستوں میں میرے ساتھ سکول کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی بھی تھے جو ہندوستان کی تقسیم کے یکسر خلاف تھے۔ میں اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ اکثر کانگریسی لیڈروں کی تقاریر سننے جایا کرتا تھا۔ اس مفاہمت کی فضا کے باوجود میرے دل سے میرے ہندو دوست ایک علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی ضرورت کے تصور کو نہ نکال سکے۔ بچپن میں فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ میرا سکول کی ٹیم کے اچھے کھلاڑیوں میں شمار ہوتا تھا۔ ہاکی ٹیم میں مجھے بارہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ مجھے سکول کے زمانے میں زبانیں سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ انگریزی، اردو اور فارسی میں بہت دلچسپی تھی اور ان میں ہمیشہ امتیازی حیثیت حاصل کرتا۔

ریاضی اور سائنس سے واجبی سا تعلق تھا۔ سکول کے زمانے میں مجھے اردو اور فارسی ادب سے بہت دلچسپی تھی۔ میرے اساتذہ مجھے ہونہار طالب علموں میں شمار کرتے تھے۔ میں سکول کے زمانے میں شعر لکھتا تو نہیں تھا البتہ وزن میں پڑھتا تھا۔ شاعری ایف اے کے بعد کی۔ میں سکول میں تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیا کرتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں بچپن میں بھی شرارتیں نہیں کیا کرتا تھا۔ مگر شرارتی بچوں کا دوست ضرور تھا۔ شرارتی بچے مجھے اچھے لگتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہم سکول جا رہے تھے تو میرے ساتھی نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ میں چٹکی لی ۔ وہ ایک ہندو دکاندار تھا۔ اس نے ہم دونوں کو اپنی دکان پر بیٹھا لیا اس نے ہمیں جسمانی اذیت دی۔ جسمانی اذیت کے باوجود اس شرارت کی خوشی بڑھاپے میں بھی محسوس کرتا ہوں۔

میرے والد ادیب یا شاعر تو نہیں تھے مگر ادب کے ساتھ مطالعاتی حد تک ان کا مضبوط تعلق تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو والد صاحب کے ہاتھ میں کتاب دیکھی۔ شاعری میں وہ غالبؔ سے زیادہ ذوقؔ کو پسند کرتے تھے۔ اکثر فارغ وقت میں وہ ذوقؔ کی غزلیں مجھے سنایا کرتے۔ والد صاحب کو فارسی ادب سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ قدسی مشہدی کی رباعی نماز فجر کے بعد پڑھتے تھے اور ہمیں سنایا کرتے تھے۔ آپ کو بچن کا ایک عجیب واقعہ سناتا ہوں۔ سرسولی گائوں میں تقریباً کبھی مکانات کچے تھے سوائے ایک مکان کے جو میرے والد کو سرکاری حیثیت کی بنا پر رہنے کو ملا تھا۔ اس مکان کے بارے میں وہاں یہ عام فضا تھی کہ اس کے بالمقابل بہت پرانے پیپل پر ایک آسیب کا ڈیرا ہے اور جو کوئی اس پختہ مکان میں رہتا ہے وہاں موت کا ہونا ناگزیر خیال کیا جاتا تھا۔

چنانچہ میرے والد کو بھی لوگوں نے اس مکان میں رہائش اختیار کرنے پر منع کیا۔ مگر وہ پڑھے لکھے اور روشن خیال آدمی تھے۔ اس لیے انہوں نے اس افواہ پر کوئی توجہ نہ دی اور اسی مکان میں رہائش پذیر رہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسی مکان میں ہماری رہائش کے دو سال کے اندر اندر بغیر کسی ظاہری بیماری کے میرے والدہ ایک روز اچانک انتقال کر گئیں۔ مگر ان کے انتقال کے باوجود میرے والد نے اس مکان سے سکونت ترک نہ کی۔ میں آخر میں بچوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ اس ملک کے لیے زندہ رہو، اور اسی کے لیے مرو… یہ ملک بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے۔ اس ملک کی سا لمیت اور حفاظت ہمارا فرض ہے۔

احمد ندیم قاسمی کا بچپن

میں ضلع سرگودھا کی تحصیل خوشاب کے ایک پہاڑی علاقہ سون سیکسر کے ایک گائوں انگہ میں پیدا ہوا۔ میری تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء ہے۔ ابتداء میں گائوں کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ ساتھ ہی وہاں کے پرائمری سکول میں داخلہ لیا اور پرائمری وہیں سے پاس کی۔ بلکہ ایک طرح سے اعزاز کے ساتھ پاس کی۔ اس زمانے میں چوتھی جماعت پرائمری کی آخری جماعت ہوتی تھی۔ ہماری جماعت کے 4 منتخب لڑکوں کو خوشاب میں وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کے لیے بھیجا گیا میں بھی ان میں شامل تھا۔ 4 میں سے ہم 3 لڑکوں نے کامیابی حاصل کی اور مجھے آٹھویں جماعت تک وظیفہ ملتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اسی موقع پر خوشاب میں زندگی میں پہلی مرتبہ سائیکل دیکھی اور ریل گاڑی کو لوہے کی پٹڑیوں پر بھاگتے دیکھا۔

میں پرائمری سکول کے اوّل مدرس منشی غلام حیدر کی شخصیت‘ محنت اور لگن سے بہت متاثر ہوا۔ وہ میرے رشتہ دار بھی تھے مگر سکول میں ان کے سامنے سب لڑکے برابر ہو جاتے تھے۔ معمولی سی غلطی کو بھی نہیں بخشتے تھے۔ کڑی جسمانی سزا دیتے تھے مگر سکول میں اور پھر گھر میں اتنی محنت سے پڑھاتے تھے کہ ان کے مزاج کی سختی پس منظر میں چلی جاتی۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد میں اپنے چچا اور سرپرست پیر حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلا گیا۔ وہ ان دنوں وہاں ریونیو اسسٹنٹ تھے۔ وہاں میں نے گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول میں داخلہ لیا۔ ان دنوں نویں اور دسویں جماعتیں گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج کیمبل پور سے وابستہ تھیں۔ چنانچہ مڈل پاس کرتے ہی میں کالجیٹ ہو گیا پھر چچا جان کا وہاں سے تبادلہ ہو گیا وہ شیخوپورہ میں تشریف لے آئے چنانچہ میں نے گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ میں داخلہ لیا.

ان دنوں مشہور شاعر ن م راشد کے والد جناب فضل الہی چشتی وہاں کے ہیڈ ماسٹر تھے، میں نے میٹرک کا امتحان وہیں سے پاس کیا۔ میں مڈل کی جماعتوں میں عربی کے استاد جناب غلام ربانی عزیز سے خاصا متاثر ہوا آپ مشہور ادیب ڈاکٹر غلام جیالنی برق کے بڑے بھائی ہیں اور خود بھی اعلی درجے کے مصنف تھے ان کی سنجیدگی اور صرف اپنے کام سے کام رکھنے کی روش مجھے پسند آئی۔ انٹرمیڈیٹ کالج میں بھی عربی ہی کے استاد پروفیسر انعام اللہ بیگ میری نظر میں مثالی استاد تھے میرا بچپن سراسر شرارتوں سے عبارت ہے میں پڑھائی میں بھی خاصا تیز تھا اور شرارت میں بھی۔ شاید یہی ہجہ ہے کہ میں نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھی ہیں ان میں بچوں کی شرارت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔

بے شمار شرارتوں میں سے ایک شرارت یہ ہے کہ میں نے مکی کے بھٹوں کے بالوں سے مہندی رنگ کی داڑھی اور مونچھیں بنا کر لگا لیں۔ سر پر بڑا سا پگڑا باندھ لیا۔ قمیض کے نیچے بہت سے کپڑے ٹھونس لیے جس سے میری توند ابھر کر کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ پھر میں نے ہاتھ میں عصا لیا اور اپنے خاندان کی حویلی کے ایک ایک گھر میں جھانکا اور خواتین کی چیخیں نکلوا دیں۔ حویلی میں بہت سخت پردہ تھا سو ایک اجنبی معمر مرد کو اپنے سامنے دیکھ کر خواتین کا خوفزدہ ہو جانا لازمی تھا۔ دوسری شرارت بھی سن لیجئے کہ میں نے داستان امیر حمزہ میں کہیں پڑھ لیا کہ عمروعیار نے اپنے استاد کو تنگ کرنے کے لیے انہیں جمال گھوٹا کھلا دیا تھا اور کئی دن تک اسہال کے مریض رہے تھے میں نے ایک پنساری سے جمال گھوٹا لیا اور جب گھر کے اندر سے ملازمین کے لیے کھانا آیا تو جمال گھوٹا سب پلیٹوں اور لسی کے جگ میں تجربتاً ملا دیا۔ بے چارے ملازم اور چپڑاسی بیت الخلاء کے چکر لگا لگا کر نڈھال ہو گئے اور چچا جان کو انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ جمال گھوٹا کی کچھ زیادہ ہی مقدار استعمال ہو گئی تھی۔

بچپن کا ایک ناقابل فراموش واقعہ تو یہ ہے کہ میں نے گھر سے پنسل کے لیے جو پیسے لیے ان سے ریوڑیاں خرید کر کھا لیں اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ہم جماعت یاسین کے بستے میں سے ایک نئی پنسل چوری کر کے اپنے بستے میں رکھ لی۔ امی کو جا کر یہی پنسل دکھائی کہ خرید لایا ہوں۔ انہوں نے اس کا سرا تھوڑا سا تراشا اور وہاں ریشم کے دھاگے سے ریشم کا پھول باندھ دیا۔ پنسل کی صورت بالکل بدل گئی مگر اس کے باوجود میں ایک ماہ تک پنسل سکول نہ لے گیا اور جس روز لے گیا اسی روز پکڑا گیا۔ یاسین نے پنسل دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ اس کی گم شدہ پنسل ہے۔ ہماری کلاس کو ماسٹر محمد حیات پڑھا رہے تھے انہوں نے مجھے پاس بلا کر پوچھا کہ سچ سچ بتائو یہ پنسل کس کی ہے؟ میں نے کڑک جواب دیا ’’میری ہے‘‘ انہوں نے میرے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان طلباء کی پنسلیں رکھ دیں۔ میری انگلیوں کو زور سے دبایا اور میں چیخ اٹھا۔ ماسٹر محمد حیات نے ایک بار پھر میرے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا ’’کس کی ہے؟‘‘ اور میں نے درد سے بل کھاتے ہوئے کہا یاسین کی ہے۔ اس کے بعد میں نے چوری کی جرات کبھی نہ کی۔

جب بھی خیال آیا انگلیوں میں پھوڑے سے بیدار ہو گئے۔ سکول میں سبھی مضامین سے دلچسپی رہی بطور خاص شعر و ادب سے ،تاریخ سے ،جغرافیے سے اور جیومٹری سے۔ اگر جان جاتی تھی تو حساب اور الجبرے سے۔ میٹرک پاس کرنے کی مسرت کا عنوان یہ تھا کہ حساب الجبرے سے چھٹکارا ملا۔ ٹوٹے پھوٹے شعر تو میں بچپن میں کہہ رہا تھا مگر میں نے پہلی باقاعدہ نظم جنوری 1931ء میں کہی جب میں میٹرک کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف تھا یہ مولانا محمد علی جوہر کا مرثیہ تھا۔ میں پرائمری سے مڈل تک بیشتر وقت اپنی کلاس کا مانیٹر رہا۔ پھر جب میں ساتویں آٹھویں میں تھا تو ریڈ کراس سوسائٹی نے مضامین کا کل پنجاب مقابلہ کیا اور میں اس مقابلے میں اول رہا۔ ریڈ کراس والوں کی سند اب تک میرے کاغذات کے انباروں میں کہیں محفوظ پڑی ہے۔ شاید کوئی ایسا کھیل ہو جو میں نہ کھیلا ہوں ٹینس‘ ہاکی‘ کبڈی سے لے کر پنگ پانگ (ٹیبل ٹینس) اور کیرم اور تاش تک۔ سبھی کھیل کھیلا ہوں مگر پیشہ وارانہ مہارت والی بال میں حاصل کی۔ لٹو بھی چلائے، گلی ڈنڈا بھی کھیلا، پتنگ بھی اڑائی اور پتنگ اڑانے سے مجھے اپنی ابتدائی زندگی کا ایک اور ناقابل فراموش واقعہ یاد آیا۔ میں اپنے ننھیال میں اپنے ماموں زاد بھائی محبوب الہی مرحوم کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ نیچے صحن میں لڑکیوں نے ترنجن کی محفل سجا رکھی تھی۔

چرخے گھوں گھوں کر رہے تھے اور سوت کاٹا جا رہا تھا۔ ہم دونوں بھائی چھت پر پتنگ اڑانے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہوا ساکن تھی آخر میں نے محبوب الہی سے کہا کہ پتنگ اور ڈور میرے حوالے کرو۔ تب میں پتنگ اڑانے کے لیے چھت پر تیزی سے الٹے قدموں بھاگا مگر یہ بھول گیا کہ میں چھت پر ہوں۔ چنانچہ چھت ختم ہو گئی اور میں نیچے ترنجن بیٹھی لڑکیوں کے ہجوم میں جا گرا۔ میں بچپن میں خوب موٹا متھنا تھا۔ سو مجھے کوئی چوٹ نہ آئی مگر لڑکیوں میں سے تین چار کو بہت چوٹیں آئیں۔ بچوں کے نام میرا پیغام یہ ہے کہ اپنے ملک سے اپنی تہذیب سے، اپنی روایات سے، اپنی زبانوں سے ،اپنے گیتوں سے ،محبت کرنا سیکھو کیونکہ یہی محبت تمہیں انسانیت کے ساتھ محبت کرنا سکھائے گی۔

احمد ندیم قاسمی

(مشہور زمانہ لوگوں کا بچپن سے ماخوذ)